عبادت کا مفہوم (۲)

 درحقیقت اللہ تعالیٰ نے انسان کو جس عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اور جس کا حکم دیا ہے وہ کچھ اور ہی چیز ہے۔ وہ عبادت یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی میں ہر وقت ہر حال میں خدا کے قانون کی اطاعت کریں اور ہر اس قانون کی پابندی سے آزاد ہو جائیں جو قانونِ الٰہی کے خلاف ہو۔ ہماری ہر جنبش اس حد کے اندر ہو جو خدا نے ہمارے لیے مقرر کی ہے۔ ہمارا ہر فعل اس طریقہ کے مطابق ہو جو خدا نے بتادیا ہے۔ اس طرز پر جو زندگی ہم بسر کریں گے۔ وہ پوری کی پوری عبادت ہوگی۔ ایسی زندگی میں ہمارا سونابھی عبادت ہے اور جاگنا بھی ، کھانا بھی عبادت ہے اور پینا بھی، چلنا پھرنا بھی عبادت ہے اور بات کرنا بھی، حتیٰ کہ اپنی بیوی کے پاس جانا اور اپنے بچے کو پیار کرنا بھی عبادت ہے۔ اور اگر ہم ان کو انجام دینے میں خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کا لحاظ کریں اور زندگی میں ہر قدم یہ دیکھ کر چلیں کہ خدا کے نزدیک جائز کیا ہے اور ناجائز کیا ہے، حلال کیا ہے اور حرام کیاہے، فرض کیا چیز کی گئی ہے اور منع کس چیز سے کیا گیا ہے۔ کس چیز سے خدا خوش ہوتا ہے اور کس چیز سے ناراض ہوتا ہے مثلاً ہم روزی کمانے کے لیے نکلتے ہیں۔ اس کام میں بہت سے مواقع ایسے بھی آتے ہیں جن میں حرام کا مال آسانی کے ساتھ ہمیں مل سکتا ہے۔ اگر ہم نے خدا سے ڈر کر وہ مال نہ لیا اور صرف حلال کی روٹی کما کر لائے تو یہ جتنا وقت ہم نے روٹی کمانے میں صرف کیا، یہ سب عبادت تھا، اور روٹی گھر لا کر جو ہم نے خود کھائی اور اپنے بیوی بچوں اور خدا کے مقرر کیے ہوئے دوسرے حصہ داروں کو کھلائی اس سب پر اجر و ثواب کے مستحق ہوں گے۔ اگر راستہ چلنے میں کوئی پتھر یا کانٹا ہٹا دیا اس خیال سے کہ خدا کے بندوں کو تکلیف نہ ہو۔ تو یہ بھی عبادت ہے۔ اگر کسی بیمار کی خدمت کی یا کسی اندھے کو راستہ بتایا ، یا کسی مصیبت زدہ کی مدد کی تو یہ بھی عبادت ہے۔ ہم نے اگر بات کرنے میں جھوٹ سے ، غیبت سے، بدگوئی اور دلِ آزاری سے پرہیز کیا اور خدا سے ڈر کر صرف حق بات کی تو جتنا وقت ہم نے بات چیت میں صرف کیا، وہ سب عبادت میںصرف ہوا۔

 پس خدا کی اصلی عبادت یہ ہے کہ ہوش سنبھالنے کے بعد سے مرتے دم تک ہم خدا کے قانون پر چلیں اور اس کے احکام کے مطابق زندگی بسر کریں۔ اس عبادت کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔ یہ عبادت ہر وقت ہونی چاہئے، اس عبادت کے لیے کوئی ایک شکل نہیں ہے، ہر کام اور ہر شکل میں اسکی عبادت ہونی چاہئے، جب ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں فلاں وقت خدا کا بندہ ہوں اور فلاں وقت اس کا بندہ نہیں ہوں تو ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ فلاں وقت خدا کی بندگی و عبادت کے لیے ہے اور فلاں وقت اسکی بندگی و عبادت کے لیے نہیں ہے۔

 نماز ، روزہ اور حج زکوٰة کی عبادتیں جو اللہ نے ہم پر فرض کی ہیں انکا مقصد بھی اس بڑی عبادت کے لیے تیار کرنا ہے۔ جو ہمیں زندگی میں ہر وقت ہر حال میں ادا کرنی چاہئے۔ نماز دن میں پانچ وقت یاد دلاتی ہے کہ ہم اللہ کے بندے ہیں اور اسی کی بندگی کرنی ہے۔ روزہ سال میں ایک مرتبہ پورے ایک مہینہ تک ہم کو اللہ کی بندگی کے لیے تیار کرتا ہے۔ زکوٰة ہم کو بار بار توجہ دلاتی ہے کہ یہ مال جو ہم نے کمایا ہے۔ یہ خدا کا عطیہ ہے۔ اس کو صرف اپنے نفس کی خواہشات پر صرف نہ کرو بلکہ اپنے مالک کا حق بھی ادا کرو۔ حج دل پر خدا کی محبت اور بزرگی کا ایسا نقش بٹھاتا ہے کہ ایک مرتبہ اگر وہ بیٹھ جائے تو تمام عمر اس کا اثر دل سے دور نہیں ہو سکتا، ان سب عبادتوں کو ادا کرنے کے بعد اگر ہم اس قابل ہوگئے کہ ہماری ساری زندگی خدا کی عبادت بن جائے تو بلاشبہ ہماری نماز نماز ہے، اور روزہ روزہ ہے، زکوٰة زکوٰة ہے اور حج حج ہے۔ لیکن اگر یہ مقصد پورا نہ ہو تو محض رکوع اور سجدہ کرنے اور بھوک پیاس کے ساتھ دن گذارنے اور حج کی رسمیں ادا کردینے اور زکوٰة کی رقم نکال دینے سے کچھ حاصل نہیں۔

  افسوس کہ آج عبادت کے اس صحیح اور حقیقی مفہوم کو مسلمان بھول گئے ہیں اور انہوں نے چند مخصوص اعمال کا نام عبادت رکھ لیا ہے۔ اور سمجھ لیا ہے کہ بس انہیں اعمال کو انجام دینا عبادت ہے۔ اور انہیں کو انجام دے کر عبادت کا حق ادا کیا جاسکتا ہے۔ عوام نے اپنے اوقات میں چند لمحے خدا کی عبادت کے لیے مختص کرکے باقی تمام اوقات کو ان سے آزاد کرلیا، قانونِ الہی کی دفعات میں سے ایک ایک دفعہ کی خلاف ورزی کی، حدود اللہ میں سے ایک ایک حد کو توڑا مگر پانچ وقت کی نماز پڑھ لی۔ زبان اور حلق کی حد تک قرآن کی تلاوت کرلی، ایک مرتبہ حج بھی کر آئے اور سمجھے کہ ہم خدا کے عبادت گذار بندے بن گئے ہیں۔

  خدا کے بندے گمراہی میں مبتلا ہوں ، دنیا میں ظلم پھیل رہا ہو ، حق کی روشنی پر باطل کی ظلمت چھائی جارہی ہو۔ خدا کی زمین پر ظالموں اور باغیوں کا قبضہ ہو۔ اور ہم صرف چند رسمی عبادات ادا کرکے سمجھیں کہ ہم نے عبادت کا حق ادا کردیا ہے؟ اللہ نے تو اپنے کلام میں عملِ صالح کرنے والوں کو زمین کی خلافت دینے کا وعدہ کیا ہے اور وہ اپنے وعدے میں پورا ہے لیکن اپنی ان عبادات کے باوجود ہمیں نہ اس زمین کی خلافت حاصل ہے اور نہ ہی ہمارے دین کو تمکن نصیب ہے۔ نہ خوف کے بدلے امن میسر ہے تو ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ ہم عبادت گذار نہیں بلکہ تارکِ عبادت ہیں اور اسی ترکِ عبادت کا وبال ہے ، جس نے ہمیں دنیا میں بے یارو مددگار چھوڑ رکھا ہے۔

              (اقتباس خطبات۔ سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ )

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*