محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اوراس کے تقاضے

شیخ عبدالحمید البلالی (کویت)

جمعیة الاصلاح الاجتماعی کے عمر بن الخطاب ہال میں انڈین مسلم ایسوسی ایشن (IMA) کے ماہانہ اجتماع میں شیخ عبد الحمید جاسم البلالی ، صدر جمعیة بشائر الخیر کے خطاب کا ترجمہ وتلخیص افادہ عام کے لیے پیش خدمت ہے ۔ ( محمد خالد اعظمی )

حمدوثنا کے بعد : حاضرین کرام !
ایک دفعہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اللہ کی قسم ! آپ مجھے اپنی جان کے علاوہ دنیاکی ہرچیز سے زیادہ عزیز اورمحبوب ہیں۔ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اے عمر! جب تک تم مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب نہیں جانوگے اس وقت تک تم سچے مسلمان نہیں ہوسکتے۔ “
تب ” عمررضی اللہ عنہنے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایاہے اب آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز اورمحبوب ہیں۔ “
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عمر !اب جبکہ تم نے مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب سمجھاہے تو اب تمہاراایمان کامل ہوگیا۔ “ (بخاری ۔حدیث نمبر6632)
کھجور کا تنا رونے لگا : مسجد نبوی کی چھت کھجور کے تنوں پر بنائی گئی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک تنے کے سہارے کھڑے ہوجاتے تھے ، کبھی کبھی خطبہ لمبا ہوجاتاتھا،اس لیے ایک انصاری عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سہولت کے لیے کہاکہ (اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک منبر بنوادیں ؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انصاری عورت کی بات مان لی تو اس عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جھاؤ کے درخت سے تین سیڑھیوں والاایک منبر تیارکروادیا، جمعہ کادن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تنے کے بجائے منبر کی طرف تشریف لے گئے ۔ وہ تنا غم فراق سے رونے لگا۔
صحیح بخاری میں جابر بن عبد اللہرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ کے وقت ایک درخت یا کھجور کے تنے کے پاس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک انصاری نے پیش کش کی : اے اللہ کے رسول !کیاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک منبر نہ بنادیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جیسے تمہاری مرضی
انصاری عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک منبر بنوا دیا۔ جمعہ کا دن آیاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرماہوئے تو وہ تنا بچے کی طرح چیخ چیخ کررونے لگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے اوراس تنے کو آغوش میں لے لیاتووہ اس بچے کی طرح ہچکیاں لینے لگاجسے بہلا کر چپ کرایاجارہاہو ۔ تنے کارونا ، فراق رسول صلی اللہ علیہ وسلم اورذکر اللہ سے محرومی کی بناپر تھاجسے وہ پہلے قریب سے سنا کرتاتھا۔(بخاری :2095)
مذکورہ احادیث سے پتہ چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے بغیر ہمارے ایمان کی تکمیل ممکن نہیں ہے ۔لفظ حب ، محبت اور اس طرح کے الفاظ صرف شہوانی خواہشات اوربرے معنوں میں نہیں آتے بلکہ اصلاً یہ اعلی و پاکیزہ معانی کی ترجمانی کرتے ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام سے محبت رکھتے تھے توصحابہ کرام بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا برتاؤ کرتے تھے۔اس طرح کے واقعات سیرت نبوی کی کتابوں میں بھرے پڑے ہیں جن کی نظیر تاریخ میں ملنی ناممکن ہے ۔
آج محبت کا لفظ صرف خاص معنی میں استعمال ہوتاہے کہ محبت کے اندر شہوانی پہلو پایاجائے جبکہ محبت ایک پاکیزہ اورجامع لفظ ہے ،اس کے اندر سب سے اہم پہلو اللہ اور رسول سے محبت کاہے ، اللہ اور رسول کی محبت کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔
موجودہ دور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخیوں کے واقعات رونماہوتے رہتے ہیں۔لیکن رد عمل کے سلسلے میں جوباتیں آتی ہیں اس کی کئی قسمیں ہیں۔ایک تو مثبت ردعمل ہے اوردسرامنفی۔
سیرت کی کتابوں میں ایک واقعہ ہے کہ ابوعبیدہ بن الجراح غزوہ احد کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے خود کڑیاں اپنے دانتوں سے نکال رہے تھے، اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منھ میں خون بھی بھرآیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اسے تھوک دو ، لیکن وہ پی گئے اور کہا کہ میراپیٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خون کا زمین سے زیادہ مستحق ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر سن کر عمررضی اللہ عنہ کا ردعمل:جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفا ت کی خبر عمررضی اللہ عنہ کو پہونچی تو وہ اپنی تلوار کھینچ کر کھڑے ہوگئے اور بلند آواز سے کہنے لگے: منافقوں کے چند لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرماگئے ، حالانکہ وہ فوت نہیں ہوئے ۔ وہ اپنے رب کے پاس اس طرح گئے ہیں جس طرح موسی علیہ السلام گئے تھے۔ وہ ضرور واپس آئیں گے اور لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹیں گے۔ عمرفاروق رضی اللہ عنہ جوش وجذبہ میں اس طرح کی باتیں کہہ رہے تھے کہ ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ آگئے ، صورتحال جاننے کے بعد علٰیحدہ کھڑے ہوگئے اورفرمایا:”اگر تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پوچتے تھے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو فوت ہوگئے ، اور اگرتم اللہ تعالی کی پرستش کرتے تھے تو اللہ تعالی بے شک زندہ ہے اور وہ کبھی نہیں مرے گا “ پھر ابوبکرصدیقؓ نے قرآن کی یہ آیت پڑھی وما محمد الا رسول قدخلت من قبلہ الرسل…. توسب لوگ پرسکون ہوگئے ۔

محبت کا تقاضا اوراس کا مطالبہ :
کیاصرف مظاہرہ سے تقاضا پورا ہوگا۔ یہ توسب سے آسان ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اللہ سے محبت کا تقاضا اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔اللہ تعالی کا فرمان ہے : قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یعنی اللہ سے محبت کی کسوٹی اتباع ہے۔ اس لیے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعوی کرنے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ کو اختیار کریں۔

گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات :
گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ کوئی نیانہیں ہے بلکہ اگرقرآن کامطالعہ کریں تو انبیائے کرام کے ساتھ گستاخیاں کافی کی گئیں ہیں، میں چند واقعات کی طرف اشارہ کرنامناسب سمجھتاہوں :
پہلاکا واقعہ : یہود جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے تو السلام علیکم ’ آپ پر سلامتی ہو‘کے بجائے زبان کو ذرا گھما کر السلام سے حرف لام کو غائب کردیتے ۔ یعنی السّام علیککہاکرتے ۔ ا س کلمہ کے معنی یہ تھے کہ اے مخاطب !تجھ پر موت وارد ہو۔یہ سلوک کیاجارہاتھا۔
اس بدتمیزی پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے پردے کے پیچھے سے سخت ردعمل دکھایا، وہ غصے میں جواب دیئے بغیر نہ رہ سکیںاور کہہ اٹھیں، کہ کمبختو!تم پر موت وارد ہو۔ سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں یہ آواز پڑگئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سمجھایا عائشہ !نرمی سے کام لو ۔عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: کچھ آپ نے سنابھی ہے کہ یہودیوں نے کیا کہا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سناتو تھا لیکن میں نے بھی وعلیک کہہ دیا،یہی کافی ہے ۔
دوسراواقعہ :یہودی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آتے ، اور کہیں یہ کہنے کی ضرورت پیش آتی کہ ذرا ٹھہریئے ہمیں بات سمجھنے کا موقع دیجئے ۔ تو اس موقع پر ایک ذومعنی لفظ استعمال کرتے تھے۔ رَاعِنا۔ اس لفظ کاظاہری مطلب تو وہی تھاکہ ہماری کچھ رعایت فرمائیے ۔ ہماری بات سن لیجئے ۔ ہماری جانب توجہ رکھیے ۔ مگر دوسری طرف عبرانی زبان میں اس سے ملتاجلتالفظ اس معنی میں استعمال ہوتا تھاکہ (سن تو بہرا ہوجائے)۔
ماضی میںبھی لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانتیں کی ہیں لیکن عصر حاضر میں اس طرح کے واقعات کچھ زیادہ ہی ہورہے ہیں مثلاً:
٭ 2007ءمیں ڈنمارک میںایک وحشی ، پاگل شخص نے اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مذموم حرکت کی، خاکے بنائے ، یہاں تک کہ اس کے اس گھٹیا اقدام کے حق میں پوروپی ممالک کے ذمہ داروں نے دلیلیں پیش کیں۔ حجاب پر پابندی اور اس کے خلاف پورے یوروپی ممالک میں مہم چلائی گئی ، حجاب کے خلاف طرح طرح کی دلیلیں پیش کی گئیں، اسی طرح مسجدوں کے مینارے بنانے پر بھی پابندی ، ڈاڑھی رکھنے پر اعتراض، قرآن کو جلانے اور پھاڑنے کے واقعات عام ہیں۔
٭ماضی قریب میں ایک اہم واقعہ جواہانت رسول کا پیش آیا ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ میں نائن الیون کی11ویں برسی کے موقع پر اسلام اوررسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی مبینہ اہانت پر مبنی ریلیز کی جانے والی فلم کاہے جس کی عالم اسلام میں شدید مذمت کی جارہی ہے، اس اشتعال انگیز فلم Innocence of Muslims ’مسلمانوں کی معصومیت ‘ کابنانے والا ۵۵سالہ اسرائیلی یہودی ڈائرکٹر سیم باسل ہے جوکیلیفورنیامیں پراپرٹی بلڈرہے ، باسل نے فلم خود لکھی اور خود ہی اسکی ہدایت کاری کی ہے۔اس نے فلم کی تیاری لیے سویہودیوں سے 50لاکھ امریکی ڈالرس جمع کی ہے۔
اس فلم کو30جون کوہالی وڈکے ایک چھوٹے سے سینما گھر میں دکھایا گیاتھا ، بعد میں اس فلم کے کچھ ٹکڑے یوٹیوب پر ڈال دیئے گئے،یکم جولائی کو آن لائن پوسٹ کیا گیا تھا۔مسلم ممالک میں اس فلم کے متعلق معلومات اس وقت ہوئیں جب ایک مصری ٹی وی چینل الناس نے ویڈیو سے عربی میں ترجمہ شدہ ٹکڑے نشر کئے تومسلم ممالک میں احتجاج شروع ہوگیا۔
Innocence of Muslims ’مسلمانوں کی معصومیت ‘فلم میں پیغمبر اسلام کی کردار کشی کرنے کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوایسے گروہ کا رہنما دکھانے کی کوشش کی گئی ہے جو قتل وغارت گری کے شوقین تھے۔
اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد :ان حالات میں مسلمانوںکی طرف سے دو رد عمل سامنے آتے ہیں ایک ایجابی اوردوسراردعمل جذباتی ہے ۔ یہود منصوبہ بند طریقہ سے مسلمانوں کو بھڑکاتے ہیں اورجذباتی ردعمل کو منظر عام پر لانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ عالمی پیمانے پر بتاسکیں کہ مسلمان صرف جذبا ت سے بھرے ہوئے ہیں امن عالم کے لیے نقصان دہ ہیں، وہ ہمیشہ جذباتی حرکتیں کرتے رہتے ہیں، اصل بات یہ ہے کہ :
ہمارادشمن ہمیں جذبات میں مبتلاکرکے اصل مقاصد سے ہٹانے کی کوشش کررہاہے۔
اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب کیسے دیں:
٭مسلمان میڈیاکا صحیح استعمال کریں اور پروپیگنڈے کا جواب میڈیا کے ذریعہ دینے کی کوشش کریں۔اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر دستاویزی فلم بناکرعام کیاجائے مصر نے پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر دستاویز ی فلم عربی زبان میں بنانے کا عزم کیا ہے ۔
٭ہم قانونی طور پر مطالبہ کریں کہ اس فلم پر پابندی لگائی جائے ، اور جس نے بھی اس طرح کی حرکت کی ہے اس کو کڑی سزادی جائے اورمسلم مذہبی تشخص اور شعائر اسلام کے تحفظ کے لیے قرار دادیں منظور کی جائیں۔
٭سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر کتابوں کی تقسیم عام کی جائے ۔اورہم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے راستے پر چلنے کی پوری کوشش کریں۔
٭ مسلمان قرآن وحدیث پر عمل پیرا ہوجائیں،جب تک ہماری زندگیوں میں قرآن اور سنت کی پیروی نہیں ہوتی، اس وقت تک ایسا ہوتارہے گا۔
٭لوگوں تک اسلام کا پیغام پہونچانے میں کسی طرح کی کوتاہی نہ کریں۔ اور دعوت دین کاکام زیادہ سے زیادہ کریں ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*