ہجرت مدینہ کے اسباب و اسباق

 حامد محمود اطہر (کویت) 

 ہمارے رب نے دین اسلام کا ” پیکج ” قرآن کریم کے ذریعے محض نظریاتی طور پر عطا نہیں فرمایا بلکہ اپنے رسول ا کی سنت میں عملی نمونہ بھی ہمارے سامنے رکھ دیا۔ ان تمام مشکلات کا حل سنت رسول ا میں شامل کردیاجو قیامت تک اہل ایمان کو درپیش ہو سکتی ہیں۔ ہجرت مدینہ اسی سنت رسول ا کا ایک فکر انگیز باب ہے۔سفر ہجرت کے دوران کئی واقعات پیش آئے ۔ یہ واقعات جہاں ولولہ انگیز ہیں وہیں اسلامی سوچ و فکر اور دینی مزاج کو سمجھنے میں مدد کرتے ہیں۔ہمارے نزدیک ان واقعات کی تفصیل سے زیادہ اس موقع پر رسول اکے رویے اور سنت کے بارے میں جان لینا زیادہ اہم ہے۔ رسول اکرم کے اسوہ حسنہ کے اس خاص پہلو کو نسبتا ً تفصیل کے ساتھ بیان کرنے کی ضرورت ہے جو تین باتوں پر مشتمل تھا :

1۔ توکل علی اللہ

2۔ مناسب تدبیر یعنی منصوبہ بندی

3۔ دستیاب دنیا وی وسائل کی فراہمی

ہمارا قادر مطلق رب اگر چاہتا تو اپنے سب سے پیارے بندے حضرت محمد ا کو بغیر کسی تکلیف اور پریشانی کے مدینہ منورہ لے جاتا جیسا کہ معراج کے موقع پر راتوں رات نہ صرف بیت المقدس بلکہ سات آسمان کے اوپر لے گیا ، لیکن اللہ تعالی نے ایسا نہ کیا،اس دانا و حکیم کا ہر کام حکمت سے معمور ہوتا ہے،جس کا ہم ادراک نہیں کرسکتے ۔ وہ علیم و خبیر اس موقع پر قیامت تک آنے والے مسلمانوں پر اپنے دین کا خاص مزاج اسوہ حسنہ کی صورت میں واضح کرنا چاہتا تھا۔

سفر ہجرت میں قدم قدم پر یہ بات واضح طور پر نظر آتی ہے کہ آپ نے دستیاب انسانی وسائل کا بھرپور استعمال کیا۔ بہترین انسانی تدابیر کا مظاہرہ کیا اور جب تدبیر اور انسانی وسائل بے بس نظر آنے لگے تو وہاں اللہ پر توکل کی شاندار مثالیں قائم کیں۔

اسوہ حسنہ کا یہ خاص پہلو ہمارے اور قیامت تک آنے والے تمام اہل ایمان کے لیے مینارہ نور کا کام دیتا ر ہے گا۔ جب تک اہل ایمان ان تین باتوں کو حرز جان بنا کر پورے اخلاص کے ساتھ عمل کریں گے ان شاءاللہ کامیاب رہیں گے۔

 

آج مسلمانوں کی ناکامیوں کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ یا تو دنیاوی وسائل کو ہی سب کچھ سمجھ لیتے ہیں جو بالعموم کفار کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں۔ یوں وہ ہمت ہار کر بیٹھ جاتے ہیں۔ یا وہ تدبیر کو ہی کامیابی کا یقینی ذریعہ مان کر توکل علی اللہ کو بھول جاتے ہیں۔ حا لانکہ تدبیر کامیابی کی ایک اہم شرط تو ضرور ہے لیکن یقینی وجہ نہیں ہے ،یہ بالکل ضروری نہیں کہ ہر دفعہ نتائج طے شدہ منصوبے کے مطابق ہی حاصل ہوں۔ مشیت الہی سے بعض یقینی تدابیر ناکامی سے دو چار ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح دنیاوی اسباب اور تدابیر کو نظر انداز کر کے ہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھ جانا بھی کوئی اسلامی رویہ نہیں ہے۔ صرف دعاوں سے دشمن کی توپوں میں کیڑے نہیں پڑتے۔ اس ضمن میں صحیح اسلامی رویہ یہ ہے کہ جو بھی دنیاوی وسائل دستیاب ہوں ان کا موثر استعمال کیا جائے۔ چابکدستی سے منصوبہ بندی کی جائے اور پھر اللہ پر توکل کیا جائے۔ اسوہ حسنہ کا یہ پہلو صرف ہجرتِ مدینہ ہی کے موقع پر نہیں بلکہ بارہا سامنے آیا ہے مثلا غزوہ بدر کے موقع پر آپ ا نے تمام دستیاب اسلحہ اور افرادی قوت کو میدان میں لا کھڑا کیا، میدانِ جنگ کے خاص اسٹرئیجک حصے کو اپنا مستقر بنایا اور پھر اپنے رب کے حضور کامیابی کے لیے دعا گو ہوئے۔ اس کے نتیجے میں دنیا نے حیرت بھری آنکھوں سے یہ ناقابل یقین منظر دیکھا کہ کس طرح اللہ تعالی کی مدد اور نصرت سے ایک قلیل گروہ اپنے سے کئی گنا بڑے باوسائل گروہ پر غالب آ گیا۔

علامہ اقبال نے دین کے اس خاص مزاج کو یوں بیان فرمایا

 توکل کا یہ مطلب ہے کہ خنجر تیز رکھ اپنا

پھر انجام اس کی تیزی کا مقدر کے حوالے کر

توکل کا عمل دخل

سفر ہجرت کے موقع پر توکل علی اللہ کے حوالے سے اسوہ رسول ا کی چند روشن مثالیں یہ ہیں:

 

غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے :

غار ثور کا مقام ہے ہجرت مدینہ کا مرحلہ در پیش ہے۔ حضرت محمد اور حضرت ابو بکر صدیق غار ثور میں تشریف فرما ہیں۔ ایک طرف تو بیت اللہ جیسی من پسند جگہ کو چھوڑنے کا افسوس ہے تو دوسری طرف اطاعت الہی کے جذبات سے معمور وہ عزم جو تن من دھن غرضیکہ ہر طرح کی قربانی دینے کے بعد بھی یہ احساس دلاتا رہتا ہے کہ ” حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا “۔ دلوں میں امید کی یہ کرن بھی روشن ہے کہ مدینہ منورہ میں اللہ تعالی ایسا ساز گار ماحول میسر فرمائے گا جس میں عدل پر مبنی اسلامی معاشرہ اپنے تمام لوازمات اور برکتوں کے ساتھ ضو فشاں ہو گا۔ ایک ایسا اسلامی معاشرہ جس میں انسان ہر طرح کے طاغوت اور انسانی غلامی سے نکل کر صرف اور صرف اللہ تعالی کی بندگی کریں گے۔اپنے خالق، مالک، حاکم اور رب العالمین کے دیئے ہوئے قوانین کی پیروی کریں گے۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کا التزام ہو گا۔ انسانی جان ،مال ، عزت و حرمت کو یقینی تحفظ حاصل ہوگا۔ معاشرے کے کمزور طبقوں عورتوں ، یتیموں اور غلاموں کو ظلم و جبر سے نجات ملے گی۔بے لاگ اور فوری انصاف میسر ہو گا۔

دوسری طرف کفار مکہ داعی حق حضرت محمد اکے یوں بچ نکلنے پر پیچ و تاب کھا رہے تھے۔انہوں نے ظلم و ستم کا بازار بھی گرم کر کے دیکھ لیا تھا۔ہر طرح کی لالچ کا حربہ بھی آزما لیا تھا۔ ڈس انفارمیشن کا مکروہ حیلہ بھی ناکام ثابت ہوا تھا۔ شعب ابی طالب میں مسلسل تین سالہ معاشرتی بائیکاٹ بھی اہل ایمان کو جھکانے میں ناکام رہا تھا۔ ناکامیوں کا سلسلہ تھا کہ دراز ہی ہوتا چلا جا رہا تھا۔ اب تو مکہ کے مسلمانوں کی اکثریت ہجرت کر کے مدینہ جا بسی تھی جہاں اہل ایمان کی عددی طاقت میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا تھا ،یہ نوشتہ دیوار صاف نظر آ رہا تھا کہ مدینہ میں مسلمان مجتمع ہو کر ایک قوت بن جائیں گے جس کی قیادت کے لیے اگر خود رسول اللہا وہاں پہنچ جائیں تو وہ وقت دور نہیں جب ان کے ظلم و ستم اور جبر پر مبنی معاشرتی ڈھانچے کے تار وپود بکھر جائیں گے۔ اسی احساس نے انہیں دارالندوہ کے اجلاس میں رحمة العالمینا کے قتل جیسے مکروہ فیصلے پر یکسو کر دیا۔

ایسے میںجبکہ مکہ کے تمام مشرک قبائل کے منتخب نوجوانوں نے حضرت محمدا کے گھر کو رات بھر گھیرے میں لے رکھا ہو آنکھوں میں یہ سپنے سجائے کہ چند گھڑیوں ہی کی تو بات ہے آج کی صبح کا سورج اس ہستی کا بے جان لاش دیکھے گا جو یوں تومکہ کے انتہائی معزز گھرانے کا فرد ہے۔ انتہائی پاکیزہ کردار کا حامل ہے، جسکی صداقت اور امانت کے وہ خود بھی گواہ ہیں۔جو حجر اسود کی تنصیب کے موقع پر اپنی دانائی اور حکمت کو بھی ثابت کر چکا ہے لیکن ان کے نزدیک خامی ہے تو بس یہ کہ وہ تمام بتوں کو چھوڑ کر ایک ان دیکھے رب کی طرف دعوت دیتا ہے ۔وہ کہتا ہے کہ تمام انسان برابر ہیں۔بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس کی یہ بات مان کر غلاموں کو اپنے برابر جگہ دیں، عورتوں کو عزت دیں، ان کے حقوق ادا کریں،اپنے بتوں کو چھوڑ کر ایک اللہ کی بندگی کریں ۔اپنے آبا و اجداد کی رسومات اور طور طریقوں کو چھوڑ دیں۔وہ تو اس آس میں تھے کہ آج کی صبح ان کے منتخب نوجوان خون آلود تلواروں کے ساتھ انہیں اپنی کامیابی کی خوش خبری سنائیں گے۔لیکن بسا آرزو کہ خاک شدہ۔جس مبارک ہستی سے دائمی نجات کا اہتمام تھا وہ تو رات کے اندھیرے میں ان کے نا پاک پھندے سے نکل چکی تھی۔

 لیکن امید کا ٹمٹماتا ہوا دیا اب بھی روشن تھا۔وہ یوں کہ کسی طرح آپ ااور ان کے ساتھی ابو بکر صدیق ص کو مدینہ پہنچنے سے پہلے گرفتار کر کے اپنے مذموم منصوبے پر عمل کر لیا جائے۔ اسی سوچ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہر طرف مسلح ہر کارے دوڑادیئے گئے۔ یہ اعلان بھی کر دیا گیا کہ جو شخص محمدا اور ان کے ساتھی کو زندہ یا مردہ لے کر آئے گا اسے100 سرخ اونٹ انعام میں دیئے جائیں گے۔ اسی تعاقب کے نتیجے میں مشرکین مکہ کا ایک مسلح جتھہ غار ثور کے اتنے قریب تک پہنچ جاتا ہے کہ بس ذرا توجہ سے جھانک کر دیکھنے کی کسر باقی رہ جاتی ہے۔ حضرت ابو بکر صدیقص پریشان ہو جاتے ہیںکہ کہیں ان کی محبوب ہستی حضرت محمد ا کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔ اس موقع پر رسول اکرم ا ڈھارس بندھانے والا وہ جملہ ارشاد فرماتے ہیںجو رہتی دنیا تک تمام مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہے:” غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے “۔

 سورة توبہ میں اسے یوں بیان کیا گیا ہے:

ترجمہ :” تم نے اگر نبی ا کی مدد نہ کی توکچھ پرواہ نہیں ، اللہ اس کی مدد اس وقت کر چکا ہے جب کافروں نے اسے نکال دیا تھا ، جب وہ صرف دو میں کا دوسرا تھا ، جب وہ دونوں غار میں تھے ، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا : ”غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔“(سورة التوبہ )

مسلح ہرکارے انعام کی لالچ میں غار کے دہانے تک پہنچ گئے تھے لیکن اللہ تعالی نے اپنے نبی اوریارغار کی حفاظت فرمائی اوروہ بے نیل ومرام مایوسی کے عالم میں واپس چلے گئے۔

تین روز کی مسلسل اور بے نتیجہ تگ و دو کے بعد جب اہل مکہ مایوس ہو گئے تو آپ ا اور حضرت ابو بکر صدیق ص صحرائی راستوں کے ماہر عبداللہ بن اریقط کی رہنمائی میں ایک غیر معروف راستے پر سفر کرتے ہوئے چند ہی دنوں میں بخیر و عافیت مدینہ منورہ پہنچ گئے۔

محیر العقول واقعات

سفر ہجرت کی رات کو توکل علی اللہ کی کیفیات کے ساتھ سورة یاسین کی یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے اپنے گھر سے نکلے وجعلنا من بين أيديهم سدا…

آپ  صلى الله عليه وسلم نے مٹھی بھر خاک لی ، شاہت الوجوہ فرماتے ہوئے گھر کے محاصرے پر مامور مشرکین مکہ کی طرف پھینکی اور نہایت ہی اطمینان و خاموشی کے ساتھ ان کے درمیان سے گذر گئے۔ اللہ کی قدرت سے محاصرہ کرنے والے ایسے غافل ہوئے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کو تشریف لے جاتے ہوئے دیکھ ہی نہ سکے۔

غار ثور میں قیام کے وقت کفارِ مکہ کا ایک گروہ آپ صلى الله عليه وسلم کی تلاش میں غار کے دہانے تک آ پہنچا لیکن اللہ کی قدرت سے ان کی عقلوں پر پتھر پڑ گئے ۔ انہوں نے یہ سوچا کہ کسی انسان کا اس غار میں داخل ہونا ممکن ہی نہیں ہے، اس طرح وہ مزید کسی جستجو کے واپس چلے گئے۔

دورانِ سفر آپ صلى الله عليه وسلم کا قافلہ ام معبد خزاعیہ کے خیمے کے قریب پہنچا۔ام معبد انتہائی مہمان نواز خاتون تھیں۔آپ صلى الله عليه وسلم نے ان سے کھانے پینے کی کسی چیز کے متعلق دریافت فرمایا۔ ام معبد نے جواب میں کہا ” بخدا ہمارے پاس کچھ ہوتا تو آپ لوگوں کی میزبانی میں تنگی نہ ہوتی ،صحت مند بکریاں دور دراز فاصلے پر چرنے چگنے کے لیے گئی ہوئی ہیں۔ بس ایک کمزور سی بکری موجود ہے جو کسی قابل نہیں ” آپ صلى الله عليه وسلم نے ام معبد کی اجازت سے بکری کے تھن پر ہاتھ پھیرا اور دعا فرمائی ۔ اللہ کی قدرت سے اس کمزور بکری کے تھنوں سے اتنا دودھ نکلا کہ سب کے شکم سیر ہوکر پینے کے باوجود بھی کافی مقدار میں بچ گیا۔

سفر کے ایک مرحلے پر سراقہ بن جعشم نے آپ صلى الله عليه وسلم کو دیکھ لیا۔اس نے انعام کی لالچ میں اپنا گھوڑا دوڑایا۔گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور گر پڑا۔لیکن وہ پھر سنبھلا اور حملے کیلئے آگے بڑھا۔اللہ تعالی کی قدرت سے اس کے گھوڑے کے پاوں زمین میں دھنس گئے۔اب تو سراقہ پریشان ہو گیا اور سمجھ گیا کہ یہاں معاملہ دوسرا ہے۔اس نے ڈر کر اپنے آپ کو آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے حوالے کر دیا اور امان طلب کی۔آپ ا نے اسے نہ صرف امان دی بلکہ یہ بشارت بھی دی کہ ایک وقت آئے گا جب وہ ایران کے بادشاہ کسری کے ہاتھوں میں موجود سونے کے کنگن پہنے گا۔ چنانچہ یہ پیشن گوئی حضرت عمرص کے دور خلافت میں فتح ایران کے موقع پر پوری ہوئی۔

تدبیر کا عمل دخل

اس موقع پر جن تدابیر پر عمل کیا گیا ان کا مختصر جائزہ کچھ یوں ہے۔

مدینہ منورہ میں اسلامی نظام کا قیام :بیعت عقبہ ثانیہ 12 نبوی کے موقع پر مدینہ کے 72افرادنے آپ صلى الله عليه وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور عہد کیا کہ وہ ہر قسم کے نرم و گرم حالات میں اسلامی تحریک کا ساتھ دیں گے۔ اور یہ کہ اگر رسول صلى الله عليه وسلم مدینہ تشریف لے آئیں تو مرتے دم تک آپ صلى الله عليه وسلم کا ساتھ دیں گے۔

آپ صلى الله عليه وسلم ہی نہیںبلکہ اہل مدینہ بھی اس حقیقت سے اچھی طرح آگاہ تھے کہ ہجرت کے نتیجے میں مسلح جدوجہد کا مرحلہ بھی آسکتا ہے جس کا اظہار اس موقع پر مشہور انصاری صحابہ حضرت اسعد اور حضرت براء نے اپنی تقریروں میں کیاتھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اس گروہ میں سے 12 افراد کو منتخب فرما کر انہیں نقیب (سردار ) مقرر کیا ۔اس طرح اہل مدینہ کے نو مسلم افراد کو ایک نظم کی لڑی میں پرو دیا۔جس سے دین کا یہ مزاج سامنے آتا ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کو بکھرا ہوا ہجوم نہیں بلکہ منظم جماعت دیکھنا چاہتا ہے۔ کیونکہ منظم طاغوتی طاقتوں کا مقابلہ اہل ایمان کا منظم گروہ ہی کر سکتا ہے۔

یہاں اس بات کا ذکر بھی سود مند رہے گا کہ مدینہ منورہ پہنچتے ہی آپ صلى الله عليه وسلم نے انصار مدینہ اور مہاجرین کے درمیان “مواخات ” کا سلسلہ قائم کر دیا اس طرح جہاں مہاجرین کو نئی جگہ پر رچ بس جانے میں سہولت حاصل ہو گئی وہیں اہل ایمان کی ایسی منظم ٹیم بھی وجود میں آگئی جس نے اسلامی معاشرے کو قائم کرنے اور اس معاشرے کو بیرونی جارحیت و منافقین کی اندرونی سازشوں سے بچانے کے لیے موثر ٹیم ورک کا مظاہرہ کیا۔

مکہ سے مسلمانوں کا خفیہ انخلاء:

بیعت عقبہ ثانیہ کے بعد آپ ا نے مکہ کے مسلمانوں کو خفیہ طور پر ہجرت مدینہ کی اجازت دے دی۔چنانچہ کفارِمکہ کے متنبہ ہونے اور ہجرت کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے سے پہلے مسلمان کی کثیر تعداد ہجرت کر نے میں کامیاب ہو چکی تھی۔

سامان سفر کی فراہمی :

سفر ہجرت سے پہلے تیز رفتار اونٹنیوں اور ماہر و قابل اعتماد گائڈ کا بندوبست کیا مزید یہ کہ زاد راہ کی فراہمی کا مناسب انتظام بھی کیا گیا تھا۔

دشمنوں کو مغالطے سے دوچار کرنا:

سفرِ ہجرت کی رات اپنے عم زاد حضرت علیؓ سے فرمایا ” تم میرے بستر پر لیٹ جاو اور میری حضرمی چادر اوڑھ کر سو رہو ۔” یہ ہدایت بھی کی کہ وہ صبح اہل مکہ کو ان کی امانتیں لو ٹا دیں۔اس طرح قتل کی نیت سے آپ ا کے گھر کو گھیرے میں لینے والے مشرکین مکہ اس مغالطے میں رہے کہ آپ ا اپنے بستر پر محو خواب ہیں اور وہ صبح ہوتے ہی اپنے منصوبے پر عمل کر گذریں گے۔ اس طرح وہ اپنے اس ناپاک ارادے کی کامیابی کے خیالوں میں مگن رہے اور آپ ا اپنے گھر سے نکل کر بحفاظت غار ثور تک پہنچ گئے۔آپ ا براہ راست مدینہ کی طرف جانے کے بجائے مخالف سمت میں غارِ ثور کی طرف روانہ ہوئے تاکہ مشرکین مکہ انہیں مدینہ کی سمت میں تلاش کرتے رہیں اور وہ غار ثور میں اطمینان سے ان کی تگ و د و سرد ہونے کا انتظار کر لیں۔

اہل عرب ماہر کھوجی ہوتے تھے۔کھرا دیکھ کر صحیح صحیح اندازے قائم کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ایسے میں آپ ا اور ابو بکر صدیق ؓ نے غار ثور تک5 میل کا فاصلہ طے کرتے ہوئے خصوصی احتیاط سے کام لیا تاکہ قدموں کے نشانات کی مدد سے براہ راست فوری تعاقب کے امکانات کم ہو جائیں۔ غار میں قیام کے دوران ہر رات حضرت ابو بکر ؓ کے فرزند ملاقات کے لیے آتے اور ان کی واپس روانگی کے بعد حضرت ابو بکر ؓ ہی کے غلام عامر بن فہیرہ بکریاں چراتے ہوئے پہنچ جاتے ، اس طرح تازہ دودھ بھی مل جاتا اور نئے کھرے بھی معدوم ہو جاتے۔

اس سفر میں حضرت ابو بکر ؓسے کوئی نا واقف شخص آپ ا کے متعلق معلوم کرتا تو وہ جواب دیتے ” یہ آدمی مجھے راستہ بتاتا ہے ” اس سے سمجھنے والا سمجھتا کہ وہ یہی راستہ مراد لے رہے ہیں حالانکہ وہ خیر کا راستہ مراد لیتے تھے۔

موثر اطلاعاتی نظام :

غار ثور میں تین روزہ قیام کے دوران ہر رات کو حضرت ابو بکر صدیق ص کے صاحبزادے عبداللہ باقاعدگی سے آکر اہل مکہ کی سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کرتے تھے اور صبح سے پہلے مکہ اس طرح واپس پہنچ جاتے کہ کسی کو کانوں کان ان کی عدم موجودگی کی خبر تک نہ ہوتی تھی۔ حضرت ابو بکر صدیق صکے غلام عامر بن فہیرہ اسی راستے پر بکریوں کا ریوڑ لے کر اس طرح گذرتے تھے کہ ہر طرح سے قدموں کے نشانات مٹ جاتے تھے۔

اب تک قارئین کرام پر یہ بات اچھی طرح واضح ہو چکی ہو گی کہ تدبیر اور توکل کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ یہ نہ صرف زندگی کے عملی میدان میں کامیابی کے حصول کا بہترین لائحہ عمل ہے بلکہ اسوہ حسنہ کے حوالے سے ہمارے ایمان کا جزو بھی ہے۔

اس مضمون کے اختتام پر قارئین کرام کی توجہ آپ ا کی اس حدیث کی طرف دلانا چاہتے ہیں جس میں آپ ا نے ایک اعرابی کو اونٹ کا گھٹنا رسی کے ساتھ باندھنے کے بعد توکل کرنے کے لیے کہا تھا….کیا ہمارا رویہ اس تعلیم کے مطابق ہے ؟

کیا ہم اپنے رسول ا کے اس فرمان ” غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے ” کو حزر جان بنائے ہوئے ہیں ؟

کیا ہم اطاعت الٰہی کے اس مقام پر ہیں جہاں تن من وھن کی قربانی کے بعد بھی یہ احساس رہے” حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا ” ؟

1 Comment

  1. I am very impressed with your article. This is great information with engaging and useful content. I share in many of your thoughts and I am still considering some other aspects of your article’s content.

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*