میری ایک ماں ہے !

              محمد آصف ریاض

 اگر کسی بچے کو یہ بتا یا جائے کہ اس کی کئی مائیں ہیں۔ کوئی ایک عورت اس کی ماں نہیں ہے، تو اس کا رد عمل کیا ہوگا؟

بلا شبہ وہ بچہ ان تمام ماوں سے بے تعلقی کا اظہار کرے گا۔ اس کے اندر کسی ایک کے لیے بھی پیار کا وہ دریا اُبال نہیں کھائے گا جو کسی ایک ماں کے لیے کسی انسان کے دل میں فطری طور پر موجزن ہوتا ہے۔ وہ کئی ماوں کی موجودگی میں کسی سنٹرل پوائنٹ تک نہیں پہنچ پائے گا۔ وہ ایک ماں کے غائبانے میں اس چیز کو کھو دے گا جسے مرکزیت “سنٹرل پوائنٹ” کہا جا تا ہے۔

 ماں کیا ہے؟

ماں کسی آدمی کی زندگی میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ ماں کسی انسان کے لیے سنٹرل پوائنٹ کا درجہ رکھتی ہے۔ ماں کو کھو دینے کا سادہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنی مرکزیت کو کھودیا۔

 ہر مرد اورعورت کو اللہ نے ایک ماں دیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اسے ایک سنٹرل پوائنٹ دیا ہے۔ اسی مرکزی محور کے درمیان انسان کی زندگی ناچتی ہے۔ انسان اپنے دکھ تکلیف میں اسی کی طرف پلٹتا ہے۔ اپنے بھائیوں اور اہل خاندان کے درمیان تنازعات کے دوران وہ اسی مر کز کی طرف لوٹتا ہے۔ انل امبانی اور مکیش امبانی کے درمیان تنازعات کا خاتمہ ان کی ماں کوکیلا بن امبانی نے کرا یا تھا۔ کسی انسان کو اپنی ماں کے پاس وہ سب کچھ ملتا ہے جو اسے کسی دوسری جگہ نہیں مل سکتا۔ ماں کے ساتھ انسان کا رشتہ اتنا زیادہ مضبوط ہوتا ہے کہ وہ اس کے لیے اپنی جان کی بازی بھی لگا سکتا ہے۔ اور یہی صورت کسی بچے کے لیے کسی ماں کی طرف سے ہوتی ہے۔ لیکن اگر کسی انسان کو یہ بتا یا جائے کہ اس کی کئی مائیں ہیں تو وہ اس جذبہ کو کھو دے گا جو وہ اپنی حقیقی ماں کے لیے وہ اپنے اندر فطری طور پر پاتا ہے۔

ایک خدا اور کئی خدا:

جو نفسیاتی فرق ایک ماں والے اور کئی ماﺅں والے بچوں کے درمیان ہوتا ہے، وہی فرق ایک خدا اور بہت سارے خداوں کے ماننے والوں کے درمیان ہوتا ہے۔ کئی خداوں کو ماننے والوں کے دل میں کوئی جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔ وہ کسی بھی خدا کے لیے اپنے اندر پیار اور احترام کا جذبہ نہیں پاتا۔ وہ ان سے بے تعلق بنا رہتا ہے۔ وہ کئی خداوں میں کسی کو بھی خاطر میں نہیں لا تا۔ کئی خدا وں کو ماننے کے بعد انسان اس چیز کو کھو دیتا ہے جسے سنٹرل پوائنٹ کہا جا تا ہے، جس کے گرد انسان کی زندگی چکر کاٹتی ہے اور جسے انسان اپنا سب کچھ سمجھتا ہے۔

 جس طرح کوئی بچہ کئی ماوں کو قبول نہیں کرتا اور وہ ان سے بے تعلق ہوجاتا ہے، اسی طرح انسان کئی خداوں کو قبول نہیں کرتا۔ وہ ان کے لیے اپنے دل میں کوئی فیلنگ نہیں رکھتا۔

ہر مرد اور عورت کو خدا نے ایک ماں دیا ہے اور ہر شخص اپنی اس ماں کو پہچانتا ہے۔ اسی طرح ہر مرد اور عورت کو ایک خدا نے پیدا کیا ہے، اسے ہر حال میں اپنے اس خدا کو پہچاننا ہے۔

آدمی پر فرض ہے کہ جب اسے عقل ہو تو وہ سماج سے کٹ کر اپنے ایک خدا کی تلاش میں نکل جائے۔ وہ حقیقی خدا کی تلاش میں کوئی عذر قبول نہ کرے۔ وہ یہ جانے کہ جس طرح کسی شخص کی کئی مائیں نہیں ہو سکتیں اسی طرح کسی انسان کے لیے کئی خدا نہیں ہو سکتے۔

1 Comment

  1. “ایک خدا اور کئی خدا” کے تحت لكهے گئے دونو ں پیرا گر اف سے مجهے اختلاف ہے۔
    ديكهئے سورة البقرة آية 165:

    و من الناس من يتخذ من دو ن الله اندادا يحبونهم كحب الله …..

    ا پني ناداني يا شيطان کے بهكا و ے سے انسان غيرالله كو خدا ما ليتا ہے۔
    جان بهي ديتے ہیں جهو ٹے خداو ں كي محبت میں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*