عازمین حج کے نام

یہ راہ حق ہے سنبھل کے چلنا
ثمینہ ضیاء(کویت )
ziasamina@gmail.com

آپ کوحج کی سعادت نصیب ہورہی ہے اس پر جتنا اللہ کاشکر ادا کریں کم ہے ،آخراس دنیامیں کتنے مسلمان ایسے بھی ہیں جنھیں حج کی توفیق نصیب نہیں ہوتی اور کتنے مسلمان ایسے ہیں جودل میں حج کی تمنا اور آرزورکھتے ہیںلیکن ابھی ان کی آرزوپوری نہیں ہوئی،لہذا جوفریضہ آپ انجام دینے جارہے ہیںاس پر اللہ کاشکراداکریں۔
آپ اک مبارک سفرپرجارہے ہیں،مسافربھی مبارک منزل بھی مبارک، اس مبارک سفر کومقبول بنانے کے لیے آپ کے حج کی صحیح ادائیگی کیسے ہوگی اس کااہتمام کریں۔ زندگی میں ایک بار حج فرض ہے،اس کی خوب سوچ سمجھ کرپلانگ اورتیاری ہونی چاہئے۔حج اور تقوی کا بڑا گہراتعلق ہے۔حج کاحاصل تقوی ہے، حج کاسفریہ نہیں ہے کہ جہاں سے زندگی چھوڑی تھی واپس آکروہیں سے شروع کردیا۔
حج نام ہے تبدیلی کا، تربیت کا، حاجی کاٹائٹل لگانا آسان کام نہیں،اس ٹائٹل کابھرم رکھناہوگا،حدیث مبارکہ ہے ”جس بندے نے حج کیا،حج کے دوران زبان کوفحش اور بیہودہ باتوں سے پاک رکھااور کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کیا وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوکر جاتاہے گویا کہ آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے اس دنیامیں آیاہو “(بخاری، مسلم) یہ گویا کہ ایک خوشخبری ہے لیکن کن لوگوں کے لیے؟ جو سوچ سمجھ کرپلانگ کرکے سفرحج پر نکلتے ہیں، اگرحج کے بعدبھی غصہ، اشتعال، جھوٹ، کینہ، بدمزاجی اورصبر کا فقدان رہا توگویاحج میری تربیت نہیں کرسکا،مجھے جنت کامسافرنہ بنا سکا، جیساکہ حدیث مبارکہ سے پتا چلتا ہے۔”حج مبرورکابدلہ توبس جنت ہے“(بخاری،مسلم)
سفرحج میں ایک خاص مقام آجاتاہے جہاں آپکی مرضی اورخواہش نہیں چلے گی، اب آپ ایک خاص حدمیں داخل ہوچکے ہیں جہاں سے آپکو حدودحرم میں داخل ہوناہے، آپ کا ہر قدم مکہ کی طرف بڑھ رہاہے جہاں سے احرام باندھے بغیرآپ آگے نہیں بڑھ سکتے،سادگی کے ساتھ مختصر زاد راہ اور فقیرانہ انداز کے ساتھ آپ چل پڑتے ہیں،مطلب یہ کہ پہلے جوکچھ تھے وہ تھے لیکن اب مالک کے دربار میں جانے کے لیے عاجزی اختیارکریں، ظاہرمیں بھی باطن میں بھی ۔یہ مبارک سفرنیت سے شروع ہوتاہے اور احرام کی شرائط کے ساتھ آگے بڑھتاہے ،یعنی اے اللہ! میں تیری خاطرحلال اور جا ئز کاموں سے بھی رکتا ہوں۔ یہیںسے تربیت کا کام شروع ہوجارہاہے۔ اگرحج کے سفرکوایک لفظ میں بیان کیاجائے تواس کا مفہوم صرف صبر۔صبر۔صبر۔نکلتاہے۔ یہ تواخلاقی تربیت ہوئی اس کے ساتھ ساتھ یہ یاد دہانی بھی ہوتی رہتی ہے کہ اسی طرح ایک دن آخرت کابھی سفرکرناہے اسی فقیرانہ اورعاجزانہ لباس میں۔
خوش نصیب مسافرو!مبارک ہواللہ کی میزبانی کاشرف، بہت بہت مبارک ہو ،سنو !

یہ راہ حق ہے سنبھل کے چلنا
یہاں ہے منزل قدم قدم پر

صرف حج کے ارکان وفرائض ہی کی طرف توجہ نہ ہو بلکہ ہرلمحہ اللہ کی ناراضگی سے بچنے کی بھی فکرغالب ہو ، حج کے لیے نکلتے وقت اور تیاری کے دوران ہمارے ذہنوں میں بہت ساری باتیں ہوتی ہیں کچھ مسئلے مسائل سمجھنے ہوتے ہیں، دعاو¿ں کو یادکرنے اورجمع کرنے کی فکر ہوتی ہے ۔ لیکن ایک بات نہیں بھولنی چاہیے کہ حج کے سلسلے میں قرآن ہماری کیارہنمائی کرتاہے : اللہ تعالی کارشادہے: فمن فرض فیھن الحج فلارفث ولافسوق ولاجدال فی الحج…. (سورة البقرة 197)
”پھر جو ان دنوںمیںحج کا ارادہ کر لے وہ نہ بے حیائی کرے اور نہ گناہ کاارادہ کرے اور نہ جھگڑا کرے “۔
آئیے حج کے سلسلے کی رہنمائی پرغورکریں :
لارفث: بے حیائی (جذبات میں تحریک پیدا کرنے والے اعمال) شہوانی فعل ،بے حجابی،بے پردگی، ازدواجی تعلق ، باریک لباس،فحش گفتگو،سرعام بے پردہ پھرنا ۔
لافسوق: اللہ کی نافرمانی(وہ کام جو گناہ ہیں ) غیبت، جھوٹ،ریاکاری، فضول گوئی، مذاق اڑانا،حق تلفی،لعن طعن، ناانصافی،فرائض سے غفلت وکوتاہی۔
لاجدال: لڑائی جھگڑا (اسباب نزاع) گھروںسے دوری، محدودوسائل،تنگ دلی ،خودغرضی ،نفس پرستی ۔
یہ حج کے سلسلے کی سب سے پہلی رہنمائی ہدایت اورتربیت ہے قرآن کی گویاکہ جوچیزیںحج کی قبولیت میں رکاوٹ ہیں ان کی بھی فکرکرو۔
عازم حج سے تواللہ نے فرما دیاکہ حج کا بہترین زاد راہ تقوی ہے :وتزودوا فان خیر الزاد التقوی (سورة البقرة 197) ترجمہ :”اور زادراہ ساتھ لے جاﺅ بہترین سامان اللہ کی نافرمانی سے بچناہے۔“
حج کے مبارک سفرمیں جانے سے پہلے کچھ باتوں کوسوچ سمجھ کرپلان کریںتاکہ حج کے بعد ان کے اثرات ہماری زندگی سے ختم نہ ہوجائیں۔حج میں جانے کا سفر للہیت سے بھرپورہوناچاہیے اورواپسی کے سفرمیں اللہ کارنگ غالب نظرآنا چاہیے،اور اللہ کا رنگ تقوی ہے نافرمانی سے پرہیزہے۔
حج کیسے کرناچاہئے اس کی رہنمائی کے لیے توآپ کو بےشمار کتابیں مل جائیں گی ۔ لیکن حج کے فوائدکیسے حاصل کرنے ہیں؟اس کے بعد کیاکرناہے؟ان باتوں کی رہنمائی ہمارا دل کرے گاہم خودکریںگے ؛حج سے پہلے کی زندگی اورحج کے بعد کی زندگی میں فرق نظرآناچاہیے۔حج کے اثرات توحج کے بعدنظرآئیں گے۔
حج کا مبارک سفرجس اللہ کی خاطرکیا، گھر اور بچے جس ہستی کی خاطر چھوڑے ،جس اللہ کی خاطر طواف وسعی کی،منی عرفات ومزدلفہ گئے،جس سے رو رو کے معافی مانگی۔یہ ارادہ مضبوط کرلیں کہ اسی اللہ سے زندگی بھر مانگنا ہے۔ عقیدے کی کمزوری نہیں ہونے دینی ہے۔کسی بھی زندہ یامردہ انسان کی محبت اللہ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم کی محبت پر غالب نہیں آنے دیناہے،اسی خاص مقصد کی خاطرابراہیم ںنے خانہ کعبہ کی تعمیرکی تھی اور مکہ کوآباد کیاتھا اور اسی مقصد کی خاطررسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے مکہ سے ہجرت کی تھی۔
جس طرح حج کے دوران بھاگ بھاگ کرسارے ارکان پورے کرنے کی فکرکی تھی تاکہ اللہ راضی ہوجائے، اسی طرح حج کے بعد بھی اللہ کو راضی رکھناہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*