خوشیوں کا سر نہاں

عبد السمیع محمد ہارون انصاری

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

” تین بچے ایسے ہیں جن کو اللہ نے ماں کی گود میں دودھ پیتے عمر ہی میں معجزانہ طورپربولنے کی صلاحیت عطا کی،ان میں سے ایک حضرت عیسی بن مریم علیہما السلام ہیں۔ قرآن میں جن کی پیدائش کاتفصیل سے ذکر ہے ۔ حضرت مریم علیہا السلام نے جب کنواری عمر میں حضرت عیسی بن مریم کو جنم دیا تو لوگوں نے حیرت میں کہا کہ مریم تم پاکدامن خاتون ہو اور اس عمر میں تم نے ایک بچے کو جنم دیا۔ یہ تو انتہائی عجیب بات ہے ۔ حضرت مریم علیہا السلام نے جواب میں کہا کہ آپ لوگ اس بچے سے ہی پوچھ لیجئے ، تب دودھ پیتے بچے حضرت عیسی ںنے معجزانہ انداز میں کہا : ” میں اللہ کا بندہ ہوں، مجھے اللہ نے کتاب عطا کی ہے اور نبی بنایا ہے “ ۔

دوسرا بچہ وہ ہے جو واقعہ جریج میں ہے ۔ جریج ایک نیک صفت بزرگ تھے۔ چند شر پسندوںنے ان کو بدنام و ذلیل کرنے کی غرض سے ایک سازش کی۔ ایک طوائف اوربدکار عورت کو اس کے لےے تیار کیا۔ اس نے ایک چرواہے سے نا جائز جسمانی تعلق قائم کیااور حاملہ ہوگئی ،جب اس خاتون نے بچہ جنم دیاتو اس کی حقیقت اور اصل ماجراپوچھا، اس نے اس جرم کا ذمہ دار جریج کو ٹھہرادیا۔ لوگوں نے جریج کے عبادت خانے کو (بغیر تحقیق کے)ڈھادیا اور ان کو خوب برابھلا کہا۔جریج نے پوچھا: آخر یہ سب کیوں کیا گیا۔ لوگوں نے وجہ بتائی،توجریج نے طوائف اور اس بچہ کو لانے کے لےے کہا۔ جریج نے پہلے اللہ سے دعا کی اور پھر اس بچے کو کچوکے لگاتے ہوے کہا : اے بچہ! سچ سچ بتا: تیرا باپ کون ہے۔؟ دودھ پیتے بچے نے فوراً جواب دیا کہ میرا باپ فلاں چرواہا ہے۔

تیسرا وہ بچہ جو اپنی ماں کی گود میں دودھ پی رہا تھا، اسی حال میں اس کے سامنے سے ایک امیر و خوشحال اور خوش لباس شخص کا گذر ہوا۔عورت نے رب سے دعا کی کہ اے اللہ! میرے بچے کو بھی اسی طرح بنانا۔ دودھ پیتا بچہ معجزاتی طورپر فوراً بول اٹھا :یااللہ! مجھے اس جیسا نہ بنانا۔“(متفق علیہ)

  اس حدیث کے آخری ٹکڑے میں عام انسانی مزاج و نفسیات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک آدمی جب کسی شخص کودنیا کے معاملہ میں اپنے سے زیادہ بہتر حالت میںدیکھتا ہے تو خود کے لےے بھی ویسا ہی ہونے کی تمنا کرتاہے۔ اس حدیث کے آخری جملے میں غور کریں۔ ایک ماں ( عام انسانوں کے مزاج کے مطابق) اپنے ننھے بچے کے لےے یہی تمنا کرتی ہے جب کہ بچہ معجزاتی طورپر بحکم الہی اللہ سے دعا کرتاہے کہ یا اللہ! مجھے ایسا مت بنائیو۔ گویا عام انسان اگر ایسا مزاج و نفسیات رکھتاہے تو اللہ کا نیک و فرماں بردار بندہ دنیا داروں، دولتمندوں اور دنیوی اعتبارسے خوشحال و صاحب اقبال جیسے لوگوں سا بننے کی نہ تو تمنا کرتا ہے اور نہ اس کے لےے دعا کرتاہے۔ یہی بات ہے جو اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوے عام مسلمانوں کو تعلیم دی۔ قرآن میں ہے :

 ” اور اپنی نگاہیں ہرگز ان چیزوں کی طرف نہ دوڑانا جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو آرائش دنیا دے رکھی ہےں تا کہ اس میں انہیں آزمالیں۔ تیرے رب کا دیا ہوا ہی بہت بہتر اور باقی رہنے والا ہے “ ( 20131)۔

 اسی مضمون کی بات آل عمران 196۔197، سورة الحجر 87۔88 اور سورة الکہف 7، وغیرہ میں آئی ہے۔ اور اسی نکتے کو قدرے اختلاف کے ساتھ حدیث میں بیان کیا گیاہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” (دنیا کے معاملہ میں) اپنے سے کمتر لوگوں کو دیکھو اور اپنے سے برتر کو مت دیکھو، اس طرح ممکن ہے کہ تم اللہ کی اس نعمت کی قدر و منزلت کوسمجھ سکو جس سے اس نے تمہیں نوازا ہے ۔“ (مسلم)

مفہوم واضح ہے کہ آدمی دنیا میں اپنے گرد و پیش رہتے ہوے دنیوی اعتبارسے خوشحال و صاحب اقبال لوگوں کو دیکھ کر رشک نہ کرے۔ آخر دنیا میں کس کس کو دیکھ کر آدمی رشک و تمنا کرتا رہے گا کیونکہ دنیا میں اللہ نے ایک سے بڑھ کر ایک مالدار اور خوشحال کو پیدا کیاہے ۔ مان لیجےے کسی کو اللہ نے غربت کی حالت سے نکال کر واقعتا اس کی تمنا کے مطابق خوشحال بنادیا۔ اب وہ اپنے سے زیادہ خوشحال کو دیکھے گا۔ اس کی لالچ کرے گا اور پھر اس لالچ میں جئیے گا۔ اس کے لےے عین ممکن ہے کہ ہرطرح کا غلط اور ناجائز کام کرے جس کا انجام دونوں جہاں کی ہلاکت و بربادی ہے۔ ایسے میں اللہ کے رسول ا نے بڑی نفسیاتی اور بہتر راہ بتائی کہ اگر آدمی اپنے سے بہتر لوگوں کو دیکھ کر رشک و تمنا کرے یا پھر رب سے شکوہ سنجی کرے، دکھ درد کا اظہار کرے تو ایسے حال میں اسے چاہےے کہ اس وقت وہ اپنے سے کمتر اور بد تر لوگوں کو دیکھے جو اس کے گھر، سماج اور آس پاس ہیں، وہ دیکھے گا کہ واقعتااللہ نے ان کو اسی دنیا میں بہت سوں سے بہتر حالت میں بنایاہے۔ اسے اگر دولت کی فراوانی حاصل نہیں ہے یا بہت زیادہ محنت کے بعد دو وقت کی روٹی نصیب ہوتی ہے تو وہ دیکھے گا کہ اس کے سامنے سینکڑوںایسے لوگ ہیں جنہیں محنت کی ہی سکت نہیں ہے ۔ اللہ نے اسے لاچار بنادیاہے۔ اور وہ بھوکے مرتے ہیں، بلاشبہ ایسے لوگوںکی کمی نہیں ہے پھر یقینا وہ محسوس کرے گا کہ واقعتا اللہ نے اسے ان جیسے لوگوں سے تو بہتر بنایاہے، پھر اسی حالت میں فطری طور پر اسے اپنے اوپر اللہ کے فضل و کرم اور نعمت کا احساس ہوگا،اور وہ اللہ کا شکر گذار اور قناعت پسند بندہ بن کر زندگی گذارے گااور سکون و مسرت کے سائے میں جئیے گا۔

  غالباً اسی حدیث کے پس منظر میں شیخ سعدیؒ اپنی شہرئہ آفاق کتاب گلستاں میں اپنا ایک واقعہ نقل کرتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ ایک شہر کی سڑک پر گرمی کے موسم میںننگے پیر چل رہا تھا۔ شدت گرمی سے پاﺅں جل رہا تھا اور سخت تکلیف ہو رہی تھی۔ ایسے میں اللہ سے شکوہ سنج ہوکر کہنے لگا کہ اے اللہ! تو نے میری حالت کیسی بنائی، اتنے پیسے بھی نہیں کہ جوتا چپل خریدکر پہن سکوں اور اس تکلیف سے بچ سکوں۔ اسی خیال میں جارہا تھا کہ ایک ایسے شخص کو دیکھا جو ایک ٹانگ سے معذور تھا اور بیساکھی کے

 سہارے ننگے پاﺅں چل رہا تھا۔ اچانک مجھے احساس ہواکہ ایک وہ بندہ ہے ،جو معذور ہے، بڑی صعوبت سے چل رہا ہے پھر بھی مسرور و شادماں ہے اور ایک میں ہوں جو محض پاﺅں میں چپل نہ ہونے کے سبب اللہ سے شکوہ سنج ہوں حالانکہ میں اس سے کہیں بہتر ہوں۔اللہ نے مجھے اس سے کہیں اچھے حال میں رکھا ہواہے۔ اس خیال کے آتے ہی میں نے اللہ سے معافی چاہی، توبہ و استغفار کیا اور پھر کبھی بھی جب مصائب و آلام سے دوچار ہواتو اپنے سے کمتر لوگوں کو دیکھ کر تسلی حاصل کیا کہ اللہ نے بہر حال مجھے بہت سوں سے بہتر بنایاہے ، چنانچہ میرے دل کو قرار و سکون آجاتا۔ “ دل اور ضمیر کو مسرت و اطمینان دلانے کا یہ بہترین اسلامی نسخہ ہے ۔

  آدمی کی بحیثیت آدمی بلاشبہ یہ ایک نفسیات ہے کہ وہ انسانی معاشرہ و سماج اور اپنے گرد و پیش میں دنیوی اعتبار سے برتر لوگوں کو دیکھتا اوران پر رشک کرتاہے۔ اس فکر و خیال کے پیچھے ایک اور چیز ہے جو اس طرح کے منفی نفسیات کو فروغ دیتی ہے اور وہ ہے آدمی کی  روز افزوں خواہش و تمنا۔ حالانکہ امید و تمنائے محض بری چیز نہیں ہے ۔ مگر تمناﺅں میں جینا اور اس میں مرنا یہ کم از کم ایک مومن کی خصلت نہیں ہوتی۔ اقبال کے لفظوں میں (مومن)

 ع اس کی امیدیں تکمیل اس کے مقاصد جلیل

 ایک مسلمان دنیا میں کم سے کم تمنا رکھتا ہے اور جو بھی رکھتا ہے وہ اعلی اور نیک تمنا رکھتا ہے ۔ یہیں سے دنیوی تمناﺅں کا استیصال ہوجاتاہے اور جو بھی تھوڑی بہت تمنا ہوتی ہے وہ نیک ہوتی ہے ۔

 تمناﺅں میں جینے والا ہر اعتبار سے خسارے میں ہوتاہے ،اولاً یہ شیطانی فکر و عمل سے دوچار ہوتاہے۔ کیونکہ قرآن میں ہے کہ ابلیس جب راندہدرگاہ ہونے لگاتو رب سے وعدہ کیا کہ میں تیرے بند وں کو تمناﺅں میں الجھا کر،ان کے دلوںمیں زیادہ سے زیادہ خواہشات پید ا کرکے انہیں گمراہ کروںگا۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ آدمی جو بھی اور جس قدر بھی تمناﺅں میں جیتا ہے وہ اسی قدر ہوس اور پھر اضطراب کا شکار ہوتا ہے۔ پھر اس کے لےے وہ شب و روز ہر ممکن غلط اور حرام کا ارتکاب کرتاہے۔ انتھک محنت کرتاہے، اس کے باوجود اسے اپنی ساری مراد حاصل ہوجائے یہ قطعاً نا ممکن ہے ۔ جس کانتیجہ شب و روزکے تناﺅ اور اضطراب کی شکل میں ظاہر ہوتاہے ،تمناﺅں کی آرزو اور ان کی تکمیل کی خاطر جینے والا دین و آخرت سے عموماً گم گشتہ اور بے راہ ہوجاتاہے وہ دنیا میں الجھ کر رہ جاتاہے۔ بقول شاعر

 تمناﺅں میں الجھا یاگیا ہوں  کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں۔

 تمناﺅں اور خواہشات کی نہ تو کوئی حد ہے اور نہ کنارہ ہے ۔ آدمی آخر کس کس کی اور کتنی تمنا کرے گا۔

   عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

 آدمی کا حال یہ ہے کہ اتنی ساری تمناﺅں اور خواہشات میں اس کی از حد مشقت کے بعد چند ہی پوری ہوتی ہیں اور اکثر ادھوری۔ تمناﺅں کی عدم تکمیل ہی کا نام فلسفیوں کے الفاظ میں دکھ ،درد اور غم ہے ۔ اس لےے کہ آپ عموماً جس درد اوردکھ کے پس منظر میں جھانکیں ‘ آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ کسی ایک چیز کی تمنا کرتے ہیں اور جب وہ پوری نہ ہوئی تو دکھ، درد او ر غم ہوتاہے ۔ اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ دنیا سکون و مسرت کی زندگی جینے کی جگہ نہیں، اخروی کامرانی کی راہ یہی ہے کہ آدمی اس دنیا میں دنیاداروں، دولتمندوں اور امیروں کو دیکھ کر نہ للچائے۔ یہ سراپا امتحان ہے ۔ اس مزاج میں کبھی بھی سکون نہیں ہے ۔ دنیا میں اللہ جس حال میں رکھے، اسی حال میں قانع رہ کر زندگی گذاریں۔ قناعت کی یہ راہ جنت سے کم مزہ نہیں دیتی ۔ بلا شبہ زندگی کی بے شمار خوشیوں کا سر نہاں دین کی اس تعلیم میں ہے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*