اسلام کی نظر میں قانون مکافات

محمد شاہنواز القاسمی(کویت)

shahnawazquasmi@gmail.com

اسلام میں قانون مکافات کا وجود ،دنیا کے سامنے ایک معتدل اور سالم نظام کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے ؛مگر تعصب پسند اور اسلام سے پرخاش رکھنے والے اس کے نظریہءمکافات پر بڑھ چڑھ کر اعتراض کرتے ہوئے اس کو دہشت گردی کی ایک بنیاد ٹھہراتے ہیں ؛ان کے خیال کے مطابق اسلام میں سزا کا نظام ایک جارحیت پسندانہ اور ظالمانہ نظام ہی نہیں ؛بل کہ اس کی پیشانی پر بدنما داغ بھی ہے ؛کیوں کہ یہ قانون کتنے ہی انسانوں کی زندگی برباد کردیتا ہے ؛کتنوں ہی سے جینے کا حق چھین لیتا ہے اور کتنوں کو ہمیشہ کے لیے اپاہج کردیتا ہے، ان کے خیال کے مطابق اسلام میں قتل کا بدلہ قتل ایک غیر انسانی سزا ہے ،جو تشدد او رسخت گیری پر مبنی ہے ۔ زانی کی سزا سنگ سار کرنا بھی ان نظر میں ایک وحشیانہ کھیل ہے ، چور کی سزا ہاتھ کاٹنا بھی درندگی پر مبنی ایک سزا ہے ، بات بات پر سرعام کوڑے لگانا بھی انسانی آبرو کے ساتھ کھلواڑہے۔
ان تمام سزاؤں کا تذکرہ کرتے ہوئے وہ صاف لفظوں میںاسلام کا رشتہ دہشت گردی اور ہولناکی سے جوڑدیتے ہیں ؛مگر کیا وہ اسلام کے قانون مکافات کو دلیل بناتے ہوئے اسلام کا تعلق دہشت گردی کے ساتھ کرنے میں حق بجانب ہیں ؟
حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے قانون مکافات کو دہشت گردی کی بنیاد بنانا سراسر بے بنیاد ہے۔ جس پرحسدونفرت کا رنگ غالب ہے یا ناخواندگی اور کم علمی کا دبیز پردہ وجہ یہ ہے کہ اسلام میں سزا کان نظام دہشت وہولناکی کی اشاعت یا انسانی خون کے ضیاع اور انسانوں کی زندگی سے کھلواڑ کرنے کے لیے ہے اور نہ انسانوں کی آبرو برباد کرنے کے لیے ، اسلام کا نصب العین انسانوں کو صحیح قدرو مرتبہ فراہم کرنا اور عام دہشت گردی کو ختم کرنا اسلام کا نصب العین ہے ؛ اس لیے کہ اگر شرپسندوں کو ان کے جرائم کی سزا نہ دی جائے تو پھر ان کے ظلم کا دائرہ مزید وسیع ہو جائے گا ، اگرقاتل کے لیے سزا ئے قتل مقرر نہ کی جائے ، تو انسانوں کا خون گلی کوچوں میں بہتا ہوا دکھائی دے گا ، اگر زانی کو پتھر مارکر ہلاک نہ کیا جائے یا کوڑے نہ مارے جائیں تو انسان کی آبرو خطرے میں پڑجائے گی ، پاک دامن عورتیں بھی نشانہ بن جائیں گی اور عام لوگ یہ وحشیانہ کھیل ہر جگہ کھیلتے نظر آئیں گے ، کیا ایسی حالت میں انسان کی عزت محفوظ رہے گی؟ اسی طرح اگر چور کے ہاتھ نہ کاٹے جائیں تو کیا کسی شخص کا مال محفوظ رہے گا ؟ کیا دنیا میں لوٹ مار کا آغاز نہیں ہوگا؟ پھر ان حالات میں کیا کیا جائے؟ کیا یونہی دنیا کا نظام بگڑنے دیا جائے یا مجرموں اور گنہ گاروں کو ان کے جرائم اور گناہوں کی سزا دے کر بگڑتے نظام کو بچالیا جائے اور انسانیت کو صحیح مقام دیتے ہوئے انھیں دہشت گردی ، قتل وغارت گری ، لوٹ مار ، ناانصافی اور آبرو ریزی سے محفوظ رکھا جائے؟
اسلام چوں کہ امن پسند مذہب ہے ، انسانیت کا لحاظ کرنا ، لوگوں کو شر اور فتنہ سے بچانا اس کا خاص مقصد ہے ، اس لیے اس مذکورہ قضیہ پر اچھی طرح غور کیا اور ہمہ گیر امن وامان کی غرض سے گنہ گاروں اور مجرموں کے لیے سزائیں متعین کیں ،ارشاد خداوندی ہے : فمن یعمل مثقال ذرة خیرایرہ ، ومن یعمل مثقال ذرة شرا یرہ ،(سورہ زلزال:۷،۸)جس شخص نے ذرہ برار نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔
زانیہ عورت اور زانی مرد کے لیے بھی سزا تجویز کی گئی ؛ تاکہ معاشرہ کو بربادی اور تباہی سے بچالیاجائے ۔خداوند قدوس کا ارشاد ہے : الزانیة والزانی فاجلدوا کل واحد منہما مئة جلدة ولا تÉخذکم بہما رافة فی دین اللہ ان کنتم تومنون باللہ والیوم الآخر ولیشہد عذابہما طائفة من المومنین، الزانی لاینکح لا زانیة او مشرکة ، والزانیة لاینکحہا الا زان او مشرک وحرم ذلک علی المومنین۔(سورہ النور :۲،۳) ترجمہ : زناکار عورت ہو یامرد ، ہر ایک کو سو کوڑے لگا ؤ اور تم کو اس پر اللہ کا حکم نافذکرنے میں کوئی ترس نہ آوے اگر تم اللہ پر اور آخرت کے دن پر یقین رکھتے ہواور اس سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت موجود رہے، زنا کار مرد ، زانیہ عورت یا مشرکہ عورت ہی سے نکاح کرتا ہے اور زانیہ عورت ، زنا کار مرد یا مشرک سے ہی نکاح کرنا چاہتی ہے ، یہ بدکاری مسلمانوں پر حرام کردی گئی ہے ۔
یہ سزاتو ان کے لیے ہے جو غیر شادی شدہ ہوں ، لیکن اگر شادی شدہ ہونے کے باوجود اس فعل بدکا وہ ارتکاب کرتے ہیں تو ان کو سنگ سار کیا جائے گا ، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی شدہ مرد یا عورت کو جب انھوں نے زنا کاارتکاب کیا ، کوڑوں کی سزانہیں دی ؛ بل کہ رجم یعنی پتھروں سے مارنے کی سزادی ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین کا یہی دستور العمل رہا ہے ۔
دراصل زنا کاری اللہ تعالی کے نزدیک ناپسندیدہ عمل ہے اور بڑی بے حیائی کی بات ہے ، وہ قرآن مجید میں فرماتا ہے : ولاتقربوا الزنی ، Êنہ کان فاحشة وساءسبیلا، ( بنی اسرائیل ، ۲۳) اور زنا کے قریب مت جاﺅ، بلکہ شبہ وہ بدکاری اور بری راہ ہے ، اس لیے کہ زنا کاری سے سماج میں بے حیائی پھیلتی ہے جو خدا کو قطعا منظور نہیں ، Êن الذین یحبون ان تشیع الفاحشة فی الذین آمنوا لہم عذاب الیم فی الدنیا والآخرة واللہ یعلم وانتم لاتعلمون ، (سورہ النور ،۹۱) جو لوگ ایمان داروں کے درمیان بے حیائی پھیلانا چاہتے ہیں ، ان کے لیے دردناک سزا ہے ؛لیکن یہ سزائیں اسی وقت نافذہوںگی جب کہ سارے شواہد اور دلائل فراہم ہوجائیں اور اگر ذرا بھی شبہ ہو تو سزا ختم ہوجائے گی ، ادرؤوا الحدود بالشبہات ، مسند ابی حنیفة للحارثی، شبہات کے ساتھ سزائیں موقوف کردو، زانی کی یہ سزا ہی معاشرہ کو پاک کرتی ہے اور طرح طرح کی بے حیائیوں سے نجات دلاتی ہے اور اگر بالفرض اس بے حیائی کی کھلی چھوٹ دے دی جائے تو انتہائی بھیانک صورت حال پیش آئے گی جیساکہ موجودہ دور میں ہم دیکھ رہے ہیں ۔
قاتل کی سزا قرآن کریم نے قتل ہی متعین کی ہے ، ارشاد باری تعالی ہے : یایہا الذین آمنوا کتب علیکم القصاص فی القتلی ، ( بقرہ ۸۷۱) اے ایمان والو، تمھارے لیے قتل کے مقدمے میں قصاص کا حکم لکھ دیا گیا ہے ، یہ الگ بات ہے کہ مقتول کے ورثا معاف کردیں تو اس صورت میں قتل کی سزا ختم ہوجائے گی ، چنا ںچہ ارشاد باری تعالی ہے : فمن عفی لہ من اخیہ شیءفاتباع بالمعروف واداء الیہ باحسان ، بقرہ ۸۷۱) پھر جس کو ، اس کے بھائی کی طرف سے کچھ بھی معاف کیا جائے تو دستور کے موافق تابعداری کرنی چاہیے اور اس کو خوبی کے ساتھ ادا کرنا چاہیے ۔
البتہ یہ سزا دیتے ہوئے زیادتی نہ کی جائے گی ؛بل کہ قصاص سے آگے ذرا بھی ظلم روا نہیں ہے ، یعنی جس طرح قاتل نے قتل کیا ہوگا اسی طرح اسے قتل کیا جائے گا، یہ اسلامی قانون عدالت ہے ، گرفت میں آنے والے کو انصاف کے مطابق سزادی جائے گی ، یہ قانون سب کے لیے یکساں ہے کسی کا ذاتی معاملہ نہیں ، ہاں اس سزا میں اسی وقت تخفیف متوقع ہوسکتی ہے جب کہ شریعت میں کسی طرح کی ڈھیل یا کوئی گنجائش نکالی گئی ہو ، ارشادباری تعالی ہے : ان النفس بالنفس والعین بالعین والÉنف بالانف والاذن بالاذن والسن بالسن والجروح قصاص ، ( مائدہ ) جان کے بدلے جان ، آنکھ کے بدلے آنکھ ، ناک کے بدلے ناک ، کان کے بدلے کان ، دانت کے بدلے دانت اور تما م زخموں کے لیے برابر بدلہ ،
اسلام میں یہ سزا دنیا کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بڑی مفید ثابت ہوتی ہے ، دنیا قتل و غارت گری سے اسی صورت میں محفوظ رہ سکتی ہے ، ورنہ اگر قاتل کو کھلی چھوٹ دے دی جائے یاچند دنوں کے لیے محض قید کردیا جائے تو قتل وغارت اور دہشت گردی دنیا میں ہمہ گیرشکل اختیار کرلے گی ، پورا سماجی ڈھانچہ متاثر ہوجائے گا ، نفرت وعداوت ، انسان دشمنی ، ظلم وزیادتی اور ناانصافی عام ہوجائے گی ، جیسا کہ آج دنیا میں خون ریزی ایک معمولی سا کھیل ہوگئی ہے، چپہ چپہ پرخون کی ہولی کھیلی جارہی ہے اور چند سکوں کے عوض انسانوں کی جانیں لی جارہی ہیں۔
یہ حالات دنیا کے تمام ممالک کے ہیں ، مگر سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہورہاہے ؟ ظاہر ہے کہ اس کا سبب یہی ہے کہ قاتل کو اس کے قتل کی وہ سزا نہیں مل رہی ہے جس سے لوگ قتل جیسے گناہ سے باز آجائیں ، بل کہ ا ن کو چند دنوں کے لیے قید کیا جاتا ہے ورنہ تو چند روپوں کے عوض بے لگام چھوڑدیاجاتاہے ، اس طرح قتل کرتے ہوئے لوگ بالکل گھبراہٹ نہیں محسوس نہیں کرتے اور لوگوں کی جانیں لے لیتے ہیں ،
چوروں کا ہاتھ کاٹنا بھی مصلحت کے پیش نظر ہے اور وہ یہ ہے کہ لوگوں کا مال ڈکیتیوں اور چوریوں سے محفوظ ہوجائے ،فرض کیجیے کہ قرآن پاک کا حکم فاقطعوا ایدیہما (مائدہ ) ان کے ہاتھ کاٹ لو نہ ہو تو پھر کس کا مال محفوظ رہے گا؟ کیا یہ نہیں ہوگا کہ جگہ جگہ پر چوریوں کے واقعات رونما ہوںگے، جس سے کہ امرا محفوظ رہیں گے اورنہ غربا ، جیسا کہ موجودہ دور میں مذکورہ قانون نہ ہونے کے سبب روز بہ روز ہم ڈکیتی کے واقعات سنتے اور پڑہتے رہتے ہیں ، یہاں تک کہ بڑے بڑے بینکوں میں بھی ڈکیتیاں ہورہی ہیں
معلوم ہوا کہ اسلام میں سزاؤں کا وجود ایک معتدل نظام قائم کرنے لیے ہے ؛تاکہ دنیا میں امن وامان قائم ہو ، لوگوں کو انصاف ملے ، انسانی جانیں خواہ مخواہ ضائع نہ ہوں ، نہ لوگوں کی آبرو کے ساتھ کھلواڑ ہو اور نہ ہی عوام کا مال غیر محفوظ ہو ، اس معتدل نظام کی برکت سے لوگ اطمینان اور سکون کے ساتھ زندگی بسر کریں گے ورنہ خدا کو کیا پڑی ہے کہ لوگوں کو خواہ مخواہ سزادے،مایفعل اللہ بعذابکم ان شکرتم وآمنتم (سورہ نساء:۷۴۱)اللہ تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم حق کو مانو اور یقین رکھو ، اللہ تعالی اپنے بندوںپر بے حد مہربان ہے پھر بلا وجہ وہ کیوں لوگوں کو سزا دے کر اور بستیوں کو اجاڑ کر اپنے کرم ورحمت پر دھبہ لگائے گا ؟ حق جل مجدہ کا ارشاد ہے : وماکان ربک لیھلک القری بظلم واھلھا مصلحون(ہود:۷۱۱) تیرا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کرے جب کہ اس کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں ۔
اللہ تعالی نے قانون مکافات یاقانون جرم کو اس لیے قائم فرمایا: تاکہ لوگ جرائم اور گناہوں سے محفوظ رہیں ، کاش پوری دنیامیں خدا کا یہ قانون نافذہو اور اہل دنیا سکون کا سانس لیں اور خوشیوں کے سائے میں اپنی زندگی کے ایام بسر کریں ۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*