دل سے دل تک

ماہنامہ مصباح نومبر2012ءکا شمارہ آپ کے ہاتھوںمیں ہے ،اس کا پہلا شمارہ نومبر 2008 ءمیں منظرعام پرآیا تھا جب سے ہرماہ مسلسل پابندی کے ساتھ شائع ہورہا ہے ،اس طرح اب تک ہم نے مصباح کے4 سال مکمل کرلیے ہیں، چارسال کی اس طویل مسافت میں ایک ہی مقصد ہمارے پیش نظررہا جس کااعادہ ہم نے باربار اپنے اداریہ میں کیاہے کہ قوم مسلم کے اندر اپنی ذات کا عرفان آجائے، وہ اپنے مقام اورمنصب کوپہچان لے، اسکے اندرآفاقی شعور پیدا ہوجائے، اس کے اندر یہ احساس بیدار ہوجائے کہ وہ لینے والی قوم نہیں بلکہ دینے والی قوم ہے کہ اس دھرتی پر مسلمانوںکا وجود پوری انسانیت کے لیے نیک فال ہے،کیونکہ انسانیت کی بقا اور تحفظ کے لیے جس نسخہ کیمیاکی ضرورت ہے وہ مسلمانوںہی کے پاس ہے۔ ہر دور میں مسلمانوں نے بحسن وخوبی اپنی ذمہ داری نبھائی ، چنانچہ وہ جہاں گئے وہاں کے لوگ ان کے ہمنوا بنتے گئے ،ان کے اخلاق ، ان کے کردار اور ان کے قول وفعل سے متاثر ہوئے بغیرنہ رہے ،اور یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ جس دین کے ماننے والے ایسی خوبیوںکے حامل ہوں وہ دین آگ اورپانی کے جیسے ہر انسان کی میراث ہے ۔

اس رسالے کے توسط سے جب ہم اپنی کوششوںکا جائزہ لیتے ہیں تو ہم یہ کہنے میں بجاطورپرفخر محسوس کرتے ہیں کہ ہم نے بہت حدتک اپنی قوم کی ذہن سازی کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے ،کیا یہ کم ہے کہ رسالہ کے قارئین کویت کے کونے کونے میں پائے جاتے ہیںجوتازہ شمارہ کے لیے بے تاب رہتے ہیں،دیگرگلف کنٹریز اور برصغیرپاک وہند کے لوگ نیٹ پراس کا مطالعہ کررہے ہیں،ہمیںبیرون ممالک کے مختلف اداروں سے رسالے کے لیے خطوط موصول ہوئے ہیںلیکن اب تک ہم نے رسمی طورپر کویت سے باہربھیجناشروع نہیں کیاہے،اس لیے ہمیںان سے معذرت کرنی پڑی،لیکن آئندہ کے لیے ہماراعزم ضرورہے کہ پاک وہند کے مرکزی اداروں کورسالہ بھیجاجائے، کویت میں دس ہزار کی تعداد میںچھپنے والے اس رسالے کو تقسیم کرنے کے لیے ہمارے پاس ایسے افراد تیار ہوچکے ہیں جورسالہ آنے سے پہلے کئی بار فون کرچکے ہوتے ہیں، پھر وہ اسے اپنے کندھوں پرلادکر آپ تک پہنچاتے ہیں،وہ اچھے تعلیم یافتہ ہیں،وہ خوشحال اورفارغ البال ہیں،وہ رضاکارانہ خدمت انجام دیتے ہیں،ان کواس کام پرکوئی معاوضہ نہیں ملتا، لیکن دین اورقوم کی خدمت کے جذبہ سے یہ کام کرنے میں لگے ہوئے ہیں ،ہم نے ایسے قلمکاران کی بھی سہولت حاصل کرلی ہے جوہمہ وقت مفت خدمت کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں،اپنی بے شمارمصروفیات کے باوجودہمیں پابندی کے ساتھ اپنی نگارشات روانہ کرتے رہتے ہیں،ہمارے پاس کتنے ایسے نوجوان ہیںجودعوت کی راہ میں وقت لگا رہے ہیں، تعطیل کے ایام میں دعوتی سرگرمیوںمیں لگے ہوتے ہیں، ایسے نوجوانوں کو دیکھ کرہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں ۔ہم مالک عرش بریں کے حضور اپنے ان تمام احباب کے لیے دعا گو ہیں کہ ا لہ العالمین توان سب کی قربانیوںکو اپنی رضا کے لیے قبول فرمالے ،ان کی لغزشوںکو معاف فرمادے ،ان کی روزی میں برکت عطا فرما،ان کی اولاد کونیک اورصالح بنا اورانہیں ہمیشہ صحتباب اور شادکام رکھ ،آمین ۔

یہ تو ہماری کاوشوں کا روشن پہلو تھا لیکن ابھی بھی ہمارے پیچھے ایک بہت بڑی جماعت ہے جو اپنی خول میں بندہے،ہم کویت جیسے خوشحال ملک میں برسرروزگار ہیں ، ہماری مالی حالت بحیثیت مجموعی پہلے سے بہت اچھی ہے ،ہمارے بچے آرام وآسائش سے جی رہے ہیں ،لیکن سوال یہ ہے کہ ہم نے اسلام کی اس عظیم نعمت سے اپنی ذات کو کس حدتک فائدہ پہنچا یااور ہم سے ہماری قوم اورمعاشرے کو کیاملا ؟ افسوس کہ آج بھی ہماری اکثریت کا حال یہ ہے کہ وہ صبح سویرے اٹھتے ہیں،ڈیوٹی پر جاتے ہیں،ڈیوٹی سے آنے کے بعد ضروری تقاضے پوری کرتے ہیں، ساتھیوں کے ساتھ ٹائم پاس کرتے ہیں یا ٹیلیویژن کے سکرین پر نشرہونے والے پروگرامز کامشاہدہ کرتے ہوئے محوخواب ہوجاتے ہیں۔تقریباً یہی ہمارے روزانہ کا معمول بن چکا ہے،دس سال پہلے ہماری جو سوچ وفکرتھی تاہنوز وہی سوچ برقرار ہے ، ہمارے معاملات جوںکا توں ہیں ،نہ ہم نے اپنی شخصیت سازی پر دھیان دیا اور نہ قوم کے مفاد کے بارے میں سوچا ۔حالانکہ یہ بڑے عیب کی بات ہے اورایک مسلمان کی شان کے خلاف ہے کہ مسلمان اپنی ذات کے لیے پیدا نہیں ہوابلکہ اسے انسانیت کی خاطر وجودمیں لایا گیا ہے ،مسلمان حرکت ، جوش ، لگن اورشعورکا نام ہے ،آج باطل ادیان ومذاہب کے علمبردار چست اور سرگرم ہیں اورہم سست اور تن آسان بنے ہوئے ہیں،دشمن متحد ہوکر اسلام کے خلاف منظم پلاننگ کررہا ہے اورہم ہیں کہ خواب خرگوش میں پڑے ہوئے ہیں ، ہم آئے دن انتشار کا شکارہوتے جارہے ہیں، ایک دوسرے کو مطعون کرنے میں لگے ہوئے ہیں،قرآن اورحدیث کو اپنا دستورحیات بناکر ایک پلیٹ فارم پرجمع ہونے کے لیے تیار نہیں،کتنے الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا اسلام کے خلاف زہرافشانی کے لیے وقف ہیں،اورہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہیں، سوال یہ ہے کہ آخر ہماری ایسی حالت کب تک رہے گی ؟کب ہمیں اپنی ذات کا عرفان حاصل ہوگا ؟کب ہم آفاقی سوچ کے علمبردار بنیں گے ؟ اس لیے موجودہ حالات میں ہمیں اپنا احتساب کرنا ہے اورفوری قدم اٹھاناہے کہ اب انتظار کاموقع نہیں رہا ۔

صفات عالم محمدزبیرتیمی

safatalam12@yahoo.co.in

 نومبر 2012 کا تازہ شمارہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*