ماہِ محرم اور يومِ عاشوراء

ڈاکٹرمحمد اسحاق زاہد (کویت )

hmishaq68@gmail.com

ماہ ِ محرم عظےم الشان اور مبارک مہےنہ ہے ۔ ےہ ہجری سال کا پہلا مہےنہ اور حرمت والے چار مہےنوں مےں سے اےک ہے ۔ فرمانِ الہی ہے :

”بے شک مہےنوں کی گنتی اﷲ کے نزدےک لوح محفوظ مےں بارہ ہے ، اور ےہ اس دن سے ہے جب سے اﷲ نے آسمانوں اور زمےن کو پےدا کےا ہے ، ان مےں سے چار مہےنے حرمت وادب کے ہےں ، ےہی مضبوط دےن ہے ۔ لہٰذا تم ان مہےنوں مےں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔ “ [التوبة : 36 ]

ےعنی ابتدائے آفرےنش سے ہی اﷲ تعالیٰ کے نزدےک سال کے مہےنوں کی تعداد بارہ ہے ، ان مےں سے چار مہےنے (ذوالقعدة، ذوالحجہ، محرم ا ور رجبِ)حرمت والے ہےں ۔

 اﷲ تعالیٰ نے اس آےت مےں حرمت والے چار مہےنوں کا ذکر کرنے کے بعد فرماےا ہے: فلاتظلموا فیھن انفسکم ےعنی ” ان مےں (خصوصی طور پر ) تم اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو ۔ “ ظلم تو سال کے بارہ مہےنوں مےں ممنوع ہے لےکن ان چار مہےنوں کی عزت وحرمت اور ان کے تقدس کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ نے خاص طور پران مےں اپنی جانوں پر ظلم کرنے سے منع فرمادےا ۔

اس ظلم سے مراد کےا ہے ؟ اےک تو ےہ مراد ہے کہ ان مہےنوں مےں جنگ وجدال اور قتال نہ کےا کرو ۔زمانہجاہلےت مےں بھی لوگ ان چار مہےنوں کی حرمت کا خےال رکھتے تھے اور آپس کی جنگ اور لڑائی کو ان مےں روک دےا کرتے تھے ، پھر اسلام نے بھی ان کے احترام وتقدس کو برقرار رکھا اور ان مےں لڑائی کو کبےرہ گناہ قرار دےا ۔

 اور ظلم سے مراد ےہ بھی ہے کہ تم ان چار مہےنوں مےں خصوصی طور پر اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچو ، کےونکہ ان مےں نافرمانی کرنے کا گناہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے ۔سال بھر مےں عموماً اور ان چار مہےنوں مےں خصوصاً ہم سب کو اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی سے اجتناب کرنا چاہئے اور گناہوں سے اپنا دامن پاک رکھنا چاہئے، کےونکہ گناہوں اور نافرمانےوں کی وجہ سے دل زنگ آلود ہوجاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : ”مومن جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر اےک سےاہ نقطہ پڑ جاتا ہے ، پھر اگر وہ توبہ کرلےتا ہے اور اس گناہ کو چھوڑ کرمعافی مانگ لےتا ہے تو اس کے دل کو دھودےا جاتا ہے۔ اور اگر وہ گناہ پر گناہ کئے جاتا ہے تو وہ سےاہی بڑھتی چلی جاتی ہے ےہاں تک کہ اس کے دل پر چھاجاتی ہے ۔ تو ےہی وہ ( رَےن ) ” زنگ “ ہے جس کا اﷲ تعالیٰ نے قرآن مےں تذکرہ کےا ہے : کلا بل ران علی قلوبھم ما کانوا یکسبون [ الترمذی :3334: حسن صحےح ، ابن ماجة :4244 وحسنہ الÉلبانی]

ماہِ محرم کے حوالے سے یہاں دو باتوں کی وضاحت کرنا ضروری ہے ۔

(۱) ماہِ محرم اور نوحہ

 آپ کو معلوم ہے کہ ماہِ محرم مےں کئی لوگ ماتمی لباس پہن کرنوحہ اور ماتم کرتے ہےں اور سےنہ کوبی کرتے ہےں ہمارے نزدیک ےہ بھی ظلم ہی کی اےک قسم ہے جس سے منع کیا گیا ہے ۔

اِن اعمال کے متعلق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :  ”جاہلےت کے کاموں مےں سے چار کام مےری امت مےں اےسے ہونگے جنہےں وہ چھوڑنے پر تیار نہےں ہونگے : حسب (قومےت ) کی بنےاد پر فخر کرنا ، کسی کے نسب مےں طعنہ زنی کرنا ، ستاروں کے ذرےعے قسمت کے احوال معلوم کرنا ( یا ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنا ) اور نوحہ کرنا ۔ “

 نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرماےا : ”نوحہ کرنے والی عورت اگر موت سے پہلے توبہ نہےں کرتی تو قےامت کے روز اس حال مےں اٹھائی جائے گی کہ اس پر تارکول کی اےک قمےص ہوگی اورخارش کی بیماری کے لباس نے اس کے جسم کو ڈھانپ رکھا ہوگا ۔ “ [ مسلم ۔ 934]

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نوحہ وغیرہ کرنا جاہلیت کے امور میں سے ہے اور اس کا اسلام سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے نوحہ وغیرہ کرنے والے شخص سے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا :

”وہ شخص ہم مےں سے نہےں جس نے رخساروں پر طمانچے مارے ، گرےبانوں کو چاک کیا ، جاہلےت کے دعوی کے ساتھ پکارا ےعنی واوےلا کےا اور مصےبت کے وقت ہلاکت اور موت کو پکارا ۔“ [صحےح البخاری : 1294 ]

 ان احادےث سے ےہ بات ثابت ہوگئی کہ ماتم اور سےنہ کوبی کرناحرام ہے ۔ اور رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلمنے ان اعمال سے اور ان اعمال کے کرنے والوں سے براءت اور لا تعلقی کا اظہار فرماےا ہے ۔ لہٰذا تمام مسلمانوں کو اس سے باز آجانا چاہئے اور فوری طور پر ان سے سچی توبہ کرنی چاہئے ۔

ماہِ محرم میں نوحہ اور ماتم وغیرہ نواسہ رسول حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے غم میں کیا جاتاہے ۔ اور کون ہے کہ جس کو ان کی شہادت پر غم اور افسوس نہیں ہو گا ؟ یقینا ہر مسلمان کو اس پر حزن وملال ہوتا ہے لیکن جس طرح ہر صدمہ میں صبرو تحمل کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے اسی طرح حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر بھی صبر وتحمل کا ہی مظاہرہ کرنا چاہئے ۔ نہ کہ نوحہ ، ماتم اور سینہ کوبی جیسے جاہلیت والے اعمال وافعال کا ۔ اللہ رب العزت کا فرمان ہے : ”اور ہم تمھیں ضرور آزمائیں گے ، کچھ خوف و ہراس اور بھوک سے ، مال وجان اور پھلوں میں کمی سے ۔ اور آپ (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم!) صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے ، جنھیں جب کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں : ہم یقینا اللہ ہی کے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔ ایسے ہی لوگوں پر اللہ تعالی کی نوازشیں اور رحمت ہوتی ہے ۔ اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں ۔ “[البقرة : 155 ۔ 157 ]

 اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی تھے ۔ آپ کی فضیلت کیلئے یہی کافی ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے چھوٹی اور سب سے پیاری صاحبزادی حضرت فاطمہؓ کے لختِ جگر تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ سے اور اسی طرح حضرت حسنرضی اللہ عنہ سے شدید محبت تھی ،ہم بھی ان دونوں سے محبت کرتے اور اس محبت کو اپنے ایمان کا جزو سمجھتے ہیں ۔ اور ہم اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ انتہائی المناک اور افسوسناک واقعہ ہے ، لیکن ہم اس پر نوحہ ، ماتم اور سینہ کوبی کرنے کو ناجائز بلکہ حرام تصور کرتے ہیں،کیونکہ خود ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلمنے ایسے افعال کو حرام قرار دیا ہے ، جیسا کہ ہم اس سے پہلے یہ بات احادیث کی رو سے ثابت کر چکے ہیں ۔ لہذا اس واقعہ پر سوائے صبر وتحمل کے اور کوئی چارہکار نہیں

نیزیہ بات بھی یاد رہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں حضرت جبریل علیہ السلام نے پہلے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کر دیا تھا ۔

 حضرت ام سلمہ ؓ کا بیان ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے ، اس وقت حضرت حسین رضی اللہ عنہ میرے پاس تھے ، اچانک وہ ( حضرت حسینص ) رونے لگ گئے ، میں نے انہیں چھوڑا تو وہ سیدھے آپ صلی اللہ علیہ وسلمکے پاس چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جا کر بیٹھ گئے ۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا : اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا آپ ان سے محبت کرتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا : ہاں ۔ تو حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا :

”بے شک آپ کی امت انہیں عنقریب قتل کردے گی ۔ اور اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس سر زمین کی مٹی دکھلا دوں جس پر انہیں قتل کیا جائے گا ۔ پھر انہوں نے اس کی مٹی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھلائی ۔ اور یہ وہ سرزمین تھی جسے کربلاءکہا جاتا ہے “ [ اخرجہ احمد 2/782 : 1391]

چنانچہ ہم حضرت حسینرضی اللہ عنہ کی شہادت کو اللہ تعالی کی قضا وقدر سمجھتے ہیں جیسا کہ حضرت حسینرضی اللہ عنہ کے والد حضرت علیرضی اللہ عنہبھی بقضاءوقدرِ الہی شہید ہوئے ۔ اور آپ اس وقت شہید ہوئے جب آپ ۰۴ ھ میں سترہ رمضان بروزجمعة المبارک فجر کی نماز ادا کرنے کیلئے جا رہے تھے ! اسی طرح ان سے پہلے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی ظالموں نے انتہائی المناک انداز میں شہید کیا ۔ اور آپ ماہِ ذو الحجہ ۶۳ ھ میں ایامِ تشریق کے دوران شہیدہوئے ۔ اور ان سے پہلے حضرت عمررضی اللہ عنہ بھی اس وقت شہید ہوئے جب آپ فجر کی نماز میں قرآن مجید پڑھ رہے تھے ۔ اور یہ سب یقینی طور پر حضرت حسین صسے افضل تھے اور ان کی شہادت کے واقعات زیادہ المناک اور افسوسناک ہیں ، لیکن ایسے تمام واقعات پر ہم سوائے Êنا للہ وÊنا Êلیہ راجعون کے اور کیا کہہ سکتے ہیں !

(۲) ماہِ محرم اور صحابہ کرام ث

خصوصا ًماہ محرم مےں اےک اور ظلم ےہ ہوتا ہے کہ نبی کرےم صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگردان گرامی ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) کو بُرا بھلا کہا جاتا اور انہےں سب وشتم کیا جاتا ہے۔ حالانکہ صحابہ کرام ث کو برا بھلا کہنا اور گالےاں دےنا حرام ہے۔

صحابہ کرامث کے متعلق اہل سنت والجماعت کا عقےدہ بےان کرتے ہوئے امام طحاوی رحمہ اﷲ کہتے ہےں :

” ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے محبت کرتے ہےں اور ان مےں سے کسی اےک صحابی کی محبت مےں غلو نہےں کرتے اور نہ ہی ان مےں سے کسی صحابی سے براءت کا اعلان کرتے ہےں ۔ اور ہم ہر اےسے شخص سے بغض رکھتے ہےں جو صحابہ کرامرضی اللہ عنہمکے ساتھ بغض رکھتا ہو اور انہےں خےر کے ساتھ ذکر نہ کرتا ہو ۔ ہم انہےں خےر کے ساتھ ہی ذکر کرتے ہےں ۔ اور ان کی محبت کو عےن دےن ، عےن اےمان اور عےن احسان سمجھتے ہیں، جبکہ ان سے بغض رکھنا کفر،نفاق اور سرکشی تصور کرتے ہیں۔ “ [ شرح العقےدة الطحاوےة : 467]

قرآن مجےد مےں اﷲ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فضےلت ذکر کرنے کے بعد کہا ہے کہ کفار کو صحابہ کرامرضی اللہ عنہم سے چڑ آتی ہے اور وہ ان کے بارے مےں غضبناک ہوتے ہےں ، گوےا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہمسے چڑ اور بغض وعناد رکھنا کافروں کا شےوا ہے نہ کہ مسلمانوں کا۔

 فر مان الہی ہے : ” محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اﷲ کے رسول ہےں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہےں وہ کافروں پر سخت اور آپس مےں رحمدل ہےں۔ آپ انہےں دےکھتے ہےں کہ وہ رکوع اور سجدے کررہے ہےں، اﷲ کے فضل اور رضامندی کی جستجو مےں ہےں، سجدوں کے اثر سے ان کی نشانی ان کی پےشانےوں پر عےاں ہے ، ان کی ےہی مثال تورات مےں ہے اور انجےل مےں بھی ان کی ےہی مثال بےان کی گئی ہے ۔ اس کھےتی کی مانند جس نے پہلے اپنی کونپل نکالی ، پھر اسے سہارا دےا تو وہ موٹی ہوگئی، پھر اپنے تنے پر سےدھی کھڑی ہوگئی ، وہ کھےت اب کاشتکاروں کو خوش کررہا ہے ( اﷲ نے اےسا اس لیے کےا ہے) تاکہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑ آئے ۔ ان مےں سے جو اےمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کےا ان سے اﷲ نے مغفرت اور اجر عظےم کا وعدہ کےا ہے ۔ “ [ الفتح : 29]

اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گالےاں دےنے سے منع فرماےا ہے۔آپ کا ارشاد گرامی ہے : [ البخاری ۔ : 3673، مسلم ۔ 2540 ]

 ” مےرے ساتھےوں کو گالےاں مت دےنا ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ مےں مےری جان ہے ! اگر تم مےں سے کوئی شخص اُحد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو وہ نہ ان کے اےک مُدّ کے برابر ہوسکتا ہے اور نہ آدھے مُدّ کے برابر ۔ “

اور حضرت عبد اﷲ بن عمرص کہا کرتے تھے : [ ابن ماجة ۔ 162]

 ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو برا بھلا نہ کہناکےونکہ اےک گھڑی کے لیے ان کا ( رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ) کھڑا ہونا تمہاری پوری زندگی کے عمل سے بہتر ہے۔ “

اور حضرت عبد اﷲ بن عباسصےوںکہا کرتے تھے :

[ رواہ ابن بطّة ، وصححہ الالبانی فی تخرےج شرح العقےدة الطحاوےة : 469 ]

 ” تم محمد صلی اللہ علیہ وسلمکے اصحاب کو گالےاں نہ دےناکےونکہ ان مےں سے اےک صحابی کا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ اےک گھڑی کے لیے کھڑا ہونا تم مےں سے اےک شخص کے چالےس سال کے عمل سے بہتر ہے ۔ “

نفلی روزوںکا اہتمام :

 ہمےں اﷲ کی نافرمانی سے اجتناب کے ساتھ ساتھ اس ماہ کے دوران عمل صالح زےادہ سے زےادہ کرنا چاہئے ، خاص طور پر نفلی روزے زےادہ رکھنے چاہیئیں ، کےونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلمکا ارشاد گرامی ہے [مسلم :1136]

 ” رمضان کے بعد سب سے افضل روزے ماہ محرم کے روزے ہےں جو کہ اﷲ کا مہےنہ ہے ۔ اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے۔“

خاص طور پر ےومِ عاشوراء’ دس محرم ‘ کا روزہ ضرور رکھنا چاہئے ، کےونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلمجب تک مکہ مکرمہ مےں رہے مسلسل اس دن کا روزہ رکھتے رہے۔ پھر آپ جب مدےنہ منورہ تشرےف لائے تو وہاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کا روزہ رکھتے تھے اور صحابہ کرامرضی اللہ عنہمکو اس کا حکم دےا کرتے تھے۔ اس کے بعد جب رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرماےا : ” جو چاہے اس دن کا روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔“

۹عن ابن عباس رضی اللہ عنہما قال : مَا َ رَمَضَانَ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہکہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ کسی ایک دن کو دوسرے دنوں پر فوقیت دیتے ہوئے اس کے روزے کا قصد کرتے ہوں سوائے یومِ عاشوراءکے اور سوائے ماہِ رمضان کے۔ [ البخاری ۔ 2006 ، مسلم : 1132 ]

یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے علاوہ باقی دنوں میں سے یومِ عاشوراءکے روزے کا جس قدر اہتمام فرماتے اتنا کسی اور دن کا اہتمام نہیں فرماتے تھے ۔

۹حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما کہتے ہےں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلمجب مدےنہ منورہ مےں آئے تو آپ نے دےکھا کہ ےہودی ےوم عاشوراءکا روزہ رکھتے ہےں ، آپ نے ان سے پوچھا : تم اس دن کا روزہ کےوں رکھتے ہو ؟ انہوں نے کہا : ےہ اےک عظےم دن ہے ، اس مےں اﷲ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات دی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کےا ۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس دن کا روزہ شکرانے کے طور پر رکھا ۔ اس لیے ہم بھی اس دن کا روزہ رکھتے ہےں ۔ اس پر آپ نے فرماےا :

” تب تو ہم زےادہ حق رکھتے ہےں اور تمہاری نسبت ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زےادہ قرےب ہےں “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے خود بھی اس دن کا روزہ رکھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہمکو بھی اس کا حکم دےا ۔

     [ البخاری ۔ 2004 ، مسلم :113]

یومِ عاشوراءکی اہمیت قدیم زمانے میں

قدیم زمانے میں یومِ عاشوراءکی اہمیت کیا تھی ؟ اس بارے میں اگرچہ عام لوگوں میں بہت ساری باتیں مشہور ہیں لیکن ہمیں صحیح روایات سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے اس دن حضرت موسی علیہ السلام اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو نجات دی اور فرعون اور اس کے لشکر کو غرقِ آب فرمایا۔ اسی وجہ سے یہود اس دن کا روزہ رکھتے تھے۔پھر رسول اللہ علیہ السلام نے بھی مسلمانوں کو اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا،جیسا کہ حضرت ابن عباس صکی روایت میں ہے ، جسے ہم نے ابھی ذکر کیا ہے باقی جہاں تک قصہنجاتِ موسی علیہ السلام وبنی اسرائیل اور غرقِ فرعون کا تعلق ہے تو وہ قرآن مجید میں تفصیلا ً موجود ہے ۔

 اسی طرح صحیح روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جاہلیت کے دور میں بھی لوگ اس دن کی تعظیم کرتے تھے۔

اس کے علاوہ اور کوئی بات صحیح سند سے ثابت نہیں ہے

تنبیہ : مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ ” یوم عاشوراء وہ دن ہے جس میں کشتی نوح علیہ السلام جودی پہاڑ پر جا لگی تھی چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام نے شکرانے کے طور پر اس دن کا روزہ رکھا ۔ “ لیکن اس روایت کی سند میں ایک راوی عبد الصمد بن حبیب ہے جو کہ ضعیف ہے ۔اور دوسرا راوی شبیل بن عوف ہے جو کہ مجہول ہے [ مسند احمد ج 14 ص 335 : 8717]

اسی طرح طبرانی کی ایک روایت میں ہے کہ ”یوم عاشوراءکو اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول کی ۔ اسی طرح یونس علیہ السلام کے شہر والوںپر بھی اللہ تعالی نے اس دن خصوصی توجہ فرمائی اور اسی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش ہوئی ۔ “

لیکن اس کی سند کے متعلق الحافظ الہیثمی کا کہنا ہے کہ اس میں ایک راوی عبد الغفور ہے جو کہ متروک ہے [مجمع الزوائد :ج 3 ص 188]

ےومِ عاشوراءکے روزے کی فضےلت

حضرت ابو قتادة رضی اللہ عنہکہتے ہےں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے ےومِ عاشوراءکے روزے کے متعلق سوال کےا گےا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرماےا : (ےُکَفِّرُ السَّنَةَ المَاضِےَةَ ) [ مسلم : رقم الحدےث ۔1162]

 ےعنی ”پچھلے ایک سال کے گناہوں کو مٹادےتا ہے ۔“

اس حدےث کے پےش نظر ہر مسلمان کو ےومِ عاشوراءکے روزے کا اہتمام کرنا چاہئے اور اتنی بڑی فضےلت حاصل کرنے کا موقعہ ملے تو اسے ضائع نہےں کرنا چاہئے۔

لےکن افسوس صد افسوس ! اس دور مےں معےار تبدےل ہوگےا ہے ، لوگوں نے اس دن کے حوالے سے کےا کےا بدعات اےجاد کرلی ہےں ، سنت بدعت بن گئی ہے اور بدعت کو سنت تصور کےا جانے لگا ہے ! بجائے اس کے کہ اس دن کا روزہ رکھا جاتا اور پچھلے اےک سال کے گناہ معاف کروانے کا جو سنہری موقعہ ملا تھا اس سے فائدہ اٹھاےا جاتا ، اس کے بجائے لوگوں نے ےہ دن کھانے پےنے کا دن تصور کرلےا ہے ۔ لہٰذا خوب کھانے پےنے کا اہتمام کےا جاتا ہے ، خصوصی ڈشےں تےار کی جاتی ہےں، پانی اور دودھ کی سبےلےں لگائی جاتی ہےں اور سنت ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلمکا مذاق اڑاےا جاتا ہے نہیں معلوم یہ حضرت حسین صکی شہادت کا غم ہے یا ان کی شہادت کا جشن ہے جو منایا جاتا ہے !

صومِ عاشوراءمیں یہود کی مخالفت:

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمکو کسی امر میں اللہ کی طرف سے کوئی حکم نہ دیا جاتا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اہلِ کتاب کی موافقت کو پسند فرماتے ۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں حضرت ابن عباسرضی اللہ عنہسے یہ بات ثابت ہے ۔[البخاری ۔ حدیث 5917 ، نیز دیکھئے : اقتضاءالصراط المستقیم ج 1ص 466]

یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اہل کتاب کی مخالفت کرنے اور ان کی موافقت نہ کرنے کا حکم دیا گیا ۔

 چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلمکو جب یہ بتلایا گیا کہ یہود ونصاری بھی دس محرم کی تعظیم کرتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے اس میں ان کی مخالفت کرنے کا عزم کر لیا ۔

حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ سے رواےت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے عاشوراءکا روزہ رکھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کا حکم دےا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلاےا کہ اس دن کی تو ےہود ونصاریٰ بھی تعظےم کرتے ہےں ! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرماےا” جب آئندہ سال آئے گا تو Êن شاءاﷲ ہم نو محرم کا روزہ بھی رکھےں گے۔ “ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہےں :

” اگلا سال آنے سے پہلے ہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے ۔“ [ مسلم :1134]

صومِ عاشوراءمیں یہود ونصاری کی مخالفت کیسے ہو گی ؟ اس حدےث سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ صومِ عاشوراءمیں ےہود ونصاریٰ کی مخالفت کرنے کیلئے دس محرم کے روزے کے ساتھ نو محرم کا روزہ بھی رکھنا چاہئے ، اور اسی کے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہقائل تھے ، جیسا کہ ان کا قول ہے:

” یہود کی مخالفت کرو ، اور نو اور دس محرم کا روزہ رکھو ۔ “[ مصنف عبد الرزاق ۔ 7839 ، والبیہقی ج 4 ص 287 وہو باسناد صحیح]

 

اس کے علاوہ حضرت ابن عباس صکی ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” تم یومِ عاشوراءکا روزہ رکھو اور اس میں یہود کی مخالفت کرو ۔ اور اس سے ایک دن پہلے یا اس کے ایک دن بعد کا روزہ رکھو ۔ “[ مسند احمد ج 1ص 241۔ قال احمد شاکر : Êسنادہ صحیح ]

اسی حدیث کے پیشِ نظر بعض اہلِ علم کا کہنا ہے کہ جو شخص نو محرم کا روزہ نہ رکھ سکے وہ دس محرم کا روزہ رکھنے کے بعدیہودونصاری کی مخالفت کرنے کیلئے گیارہ محرم کا روزہ رکھ لے ۔

آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حرمت والے مہینوں کا احترام کرنے اور ان میں اور اسی طرح باقی مہینوں میں اپنی نافرمانی سے بچنے کی توفیق دے ۔ آمین

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*