جمعہ : آداب ، احکام ،فضائل

 تحریر: خالد ابوصالح

ترجمہ: مبصرالرحمن قاسمی(کویت )

اللہ تعالیٰ نے اس امت کو بے شمار امتیازات سے نوازاہے ، جن میں ایک یوم جمعہ کا امت کے لیے خاص کرنا ہے،جبکہ اس دن سے اللہ تعالیٰ نے یہود ونصاری کو محروم رکھا، حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ا نے ارشاد فرمایا:”اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے والوں کو جمعہ کے دن سے محروم رکھا،یہود کے لیے ہفتہ کا دن اور نصاری کے لیے اتوار کا دن تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں برپا کیا اور جمعہ کے دن کی ہمیں ہدایت فرمائی اور جمعہ ہفتہ اور اتوار بنائے،اسی طرح یہ اقوام روز قیامت تک ہمارے تابع رہے گی،دنیا والوں میں ہم آخری ہیں اور قیامت کے دن اولین میں ہونگے، اورتمام مخلوقات سے قبل اولین کا فیصلہ کیا جائے گا“ [رواہ مسلم].

عبادت کا دن: حافظ ابن کثیررحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جمعہ کو جمعہ اس لیے کہا گیا کہ یہ لفظ جَمع سے مشتق ہے، اس دن مسلمان ہفتے میں ایک مرتبہ جمع ہوتے تھے۔“

اللہ تعالیٰ نے اس دن اپنی بندگی کے لیے جمع ہونے کا حکم دیا: ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”مومنو! جب جمعے کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے گی تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو“۔[الجمعة: 9]

ابن قیمؒ فرماتے ہیں: ”جمعہ کا دن عبادت کا دن ہے، اِس کا دنوں میں ایسا مقام ہے جیسا کہ مہینوں میں ماہِ رمضان کا، اور اس دن مقبولیت کی گھڑی کا وہی درجہ ہے جیسا کہ رمضان میں شبِ قدر کا“۔ [زاد المعاد 1/398].

جمعہ کے دن کے فضائل:

1-دنوں میں بہترین دن: حضرت ابوہریرہ ؓسے مروی ہے کہ نبی کریم نے فرمایا: ”جس دن میں سورج طلوع ہوتا ہے اس میں سب سے بہترین جمعہ کا دن ہے،اسی دن میں حضرت آدم ؑپیدا ہوئے، اسی دن جنت میں داخل کیے گئے، اور اسی دن اس سے نکالے گئے اور قیامت قائم نہیں ہوگی مگر جمعہ کے دن“ [مسلم].

2-فضائلِ جمعہ میں نمازِ جمعہ کے بھی فضائل شامل ہیں، کیونکہ نماز اسلام کے فرائض اور مسلمانوں کے جمع ہونے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، جس نے نمازکی ادائیگی میں غفلت برتی اللہ تعالیٰ اس کے قلب پر مہر لگادیتے ہیں جیسا کہ مسلم شریف کی روایت میں مذکور ہے۔

3-جمعہ کے دن ایک گھڑی ہوتی ہے اس میں دعا قبول کی جاتی ہے،حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے: نبی کریم نے فرمایا: ”اس میں ایک گھڑی ایسی ہے، جس میں کوئی مسلمان نماز پڑھے، اور اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کو عنایت فرمادیتا ہے۔“[متفق علیہ].

ابن قیم ؒنے قبولیت دعا کی گھڑی کی تعیین کے سلسلے میں اختلاف کو ذکر کرنے کے بعد حدیثِ رسول کی روشنی میں ذیل کے دو قول کو ترجیح دی ہے۔

اول: وہ گھڑی خطبہ شروع ہونے سے لے کر نماز کے ختم ہونے تک کا درمیانی وقفہ ہے۔ [مسلم].

دوم: جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد غروب آفتاب تک کی مدت، اور یہی قول راجح ہے۔ [زاد المعاد 1/389].

4- جمعہ کے دن کا صدقہ دیگر ایام کے صدقوں سے بہتر ہے۔ابن قیم ؒفرماتے ہیں: ”ہفتے کے دیگر دنوں کے مقابلے جمعہ کے دن کے صدقہ کا ویسا ہی مقام ہے جیسا کہ سارے مہینوں میں رمضان کا مقام ومرتبہ ہے۔“

 حضرت کعبؓ کی حدیث میں ہے: ”…جمعہ کے دن صدقہ دیگر ایام کے مقابلے (ثواب کے اعتبار سے) عظیم ہے۔“

5- یہ وہ دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کے لیے جنت میں تجلی فرمائیں گے،حضرت انس ؓاللہ تعالیٰ کے فرمان وَلَدَینَا مَزِید [ق:35] کے بارے میں فرماتے ہیں: اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا ہر جمعہ تجلی فرمانا ہے۔

6-جمعہ کا دن ہفتہ میں بار بار آنے والی عید ہے، حضرت عباس ؓ کابیان ہے کہ نبی کریم انے فرمایا: ”یہ عید کا دن ہے،جسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے طے کیا ہے، لہٰذا جسے جمعہ ملے وہ اس دن غسل کرے“.[ابن ماجہ ،صحیح].

7-یہ وہ دن ہے جس میں گناہوں کی معافی ہوتی ہے: نبی کریم انے ارشاد فرمایا:” جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور خوب اچھی طرح سے پاکی حاصل کرے اور تیل استعمال کرے یا گھر میں جو خوشبو میسر ہو استعمال کرے پھر نماز جمعہ کے لیے نکلے اور مسجد میں پہنچ کر دو آدمیوں کے درمیان نہ گھسے، پھر جتنی ہو سکے نفل نماز پڑھے اور جب امام خطبہ شروع کرے تو خاموش سنتا رہے تو اس کے اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔“ [البخاری].

8-جمعہ کے لیے چل کرجانے والے کے ہر قدم پر ایک برس کے روزے رکھنے اور قیام کرنے کا ثواب ملتا ہے، حضرت اوس بن اوسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ا نے ارشاد فرمایا:”جس نے جمعہ کے دن اچھی طرح غسل کیا، اور اول وقت مسجد پہنچ کر خطبہ اولی میں شریک رہا، اور امام سے قریب بیٹھ کر خاموشی سے خطبہ سنا، اس کے لیے ہر قدم پر ایک سال کے روزوں اور قیام کا ثواب ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے۔ [احمد واصحاب السنن ].

اللہ اکبر!! جمعہ کے لیے جانے پر ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزے اور قیام کا ثواب لکھاجاتاہے؟!

تو ان نعمتوں کو پانے والے کہاں ہے؟! ان عظیم لمحات کو گنوانے والے کہاں ہے؟!.

 ”یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عطا فرمائے۔اور اللہ بڑے فضل کا مالک ہے“[الحدید:21]

9- ہفتے کے پورے دنوں میں جہنم کو تپایا جاتا ہے مگر جمعہ کے دن اس عظیم دن کے اکرام وشرف میں یہ عمل بند رہتا ہے[دیکھیے: زاد المعاد 1/387].

10-جمعہ کے دن یا رات میں فوت ہونا حسن خاتمہ کی علامت ہے، کیونکہ جمعہ کے دن مرنے والا قبر کے عذاب اور فرشتوں کے سوالات سے محفوظ رہتا ہے، حضرت ابن عمرو صسے مروی ہے نبی کریم انے ارشاد فرمایا:”جو مسلمان جمعہ کے دن یا رات میں فوت ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے قبر کی آزمائش سے بچادیتے ہیں“۔ [احمد والترمذی وصححہ الالبانی]. (جاری )

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*