عیش منزل ہے غریبان محبت پہ حرام

اعجازالدین عمری (کویت)

نغمہ رنگیں

وہ کتنا بھیانک خواب تھا جسے پیامبر خداکی چشم بینا نے دیکھاتو اسے پروردگار کا حکم سمجھا ۔ نبی کی نگاہیں غلط چیزیں نہیں دیکھا کرتیں جاگتے بھی سوتے بھی تاریخ کی نگاہوں سے وہ منظر کبھی اوجھل نہیں ہو سکتا جب ایک بوڑھا باپ اپنے ہاتھوں میں چھری لیے اپنے ہی لخت جگر کی گردن پر چلانے کی کوشش میں ہے محض ایک خواب کو شرمندہ¿ تعبیر کرنے کی آرزو ہی تو تھی یہ اف!! کتنا جاں گداز منظر ہے کیسی مشکل گھڑی اور کتنا پر سکوں چہرہ رب کی رضا نہ مطلوب ہوتو کہاں جٹا پاتا کوئی اتنا صبر و سکون ؟ نہیں یہ تو صرف انبیائی شان ہے وہ جتنا تپتے ہیں اتنا ہی کھرے ہوتے ہیں وہ ایمان و توکل کے اعلی ترین مرتبے پرفائز ہوتے ہیں ۔
خواب جتنا روح فرسا تھا اس کو تعبیر دینے کا عزم اور حوصلہ اتنا ہی روح پرور تھا حکم خدا کے آگے باپ کا سر تسلیم خم تھا ہی بیٹا بھی چوں چرا کرنے والا نہیں تھا سچ ہی تو ہے

باپ کا سبق اگر بیٹے کو نہ ہو ازبر
پھر پسر قابل میراث پدر کیوں کر ہو

جذبہ¿ اطاعت میں باپ اور بیٹا دونوں سرشار تھے ۔ باپ ’وفا‘ کا پیکر تھا تو بیٹا ’صبر ‘ کا مجسم بنا ہوا تھا تسلیم و رضا کی یہ ادا کیسے نہ بھاتی کہ یہ تاریخ بشر کی بڑی ہی انوکھی مثال تھی۔ آسمانوں کے رب کا فیصلہ تھا کہ اس ادا ئے دلبرانہ کو زمانے کی بساط پر یادگار بنادی جائے

کیوں ساز کے پردے میں مستور ہو لَے تیری
تو نغمہ¿ رنگیں ہے ، ہر گوش پہ عریاں ہو

خواب، جس کی تعبیر ایک تاریخ بن گئی اس کو تعبیر دینے کا ہوش ربا نظارہ رہتی دنیا تک کے لیے ’رسمِ لازوال ‘ بنا دیا گیا صفحہ¿ ہستی پر اس کا نقش ناقابل فراموش کردیا گیا

ہم نے جو طرزِ فغاں کی ہے قفس میں ایجاد
فیض! گلشن میں وہی طرزِ بیاں ٹھہری ہے

نگہ بلند

تاریخ بشر میں کم ہی ایسے لوگ ملتے ہیں جن کا پل پل عشق جاناں کے لیے وقف ہو چکا ہو
وہ جن کا لمحہ لمحہ کسی پر وارفتگی کا فسانہ سناتا ہو وہ جن کی دھڑکنیں ، جن کی سسکیاں ، جن کی بے تابیاں ، جن کی شادابیاں کسی ایک سے وابستہ ہو
وہ جن کا بچپن ، جن کی جوانی اور جن کا بڑھاپا ایک ہی لگن میں گذرا ہووہ جو اپنی خلوتوں میں ، اپنی جلوتوں میں ، محفلوں میں اور تنہائیوں میں ایک ہی راگ الاپتے ہوں
وہ جس کا دل ، دماغ، آنکھ ، کان ، ہاتھ ، پیر جسم و جان اور روح و تن بلکہ اس کے وجود کا انگ انگ صرف ایک ہی مقصد کی برآری کے لیے مصروف کار ہوں
جی ہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام انسانی تاریخ کے انہیں چنندہ ہستیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا لمحہ لمحہ اور پل پل بھی اسی کے گن گائے جس نے انہیں وجود بخشاتھا ۔
وہ اسی کے ہوکر رہ گئے تھے جس نے انہیں زندگی کی سوغات بخشی تھی۔ ان کی پوری زندگی اللہ تعالی کے حضور تسلیم ورضا کا پیکر بنی ہوی تھی۔ اس کے ہاتھوں انہوں نے اپنی موت و حیات کا سودہ کیا تھا ۔تبھی تو آسمان والے خدانے ان کے کلمات کو مقام ابدیت عطا کیا اور اسے آخری کتاب ہدایت کی زینت بنائی
” میں نے تو یکسو ہوکر اپنا رُخ اس ہستی کی طرف کر لیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں“
(ترجمہ آیت نمبر79 سورة الانعام)
کائنات کی سب سے بڑی قوت کو اپنا سب کچھ تج دینے والا چھوٹی موٹی چیزوں کو اپنی زندگی کا مقصد کیونکر بنا سکتا ہے ؟

نگاہ شوق دل زندہ کی تلاش میں ہے
شکار مردہ سزاوار شاہباز نہیں

ان کی نظر زندگی کے اعلی ترین نصب العین پرگڑی ہوئی تھی۔ دنیائے رنگ و بو نہ کبھی ان کی نظروں میں جچی اور نہ دل میں بسی اور نہ مقصد کی راہ میں ان کے لیے رکاوٹ بن سکی دنیا ان کے مومنانہ نقطہ¿ نظر سے بہرہ مند ہوی مگر دنیا سے وہ کنارہ کش ہی رہے ۔
جچتے نہیں کنجشک و حمام اس کی نظر میں
جبریل و سرافیل کا صیاد ہے مومن
ان کی زندگی راہ خدا میں قربانی اور جانفشانی کی داستان ہے ۔ یہ عشق و جنوں کی عقل و خرد پر بالادستی کی کہانی ہے ۔

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشا ئے لب بام ابھی

نمرود نے انہیں آگ کے الاو میں ڈالاتھا مگر جس نے زندگی کی آتشیں فضاو¿ں میں جینے کی عادت ڈالی ہو اورجس خاک کے ضمیر میںانگاروں کی تپش ہو ایک آگ کاالاو¿ اسے کہاں تک جلاتا ۔ جس کا ہر نفس شعلہ بار ہو اور جس کا تصور حیات ہی آتش خود میں تڑپنا ہو اسے آتش کبریت کیا گزند پہنچا سکتی تھی ۔
ہوں آتش نمرود کے شعلوں میں بھی خاموش
میں بندہ مومن ہوں ، نہیں دانہ اسپند
زندگی کی رہ پہ چل کر زندگی کی کشاکشوں سے بچ بچ کر انہوں نے زندگی گذاری تھی۔ وہ زندگی کیا تھی ابتلاءو آزمائش کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا یہ راہ محبت میںسنگ نوردی و سرفروشی کی داستان تھی، ایک طرف خار صحرا تو دوسری جانب برہنہ پائی تھی مگر کبھی نہ جبین نیاز پر شکنیں پڑیں اور نہ زباں پر کوئی حرف شکایت ہی آیا

نرالا عشق ہے میرا نرالے میرے نالے ہیں
نہ پوچھو مجھ سے لذّت خانماں برباد رہنے کی
وہ اس راز سے بخوبی واقف تھے کہ
”عیش منزل ہے غریبان محبت پہ حرام “

آپ جتنے کڑے امتحان سے گذرتے آپ کی ایمانی طاقت میں اور جولانی آتی تھی ۔ہر امتحان کے بعد آپ ایک نئے اعزاز سے نوازے جاتے رہے ۔ عشق جاناں کی جو آگ عنفوان شباب میں دل میں لگی تھی پیر سالی میں بھی اس کی آنچ کم نہیں ہونے پائی

احوال محبت میں کچھ فرق نہیں ایسا
سوز و تب و تاب اول ، سوز و تب و تاب آخر

رسمِ خلیلی

ابراہیم علیہ السلام کو خلیل اللہ کے لقب سے نوزا گیا تھا ۔ خلیل کے معنی دوست کے ہیں ۔یہ لقب انہیں مفت میں نہیں ملا تھا بلکہ آپ نے اللہ تعالی سے دوستی کی تو اس سے وفا کا رشتہ باندھا ۔ محض اس کی دوستی کے لیے ساری دنیا کی نفرت مول لی ۔اس کو پانے کے لیے سب کو دشمن جاں بنا ڈالا ۔ ایک بار جو اس کے راستے پر چلنا شروع کیا تو پھر کبھی پلٹ کر نہیں دیکھا ۔ اسی کی یادوں کی تجلی سے ظلمت کدہ¿ حیات کو روشنی بخشی۔ اس کے عشق میں ایسے ڈوبے کہ پھر کسی کی محبت غالب ہی نہ آسکی۔ اس کی محبت کی لَے میں ایسے مست ہوگئے کہ پھر کسی ساز کے لیے وہاں کوئی گنجائش ہی نہیں رہی ۔ انہوں نے اس کو پانے کے لیے خود کو مٹایا ۔ اس کو خوش کرنے کے لیے اپنی خوشیاں قربان کرکے بھی شادماں ہونے کا ثبوت دیا ۔ مقام عقل سے گذر کر مقام شوق کی پہنائیوںمیں گم ہوگئے ۔وہ جس کے بندے تھے اس کی غلامی کو چھوڑ کر ایک لمحے کے لیے بھی کسی کی غلامی کے لیے تیا رنہیں تھے ۔
اس ذات واحد کی عبادت میں کسی کی ساجھے داری انہیں قبول تھی اور نہ اس کی حکومت میں کسی کی شرکت انہیں گوارا تھی ۔
ہمیں ان کی ملت کی پیروی کا حکم دیا گیا اور کہا گیاکہ ابراہیم (علیہ السلام ) شرک کرنے والوں میں نہیں تھے ۔
یہ ’رسمِ خلیلی‘ ہے کہ ہر نوع شرک سے براءت کا اعلان کیا جائے اور صرف اس کی غلامی قبول کی جائے ۔
قربانی اور رسم قربانی میں بڑا فرق پایا جاتا ہے ۔ قربانی تقاضائے محبت ہے ۔ جب تک دل جذبہ¿ محبت سے سرشار نہ ہو تو پھر قربانی کیسی ؟
کسی جانور کی گردن پر چھری چلانے سے ’رسم قربانی ‘ تو شاید ادا ہوجائے مگر اسے قربانی تو نہیں کہہ سکتے !
بسم اللہ واللہ اکبر سے جانور حلال تو ہوجائے گا مگر جس خدا کی بڑائی بیان کی جارہی ہے اس کی محبت سے دل خالی خالی رہیں تو ’رسم قربانی کبھی حقیقی قربانی کا مقام نہیں لے سکتی

شکوہ عید کا منکر نہیں ہوں میں، لیکن
قبول حق ہےں فقط مرد حر کی تکبیریں

عشق جاناں سے جب تک دل میں گداز نہ پیدا ہو رسم خلیلی کو نقش حیات بنانا ناممکن ہے ۔
جب تک دنیائے دوں سے پرہیزگاری کو شعار نہیں بنایا جاتا ”رسم خلیلی ‘ ادا نہیں ہوپاتی ۔
صرف ایک بت شکنی ’رسم خلیلی ‘ نہیں ہے حق پرستی کے لیے جان لڑانا جادہ¿ حق کی سختیوں کو جھیلنا ، صبر و رضا کا پیکر بننا ، صرف اسی کو معبود حقیقی ماننا ، صرف اس کے لیے نذریں چڑھانا ،صرف اسی سے منتیں مانگنا ، صرف اسی کو مالک و مقتدر سمجھنا ، صرف اسی سے لو لگانا ، صرف اسی سے دعائیں کرنا ، صرف اسی کے حکم کے تابع رہنا ، توہمات کی بندگی سے آزاد ہونا ، مقصد حیات کو ہر وقت نگاہوں کے سامنے رکھنا ، حق گوئی کے لیے بیباک رہنا ، گم کردہ راہ کو راہ راست کی طرف رہنمائی کرنا، کفر سے بیزار رہنا ، حق پرستوں سے دوستی کرنا ، حق کی خاطر مال و اولاد سے خوشی خوشی دستبردار ہونا ’رسم خلیلی ‘ہے۔اور اس’ رسم خلیلی ‘ کو اسوہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ براہیمی نظریہ¿ حیات کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنا یا جائے کہ یہ آدمی کو چشم بینا عطا کرتا ہے ۔

صنم کدہ ہے جہاں اور مرد حق ہے خلیل
یہ نکتہ وہ ہے کہ پوشیدہ لاالہ میں ہے

٭٭٭

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*