صلاحیتوں کی پہچان اوراسوۂ نبوی

محب الله قاسمي

دنیا میں تمام انسان صلاحیتوں کے لحاظ سے ایک جیسے نہیں ہیں۔کسی میں کوئی صلاحیت ہوتی ہے تو کسی میں کوئی اور،کسی میں کم توکسی میں زیادہ ۔ اسی وجہ سے دنیاکا ہرکام ہرانسان بخوبی انجام نہیں دے سکتا اورنہ وہ تنہا اجتماعی اہداف کے حصول میں کامیاب ہوسکتاہے۔ بل کہ جس میں جس کام کی صلاحیت موجود ہو وہ اس کام کو ہی بہ خوبی انجام دے سکتاہے۔اس لیے کاموںکی صحیح طریقے سے انجام دہی کے لیے افراد سازی ضروری ہے۔ لیکن افرادکو وہی مقام دینا ہوگا جو ان کے شایان شان ہو۔عربی میں اسے وضع الشی فی محلہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ معاملہ گھر سے لے کر دفتر،کمپنی اور اقتصادیات کے تمام شعبوںسے جڑا ہوا ہے ۔ ایک کامیاب امیرکارواں کی یہ بہت بڑی خوبی مانی جاتی ہے کہ اس میں منصوبے کو بروئے کارلانے کے لیے افرادسازی کا ملکہ ہو،اسے صلاحیتوں کوپرکھنے کا کمال اورتفویض کار کا ہنر حاصل ہو۔ آج معاشرے میں جوخرابیاں درآئی ہیں ان میں ایک خرابی یہ بھی ہے کہ کسی اہم ترین کام کی ذمہ داری کسی ایسے شخص کے حوالے کردی جاتی ہے جوکسی بھی لحاظ سے اس کا اہل نہیں ہوتا۔ دوسری طرف ایک باکمال اورباصلاحیت شخص کو نظرانداز کردیاجاتاہے ۔جس کی صلاحیتوںسے قوم وملت اور معاشرے کی بہتری ہوسکتی ہے۔نبی کریم نے ایک عام اصول بیان فرمایاہے انزلواالناس منازلہم۔                                           ﴿ابوداؤد﴾

’’لوگوں سے ان کے اپنے مرتبے کے مطابق پیش آؤ‘‘۔

اس سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ کسی نااہل شخص کواتنابڑامرتبہ نہ دے دیاجائے جس کا وہ اہل نہ ہو اورنہ کسی باصلاحیت آدمی کو نظراندازکردیاجائے۔نبی کریم ﷺ  صحابہ کرامؓ  کے اندرچھپی ہوئی صلاحیتوں کو پرکھ لیتے تھے ، مزیدبہتر بنانے کے لیے ان کی تربیت بھی کرتے تھے اوران کے مطابق انھیں ذمہ داری سونپ کران سے کام لیتے تھے۔

افراد شناسی اورلوگوںکی صلاحیتوں سے استفادے کے لیے ان کو صحیح مقام ومرتبہ دینا ایک بہت ہی اہم مسئلہ ہے ۔ اس سلسلے میں نبی کریم ﷺ کا طریقہ ہماری رہنمائی کرتا ہے۔درج ذیل صحابہ کرام ؓ  کو آپ نے ان کی صلاحیت ،فہم وبصیرت اور ہنرمندی کے پیش نظر ان کو مختلف ذمہ داراریاں سونپی تھیں۔

خلفاے راشدین

حضرت ابوبکرصدیقؓ ،جواپنے لقب صدیق سے زیادہ مشہورہیں۔وہ انتہائی سچے اور قول وعمل میں پوری طرح مطابقت رکھتے تھے۔ ایک خاص صفت جوآپ کے اندرتھی یہ کہ وہ طبیعت میں نرمی اور دوسروں کو مبتلائے دردوغم دیکھ کر بے چین وبے تاب ہوجاتے تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر کی شخصیت سے بہت خوش تھے ۔ایک موقع پر حضرت عمروبن العاص نے سوال کیا کہ آپﷺ  کی نگاہ میں سب سے زیادہ محبوب شخصیت کس کی ہے؟آپ ﷺ نے جواب دیا: ’’ابوبکرصدیق ؓ ‘‘۔ایک مرتبہ تو آپﷺ  نے یہ بھی ارشادفرمایا:اگرمیں کسی کو اپنا خلیل ﴿جگری دوست ﴾بناتاتو میں ابوبکرکواپنا خلیل بناتا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے انتہائی مشکل وقت میں جب کہ آپ ہجرت مدینہ کررہے تھے تو رفیق سفرآپ ہی تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام معاملات میں آپ کوترجیح دیتے تھے ۔

مردوںمیں سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیقؓ  شخص ہیں جنہوں نے بلاجھجھک اسلام کی دعوت پر لبیک کہا ۔آپ ﷺ کے نبی ہونے کی تصدیق کی۔ ہرموقع آپﷺ  کو اپنی ذات پر ترجیح دی ، اپنا مال واسباب آپﷺ  پر لٹادیااور بلاترد دآپ کے فرمان کی تصدیق کی ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مرض الموت میں تھے توآپﷺ  نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ  کو امامت کا حکم دیا یہ اشارہ تھا اس بات کا کہ آپﷺ  کے بعد آپؓ  ہی خلیفہ بنیں گے۔

جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو صحابہ کرامؓ  میںایک عجیب سی مایوسی چھاگئی تھی۔اس وقت آپؓ  نے شاندارخطبہ دیا اور ارشاد فرمایا:

جومحمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتاتھا توبلاشبہ محمدﷺوصال فرماگئے، جو اللہ کی عبادت کرتاہے تویقینا اللہ زندہ ہے جومرتانہیں!پھر اس آیت کی ومامحمد الارسول تلاوت کی :

محمدﷺ  اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں،ان سے پہلے اوررسول بھی گزرچکے ہیں ، پھر کیا اگروہ مرجائیں یا قتل کردیے جائیں توتم لوگ الٹے پاؤں پھرجاؤگے ؟یا درکھو!جوالٹاپھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا، البتہ جو اللہ کے شکرگزار بندے بن کررہیں گے انھیں وہ اس کی جزادے گا۔          ﴿آل عمران:۱۴۴﴾

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے اوصاف حمیدہ کے سبب اس لائق تھے بھی کہ انھیں یہ مقام ومرتبہ دیا جاتا۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صلاحیتوںکوپرکھ لیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ  نے ان کے لیے دعابھی کی تھی : کہ اے اللہ عمرکے ذریعے اسلام کی مددفرما۔ان کی دلیری ،قوت ارادی اور دوررس افکار و خیالات کے سبب ان کے متعلق آ پ ﷺ نے فرمایا: لوکان بعدی نبی لکان عمرؓ ۔اگرمیرے بعد کوئی نبی ہوتا توعمرہوتے۔چنانچہ خلیفہ اول کی وفات کے بعد جب مسلمانوں نے حضرت عمرؓ  کے ہاتھ پر بیعت کی اورآپ ؓ امیرالمومنین مقررہوئے توآپ ؓ  نے اپنے دورخلافت میں جو کار نامے انجام دیے انھیں تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔آپ کا دل خوف خدا سے لرزاٹھتاتھا ۔ آپ کے عدل وانصاف کے قصے معروف ہیں ۔آپ ؓ دین کے معاملے میں کسی قسم کی مصالحت کو پسند نہیں کرتے تھے۔آپ باطل کے لیے ہمیشہ ننگی تلواررہے مگر حق کے لیے موم کی طرح پگھل جانے والے شخص بھی تھے۔راتوںکوگشت کرتے اور غریبوں مسکینوں کا پوراخیال رکھتے اور ان کے لیے وظیفہ جاری کرتے تھے۔

آپ کے اندرخلیفہ ہونے کی پوری صلاحیت موجودتھی اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتربیت فرمائی تواس کی بدولت آپ نے اسلام اورمسلمانوںکوبہت ہی مضبوط اورمستحکم کیا۔چنانچہ عرب سے باہر طول وعرض میں پرچم اسلام لہرانے لگا۔ کئی مسائل ایسے ہیں جن میںآپ کی رائے کے مطابق قرآن کریم کا نزول ہوا جیسے آیت حجاب وغیرہ۔حضرت ابوبکروعمر ؓ ﴿شیخین ﴾کواللہ کے رسولﷺ  نے قضا کے معاملات کے لیے متعین فرمایا تھا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہی آپ دونوں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ’’دووزیر‘‘کے لقب سے مشہورہوگئے تھے۔

 حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد23ہجری میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے۔ آپ نے اسلامی مملکت کو مزید وسعت بخشی۔ آپ کے اہم کارناموںمیں مسجدنبوی کی توسیع، قرآن مجید کو رائج رسم الخط میں تحریرکروانا اوراسے ایک مصحف میں جمع کرنا شامل ہے۔اسی وجہ سے آپ کو جامع القرآن بھی کہاجاتاہے۔حضرت عثمان ؓ  نہایت ہی باحیا،فیاض ،محسن ،نرم طبیعت اورخوش اخلاق تھے۔

آپؓ  حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ مناسک حج کو اچھی طرح جانتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بارآپ کو مدینہ منورہ میں اپنا خلیفہ بنایا۔ مدینہ منورہ میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے پاس پینے کے لیے میٹھے پانی کا کنواں نہیں تھا وہ ایک یہودی کے کنویں سے پانی لیتے تھے۔ اس نے منع کردیاتو آپ ﷺ کے ایما پر آپ ؓ  نے وہ کنواں خریدکرصحابہ کرامؓ  کے لیے وقف کردیا۔اپنے صلاح وتقوی اور امتیازی صلاحیتوں کے ساتھ اسلام کی قیادت سنبھالے ہوئے اپنی خدمات انجام دے رہے تھے کہ سن ۳۵ہجری میں عبداللہ بن سبا یہودی کے ہاتھوں اس حال میں شہیدہوئے کہ زبان پر تلاوت جاری تھی۔جسم سے نکلاہوا خون اس آیت: فسیکفیکہم اللّٰہ۔پر پڑاجوہمیشہ کے لیے یادگاربن گیا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے والوںمیں دوسرے نمبرپر ہیں ۔انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیرتربیت پرورش پائی۔علم وحکمت کے ماہر،قرآنیات پر عبور،اللہ والے ایک بہادرصحابی تھے ۔ان کا لقب ابوتراب تھا۔ فاتح خیبرکے لقب سے بھی مشہورہیں۔نبی کریمﷺ  نے جنگ خیبرکے موقع پرارشادفرمایاتھا:

لااعطین الرایۃ رجلا یفتح اللّٰہ علی یدیہ،یحب اللّٰہ ورسولہ ویحبہ اللّٰہ ورسولہ۔                         ﴿متفق علیہ﴾

’’میں ایک ایسے شخص کو جھنڈادوںگا جس کے ذریعے اللہ فتح عطا کرے گا۔وہ اللہ اوراس کے رسول سے محبت کرتاہے اوراللہ اوراس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں‘‘۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں مختلف طرح کی ذمے داریاں سونپیں ان میں عہدنامے،خطوط نویسی، جنگ کی قیادت وغیرہ شامل ہیں۔ان ذمے داریوںکی ادائیگی میں انھیں بہت سے مصائب وآلام کا سامنا کرنا پڑا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالدبن ولید ؓ  کو فوجی قیادت سونپی چناں چہ انھوں نے بھی اپنے اس فن میں ماہر ہونے کی حیثیت سے وہ کارنامے انجام دیے جوایک بہادر فوجی لیڈرکے شایا نِ شان تھے اور آپ کے فہم وبصیرت اورجرأت وبہادری سے بہت سے مقامات فتح ہوئے۔جس پر ان کو سیف اللہ کا خطاب بھی دیا گیا ۔

حضرت زیدؓ  کوعلم فرائض اورترجمے کاکام سونپاگیا۔حضرت ابی بن کعب کوحفظ قرآن مجید کے سلسلے میں ذمے داری دی گئی جنھوں نے بہت سے حفاظ کرام تیارکیے ۔ جب  تلاوت کرتے تو اپنی خوش الحانی سے فضاکوروح پروربنادیتے تھے۔حتی کہ آپ کی قرأت سننے کے لیے فرشتے بھی آپ کے گردمنڈلانے لگتے تھے۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا عباس کو کسی معاملے کا والی بنایاتوفرمایاکہ ’اے میرے چچا! میں اس معاملے میں کسی دوسرے کومناسب نہیں سمجھتاکہ اسے والی بناؤں۔‘ اسی بناپر عمرؓ  نے فرمایا:’ جس نے قرابت یاآپسی محبت کی بنیاد پر کسی کووالی یاامیربنایااس نے اللہ اوراس کے رسول کے ساتھ خیانت کی‘‘۔

حضرت معاذبن جبل ؓ  زودفہمی ،قوت استدلال، خوش بیانی اوربلندہمتی کے لحاظ سے ایک منفردممتازمقام رکھتے تھے۔ان کی تعریف وتوصیف اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان فرمائی :

اعلم امتی بالحلال والحرام معاذبن جبل۔

ان کے اسی علم وفہم، سوجھ بوجھ کے پیش نظر اللہ کے رسولﷺ  نے انھیں یمن کا گورنربناکر بھیجا۔ روانہ کرتے وقت آپﷺ  نے ان سے پوچھا: تم لوگوںمیں کیسے فیصلہ کروگے؟ معاذؓ  نے جواب دیامیں پہلے اللہ کی کتاب کے ذریعے فیصلہ کروںگا ،اگراس میں حکم نہ ملا تو سنت میں تلاش کروںگا اگراس میں بھی نہ ملاتو پھراجتہادکے ذریعے فیصلہ کروںگا۔﴿ترمذی﴾ آپ نے بہت سے مقامات پر ان کو ذمے دار بنایا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی بہت سی ذمے داریاں ان کو سونپی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اچھے اوصاف سے متصف لوگوں کی تعریف کرتے تھے۔آپﷺ  کا ارشادہے:

 خیارکم فی الجاہلیہ خیارکم فی الاسلام

’’جولوگ زمانہ جاہلیت میں اچھے تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترہیں‘‘۔

 آپﷺنے حضرت ابوعبیدۃ بن الجراحؓ  کی خوبیوں کے پیش نظرانھیں ’’امین ‘‘ کا خطاب عطاکیا ۔’’ایک موقع سے یمن کے کچھ لوگ آئے ،اورآپﷺ سے دریافت کیا کہ ہمیں کوئی ایسا شخص دیجئے جوہمیں اسلام اورسنت سکھائے آپ نے حضرت ابوعبیدۃ ؓ  کا ہاتھ تھاما اور فرمایا : ہذاامین ہذہ الامۃیہ ہیں اس امت کے امین ۔ ایک مرتبہ آپ نے ارشاد فرمایا:

 لکل امۃ امین وامین ہذہ الامۃ ابوعبیدۃ ﴿متفق علیہ﴾

’’ ہرامت کا ایک امین ہوتاہے اس امت کے امین ابوعبیدہ ؓ ہیں‘‘۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نیک، دانش منداور کم سن نوجوان صحابی جواکثرمیدان جنگ میں شرکت کے لیے کوشاں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرکت کی اجازت کے لیے بے تاب رہتے تھے۔آپﷺ  نے ان کے اس حوصلے اور دانش مندی کے سبب ان کو محض بیس سال کی عمرمیں رومیوں سے جنگ کی قیادت سونپی۔انھیں ایسی فوج کا کمانڈربنایاجس میں بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ موجودتھے۔اس کم سن قائد کا قافلہ آپﷺ  کی وفات کے بعد حضرت ابوبکرؓ  کے زمانہ خلافت میں روانہ ہوا۔ان کی بہادری نے رومیوں کا خوف مسلمانوں کے دل سے نکال پھینکا اوریہ فاتح جوان مدینہ میں بہت سے مال غنیمت کے ساتھ واپس لوٹا۔سیرت صحابہ سے واقف حضرات کے لیے اس کم سن جوان کی پہچان کے لیے ان کا نام کافی ہوگا۔ ان کا نام حضرت اسامہ بن زیدؓ  ہے۔ جنھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قابلیت اورصلاحیت کی بنیاد پر اتنی بڑی ذمے داری سونپی ۔ حضرت عمرؓ  اسامہ سے ملتے توکہتے :مرحباً بامیری﴿میرے امیرخوش آمدید﴾اس پر لوگ تعجب کا اظہار فرماتے توفرماتے: ’’رسول اللہ نے ان کو میرا امیر مقرر فرمایا تھا۔‘‘

 امارت وحکومت یا کسی معاملہ کی ذمہ داری ایک بہت بڑی امانت ہے۔ اس کے لیے بہت غوروخوض کے بعد فیصلہ لیناچاہیے اوراس کے لیے جوشخص مناسب ہو تو سے کسی مخالفت کے بغیرذمہ داری دینی چاہیے اورجواس کے لیے مناسب نہ ہوتو اس کوذمے داری ہرگزنہیں سونپنی چاہیے۔ ورنہ وہ کام تو خراب ہوگاہی ساتھ ہی معاشرہ بھی بہت سی پریشانیوںاوراختلافات کا شکار ہوکر رہ جائے گا۔کیوںکہ معاشرے کے بہت سے معاملات اس سے جڑے ہوتے ہیں اوربہت سے حقوق اس سے وابستہ ہوتے ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلیت کی بنیاد پر ذمہ داریوں کی تقسیم کاری کی۔جولوگ اس میں غیرذمہ دارانہ رویہ اختیارکرتے ہیں یا پھرامارت ومنصب محض تعلق اور رفاقت کی بنیادپر بانٹ دیتے ہیں ،ایسے لوگوں کے سلسلے میں سخت پہلواختیارکرتے ہوئے آپﷺ  نے ارشادفرمایا:

مامن راع یسترعیہ اللّٰہ رعیۃ ، یموت یوم یموت، وہوغاش لہا، الا حرم اللّٰہ علیہ رائحۃ الجنۃ۔                        ﴿مسلم﴾

’’جس شخص کو اللہ تعالیٰ لوگوں کا ذمہ داربنائے اور وہ اس میں خیانت کرے تو اللہ اس پر جنت کی خوشبو حرام کردے گا‘‘۔

دوسری جگہ ارشاد ہے:

من ولی من امرالمسلمین شیا، فامر علیہم احدا محاباۃ، فعلیہ لعنۃ اللّٰہ، لایقبل اللّٰہ منہ صرفا، ولاعدلا،حتی یدخلہ جہنم۔

جس شخص کو عام مسلمانوںکی ذمے داری سپردکی گئی ہو پھراس نے کوئی عہدہ کسی شخص کو محض دوستی وتعلق کی وجہ سے بغیراہلیت معلوم کیے دے دیا ،اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ اللہ اس کا کوئی عمل قبول نہیں کرے گا،یہاں تک کہ وہ جہنم میں داخل ہوجائے گا۔ ﴿مسنداحمد﴾

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوںکو تنبیہ فرمائی ہے کہ وہ امارت وولایت کی تمنا نہ کریں اور نہ اس کی خواہش میں لگے رہیں۔ آپﷺ  نے حضرت عبدالرحمن بن سمرۃؓ  کو ہدایت فرمائی :

اے عبدالرحمن تم عہدۂ امارت طلب مت کرو،اگر تم کوطلب کرنے کے بعد امارت عطا کی گئی توتم اسی کے سپردکردیے جاؤگے اگربلامطالبہ تمہیں یہ عہدہ مل گیاتو اس پر تمہاری مددکی جائے گی۔‘‘                      ﴿متفق علیہ﴾

ذمے داری سونپنے کا معاملہ انتہائی نازک ہے۔ اس سے یہ ہرگز نہ سمجھنا چاہیے کہ جس کو لوگوں کے کسی معاملہ کی کوئی ذمہ داری نہیں دی گئی وہ مرتبہ میں کم ہے۔ حضرت ابوذرؓ  کوآپ کے نزیک بہت قدرومنزلت حاصل تھی۔بہت ہی متقی وپرہیزگار صحابی تھے۔ مگرآپ  نے ان کوکسی معاملہ میں ذمہ دارنہیں بنایا۔آپﷺ  نے ان سے ارشاد فرمایا:

یا ابا ذر،انی اراک ضعیفا، وانی احب لک ما احب لنفسی، لا تامرون علی اثنین، ولاتولین مال یتیم۔﴿مسلم﴾

’’اے ابوذرمیں تمھیں کمزورپاتاہوںمیں تمہارے لیے وہی پسند کرتاہوجواپنے لیے پسند کرتاہوں،تم دولوگوںپر بھی ذمہ دارنہ ہونا اورنہ مال یتیم کا ولی بننا ‘‘۔

دوسری جگہ حضرت ابوذرؓ  کو مخاطب کرتے ہوئے ارشادفرمایا:

انہا امانۃ ،وانہا یوم القیامۃ خزی وندامۃ، الا من اخذہا بحقہا، وادی الذی علیہ فیہا                ﴿مسلم ﴾

’’یہ امانت ہے اور یہ قیامت کے دن رسوائی و ندامت کا سبب بنے گی۔ سوائے اس کے جواس کا حقدار ہو اوراپنی ذمہ داری کوصحیح طریقے سے انجام دے‘‘۔

سلف صالحین کا طریقہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسل کے تربیت یافتہ صحابہ کرامؓ  بھی اس کی اہمیت اورنزاکت کے سبب اس معاملہ میں بڑی احتیاط سے کام لیتے تھے۔حضرت عمرؓ  کا قول ہے:

من ولی من امرالمسلمین شیا فولی رجلا لمودۃ اوقرابۃ بینہما، فقد خان اللّٰہ ورسولہ والمسلمین۔

’’جس شخص کو مسلمان کے کسی معاملے کا ذمے داربنایاگیا اور اس نے دوستی اورقرابت کی بنیاداس کا کوئی کام کیا۔ اس نے اللہ اوراس کے رسول کے ساتھ خیانت کی‘‘۔

اسی طرح کا معاملہ تابعین وتبع تابعین کا بھی تھا۔

عمربن عبدالعزیزؒ خلیفہ بنائے گئے ۔انھوں نے اپنے پہلے خطاب میں کہا:مجھ سے خلافت کی بیعت لی گئی جب کہ میں اس کا متمنی نہیں تھا۔لہٰذا آپ لوگ جسے چاہیں اپنا خلیفہ متعین کرلیں۔اس پر مجمع روپڑااوراپنی بھرائی ہوئی آواز میں کہا: اے محترم ہم نے آپ کا انتخاب کیاہے اور آپ سے خوش ہیں۔توعمربن عبدالعزیز بھی روپڑے اورکہا اللہ مددگارہے۔پھر منبرکے گرد موجودلوگوںکویہ کہتے ہوئے نصیحت کی کہ میں تمہیں اللہ سے تقوی اختیارکرنے کی وصیت کرتا ہوں۔جواللہ کی اطاعت کرے گا، اس کی اطاعت واجب ہے اورجواللہ کی نافرمانی کرے گاڈ اس کی کوئی اطاعت نہیں۔پھراپنی آواز بلندکرتے ہوئے کہا :تمہارے درمیان جب تک میں اللہ کی اطاعت کروںتم میری اطاعت کرنا اگر میں اللہ کی نافرمانی کروںتوتمہارے ذمہ میری اطاعت لازم نہیں ہوگی۔پھرقصرخلافت کی طرف روانگی کے لیے لوگوں نے سواری پیش کی توآپ نے کہا کہ میں بھی عام مسلمانوںکی طرح ایک مسلمان ہوں،اس لیے میری آمدورفت بھی اسی طرح ہوگی اورقصرخلافت کے بجائے اپنے مکان کا رخ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ جواللہ کی خاطرتواضع اختیار کرے گا اللہ اسے بلندمقام عطا کرے گا۔

یہی وجہ ہے کہ ہمارے اسلاف ذمہ داری کی نزاکت اورآخرت میںجواب دہی کے احساس کے سبب اسے قبول کرنے سے کتراتے تھے۔بہت سے لوگ جیلوں میں ڈال دیے گئے ، ان پر کوڑے برسائے گئے ۔لیکن انھوںنے کوئی منصب قبول نہیں کیا۔کیوںکہ ان کے سامنے اپنے بزرگوں کے تاریخی احوال موجودتھے اور ان کے تقوی ودیانت داری کے قصے سنائے جاتے تھے۔ لہٰذا ان کی نگاہ میں اس احساس ذمے داری کے ساتھ کسی منصب یا ذمے داری کو قبول کرلینا معمولی بات نہیں تھی۔

حاصل کلام یہ کہ قائدین امت کو اس مسئلے پرپوری دیانت داری کے ساتھ توجہ دینی چاہیے۔ان پر لازم ہے کہ اپنے بعد آنے والوں کو عمدہ دینی تربیت دیں اور افرادسازی کے ساتھ ساتھ تفویض کارمیں بھی باریک بینی سے کام لیتے ہوئے ذمے داری سونپنے کا فریضہ انجام دیں۔ کیوںکہ یہ ایک امانت ہے جس میں کسی ذاتی منفعت کے پیش نظرخیانت کرنا کسی بھی طرح درست نہیں ہے۔اس سے امت بحران کا شکار ہوگی اورملت کوبہت بڑے نقصان کا سامناہوگا۔ اس لیے کہ اللہ کی نصرت ایسے ذمہ داروںپر نہیں ہوتی جوکسی مفادکے پیش نظرکسی عہدے پر فائز ہوں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*