مولانا غلام رسول فلاحی کے ساتھ ایک شام

محمد خالداعظمی(کویت)
khalid.azmi64@gmail.com

ملک نیپال ہندوستان اور چین کے درمیان ایک ہمالیائی ریاست ہے ، جسے ماضی قریب تک دنیا کا واحد ہندوملک کہا جاتاتھا، مگر2008ءمیں رونماہونے والی سیاسی تبدیلیوںکے نتیجہ میں وہ ملک سیکولرعوامی جمہوری ملک بن گیاہے۔اس وقت منتخب دستورساز پارلیمنٹ ملک کا نیا دستور بنانے میں مصروف ہے جو سیاسی پارٹیوں کی آپسی رسہ کشی کی وجہ سے تاخیر در تاخیر کا شکار ہے ۔مسلمان نیپال میں صدیوں سے آباد ہیں، ان کی آبادی ہندوستان سے ملحق ترائی کے علاقہ میں زیادہ ہے ، جو شرقاً وغرباً تقریباً ایک ہزار کیلومیٹر پر پھیلاہواہے ،ملک کی کل آبادی تین کروڑ سے متجاوز ہے ، جس میں مسلمانوں کی تعداد کم وبیش 20 لاکھ بتائی جاتی ہے ، افسوس کا مقام ہے کہ نیپالی مسلمان اپنے ہم وطنوں سے ہرمیدان میں پیچھے ہیں۔
ذیل کے سطورمیںہم اسلامی سنگھ نیپال کے مجلس تاسیسی کے رکن اورحالیہ امیر مولانا غلام رسول فلاحی کا انٹرویو قارئین مصباح کی خدمت میں پیش کررہے ہیں :

سوال:سب سے پہلے قارئین سے اپنا تعارف کرادیں ؟
جواب: میرا نام غلام رسول ہے ابتدائی تعلیم نیپال میں حاصل کی، اعلی دینی تعلیم کے غرض سے ہندوستان گیااور وہاں جامعة الرشاد اعظم گڑھ سے عا لمیت کی، اور1978 ءمیں جامعة الفلاح بلریاگنج اعظم سے فضیلت کی تعلیم مکمل کی۔
سوال:ہندوستان سے واپسی کے بعدکیا مشغلہ تھا؟
جواب:تکمیل تعلیم کے بعد میں تدریس وتربیت میں مشغول ہوگیا، ساتھ ہی کوشش جاری رہی کہ کسی طرح ہمارے ملک میں بھی اجتماعیت کے ساتھ دعوت وتبلیغ کا کام شروع ہو ، اسی سوچ میں تھاکہ اللہ نے حالات کو سازگار بنادیا،اور26 جنوری 1985ءکو اسلامی یواسنگھ نیپال کے نام سے کمیٹی تشکیل دے کر باقاعدہ کام کا آغاز ہوا جس کا نام بعد میں اسلامی سنگھ ہوگیا۔
سوال :آپ اسلامی سنگھ نیپال کے موسسین میں سے ہیں تو کیا آپ اسلامی سنگھ کاتعارف کرائیں گے؟
جواب : اسلامی سنگھ نیپال26 جنوری 1985ءکو معرض وجود میں آئی ، اللہ کا شکر ہے کہ اب تک نیپال کے مختلف علاقوں میں دعوت واصلاح ، تعلیم وتربیت ، رفاہی اور حفظان صحت کے میدان میں انسانی خدمات ، نیز طلباءو طالبات کی مناسب علمی وفکری وعملی رہنمائی اور مسائل کے حل کے لیے سرگرم عمل ہے۔پورے ملک کے چھ انچل(صوبہ) میں اس کی آفس قائم ہے جہاں مرکزسے طے شدہ پروگرام کے مطابق سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں اورذیلی ادارے بھی منصوبہ کے مطابق کام کرتے ہیں۔
سوال:اسلامی سنگھ کے ماتحت کیا کیا کام ہورہے ہیں؟
جواب : اسلامی سنگھ کے تحت کئی اہم کام ہورہے ہیں، اسلامی سنگھ نے اپنے کام کو کئی حصوں میں بانٹ دیا ہے تاکہ کام منظم اورآسان ہوسکے،ملک میں رونماہونے والی سیاسی تبدیلی کے نتیجہ میں عام نیپالی ہم وطنوں کا اسلام سے دلچسپی میں اضافہ ہواہے ۔ اسلامی سنگھ نے اس کا بھر پور فائدہ اٹھایاہے۔اوراپنے دعاة کے ذریعہ بڑے پیمانے پر دعوتی کام کاآغاز کردیاہے ۔ اسلامی سنگھ نے اپنے کام کو درج ذیل شعبوں میں تقسیم کردیاہے ۔
۱۔ ہیومن ڈیولپمنٹ اکیڈمی: نومسلموں کی تربیت اور ان کے مختلف النوع مسائل کے حل کے لیے کاٹھمنڈو میں یہ مرکز قائم ہے۔ جس کا نام ہیومن ڈولپمنٹ اکیڈمی (HUDA)©© رکھا ہے۔ اس کے تحت نومسلموں کو دینی تعلیم وتربیت کے ساتھ فنی تربیت بھی دی جاتی ہے تاکہ وہ خود کفیل ہوسکیں۔
۲۔ الحرا ایجوکیشنل سوسائٹی : تعلیمی میدان میں کام کرنے کے لیے الحرا ایجوکیشنل سوسائٹی سرگرم عمل ہے ، جس کے تحت پورے ملک میں 13بڑے اور متوسط درجات کے ادارے چل رہے ہیں۔ اس سوسائٹی کے تحت یتیم وغریب طلبہ کی کفالت، اساتذہ کی تدریسی تربیت اور ضرورت منداداروں میں تعمیراتی کام اورکتابوں کی طباعت جیسے کام انجام دیئے جاتے ہیں۔
مسلمانوں کے درمیان دینی وتعلیمی شعور بیدار کرنے کے لیے ” پیغام “ نام سے ایک سہ ماہی رسالہ بھی 18سالوں سے شائع ہورہاہے، اسی طرح ہم وطنوں کواسلام سے متعارف کرانے کے لیے نیپالی زبان میں ” مدھور سندیش “ نامی ماہانہ مجلہ بڑے آب وتاب سے 18سالوں سے نکل رہاہے۔یہ دونوں رسالے بھی الحرا ایجوکیشنل سوسائٹی کے زیر نگرانی شائع ہورہے ہیں۔
۳۔ The Message Publication
ہم وطنوں کو اللہ کا پیغام پہنچانے کے مقصد سے اسلامی سنگھ نے قرآن مجید کا نیپالی زبان میں ترجمہ شائع کروایاہے ، جسے الحمدللہ ملک میں قبول عام حاصل ہے ۔اس کے علاوہ اب تک اسلامی سنگھ کے زیرنگرانی نیپالی زبان میں20 سے زائد کتابیں زیور طباعت سے آراستہ ہوچکی ہیں ، مزید دیگر کتابوں کا ترجمہ ہورہاہے۔اس کام کے لیے The Message Publicationکے نام سے ایک مکتبہ قائم کیا گیاہے جس کے لیے ماہرین کی ایک کمیٹی بھی موجودہے جو زیر طبع آنے والے مواد کا باقاعدہ جائزہ لیتی ہے اور پھر طباعت کے لیے اس کو فائنل کرتی ہے۔

۴۔ لجنة المساجد: اسلامی سنگھ نے مساجد کو اپنی دعوتی واصلاحی مہم کا مرکز بنایاہے۔ اسی مقصد کے لیے لجنة المساجد قائم کیا گیا جومساجد کی تعمیر ومرمت کے ساتھ ائمہ کی تربیت بطور امام اپنی مساجد میں تقرری اور ان کے ذریعہ علاقہ میں دعوت واصلاح اور دروس قرآن وحدیث نیز حلقات قرآن کے ذریعہ عام مسلمانوں کو قرآن سے جوڑنے کی شعوری کوشش کررہی ہے۔
۵۔ اسٹوڈینٹس ایجوکیشن فاونڈیشن : طلباءاور نوجوانوں کومنظم کرنے ، ان میںدین کا شعور بیدار کرنے اور انہیں دین کا سچاخادم بنانے کے لئے اسٹوڈینٹس ایجوکیشن فاونڈیشن کاقیام عمل میں لایا گیاہے۔ جو طلباءوطالبات کی تربیت کے کاموں میں مشغول ہے ۔ اس کے علاوہ اس شعبہ کے تحت اسکول ا ورکالج میں پڑھنے والے طلبہ کے لیے اسکالرشپ کا بھی نظم کیاجاتاہے۔
۶۔ ریڈیو پروگرام: مقامی ایف ایم ریڈیو کے ذریعہ ہفتہ میں ایک روز نیپالی زبان میں دینی پروگرام پیش کیا جاتا ہے جس سے اسلام سے متعلق مختلف انداز سے دعوتی تقریریں ہوتی ہیں۔ اسلامی سنگھ نے نیشنل ٹی وی کے ذریعہ گزشتہ سال ہفتہ واری درس کا پروگرام چلایا تھاجو کسی وجہ سے اس سال جاری نہ رہ سکا۔ البتہ اس سلسلہ کو دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
سوال:عرب ممالک سے مبعوثین دعاة کا کیاحال ہے ؟
جواب: اللہ کا شکر ہے ہمارے ملک میں عرب ممالک سے مبعوثین کی ایک معتدبہ تعدادہے ، اگر ان تمام لوگوں میں وفاق قائم ہوجائے اوروہ منظم ہوجائیں تو نیپال میں غیرمسلموں میںدعوتی کام کرنے والوں کوکافی تقویت ملے گی۔فی الحال غیر مسلموں میں منظم طور پر کام بہت کم ہورہاہے۔مبعوث دعاة کی غیر مسلموں میں سرگرمیاں نہیں کے برابر ہیں۔ تدریس کے علاوہ کسی حدتک اصلاح معاشرہ میں ان کی شمولیت ہوتی ہے۔
سوال :دعوت میں کن وسائل کا استعمال کرتے ہیں ؟
جواب : الحمد للہ دعوتی کام میں بہت سارے وسائل حسب ضرور ت استعمال کئے جاتے ہیں ۔ انفرادی ملاقات ، کتابچے اور کتابوں کا استعمال مختلف مناسبات کا استعمال مثلاً قرآن مجید کا تعارف ،سیرت النبی ﷺ ، عید الفطر ،عید الاضحی جیسے مواقع کا استعمال ان مواقع پربرادران وطن کو اجتماعی طور پر دعوت دے کر خطاب عام کا پروگرام رکھاجاتاہے۔اس طرح ان کے سامنے واضح طور پر اسلام کا پیغام پیش کرنے کاموقع ملتاہے۔ پھرپروگرام کے دوران ان کے تاثرات بھی لئے جاتے ہیں جو بالعموم مثبت ہواکرتے ہیں۔ ان مواقع پر ماہر دعاة سے خطابات کرائے جاتے ہیں جومفید ثابت ہورہے ہیں اور اسلام کے تعلق سے ان کے اندر پائی جانے والی غلط فہمیاں دور ہورہی ہیں۔
سوال: کیا قرآن کریم کی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے قرآن عام کرو، یا قرآن سب کے لئے جیسی مہم چلاتے ہیں ؟
جواب:جی ہاں ہم لوگ برادران وطن کوقرآن سے متعارف کرانے کے لئے مختلف مقامات پرتعارف قرآن مہم چلارہے ہیں ، اس دوران غیر مسلموں کواسلام سے قریب کرنے کے بہت سارے مواقع ملے ہیں۔
سوال:نیپال میں اور کونسی دوسری جماعتیں پائی جاتی ہیں اور ان تمام کے مقاصد کیاکیاہیں؟
جواب:ہمارے ملک میں بہت ساری سوسائٹیاں پائی جاتی ہیں اورتمام کامقصد مسلم معاشرہ کی اصلاح، بچے اور بچیوں کی تعلیم وتربیت ،دعوتی نیز رفاہی کاموں میں سرگرم عمل ہیں ، اور ان تمام کے پاس اصلاح ودعوت اورتعلیم وتربیت کا پروگرام بہت ہی اچھاہے ۔
سوال:کیا نیپال میں مسلمانوں کے درمیان گروپ بندی کے اثرات پائے جاتے ہیں؟
جواب: ہندوپاک کا اثر ہمارے ملک پر بھی پڑا ہے ، لیکن اللہ شکر ہے اس کے باوجود تمام مسلکوں اور جماعتوں کے افراد میں آپسی تعاون ہے ، اسی وجہ سے نیشنل مسلم فورم کا قیام عمل میں آیا ، جس کا نتیجہ بہت اچھاہے۔
سوال: کیا اسلامی سنگھ کا تعلق ملک میں موجود دوسری جماعتوں سے ہے؟
جواب:تعاونوا علی البروالتقوی کے تحت اسلامی سنگھ نیپال کا تمام دیگر اسلامی تنظیموں سے برادرانہ تعلق ہے ۔ میرے خیال میں فروعی اختلافات سے قطع نظر مشترک اقدار کی حفاظت کیلئے ساری تنظیمیں اگر شعوری طور پردست تعاون دراز کریں تو ملک نیپال میں اسلامی کاز کو بہت فائد ہ ہوگا۔
سوال: نیپال جب سے ہندو اسٹیٹ سے جمہوری ملک بنا ہے دعوتی کام کرنے میں کیاکیا مسائل درپیش ہیں؟
جواب:ہمارے ملک میں پہلے اور اب کے حالات میں کافی بدلاو آیاہے لیکن دعوتی کام کرنے میں ابھی بھی کافی مخالفت کاسامنا کرنا پڑرہاہے ،اس کے علاوہ حکومت مذہب تبدیل مخالف قانون لاناچاہ رہی ہے ، اس قانون کے بننے کے بعد ہمیں بہت زیادہ پریشانیوں کا مقابلہ کرنا پڑسکتاہے۔ دعوتی کام میں دعاة اور وسائل کی بھی قلت ہے، کیونکہ دعاة کی بنیادی ضروریات ہم پوری نہیں کر پاتے جس کی وجہ سے دعاةدعوتی میدان چھوڑکرکسی اور میدان میں جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
سوال: اب تک اسلامی سنگھ کا سب سے اہم کام کیا ہے ؟
جواب:اسلامی سنگھ کا سب سے اہم کام قرآن مجید کانیپالی ترجمہ ہے جو اسلامی سنگھ کی پانچ سالہ کوششوں کے بعد منظر عام پرآسکاہے۔مولانا علاءالدین فلاحی نے ترجمہ قرآن کی سعادت حاصل کی ہے۔ تین ماہرلسانیات سے بھی زبان کی تصحیح کروائی گئی ہے۔ یہ کسی اردو ، ہندی یا انگریزی ترجمے کاترجمہ نہیںہے بلکہ عربی متن کی نیپالی زبان میں ترجمانی ہے ۔
سوال:کویت کے متعلق اہل نیپال کیا سوچتے ہیں؟
جواب: نیپال کے لوگ کویت کو خیرکا چشمہ سمجھتے ہیں اور یہاں سے خیرکا جتنا کام ہورہاہے شاید ہی کہیں اور سے ہوتاہوگا، میں نے کویت کے مختلف علاقوں کو قریب سے دیکھا ہے ، ہرعلاقہ میں کسی نہ کسی طرح کی کمیٹی ہے جہاں عالم اسلام کے غرباءومساکین کے لیے لوگ کام کررہے ہیں۔ میری اللہ تعالی سے دعا ہے کہ کویت کوہرفتنہ سے محفوظ و مامون رکھے آمین۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*