نئے سال کا استقبال

مولانا مقصود الحسن فیضی (سعودی عرب)

 عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ا: کن فی الدنیا کا¿نک غریب اوعابر سبیل وکان ابن عمر یقول : اذا امسیتَ فلاتنتظرِ الصباحَ واذااصبحتَ فلاتنتظرِ المسائَ وخُذمِنصحتکَ لمرضکَ ومِنحیاتکَ لموتکَ۔ (صحیح البخاری: 6416 الرقاقµ)

ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عمرؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ انے میرا کندھا پکڑا اور فرمایا : ”تم دنیا میں اس طرح رہو گویا پردیسی ہو یا راہ چلتے مسافر ۔یہ ارشاد نبوی بیان کرنے کے بعد ابن عمرؓ فرمایا کرتے تھے :جب تم شام کرو تو صبح کے منتظر نہ رہو اور جب صبح کرو تو شام کے منتظر نہ رہو اور اپنی تندرستی کے زمانے میں اپنی بیماری کیلئے اور اپنی زندگی میں موت کیلئے تیاری کرلو-“( صحیح البخاری)

 تشریح :دنیا ایک مسافر خانہ ہے یہاں ہر شخص کی حیثیت پردیسی اور راہ چلتے مسافر جیسی ہے ، یہاں کسی چیز کو دوام حاصل نہیں ہے ، دنیا کی زندگی گھنٹوں ،دنوں ، مہینوں اور سالوں میں تبدیل ہوتی رہتی ہے حتی کہ بتقدیر الہی اس کا آخری مرحلہ پہنچ جاتا ہے لہذا ہر شخص کو اپنی زندگی و صحت کو غنیمت سمجھنا چاہئے، دنیا سے اپنا تعلق اتنا ہی جوڑے رکھنا چاہئے جتنا ضروری ہو ، موت کی آمد سے قبل توبہ واستغفار کرکے اسکے لیے تیار رہنا چا ہئے ، کیونکہ اس دنیا میں انسان کتنا ہی دن رہ لے ایک نہ ایک دن اسے رخصت ہونا ہے ، یہی چیز ہے جس کی طرف زیر بحث حدیث میں انسانوں کو متوجہ کیا گیا ہے ، اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد امام نوویؒ لکھتے ہیں :

”علماءنے اس حدیث کی شرح اور اسکے معنی یہ بیان کیے ہیں کہ تم دنیا کی طرف زیادہ مت جھکو ، نہ اسے مستقل وطن بناونہ اپنے جی میں زیادہ دیر دنیا میں رہنے اور اس پر زیادہ توجہ دینے کا پروگرام بناواس سے صرف اتنا ہی تعلق رکھو جتنا کہ مسافر اجنبی دیس سے تعلق رکھتا ہے ، اور دنیا میں زیادہ مشغول نہ ہو، اسی طرح جیسے ایک مسافر جو اپنے گھر جانے کا ارادہ رکھتا ہو دیار غیر سے زیادہ وابستگی نہیں رکھتا ۔“ (ریاض الصالحین ص 42 )

راوی حدیث حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس نبوی وصیت کو اچھی طرح سے سمجھا اور علم و عمل کے لحاظ سے اس کا اچھا ثبوت پیش کیا اور اس سے تین اہم درس و عبرت مستنبط کئے۔

{1} عمل میں تاخیر نہیں : اگر شام کا وقت مل گیا تو صبح ہونے کا انتظار نہ کرو ،یعنی جس عمل کو شام میں کرنا ہے اسے صبح کے وقت کیلئے نہ ٹال رکھو بلکہ ہر کام وقت پر اداکرو اسے کل پر نہ ٹالو یعنی صبح کا عمل اسکے وقت میں اور شام کا عمل اسکے وقت میں اور آج کا عمل آج ہی کر لینا چاہئے اس میںتا خیر اور ٹال مٹول سے کام نہیں لینا چاہئے ، یا اسکا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شام کا وقت مل گیا تو یہ نہ سمجھو کہ صبح تک لازماً زندہ رہوگے اور اگر بفضل الہی صبح کا وقت مل گیا تو کوئی ضروری نہیں کہ انسان اس دن شام بھی کر پائے گا کیونکہ موت کا وقت متعین ہے اور وہ اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہے ۔

 {2}صحت ہزار نعمت ہے : اپنی تند رستی کے زمانے میں اپنی بیماری کے ایام کیلئے تیاری کرلو ، جب تک انسان صحت مند رہتا ہے اسکے جسم میں چستی ، مزاج میں نشاط اور عمل کی طرف طبیعت کا میلان رہتا ہے اور بآسانی نیک عمل کر کے نیکیوں کاخزینہ جمع کرسکتا ہے لیکن وہی جسم جب بیمار ہو جاتا ہے تو جسم میں سستی ،طبیعت میں الجھن اور مزاج میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے پھر انسان خواہش کے باوجود نیک عمل نہیں کرپاتا لہذا جب تک صحت ہے انسان کو چا ہئے کہ جو کچھ عمل خیر میسر آئے اسے حسب استطاعت کرلے تاکہ بیماری کے زمانے میں بھی اسکے نامہ اعمال میں نیکیاں جمع ہوتی رہیں۔

 {3} موت کے بعد اعمال کا سلسلہ منقطع : موت سے قبل زندگی ہی میں موت کے بعد کے لیے عمل کرلو ، کیونکہ جب انسان مرجا تا ہے تو اسکے اعمال کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے اور جب تک زندہ ہے وہ عمل پر قادر ہے لہذا اسے چا ہئے کہ زندگی کی گھڑیوں کو غنیمت سمجھتے ہوے موت کے بعد کی زندگی کے لیے تیاری کرلے اوروقت ضائع نہ کرے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*