جناب قاری عمران خان سے ایک ملاقات

ملاقاتی : محمد خالد اعظمی

khalid.azmi64@gmail.com

حسن آواز کی کشش ایک بدیہی حقیقت ہے ۔ حسن آواز اور خوش بیانی کی تاثیر ہر زمانے میںمسلم رہی ہے۔ مزامیر داؤد کا ذکر قرآن مجید میںآیا ہے ،اللہ کے رسول انے ابوموسی اشعری ؓکی تلاوت قرآن سن کرکہاتھا کہ تجھے مزامیر داؤد سے نوازا گیاہے۔اورشاعر اسلام حسان بن ثابتؓ کے اشعارکوسن کر نبی ا نے فرمایاتھا: وان من البیان لسحرا ۔ بعض بیان میں جادو کا سا اثر ہوتا ہے ۔عہد جاہلیت میں ایسے شعراءتھے کہ جب شعر پڑھتے تو پوری محفل پر سناٹا چھاجاتا۔مہبط وحی ا خود بعض صحابہ کرام کی تلاوت سماعت فرمایاکرتے تھے بلکہ اس کے لیے آپ انہیں حکم بھی دیتے تھے۔

ہردور میں قرآن کے حسن صوت سے متاثر ہوکر لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے اورآج بھی اس کی تاثیر اس قدر ہے کہ کتنے غیر مسلم تلاوت قرآن سن کر مشرف بہ اسلام ہوئے ہیں اورہورہے ہیں ۔ حسن صوت اللہ تعالی کا خاص عطیہ ہے اور اگراس کو قرات قرآن کے ساتھ جوڑدیاجائے تو یہ ایک معجزہ بھی بن جاتاہے جس کی تاثیراپنا رنگ لاکر رہتی ہے۔

 اللہ کی مسحورکن نشانیوں میں سے ایک حیدرآباد میں جنم لینے والے قاری عمران خان بھی ہیں جن کو اللہ نے حسن صوت سے نوازاہے اور وہ اس کا دعوت الی اللہ میں بھر پور استعمال بھی کررہے ہیں ۔

پچھلے دنوںIMA یوتھ ونگ کی دعوت پر برادر قاری عمران خان کویت تشریف لائے تھے ، قاری عمران کے متعلق باتیں تو کافی سنیں تھیں لیکن دیکھنے کا موقع نہیں ملاتھا، 37سالہ دبلاپتلا،اورخوش مزاج اس نوجوان کو جب قریب سے دیکھا اور سنا تو عش عش کرنے لگا۔اللہ تعالی نے اس شخص کوحوصلہ دیاہے، لگن دیاہے، اور سب سے بڑھ کراس کی آواز میں وہ مٹھاس اورچاشنی عطاکی ہے کہ جس کے کان میں اس کی آوازپڑتی ہے وہ سنتاہی رہ جاتاہے۔اللہ تعالی کی یہ عظیم نعمت ہے جس پر جتنا بھی شکر اداکیا جائے کم ہے۔ذیل کے سطورمیںقاری عمران کا انٹرویو پیش خدمت ہے :

سوال: آپ کی پیدائش اورابتدائی تعلیم ؟

جواب:میری پیدائش 1975ءمیں جنوبی ہند کے شہر حیدرآباد دکن میں ہوئی، ابتدائی تعلیم شہر حیدر آباد میں ہوئی ، والدین رزق معاش کی تلاش میں سعودی عرب میں مقیم تھے تو میں بھی اپنے والدین کے ساتھ بچپن ہی میں سعودی عرب چلاگیا اور وہیںابتدائی ایام جدہ میں گزرے ۔میراگھرانہ دینی اور داعیانہ مزاج کا حامل تھا، اورمیرے والد دعوت دین کے شوقین تھے لہذا اس میدان میں میرے والدین نے کافی کام کیا۔

 سوال:اس کے بعد تعلیم کہاں حاصل کی؟

جواب:میں تعلیم کی غرض سے کنیڈا گیااوروہاں Memorialیونیورسٹی سے B.Techکیا۔1994 میں امیگریشن حاصل کیا،اور 1998ءتا 2010ءکنیڈا میںہی مقیم رہا۔ کسب معاش کے ساتھ ساتھ دینی کام بھی کرتارہا ۔اللہ کاکرم ہواکہ کنیڈامیں ڈاکٹرجمال بدوی سے ملاقات ہوگئی ، انہوں نے مجھ سے کہاکہ میںجمعہ کا خطبہ دوں ، عجیب اتفاق کہ یہ میری زندگی کا پہلا خطبہ تھا ، الحمدللہ ان کی تربیت نے میری زندگی میں انقلاب پیداکردیا ، میں ہمیشہ ان کی تفسیرقرآن کے درس میں بیٹھتا تھا۔اس کے علاوہ ایک سعودی ڈاکٹر کنیڈا تشریف لائے تو میں ان کی صحبت میں رہا اور انہوںنے میری تربیت کی جس کی وجہ سے میری علمی لیاقت میں کافی اضافہ ہوا۔

سوال:تجوید کہاں سیکھی؟

جواب: میں نے تجوید مکہ مکرمہ اور مدینہ منور ہ کے قراءشیخ عمارناصر اور ان کے استا د شیخ عبد الرحمن سے سیکھی ، یہ سلسلہ قرات نبی اکرم ا تک پہونچتاہے۔ان قراءنے مجھے تجوید اور اذان کی زبانی سرٹیفیکٹ دی ۔

سوال :امریکہ میں کتنے سال مقیم رہے اوروہاں کس غرض سے گئے تھے؟

جواب: امریکہ کے شہر کیلیفورنیا میں ڈیڑھ دوسال تک رہا، میں امریکہ کام کی تلاش میں گیاتھا،وہاں سائنا کربلا مسجد کے منتظمین کی درخواست پر میں نے تجوید کا حلقہ قائم کیا ، اللہ کے فضل وکرم سے یہ حلقہ کافی کامیاب رہا اور روزانہ تین سے چار سوبچے حلقہ میں شریک ہواکرتے تھے ۔یہ حلقہ2001سے نومبر2002ءتک چلا، وہاں سے میرے کنیڈا چلے جانے کے بعد یہ حلقہ بندہوگیا۔

سوال:قرات وتجوید اور اذا ن کے ذریعہ دعوتی کام کرنے کا کیسے خیال پیداہوا اور آپ کے تجربات اس سلسلہ میں کیاہیں؟

جواب:یہ طریقہ کافی موثراورکامیاب ہے ۔ یوروپ میںبالعموم غیر مسلم بھی مسجدوں میں آتے ہیں اور بغور خطبہ سنتے ہیں،نماز ختم ہونے کے بعد خطیب سے ذہن میں ابھرے ہوئے سوالات کاجواب طلب کرتے ہیں، مثبت جواب ملنے کی صورت میں مشرف بہ اسلام بھی ہوتے ہیں یاپھر ان کی اسلام دشمنی میں کمی آجاتی ہے۔

بعض غیر مسلم جب جہری نمازوں میں تلاوت قرآن سنتے ہیں توبول اٹھتے ہیںکہ امام صاحب !ابھی میں نے آپ سے جوموسیقی سنی ہے بہت پیاری ہے ،میں ان کو جواب دیتاہوںکہ وہ موسیقی نہیں بلکہ اللہ رب العالمین کا کلام ہے اور اس کی تفصیل بیان کرتاہوںتووہ میری گفتگو سے کافی متاثر ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ اچھی آواز سے قرآن پڑھا جائے تو لوگ متاثر ہوتے ہیں اوراگر قرآن کو اچھی آواز اور تجوید کے ساتھ نہ پڑھاجائے تو ان پر خاطرخواہ اثراندازنہیں ہوتا۔جس کا ہمیں کافی تجربہ ہوا ہے ۔

سوال :کیا آپ نے تجوید وقرات کا ورک شاپ بھی لگایاہے ؟

جوا ب:کنیڈاکے الہدی انسٹی ٹیوٹ کے اردوزبان کا دوروزہ ورک شاپ سب سے کامیاب رہا ،جس میں 120خواتین نے شرکت کی۔

سوال:کویت کا ماحول آپ کو کیسا لگا ؟

جواب:خلیجی ممالک میں سب سے بہتر اور اچھا موقع کویت میں ملا ، لوگوں کے خلوص و اخلاق سے کافی متاثر ہوا ، میرے متعلق زیادہ معلومات نہ ہونے کے باوجود بڑی تعداد میںورک شاپ کے اندرلوگوں کی حاضری یہ ان کی محبت اور تعلق کی علامت ہے۔

سوال:آپ کی زندگی کا کوئی انوکھا تجربہ ؟

جواب:میں کنیڈاسے سعودی عرب جانے کے لیے ائرپورٹ آیا ، حسن اتفاق اڑان میں تاخیر تھی، میں اس تاخیر کا استعمال کرنے کی غرض سے ائرپورٹ کے Prayer Hall میں بیٹھ گیا اور قرآن کی تلاوت زور زور سے کرنے لگا،ایک پادری آیا جو مجھ سے مخاطب ہوا گویاکہ کچھ کہنا چاہتاہو، میں نے کہا : ارشادہو، اس پادری نے عیسائیت سے متعلق بہت ساری باتیں بتائیں ، میں بغور اس کی باتیں سنتارہا ،جب وہ اپنی باتیں کہہ کرخاموش ہوگیا، تب میں نے اس سے مخاطب ہوکر کہاکہ میں بھی آپ سے کچھ باتیں عرض کرناچاہتاہوں، وہ سننے کے لیے تیار ہوگیا۔

سب سے پہلے میںنے اس پادری کی جرات پر اس کو مبارک باد دی،اورکوشش کی کہ کسی طرح سے ا س کے دل میں داخل ہوجاں۔پھر اسلام کے متعلق بتانا شروع کیا۔ ساتھ ہی تلاوت کی اور اذان دی ۔ میری آواز اس کو راس آئی ، وہ آنکھیں بند کرکے میری تلاوت اوراذان سن رہاتھا۔بعد میں اس نے کہا: یہ بہت اچھاسانگ ہے، میں نے جواب دیا کہ یہ سانگ نہیں بلکہ اس رب العالمین کاکلام ہے جوہمارا اور تمہارا سب کا رب ہے۔اس سے وہ پادری بہت متاثر ہوا اورکہاکہ میں اسلام کے متعلق مزید پڑھوں گا۔اس طرح کے میرے پاس کئی تجربے ہیں اگرہم چاہیں تواس اسلوب کواختیار کرکے اسلام کے فروغ کا کام کرسکتے ہیںبشرطیکہ ہم مخلص اور پُرعزم ہوں۔

سوال: دعوتی کام کیسے کریں؟

جواب: دعوتی کام کے بہت سارے طریقے ہیں ، اور ہرشخص کا منفرد اور انوکھاانداز ہوتاہے لیکن میر ا طریقہ ہے کہ تجوید اور تلاوت قرآن اور اذان کے ذریعہ دعوتی کام کروں جولوگ میرے نقش قدم پر چلیں گے امید ہے انہیں بھی جلدازجلدکامیابی ملے گی۔ان شاءاللہ ۔

سوال:کویت میںتارکین وطن کو کیا پیغام دیناچاہیں گے؟

جواب: اللہ تعالی کویت میں مقیم تمام لوگوں کی زندگی میں برکت دے ، انہیں دین پرثابت قدم رکھے ،ان سے میری گزارش ہے کہ اپنے بچوںاوربچیوںکی صحیح نہج اور اسلامی طریقے پر تربیت کریں تاکہ وہ بھی دعوت دین کی اس ذمہ داری کوادا کرنے کے اہل ہوسکیں اور اللہ کے دین کا بول بالاہو۔

     ٭٭٭

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*