قرآن جمع وتدوین کے مراحل سے گزر کر ہم تک کیسے پہنچا؟

سیف الرحمن حفظ الرحمن تیمی

پہلا مرحلہ: پہلے مرحلہ میں اللہ نے قرآن کو نبی اکرم ا اور صحابہ کرام ث کے سینے میں محفوظ فرمایا، اللہ نے قرآن کی حفاظت وصیانت کے لیے انہیں زبر دست قوت حافظہ سے نوازا، چناں چہ سب سے پہلے آپ ا نے حضرت جبریل ںسے قرآن حفظ کیا اور آپ ا سے صحابہ کرامث کی ایک کثیر تعداد نے سن کر قرآن یاد کیا اس طرح آپ کے سینے سے صحابہ کے سینے میں منتقل ہوا، نبی پاک ا کو حفظ قرآن کی شدید حرص تھی حتی کہ حضرت جبریل ں جب آپ پر قرآن پیش کرتے تو آپ جلدی جلدی اس کو دہراتے کہ کہیں بھول نہ جائیں، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمایا: لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ انّ علینا جمعہ وقرآنہ ذا قراناہ فاتبع قرآنہ ثم ان علینا بیانہ ”آپ قرآن کو (جلدی یاد) کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں، اس کا جمع کرنا اور آپ کی زبان سے پڑھنا ہمارے ذمہ ہے، ہم جب اسے پڑھ لیں تو آپ اس کے پڑھنے کی پیروی کریں پھر اس کا واضح کردینا ہمارے ذمہ ہے۔“ (قیامہ: 13-15)

 چنانچہ قرآن سینہ نبوی میں جمع ہو گیا اور آپ انے حکم الہی کے بموجب کاتبین وحی کی ایک جماعت بنائی جس کے سرخیل حضرت زید بن ثابت ؓتھے جن کو امام بخاری ؒنے ”کاتب النبی“ سے ملقّب کیا ہے، اس جماعت میں ابی بن کعبؓ اور عبد اللہ بن مسعودؓ جیسے حفاظ صحابہ کرام بھی تھے۔ جب آپ پر حضرت جبریل ں قرآن لے کر نازل ہوتے، آپ کتّاب وحی کو حکم دیتے کہ ”لخاف“ یا ”عسب“ میں اس کو نقل کریں؛ ”لخاف“ ایک قسم کا باریک پتھر ہے جس کو تراش کر اس پر لکھا جاتا تھا، اور ”عسب“ ”عسیب“ کی جمع ہے جس کے معنی کھجور کی ٹہنی کے آتے ہیں، اس پر بھی کاتبینِ وحی قرآن نسخ کیا کرتے تھے، کتابتِ وحی میں اس بات کا سخت التزام کیا جاتا تھا کہ کس حرف کا املاءنبی پاک کس طرح کرارہے ہیں، اسی کے مطابق اس کو لکھا جاتا تھا، اس مرحلہ میں قرآن باریک پتھر اور کھجور کی ٹہنیوں ہی میں مرقوم رہا، باضابطہ اسکی تدوین کا مرحلہ اس کے بعد ہے۔

 

دوسرا مرحلہ: جب حضرت ابو بکر ص کے دور خلافت میں مسیلمہ کذاب اور صحابہ کرام کے درمیان معرکہ یمامہ پیش آیا، تو اس جنگ میں حفاظ صحابہ کرام کی ایک بھاری تعداد شہید ہو گئی؛ یہ حالتِ زار دیکھ کر اور ضیاع قرآن کا خدشہ محسوس کرکے حضرت عمر فاروق صنے خلیفة المسلمین حضرت ابو بکر صدیق ص کے پاس آکر یہ مشورہ دیا:”اے ابو بکر، رسول اللہ کے جانشین! قرآن کو ایک مصحف میں جمع کروائیے،ورنہ اس کے ضائع ہونے کا امکان بڑھتا جارہا ہے۔“

 

اخلاص وللّہیت کے پیکر اور اتباع نبوی کے خوگر حضرت صدیق اکبر ؓنے جواب دیا:کیف افعل شیئاً لم یفعلہ رسول اللہ ا میں وہ کام کیوں کروں جسے رسول گرامی نے نہیں کیا؟ حضرت عمرؓ نے کہا: بخد ا اس میں ہی بھلائی ہے، آپ اس پر سنجیدگی سے غور فرمائیے۔ صحیح بخاری کی رویت ہے؛ ابو بکر صدیقؓ کا بیان ہے: قرآن کی جمع وتدوین کے لیے مسلسل حضرتِ عمرص مجھے مشورہ دیتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے مجھے حضرت عمر کا قائل بنا دیا اور میں نے کاتبِ وحی حضرت زید بن ثابتؓ کو بلا بھیجا، صحیح بخاری کی روایت کے مطابق حضرت صدیق اکبرؓ نے کاتب رسول سے ارشاد فرمایا:  ”یا زید! انک رجل شاب عاقل لانتہمک فتتبّع القرآن واجمعہ“ اے زید! بلا شبہ آپ ایک عقلمند نوجوان ہیں، میں آپ کو یہ (مہتم بالشان) ذمہ داری دیتا ہوں کہ قرآن کی بحث وتدقیق اور تفتیش وتحقیق کر کے اس کو یکجا کریں۔ یکتائے روزگار صحابی رسول کو اس عظیم ذمہ داری کا کتنا پاس ولحاظ اور اس کی عظمت ومرتبت کا کتنا خیال تھا، بول پڑے: ”واللہ لو کلفوني لنقل جبل من الجبال ما کان اثقل علي مما امرني بہ من جمع القرآن“ اللہ ذو الجلال کی قسم! اگر مجھے کسی پہاڑ کو (ایک جگہ سے دوسری جگہ) منتقل کرنے کا حکم دیا جاتا تو میرے لیے اتنا گراں نہیں تھا جتنا کہ تدوین قرآن سنگین ہے۔

 

اس صحابی رسول کی بلند ہمتی دیکھئے! اس بار گراں کو لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور شب وروز کی چھان پھٹک، انتھک کھوج بین اور پیہم جستجو کے بعد اس عظیم ذمہ داری کو بحسن وخوبی انجام تک پہنچاتے ہیں چنانچہ وہ قرآن جو صحابہ کرام کے سینوں، پتھر کے باریک ٹکڑوں اور کھجور کی ٹہنیوں میں منتشر تھا وہ ضخیم مصحف میں مدوّن اور یکجا ہو جاتا ہے، اس مصحف کو خانہ صدیق میں رکھا جاتا ہے، ان کی وفات حسرت آیات کے بعد یہ حضرت عمر فاروق ص کے گھر میں منتقل ہو جاتاہے اور ان کے بعد ام المومنین زوجہ رسول حضرت حفصہؓکے گھر کو سعادت اور رونق بخشتا ہے۔

 

تیسرا مرحلہ: یہ سنگین ترین مرحلہ ہے جس کا تعلق عہد عثمانی سے ہے؛ صحیح بخاری کی روایت ہے: غزوہ ارمینیا (شام) اور غزوہ آذربیجان (عراق) کے بعد حضرت حذیفہص خائف وہراساں حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فرمایا: ”یا امیر المومنین ادرک الامة قبل ان یختلفوا في کتاب ربھم کما اختلفت الیھود والنصاری“۔

 

” اے امیر المومنین! امت کو روکئے ( ان کی اصلاح کیجئے) اس سے قبل کہ یہود ونصاری کی طرح وہ بھی کتاب الہی میں اختلاف کر بیٹھیں۔ “حضرت عثمانؓ نے دریافت کیا: ایسی کیا بات ہے؟ حضرت حذیفہؓ نے شام والوںکو ابی بن کعبؓ کی قرا ت کے مطابق اور عراق والوں کو عبد اللہ بن مسعودؓ کی قراءت کے مطابق قرآن پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، شام والے اہلِ عراق کو اس طرح قرآن پڑھتے سنتے ہیں جس طرح انہوں نے پہلے کبھی نہیں سنا اور یہی حال عراق والوں کے ساتھ بھی ہے، جس کا نتیجہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی قرات کا انکار کرتے اور اسے غلط سمجھتے ہیں، اس کشمکش نے حضرت حذیفہ کو قرآن کے تئیں خوف زدہ کردیا ہے کہ میری امت بھی کہیں یہود ونصاری کی طرح کلام اللہ میں اختلاف نہ کر بیٹھے! ہر چند کہ اللہ کی خاص رحمت اور آسانی ہے کہ قرآن کو سات حروف پر نازل کیا ہے: ”

انما امرت ان اقرا القرآن علی سبعة احرف“ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں قرآن کو سات (طریقے) حروف سے پڑھوں۔

 

اس حدیث کو سمجھنے کے لیے بطورِ مثال ہم اس آیت کو دیکھ سکتے ہیں: ”یا ایھا الذین آمنوا ان جاءکم فاسق بنبا فتبینوا“ اور ایک دوسری قرا ت ہے ”فتثبتوا“ دونوں الفاظ قریب المعانی ہیں اور دونوں قرا ت نبی ا سے ثابت ہے؛ اختلاف قرا ت کی مصلحت یہ ہے کہ عرب کے بعض قبائل بعض حروف کا تلفّظ صحیح طور پر نہیں کر پاتے مثلاً ”ح“ کو ”ع“ پڑھتے اور ”حتی“ کو ”عتی“ اور ”حین“ کو ”عین“ پڑھتے تھے،اسی لیے قرآن کو بطور آسانی، سات حروف پر نازل کیا گیا اور ساتوں طریقے نبی اکرم ا سے ثابت ہیں، لیکن جب اہلِ شام ابی بن کعب کی قرات کے بموجب اور اہلِ عراق عبد اللہ بن مسعودکی قرات کے بموجب ایک دوسرے کی قرات کو غیر مانوس سمجھ کر انکار کرنے لگے اور نوبت باہمی اختلافات تک آپہنچی تو حضرت عثمان صنے حضرت حفصہؓ سے وہ مصاحف منگوایا جو عہد ابی بکر میں جمع کئے گئے تھے، پھر انہیں ایک مصحف میں (محقق طور پر) جمع کرنے کے لیے کاتب وحی اور دیگر حفاظ وضبّاط صحابہ کرام کی ایک جماعت کو مکلف کیا گیا نیز اس ”مصحف الامام“ کے متعدد نسخے تیار کرائے گئے اور حضرت عثمان ص نے تمام بلاد وامصار میں ان نسخوں کو بھیجا اور تمام پرانے مصاحف جلا کر اختلاف کی جڑ کو سپرد خاک کر دیا۔

 

خلیفہ ثالث نے اس تاریخ ساز کارنامہ کے ذریعہ امت کو ایک مصحف پر جمع کیا، انہیں اختلاف کی روش سے روکا، کتاب الہی کے سلسلے میں امانت ودیانت کو مقدم رکھا ساتھ ہی قیامت تک کے لیے امت مسلمہ کو تلاوتِ قرآن کا ایک صحیح منہج عطا کیا، آج ہمارے ہاتھوں میں قرآن کا جو نسخہ ہے یہ اسی ”مصحف امام“ کا نقل ہے جسے حضرتِ عثمان نے جمع کروایا تھا؛ تدوین کے وقت صحابہ نے کہا تھا: ”فان اختلفتم في الکتابة مع زید فاکتبوا بلسان قریش فانہ قد نزل بلسانھا“ کہ اگر کتابت ونسخ میں حضرت زید سے اختلاف ہو جائے تو قریش کی (زبان) لغت کے مطابق لکھو اس لیے کہ قرآن قریش کی زبان میں ہی نازل ہوا ہے۔

 

ان تمام کے پیچھے یہ عظیم رازپنہاں ہے کہ قرآن کی حفاظت وصیانت اور اس کی بقاءکی ذمہ داری خود رب ذو الجلال نے لی ہے چنانچہ اس کی آیت کیا، ایک کلمہ حتی کہ ایک حرف تک نہیں بدل سکتا اور نہ ضائع ہو سکتا ہے، اللہ جس کا محافظ ہو اسے کون ضائع کر سکتا ہے: ”

انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون“ (حجر:9) ‘ ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ونگہبان ہیں۔ ”

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*