تفسیر آیت الکرسی (۲)

 صفات عالم تیمی (کویت)

 اللّہُ لاَ اله اَّلا ہُوَ الحَیُّ الَیُّومُ لاَ تَاخذُہُ سِنَة وَلاَ نَومّ لَہُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الاَرضِ مَن ذَا الَّذِی یَشَفعُ عِندَہُ َّ الا باِذنہِ یَعلَمُ مَا بَینَ اَیدِیہِم َومَا خَلفَہُم وَلاَ یُحِیطُونَ بِشَیءٍ مِّن عِلمِہِ  الا بِمَا شَاء وَسِعَ کُرسِیُّہُ السَّمَاوَاتِ وَالارضَ وَلاَ یَودُہُ حِفظُہُمَا وَہُوَ العَلِیُّ العَظِيم (سورة البقرة 255  )

ترجمہ: ”اللہ ہی معبودبرحق ہے جس کے سواکوئی معبودنہیں،جو زندہ اور سب کا تھامنے والا ہے،جسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند،اس کی ملکیت میں زمین وآسمان کی تمام چیزیں ہیں، کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے،وہ جانتا ہے جو اس کے سامنے ہے اورجو اس کے پیچھے ہے اوروہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے، مگرجتنا وہ چاہے، اس کی کرسی کی وسعت نے زمین وآسمان کو گھیر رکھا ہے،وہ ان کی حفاظت سے نہ تھکتا اورنہ اکتاتا ہے، وہ تو بہت بلنداوربہت بڑا ہے۔“

قسط اول 

تشریح: آیت الکرسی میں اللہ گکی ذات وصفات اورجلالت شان کا مکمل تعارف آگیا ہے ، آیت کا آغاز لفظ ’اللہ‘سے ہوا جس کا اطلاق اللہ کے علاوہ کسی اورکے لیے نہیں ہوسکتا،وہی اللہ عبادت کا مستحق ہے اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہیں کی جاسکتی،اورعبادت ہروہ ظاہری وباطنی اقوال وافعال ہیں جنہیں اللہ پسند فرماتاہے مثلاً نماز،روزہ ،حج ، زکاة،دعا،استغاثہ،رکوع،سجدہ،قربانی، نذرونیاز وغیرہ جنہیں صرف اللہ گکے لیے انجام دینا ضروری ہے ۔ اسکے علاوہ کسی اورکی عبادت نہیںکی جاسکتی،اسکے علاوہ کسی اورکو مشکل کشااورحاجت رواسمجھانہیں جاسکتا۔یہی وہ پیغام ہے جس سے نبی پاک ا اپنی دعوت کا آغاز کرتے ہیں اوراپنی حیات طیبہ کے آخری لمحات تک اسکی یاددہانی کراتے ہیں : ”یہودیوں اور عیسائیوں پر اللہ کی لعنت ہوکہ انہوںنے اپنے انبیاءکی قبروںکو سجدہ گاہ بنالیا“۔(بخاری ومسلم)

 اللہ گ ہی ہماری عبادت کا مستحق کیوں ہے؟ اس لیے کہ وہ خالق ہے،مالک ہے،رازق ہے،ہمیشہ سے ہے اورہمیشہ رہے گا،اس کی زندگی ازلی ہے،جس کی نہ ابتداءہے نہ انتہاہے ،ہر چیز سے بے نیاز ہے ، اورہر مخلوق اس کی محتاج ہے،جن وانس اورفرشتے ایک لمحہ کے لیے بھی اس سے بے نیاز نہیں ہوسکتے،جن وانس کی فرمانبرداری سے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا اوران کی نافرمانی سے اس کا کوئی نقصان نہیں ہوسکتا،ہر طرح کے کمال سے متصف ہے،یہ اس کا کمال ہے کہ اُسے نہ کبھی اونگھ آتی ہے اورنہ نیند ،جسے اونگھ اورنیندآتی ہو اسے تھکاوٹ لاحق ہوتی ہے،بیماری اورموت سے دوچار ہوتا ہے اوراللہ کی ذات ایسے نقص سے بالاتر ہے۔زمین وآسمان میں جتنی چیزیں ہیں خواہ عاقل ہوںجیسے فرشتے،انسان اورجن یا غیرعاقل جیسے حیوانات،نباتات اورجمادات‘ سبہوں کواسی نے پیدا کیا ،ہر ایک کو شمار کرر کھا ہے اور ان سب کاحقیقی مالک ہے۔ اس کی کمال عظمت ہے کہ اس کے سامنے اس کی اجازت کے بغیرکسی کو کسی کی سفارش کرنے کی جرات نہ ہوگی،اوراجازت کے بعد بھی سفارش ایسے ہی لوگوںکی کرسکتے ہیں جن کے عمل سے اللہ راضی ہوحتی کہ ہمارے حبیب ابھی ایسے ہی لوگوںکی سفارش کریں گے جو موحدین میں سے ہوں۔ وہی ماضی مستقبل اورحال کا علم رکھتا ہے ،ساری مخلوق کی حرکات وسکنات سے آگاہ ہے ،جنگل میں ایک پتا گرتا ہے اسے بھی وہ جان رہا ہے ،اورسمندرمیں مچھلیاں کیاکرتی ہیں اس پر بھی وہ نگاہ رکھے ہوا ہے ،وہ آنکھوںکی خیانت اوردلوں کے بھید سے بھی آگاہ ہے ۔ بندوںکو اتنا ہی علم حاصل ہوسکتا ہے جتنا وہ انہیں عطا کردے ،ہرطرح کی ایجادات واکتشافات اللہ کے عطا کردہ علم ہی کی رہین منت ہیں۔ اس کی کرسی آسمان وزمین کا احاطہ کئے ہوئی ہے ،اورآسمان وزمین کی اس قدرعظمت کے باوجودوہ اس کی حفاظت سے نہ تھکتاہے اورنہ اکتاتا ہے، اس کی ذات بہت بلنداوربہت بڑی ہے۔

اس آیت پر غورکرنے سے بندے کا ایمان تازہ ہوتا ہے،اس کا یقین مضبوط ہوتا ہے،اپنے رب سے اس کا تعلق مستحکم ہوتا ہے۔وہ ہمیشہ خودکواللہ کے علم اوراس کی نگرانی میں پاتا ہے،اس طرح اس کے اندردین پراستقامت اورثبات قدمی پیدا ہوتی ہے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*