کھیل کے شرائط

مولانا مقصود الحسن فیضی (سعودی عرب)

 عَن ابِی ھُرَیرَةَ  رضى الله عنها عَنِ النَّبِیّ صلى الله عليه وسلم  قَالَ : ” لَا سَبق َ اِلَّا فِی خُفٍّ اَو فِی حَافِرٍ اَو نَصلٍ ” .( سنن ابو داؤد :2574 ، الجہاد – سنن الترمذی :1700 ، الجہاد – سنن النسائی :3612 – سنن ابن ماجہ :2878 ، الجہاد) .

ترجمہ :حضرت ابو ہریرہ  رضى الله عنه سے روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :” انعامی مقابلہ جائز نہیں ہے مگر اونٹ دوڑ میں ، گھڑ دوڑ میں اور تیر اندازی میں۔“

تشریح :خالق کائنات نے انسان کی طبیعت کچھ ایسی بنائی ہے کہ وہ ایک طرزپر کام کرتے کرتے اکتا جاتا ہے ، وہ سنجیدہ مزاجی اور جدیت سے نکل کر کچھ دل لگی کی بات کرنا چاہتا ہے یا یوں کہئے کہ وہ اپنے دینی و دنیوی فرائض سے الگ ہو کر کچھ ہنسی مزاح اور سیر وتفریح کے میدان میں آنا چاہتا ہے ، جس کے لیے اسلام اسے چھوٹ دیتا ہے اور اسے اپنے جسم وروح کو آرام دینے کے مواقع فراہم کرتا ہے ، لیکن اس کے لیے انسان کو بالکل آزاد نہیں چھوڑتا بلکہ کچھ حدود و قیود رکھتا ہے، کھیل سے متعلق اہل علم نے قرآن وحدیث کی روشنی میں جو اصول رکھے ہیں ان میں سے اہم یہ ہیں :

[1] ہر وہ کھیل جس سے جہاد پر مدد لی جاسکے ، اللہ تعالی کی عبادت اچھے طریقے سے کی جاسکے اور وہ کھیل اللہ کی مخلوق کے حقوق کی ادائیگی پر مددگار ثابت ہو شریعت کی نظر میں مرغوب و پسندیدہ ہے۔

[2] اس کھیل کی وجہ سے کسی حرام کام میں واقع نہ ہو ، یعنی یہ کھیل کھیلنے اور دیکھنے کی وجہ سے انسان کو کوئی حرام کام نہ کرنا پڑے جیسے مرد وزن کا اختلاط ، شرم گاہ پر نظر پڑنا ، بعض کھیلوں میں ران کو کھولے رکھنا وغیرہ اگر کھیل کھیلنے یا دیکھنے میں اس طرح کے کسی حرام کام میں پڑجانے کا خوف ہے یا آپس میں حساسیت پیدا ہونے کا ڈر ہے تو وہ ناجائز ہوگا۔

[3] اس کھیل کے دیکھنے یا کھیلنے کی وجہ سے کوئی واجب نہ ترک ہو رہا ہو خواہ وہ واجب دینی ہو یا دنیوی۔ دینی واجبات جیسے نماز اور روزہ وغیرہ اور دنیوی واجبات کی مثال وہ ڈیوٹیاں ہیں جن پر تنخواہ اور مقابل لیتے ہیں، ان ڈیوٹیوں کو چھوڑ کر کھیل دیکھنا یا کھیلنا جائز نہ ہوگا۔

[4] وہ کھیل مقابلہ بازی کا نہ ہو ، اس معنی میں کہ جیتنے والی ٹیم کو جیتنے کے عوض یا اچھے کھیل کے عوض اسے ایک متعینہ رقم یا کپ دیا جائے، اس لیے کہ انعامی مقابلہ صرف انہیں کھیلوں میں جائز ہے جس کی اجازت شریعت نے دی ہے جیسا کہ زیر بحث حدیث میں بیان ہوا ہے یعنی ، گھوڑ سواری ، تیر اندازی وغیرہ ، انہیں پر ہر اس کام کو قیاس کیا جاسکتا ہے جو جہاد فی سبیل اللہ یا دین کی دعوت وتبلیغ میں معاون ہوسکتے ہیں ، جیسے حفظ قرآن یا کوئی بہترین مقالہ وغیرہ۔

[5] کھیل کا مقصدکھیل ہو ، اس کے ذریعہ روزی کمانا ، اسے دوستی کا معیار بنانا اس سلسلے میں فضول خرچی کرنا جیسے کھیل کے لیے ٹکٹ بیچنا یہ سارے کام اس کھیل کے حرام ہونے میں داخل ہوںگے۔

فوائد :

٭ اسلام کوئی جامد اور خشک مذہب نہیں ہے بلکہ ایک جامع اور شامل مذہب ہے۔

٭مسلمان کو تفریح کے طور پر ایسے کام کرنے چاہئیںجو دین و دنیا میں مفید ہوں۔

٭ تیر اندازی ، گھوڑ سواری چونکہ ذاتی دفاع کا ذریعہ اور جہاد میں مفید ہے لہذا اس کا کھیل ایک کار ثواب ہے۔

٭ جدید دورمیں جو اسلحہ کفار کے خلاف جنگ میں استعمال ہوسکتا ہے اس کی تربیت حاصل کرنا تیراندازی میں داخل ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*