ذکر الٰہی سے غفلت کا نتیجہ

 شیخ عبدالرحمن السعدی ؒ

   ترجمہ :”اور جو کوئی اللہ کی یاد سے آنکھیں بند کر لے (یعنی تغافل کرے) ہم اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں تووہ اس کا ساتھی ہو جاتا ہے۔ ۶۳۔ اور یہ (شیطان) ان کو راستے سے روکتے رہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ سیدھے راستے پر ہیں۔ ۷۳۔ یہاں تک کہ جب ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا کہ اے کاش! مجھ میں اور تجھ میں مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا تو بُرا ساتھی ہے۔ “  (سورة زخرف 38(

تشریح : جوکوئی اللہ کے ذکر سے روگردانی کرتا ہے اللہ تعالی اس کے لیے سخت سزا کی خبردیتے ہوئے فرماتا ہے وَمَن رحمن کے ذکر سے ،جوقرآن عظیم ہے جو سب سے بڑی رحمت ہے جس کے ذریعے سے اللہ رحمن نے اپنے بندوںپر رحم کیا ہے ،جو کوئی اس کو قبول کرلے وہ بہترین عطیے کو قبول کرتا ہے اوروہ سب سے بڑے مطلوب ومقصود کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے اورجو کوئی اس رحمت سے روگردانی کرتے ہوئے اسے ٹھکرادے وہ خائب وخاسر ہوتا ہے، اس کے بعد وہ ہمیشہ کے لیے سعادت سے محروم ہوجاتا ہے ۔ اللہ تعالی اس پر ایک سرکش شیطان مسلط کردیتا ہے جو اس کے ساتھ رہتا ہے،وہ اس کے ساتھ جھوٹے وعدے کرتا ہے ،اسے امیدیں دلاتا ہے اوراسے گناہوں پر ابھارتا ہے ۔ ﴿ یعنی وہ انہیں صراط مستقیم اوردین قویم سے روکتے ہیں﴾ ﴿شیطان کے باطل کو مزین کرنے ،اسے خوبصورت بناکر پیش کرنے اورحق سے اعراض کے باعث وہ اپنے آپ کو ہدایت یافتہ سمجھتے ہیں ۔ پس دونوںبرائیاں اکٹھی ہوگئیں ۔

اگریہ کہاجائے کہ آیا اس شخص کے لیے کوئی عذر ہے جو اپنے آپ کو ہدایت یافتہ سمجھتا ہے حالانکہ وہ ہدایت یافتہ نہیں ہے ؟ تواس کا جواب ہے کہ اس شخص اور اس قسم کے دیگر لوگوںکے لیے کوئی عذرنہیں جن کی جہالت کا مصدر اللہ تعالی کے ذکر سے روگردانی ہے،باجودیکہ وہ ہدایت حاصل کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ۔ انہوںنے قدرت رکھنے کے باوجود ہدایت سے منہ موڑا اورباطل کی طرف راغب ہوئے،اس لیے یہ گناہ ان کا گناہ اوریہ جرم ان کا جرم ہے ۔

اللہ تعالی کے ذکر سے روگردانی کرنے والے کا اپنے ساتھی کی معیت میں یہ حال تو دنیا کے اندر ہے اوروہ گمراہی ،بدراہی اورحقائق کو بدلنے کا جرم ہے ۔ رہا اس کا وہ حال جب وہ اللہ کے حضور حاضر ہوگا تو وہ بدترین حال ہوگا ، ندامت حسرت اور حزن وملال کا حال ہوگا جو اس کی مصیبت کی تلافی کرسکے گا ،نہ اس کے ساتھی سے نجات دلاسکے گا ۔ اسی لیے اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿حتی کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا توکہے گا : اے کاش!مجھ میں اورتجھ میں مشرق ومغرب کا فاصلہ ہوتا،پس تو برا ساتھی ہے۔“ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ﴾ (28) (29)﴿(سورة الفرقان)”اوراس روز جب ظالم اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اورحسرت سے کہے گا : کاش! میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیاہوتا۔ ہائے میری ہلاکت! کاش! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا ،ذکر یعنی قرآن کے آجانے کے بعد اس نے مجھے گمراہ کرڈالا اورشیطان تو انسان کو چھوڑ کر الگ ہوجاتا ہے ۔“

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*