قربانی: دین کا جامع تصور

محمد آصف اقبال
maiqbaldelhi@gmail.com

“اور ہم نے انھیں ندا دی کہ اے ابراہیم علیہ السلام ! تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا، ہم وفادار بندوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ یقینا یہ ایک کھلی آزمائش تھی”
(الصافات:104-106)
قربانی مختلف اوقات میں مختلف طرح سے دی جاسکتی ہے اور آزمائش بھی مختلف وقتوں میں الگ الگ انداز سے لی جا سکتی ہے۔لیکن کامیابی ان ہی لوگوں کی مقدر بنتی ہے جو ہر حالت میں قربانی دینے والے اور ہر آزمائش میں ثابت قدم رہنے والے ہوں۔پھر یہ کامیابی بس یہیں نہیں رک جاتی بلکہ اس کے اثرات آنے والی صالح نسلوں تک برقرار رہتے ہیں۔
قربانی وقت کی اہم ترین ضرورت :
امت مسلمہ آج جس دور سے گزر رہی ہے اِس دور میں ہر محاذ پر قربانی ادا کرنے والے مومنین کی ضرورت ہے۔ یہ قربانی کس طرح سے ادا کی جاسکتی ہے اور اللہ کی نصرت کس طرح حاصل کی جا سکتی ہے اس کا مختصر تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ ممکن ہے ایک فرد کو ہر جہت پر قربانی ادا کرنے کی ضرورت ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک فرد چند حیثیتوں سے قربانی ادا کر رہا ہو اور اس کے علاوہ دیگر محاذپر دینے کی ضرورت ہو۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہم کہاں اور کس حد تک قربانی دے رہے ہیں اور مزیدکی کہاں ضرورت ہے۔ یہ محاذ اس طرح بیان کیے جا سکتے ہیں:
i)دنیا میں موجود عقائد و نظریات کو اسلامی تناظرمیں سمجھنے اور ان سے نتیجہ اخذ کرنے کے لیے جس تگ و دو اور انتھک جدوجہد کی ضرورت ہے اس کے لیے اپنے وقت کی قربانی دینا۔
ii)اس سے قبل اس چیز کی قربانی کہ ہمیں اسلام کا جامع علم حاصل ہو جائے ،اس کے لیے ہمیں اپنے شب و روز کے وقت میں سے ایک مخصوص وقت متعین کرنا اور ایک طویل منصوبہ بندی کے تحت اس میں بتدریج آگے بڑھتے جانا۔
iii) معاشرہ میں موجود رسم و رواج کو بس اسی حد تک اختیار کرنا کہ جو اسلامی معاشرہ کے قیام و استحکام میں مدد گار ہوں اور ان تمام رسوم سے پرہیز کرنا جو اسلامی معاشرہ میں رکاوٹ پیدا کرنے والے ہوں۔ اس سلسلے میں کسی بھی طرح کے سمجھوتے اور لچک سے پرہیز کرنا اور اس پر قائم رہنا۔ یہ استحکام اسی وقت ممکن ہے جبکہ ہم اسلامی معاشرہ سے واقفیت رکھتے ہوں۔
iv) اسلام ایک مکمل نظام ِ حیات رکھتا ہے اور وہ زندگی کے ہر چھوٹے اور بڑے معاملہ میں رہنمائی دیتا ہے۔اس عقیدہ پر نہ صرف یقین رکھنا بلکہ جس مرحلے میں جب بھی معاملہ پیش آئے اس وقت اسلامی احکامات کو جاننا،سمجھنا اور اس پر عمل کرنا۔
v)اسلامی عبادات کو اختیار کرنا اور ان کو اپنی ذات،اپنے گھر، اپنے محلہ اور جہاں تک ممکن ہو قائم کرنے کے لیے سعی و جہد کرنا۔
یہ پانچ باتیں ہیں جن پر عمل کے لیے قربانی کی ضرورت ہے۔قربانی اس بات کا نام نہیں کہ بس جانور کو خرید کر ذبح کر دیا جائے بلکہ قربانی اس بات کا نام ہے کہ ظاہری اور باطنی ہر لحاظ سے قربانی کی روح اختیارکی جائے۔توقع ہے اللہ تعالی ہماری قربانیوں کو قبول کرے گا اور ہمیں اپنے وفادار بندوں میں شامل کرے گا۔
قربانی ایک بتدریج عمل:
ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات نظر آتی ہے کہ جس عظیم قربانی کو انھوں نے ادا کر کے آئندہ آنے والی تمام نسلوں کے لیے ایک یاد گار بنا دیا۔پھر جس قربانی کو اللہ ربِ رحیم نے امت مسلمہ کے لیے ایک عبادت کی شکل میں طے کر دیا۔یہ قربانی کا پہلا اور آخری مرحلہ نہیں تھا۔ اللہ کے نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی زندگی سراپا قربانی تھی۔ آپ نے اپنے گھر، اپنے خاندان، اپنے ملک، اپنے معاشرہ اور اس کے رسم و رواج، اپنے عقیدہ اور وقت کے نظریات تمام ہی چیزوںکی قربانی دی۔پھر آپ علیہ السلامنے آتش نمرود میں کود کر اس بات کی وضاحت کر دی کہ دنیا میں اگر زندہ رہنا ہے تو ا±س رب العالمین کے احکام پر عمل کرتے رہنا ہے جس نے زندگی عطا کی ہے۔ اور جب آ پ علیہ السلام نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا کہ زندگی اللہ ربِ رحیم کی مرضی کے مطابق ہی گزرے گی تو پھر رب ِ اعلیٰ نے مزید امتحان لے ڈالا اور کہا کہ اپنے بیوی اور بچوں کو اس بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ آو¿جہاں اللہ کی رحمت کے سوا بظاہر کوئی آسرا نہیں۔یہ امتحان پورا ہی کیا تھا کہ بڑھاپے کا سہارا ، مومن بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کر دینے کی آزمائش سامنے لاڈالی گئی اور آپ اس میں بھی ثابت قدم ٹھہرے۔معلوم ہوا کہ بڑی قربانیاں چھوٹی قربانیوں کے ادا کرنے کے بعد دی جاتی ہیں اور جوبھی جس قدر بڑی قربانی میں ڈالا گیا اسی قدر اس کی منزلت بڑھتی گئی یہاں تک کہ وہ اپنے رب اعلیٰ سے جا ملا اور بشارت حقیقت میں تبدیل ہو گئی۔
اب غور فرمائیے کہ ہم نے اب تک کس درجے کی قربانی ادا کی ہے اور قربانی کے کن مراحل سے گزرے ہیں؟ یاد رہے کہ آزمائش اور قربانی ان ہی لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو اس کو ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
قبولیت قربانی :
قرآن حکیم کہتا ہے: “اور انھیں آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کا قصہ ٹھیک ٹھیک سنا دو۔جب ان دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی قبول نہ کی گئی۔ اس نے کہا :میں تجھے مارڈالوں گا۔اس نے جواب دیا:اللہ تو متقیوں ہی کی قربانی قبول کرتا ہے”
(المائدہ:28)۔
یہ ہے وہ معیار جس پر پورے اترنے والوں کی قربانی قبول کی جائے گی۔جس میں ایک بات یہ کہ وہ متقی ہو ںاور دوسری یہ کہ وہ قربانی دینے میں مخلص ہوں،اور یہ اخلاص ہر نہج پر ضروری ہے۔ سب سے پہلے ہم اللہ کے لیے مخلص ہوں، اپنے نبی کے لیے مخلص ہوں، اپنے دین کے لیے مخلص ہوں، اپنی امت کے لیے مخلص ہوں اور ان سب سے پہلے اپنی ذات کے لیے مخلص ہوں۔ ذات کے لیے مخلص، یعنی ہم اس بات پر یقین رکھنے والے ہوں کہ ہماری ذات کے ذریعہ انجام دیا جانے والا ہر عمل اللہ کی خوشنودی کے لیے ہی انجام دیا جائے گا اور ہر کام سے رکنا اس بنا پر ہوگا کہ اللہ ہم کو رکنے کا حکم دیتا ہے۔اس تصورکے ساتھ انجام دی جانے والی ہر قربانی ان شااللہ قبول ہوگی اور وہ ہمیں دنیا و آخرت میں مقبولیت کی منزلیں طے کروائے گی۔کہا کہ “اور نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہیں” (البقرہ:269)۔ مزیدکہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو:”عرض کرتے ہیں کہ ہم نے (تیرا حکم) سنا اور قبول کیا۔اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے” (البقرہ:285)
پہلی خوبی: وہ عقل رکھتے ہیں، نہ صرف عقل رکھتے ہیں بلکہ عقل کا استعمال ان ہدایات کی روشنی میں کرتے ہیںجو ان کے رب کی طرف سے نازل ہوئیں ہیں۔
دوسری خوبی : جب ان کے پاس نصیحت آجاتی ہے تو وہ اس کو قبول کرنے سے گریز نہیں کرتے ،تذبذب میں مبتلا نہیں ہوتے،کاہلی اور تساہلی سے بچتے ہیں،یہی وہ لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جن کی قربانیاں قبول کی جاتی ہیں۔
تیسری خوبی یہ کہ ان لوگوں کو یقینِ کامل ہے کہ آخر کار اس زندگی کا اختتام ہونا ہے، آخرت کا دن آنا ہے، جزا اور سزا ملنی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ اللہ تعالی سے بخششیں طلب کرتے ہیں۔پھر کہا کہ “اور اس شخص سے کس کا دین اچھا ہو سکتا ہے جس نے حکم خدا کو قبول کیااور وہ نیکوکار بھی ہے۔ اور ابراہیم علیہ السلام کے دین کا پیرو ہے جو یکسو (مسلمان) تھے اور خدا نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا دوست بنایا تھا” (المائدہ:125)۔یہ وہ کسوٹی ہے جس پر ہر فرد اپنی ذات اور اپنی عبادات کامکمل جائزہ لے سکتا ہے۔اور یہی وہ کسوٹی ہے جس پر پرکھ کر یہ بات بھی معلوم کی جا سکتی ہے کہ آیا ہماری عبادات قبول ہونے کے لائق ہیں یا نہیں!کہا کہ “زمین و آسمان کی ہر چیز کا اسے علم ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو، سب اس کو معلوم ہے ، اور وہ دلوں کا حال تک جانتا ہے”(البقرہ:33)۔
قربانی کا حکم تمام امتوں کے لیے :
ربِ حکیم فرماتا ہے:”ہر امت کے لیے ہم نے قربانی کا ایک قاعدہ مقرر کر دیا ہے تاکہ (اس امت کے)لوگ ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو بخشے ہیں۔”
(الحج:34)۔
معلوم ہوا کہ جس طرح نماز اور روزہ دوسری امتوں میں پر فرض رہے ہیں اسی طرح قربانی بھی امت مسلمہ سے قبل کی امتوں پر فرض کی جاتی رہی ہے۔ پس ہم وہی عبادات انجام دے رہے ہیں جو ابراہیمعلیہ السلام، اسحاقعلیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام انجام دیتے آئے ہیں۔پھر یہ جانور جو اللہ رب العزت نے نوازے ہیں اور جن کے ذریعہ کھانے اور پینے کی چیزیں میسر آئی ہیںاور جو مال و دولت کو بڑھانے کا ذریعہ ہیں، کیونکہ یہ سب اللہ ربِ رحیم کی عنایت کردہ ہیں اس لیے لازم ہے کہ اس مال و دولت کو اللہ کی رضا کے لیے خرچ کیاجائے۔اب اگر مال و دولت کسی اور شکل میں ہو تو بھی اس قربانی کو ادا کرنے کے لیے جانور کی قربانی کی جائے اور ا±س یاد کو ہر لمحہ تازہ دم رکھا جائے کہ یہ عنایات اللہ کی عطا کردہ ہیں۔لہذا ان کا استعمال بھی اللہ کی رضا اور اس کی مرضی کے مطابق ہی ہوناچاہیے۔
ایمانی غذا کی فراہمی :
جس طرح ایک انسان کی رواں دواں زندگی کے لیے ضروری ہے کہ اس کو بھرپور غذا ملتی رہے ٹھیک اسی طرح ایک مسلمان کے دین، اس کی فکر، اس کی نظراور اس کے اعمال کو صحیح رخ پر قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان ایمانی غذاو¿ں کا استعمال کرتا رہے جو اس کو وقتاً فوقتاً تقویت پہنچانے والی ہیں۔ یہ ایمانی غذا اس صورت میں حاصل ہو سکتی ہے جبکہ وہ اس کا شعوری طور پر اہتمام کرے۔ اس کے لیے جہاں دن میں پانچ مرتبہ اللہ رب العزت کے سامنے حاضری ایک ذریعہ ہے تو وہیں اللہ کا ذکر اور اس کی عبادات کو ہر لمحہ بجا لانا بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔ یہ اہتمام بندہ مومن خوشی اور غم کے ہر موقع پر کرتا ہے۔ یہی وہ عظیم مقصد ہے جس کی جانب یہ عید الضحٰی کا واقعہ بھی رہنمائی کرتا ہے۔ اس کے ذریعہ ایک جانب مسلمان اللہ ربِ اعلیٰ کی کبریائی بیان کرتے ہیں، اس سے تعلق برقرار رکھنے اور اس کے بتائے ہوئے طریقہ پر عمل کرنے کا اظہار کرتے ہیں تو وہیں دوسری جانب ان لوگوں کے ساتھ مل کر عید کی خوشیوں کو تقسیم کرتے ہیں جو عام دنوں میں اس قدر سیر ہوکر کھا نہیں پاتے جیسا کہ اس موقع پرصحت بخش غذا حاصل کرتے ہیں۔ یہ وہ موقع ہے جب کہ خوں بہانے اورخوشی منانے کے ساتھ ساتھ ایک عزم مصمم کا عہد کیا جاتا ہے۔قربانی کے اعلیٰ ترین نمونہ کو یاد کیا جاتا ہے اور اپنی جان اور مال اور صلاحیتوں کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ یہ عہد صرف زبانی حد تک ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کے اثرات انسان کے ظاہر و باطن دونوں پر پڑتے ہیں۔ اس طرح اقامت دین کی جدوجہد میں مصروف مسلمانوں کو قوت حاصل ہوتی ہے جو ان کے اندر خدا پرستی کی توانائیاںتازہ بہ تازہ داخل کرتی رہتی ہیں تاکہ وہ برابر چست رہیں، فعال رہیں اور ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے صراط مستقیم پر قائم ہو جائیں۔ کائنات اور اس کی ہر شے مستقل حرکت پذیر ہے ا±س میں ٹھہراو¿نہیں اگر اس میں ٹھہراو¿آ جائے تو یہ دنیا تباہ ہو سکتی ہے ٹھیک اسی طرح بندہ مومن ہر آن اپنے ایمان کو تازہ دم رکھنے میں متحرک رہتا ہے۔یہی نشانی ہے اس بات کی کہ اس کی فکر اور اس کا عمل منجمد نہیں، اگر ایسا ہوا تو یہ اس کی ہلاکت اور بربادی کا نتیجہ ہوگی۔بندہ مومن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے استفادہ کرتا ہے کیونکہ آپ کی زندگی تحریکیت کی غماز ہے۔آپ کے سامنے سیاسی حالات نے آنکھیں دکھائیں،وطنی مفاد آڑے آئے،وقت اور ماحول نے ساتھ دینے سے انکار کیا،مصلحتوں نے دامن پکڑا، مشکلات نے راستہ روکا،ہلاکتوں کا طوفان نمودار ہوا۔ لیکن آپ نے اپنی آواز میں کبھی کوئی پستی نہ آنے دی۔ بس یہ ثابت کرتا ہے کہ ہمارا عقیدہ جب تمام عقائد پر اثر انداز ہوتا ہے تو مسلمان کی راہ ہموار ہوتی ہے اور رکاوٹیں دور ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔کیونکہ مومنین کو اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر متنبہ کر دیا ہے اور بتا دیا ہے کہ:”اور جو کافر ہیں ان کے لیے دنیا کی زندگی خوشنما بنا دی گئی ہے اور وہ مومنین سے تمسخر کرتے ہیں۔لیکن جو پرہیز گار ہیں وہ قیامت کے دن ان پر غالب ہوں گے اور اللہ جس کو چاہتا ہے بے شمار رزق دیتا ہے”(البقرہ:212)۔
قربانیاں ہمارے ایمان کو تازہ رکھنے میں مدد گار ہوتی ہیں، آئیے عہد کریں اور اٹھ کھڑے ہوں اس عزم کے ساتھ کہ ہم اللہ کی خوشنودی کی خاطر اپنی زندگی کے شب و روز میں قربانیاں دیں گے اور اللہ کے دین کو اللہ کی زمین پر قائم کرنے والوں میں شمارہوں گے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*