ولادت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل دنیا کی حالت (2)

صفات عالم محمد زبير تيمي

محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ زندگی پرروشنی ڈالنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم آپ کو اس دورمیں لے چلیں جس میں   محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیداہوئے تھے ، اوراس وقت عرب کی اور پھر دنیا کی کیا حالت تھی اس کا ایک ہلکا سا خاکہ آپ کے سامنے رکھیں، تاکہ آپ کو اندازہ ہوسکے کہ دنیاکس حالت کو پہنچ چکی تھی اورپھرنبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا میں کیسی تبدیلی آئی ؟۔

ایران اپنی ترقی کے باوجود زرتشت کو خدا کا درجہ دے رکھا تھا، وہ بھلائی کا پیدا کرنے والا یزداں کو مانتے تھے اورب±رائی کا پیداکرنے والا اہرمن کو سمجھتے تھے اوران کی پوجا کرتے تھے ، ان کے ہاں آگ کی پوجا بھی ہوتی تھی اوروہ چاند ستاروں کے سامنے بھی جھکتے تھے۔ روم ویونان بہت بڑی تہذیب کے مالک تھے،اِسی ملک میں سقراط ،بقراط،افلاطون اورارسطو پیدا ہو چکے تھے لیکن یہ بھی ایران سے کچھ کم نہ تھے ،اپنے بچوں تک کو بیچ ڈالتے اورغلام بنالیتے تھے۔ عیسائی دنیانے اللہ کی ذات کو تین حصوںمیں بانٹ رکھا تھا، راہبوں اور راہباوں کے بیچ شرمناک حرکتیںتک ہوتی تھیں۔ یہودیوںکے پیشوا مال کے لالچی بن بیٹھے تھے ، خود کو رب کے درجہ پر بٹھا لیاتھا اورلوگوں پراپنی مرضی چلاتے تھے۔ ہندوستان میں جتنے کنکر اتنے شنکر کی بات تھی ،یہ ہرچیز کی پوجا کرتے تھے ، یہاں ستاروں، سیاروں، درختوں، جانوروں، سانپوں، پتھروں اور شرمگاہوں تک کی پوجا ہوتی تھی۔ عرب ہر اعتبار سے پستی کے شکارتھے ،دینی حالت کا جائزہ لیں تو عرب ویسے تو اسماعیل ں کے خاندان سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ابراہیمی دین کے ماننے والے تھے ،ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے ،لیکن یہ طریقہ زیادہ دنوں تک نہ چل سکا ،بنوخزاعہ کا ایک سردارجس کا نام عمروبن لحی تھا ، اس نے عرب میںبت پرستی کو عام کردیا۔ایسا کیسے ہوا ؟ وہ ایک بار ملک شام گیا، وہاں اس نے دیکھا کہ لوگ اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے بتوں کی پوجا کرتے ہیں۔ شروع میں تو اسے عجیب سا لگا ،لیکن ا س کے ذہن میں شیطان نے یہ بات ڈالی کہ شام پیغمبروں کی زمین ہے ، یہاں کی روایت غلط کیسے ہوسکتی ہے ،اس طرح وہ جب شام سے لوٹا تو اپنے ساتھ ہبل بت بھی لے کر آیا۔ اسے خانہ کعبہ میں نصب کردیا اورلوگوں کو اس کی پوجا کی طرف بلانے لگا۔ ظاہر پرستوں نے اس کی بات مان لی اورہبل کی پوجا شروع کردی۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورے عرب میں بتوںکی پوجا عام ہوگئی۔ کعبہ تین سو ساٹھ بتوں سے بھر گیا،اِن بتوں کے تعلق سے ان کا عقیدہ یہ تھاکہ وہ ہم کو اللہ کے قریب کردیں گے : ما نعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفا” ہم ان کی عباد ت محض اس لیے کررہے ہیں کہ و ہ ہم کو اللہ کے قریب کردیں گے۔“ عربوںمیں بدفالی اور بدشگونی کا عام چلن تھا۔ پرندے کو بھگاتے،اگر داہنے جانب بھاگتا تو کام کرتے اور اگر بائیں جانب بھاگتا تو کام سے رک جاتے۔ وہ جوا کے بڑے شوقین تھے،کاہنوں،نجومیوں اور جیوتشیوں کی خبروں پر یقین رکھتے تھے ،کچھ بھی ہوتا جیوتشیوں کے پاس پہنچ جاتے۔  عربوںکی اجتماعی زندگی بھی ابتر سے ابتر تھی، عربوں کے نچلے طبقے میں عورتوں کو کچھ حیثیت حاصل تھی لیکن عام عربوں میں بے حیائی،بدکاری،فحش کاری اورزناکاری عام تھی۔ ان کی شادیوںمیں بھی بدکاری کے طریقے عام تھے۔ عربوں کے اندر ایسی سخت دلی تھی کہ اپنی لڑکیوں کو رسوائی کے ڈر سے زمین میں زندہ ہی دفن کردیتے تھے۔ اور ذرہ برابربھی ان پر رحم نہیں کھاتے تھے۔ قبائلی عصبیت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی،وہ یہی جانتے تھے کہ اپنے خاندان کی مدد کرو چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم ،چاہے وہ حق پر ہو یا باطل پر ،بس اِتنا دیکھ لو کہ وہ خاندان کا ہونا چاہیے۔یہ بڑے لڑاکو بھی تھے ، معمولی باتوں پر تلوار نکل جاتی اور جنگ چھڑ جاتی تھی ۔ خلاصہ یہ کہ پوری دنیا تاریکی میں بھٹک رہی تھی، روشنی کا دور دور تک پتہ نہ تھا۔ دنیا انتظار کر رہی تھی ایسے مسیحا کا جو ان کو تاریکی سے نکال کرروشنی کی طرف لے جائے ،یہودیوں اور عیسائیوں کو انتظار تھا اس آخری نبی کا جس کے اوصاف وہ اپنی کتابوں میں لکھا ہوا پاتے تھے۔ ایران والے زرتشت کی رہنمائی کے مطابق ایک رہبر کی تلاش میں تھے ، ہندودھرم کے ماننے والے ویدوںمیں نراشنس کے نام سے 31جگہ پر آخری اوتا ر کے صفات پڑھتے تھے اور اورکلکی اوتار کے نام سے آخری اوتار کا انتظار کر رہے تھے۔ بدھ دھرم کے ماننے والوںکو بھی ایک آخری بدھ کا انتظار تھا جس کا نام میتری بتایاگیاتھا۔ جی ہاں ! وقت آگیاتھا کہ ایک نظام حیات پر دنیاکی ساری انسانیت کو اکٹھا کردیا جائے ،شروع میں ایسا کرنا ممکن نہ تھا کہ لوگ الگ الگ ملکوں میں بٹے تھے ،ان میں آپسی میل جول نہ تھا ،ہر ایک کی زبانیں بھی الگ الگ تھیں ، انسانی عقل بھی محدودتھی ،اِس لیے ضرورت بھی تھی کہ الگ الگ انبیاءبھیجے جاتے لیکن ساتویں صدی عیسوی میں حالات ساز گار ہوگئے تھے ،آمد ورفت کے ذرائع میسر ہوگئے تھے ،اجنبی زبانوں کے سیکھنے کا رجحان عام ہوگیا تھا۔ اِس طرح یہ ممکن ہوگیاتھا کہ اسلام کا آخری پیغمبر ساری انسانیت کے لیے بھیج دیاجائے،چنانچہ جب اپنی پوری جوانی پہ آگئی دنیا   جہاں کے واسطے ایک آخری پیام آیا۔ اوراس نبی کی بعثت کے لیے سرزمین مکہ کا انتخاب سب سے زیادہ مناسب تھا کہ یہ سرزمین پوری دنیا کے بیچوںبیچ واقع تھی اورآج جغرافیائی تحقیق نے یہ ثابت کردیا ہے کہ مکہ مکرمہ کرہ ارضی کے سینٹرمیں واقع ہے۔ظاہر ہے کہ جو نبی پوری دنیا کے لیے تھے ،اُن کا پوری دنیا کے سینٹر میں آنا ہی زیادہ موزوں تھا۔ اسی طرح عرب ہر طرح کی برائیوںمیں لت پت ہونے کے باوجود بہادر تھے ،نڈر تھے ، سخی اورداتا تھے ،ان کی سخاوت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ اگر کسی کے پاس مہمان آجاتا اور اس کے پاس کھلانے کے لیے کچھ نہ ہوتا سوائے سواری کی اونٹنی کے تواسے ہی ذبح کرکے مہمان کی خدمت میں پیش کردیتا۔ وہ و عدہ کے بڑے پکے تھے ،جو بول دیتے وہ پتھر کی لکیر ثابت ہوتی ،کبھی وعدہ خلافی نہ کرتے تھے ، ان کے اندر خود داری اور عزت نفس کوٹ کوٹ کر پائی جاتی تھی اورعالمی رہبر کوایسے ہی لوگوںکی ضرورت تھی۔ پھر اس ملک میں کوئی حکومت نہ تھی جو دعوت کے راستے میں مزاحم بنتی ،پورے مشرق وسطی میں عرب ہی وہ دیش تھا جہاں کوئی راجہ نہیں تھا ،وہاں ہر قبیلے کی الگ الگ سرداری تھی ،اگر وہاں پر راجا ہوتا جیسا کہ دوسرے ملکوں کاحال تھا تو پوری حکومت آپ کی مخالفت پر کمربستہ ہوجاتی ،دوسرے کئی انبیاءکے ساتھ ایسا ہوا بھی ، یہاں تک کہ کتنوں کو قتل کردیاگیا۔ اسی طرح ان کی زبان بھی عربی تھی جس کے اندر لطافت اور شیرینی کے ساتھ ساتھ ایسی جامعیت پائی جاتی ہے کہ مختلف معانی کو کم سے کم الفاظ میں سمولے۔اورآخری کتاب الہی کے لیے ایسی ہی زبان کی ضرورت تھی محترم قارئین !عربوں کی ہراعتبارسے ابتر حالت ہونے کے باوجودان میں بعض اہم خوبیوںکا پایا جانااورپھر مکہ مکرمہ کا محل وقوع اِس بات کا تقاضا کررہا تھا کہ اِسی سرزمین پر ایک عالمی پیغمبر کی بعثت ہو۔ (جاری )

٭٭٭

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*