زندگی کا بےش قیمت زمانہ: زمانہ طالب علمی

محمد آصف اقبال

maiqbaldelhi@gmail.com

maiqbaldelhi.blogspot.com

 انسانی زندگی کا آغاز بچپن سے ہوتا ہے جہاں وہ بے شمار محبت و الفت کے لمحات اپنے والدین اور اعزہ و اقارب کے درمیان گزارتا ہے۔یہیں سے بچے کے سیکھنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے ۔اس دور میں بچے نہ تو اسکول جاتے ہیں اور نہ ہی کتابوں کی ورق گردانی کرتے ہیں اس کے باوجود وہ اپنے آس پاس کے ماحول میں جو کچھ دیکھتے ہیں وہ ان کے ذہن میں پیوست اور ان کے عمل سے ظاہر ہونے لگتا ہے۔پھر جب وہ اسکول جاتا ہے تو معاشرے کے دیگر بچوں سے اس کا واسطہ ہوتا ہے جہاں مختلف قسم کے خاموش تربیت شدہ بچے اس کو میسر آتے ہیں۔اب وہ گھر یلو ماحول کے علاوہ بھی دیگر ہمسایوں سے سیکھنے کی حالت میں آجاتا ہے۔انسانی زندگی کے مختلف ادوار اسی طرح گزرتے جاتے ہیں اور ہر دور سے انسان بہت سے تجربات حاصل کرتا ہے۔انسان کی گھریلو تربیت،اسکولی بچوں اور اساتذہ سے تعلقات،کالج اور یونیورسٹی میں ملنے والے طلبہ و طالبات ،معاشرہ جس کا وہ حصہ ہے اس کے اثرات،یہ سب مل کراس کی شخصیت بنانے اور سنوارنے میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔بچپن میں انسان کے پاس خواہشات اورمستقبل کے منصوبے ہوتے ہیں لیکن جوانی وہ دور ہے جبکہ اُن خواہشات اور منصوبوں پر عمل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اور وہ کر گزرتا ہے جو کچھ کہ اس نے سیکھا ہے اور جو کچھ کہ وہ کرنا چاہتا ہے۔لہذا انسانی زندگی کے یہ لمحات جنہیں بچپن اور جوانی کہا جاتا ہے یا دوسرے لفظوں میں اسکول اور کالج و یونیورسٹی کی زندگی ،فرد واحد کے لیے نہایت بیش قیمت ہے۔یہی وجہ ہے کہ جہاں ایک طرف اسکولوں میں بچوں کی تربیت کے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں تو وہیں دوسری طرف کالج و یونیو رسٹی میں مختلف افکار و نظریات کی تشہیر ہوتی ہے۔اور اس تربیت اور افکار و نظریات کی تشہیر کے ذریعہ زندگی کو ڈھالنے کی بھر پور کوشش و جستجوہو تی ہے۔ بچپن کا فلسفی، تجزیہ نگار اور تخلیق کار ! بچوں کی نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تخلیق کی قوت پیدائشی نہیں، یہ کسی میں بھی پیدا کی جاسکتی ہے، اس بارے میں امریکا کی مشہور یونیورسٹی میری لینڈ کی ماہر نفسیات ایلس ٹیسن کہتی ہیں۔”تخلیق کے بارے میں اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ ایک مستحکم اور کسی قدر پراسرار صفت ہے جو صرف بعض خوش نصیب لوگوں کو حاصل ہوتی ہے لیکن تحقیق نے ثابت کردیا ہے کہ تخلیقی قوت کسی میں بھی پیدا کی جاسکتی ہے”۔اس تحقیق سے ماں باپ اور اسکولوں کی ذمے داری میں اضافہ ہوگیا ہے۔ جب ان کے بچوں کے لیے تخلیقی قوت کے تمام راستے کھلے ہیں تو ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت ایسے انداز میں کریں کہ ان کی تخلیقی قوت بیدار ہو جائے۔مگر سوال یہ ہے کہ تخلیق ہے کیا؟تخلیق کے معنی ہیں نئی چیز بنانا۔ اس لحاظ سے تخلیق کار کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ نئی باتیں، نئے طریقے ، نئے راستے سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں جستجو کا مادہ ہوتا ہے۔ اس کی خیالی تصویر بنانے کی قوتِ متخیلہ بہت تیز ہوتی ہے۔ اس کی سوچ میں رکاوٹ نہیں آتی۔ وہ جمالیات کی حس کا مالک ہوتا ہے۔ وہ من موجی اور جذباتی ہوتا ہے اور فرسودہ طریقوں کو دوہرانے سے اجتناب کرتا ہے۔یہ تمام باتیں ہر بچے میں موجود ہوتی ہیں۔ نہ صرف بڑے بچے بلکہ چھوٹے بچوں میں بھی یہ تمام باتیں ہوتی ہیں۔ وہ ہر چیز ہر کام کو بغور دیکھتے ہیں، ٹوہ لگاتے ہیں، کریدتے ہیں، چھوتے ،سونگھتے اور سوچتے ہیں۔ کھلونوں سے باتیں کرکے اپنے احساسات کا اظہار کرتے ہیں، اسے اپنی اسکیمیں بتاتے ہیں، ایک چیزمیں کئی چیزیں ڈال کر دیکھتے ہیں کہ اس سے اب کیا بنے گا۔ ایک رنگ میں کئی رنگ ملاتے ہیں۔ وہ چیزوں کو کبھی علیحدہ رکھتے ہیں تو کبھی ڈھیر لگا لیتے ہیں۔ کبھی تقسیم کرتے ہیں تو کبھی چھپا دیتے ہیں یعنی تمام امکانات پر غور کرتے ہیں۔ گویا ہر بچہ اپنے آپ میں فلاسفر، تجزیہ نگار اور تخلیق کار ہوتا ہے۔ زمانہ جوانی و طالب علمی !  ویسے تو ہر انسان مرتے دم تک طالب علم ہی ہے لیکن زمانہ طالب علمی کا وہ دور جس میںنوجوان کالج میں داخل ہوتا ہے، ہر لحاظ سے انسانی زندگی کا ایک اہم ترین دور ہے۔یہاں اُس پر اِس قدر پابندیاں عائد نہیں ہوتی جن کو وہ اسکول کے زمانے میں برداشت کرتا آیا تھا۔ساتھ ہی ماں باپ اور رشتہ دار بھی اب اس کو بالغ محسوس کرتے ہوئے ان طریقہ ہائے تربیت سے گریز کرتے ہیں جن سے وہ اب تک نبرد آزما رہے ہیں۔ دونوں ہی لحاظ سے ایک نوجوان کو دوسروں کا اعتماد حاصل ہوتا ہے ساتھ ہی کافی آزادیاں بھی۔بس یہی وہ لمحات ہیں جب کہ انسان در حقیقت انسان کا شرف حاصل کرتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی تخلیق کی لیکن وہ اللہ کے تمام فیصلوں کو روبہ عمل لانے کے پابند بنا دیے گئے ۔اس کے برخلاف انسان کو حکم ماننے اور نہ ماننے کی آزادی دی گئی۔بچہ جب گھر اور اسکول میں ہوتا ہے اس کو کافی حد تک والدین اور اساتذہ کے حکم کی  بجا آوری کرنا ہوتی ہے لیکن جب وہ اسکول سے نکل کر کالج میں داخل ہوتا ہے اِس دور میںاس پر وہ پابندیاں ختم ہونے لگتی ہیں ۔وجہ بس یہی کہ ماں باپ اور اساتذہ کو گمان ہوتا ہے کہ ان کی اب تک ،کی گئی تربیت رنگ لائے گی۔ ایسے وقت میں ایک نوجوان کی زندگی ،اس کی پسند اور نا پسند، اس کی فکر، اس کے خیالات اور ان خیالات پر مبنی دنیا کو دیکھنے کا نظریہ۔ پھر اس سے آگے بڑھ کر اس کا گرم خون اور گرم خون میں ڈوبے اس کے جذبات و احساسات اور اس کی قوت و توانائیاں۔یہ تمام چیزیں مل کر اس کے لیے ہرراستہ ہموار کرنے کا سبب بنتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان ملک و قوم و ملت کا مستقبل کہلاتے ہیں،وہ جس رخ پر چل پڑیں اس رخ کی طلاطم خیز ہواﺅں کا سینہ چیرتے ہوئے اور تمام دشواریوںو پریشانیوں کوبہ آسانی برداشت کرتے ہوئے آگے ہی بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن کوششیں رخ موڑنے کی رہی ہیں ! حقیقت یہ بھی ہے کہ زمانہ طالب علمی میں نوجوان بڑی عمر کے لوگوں کے بالمقابل زیادہ مخلص ہوتے ہیں۔عام طور پر بڑی عمر کے لوگ اپنے مفاد کے پیش نظر ہی اقدام کرتے ہیں اس کے برخلاف طالب ا ور نوجوان کسی قسم کے ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر نیز مستقبل کی پروا ہ کیے بغیر اقدام کر گزرتے ہیں۔اخلاص کی حد درجہ زیادتی نوجوانوں کی کمزوری کہیں یا خوبی، اِسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے مختلف طاقتیں،پارٹیاں اور تنظیمیں نوجوانوں کو اپنے مقاصد و نصب العین سے وابستہ کرتی ہیں۔اور اگر کسی گروہ یا طاقت کویہ محسوس ہو کہ طلبہ و نوجوانوں کا فلاں طبقہ ہمارے لیے کارآمد نہیں بلکہ الٹا وہ ہمارے نظریہ اور فکر کو بھی چلینج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو پھر اس کو مختلف طریقوں سے زیر کرنے کی منظم سعی و جہد کی جاتی ہے۔جو کچھ کہ آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔کہیں طلبہ و نوجوانوں کو عقائد کے اعتبار سے گمراہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیںتوکہیں ایکٹوزم کی غلط تشریح و تعبیر کے ذریعہ ان کی صلاحیتوں کو اپنے مفاد کی خاطر استعمال کیا جا رہا ہے۔ کہیں طلبہ و طالبات کے بے جا تعلقات کو وقت کی ضرورت بتاکر گمراہ کیا جا رہا ہے توکہیںان کو نفسیاتی ہیجان میں مبتلا کرکے معاشرہ کو تباہ و برباد کیا جا رہا ہے۔کہیں انٹرٹینمنٹ اور سماجی روابط کے نام پر اُن کے وقت اور صلاحیتوں کے رخ کو موڑا جا رہا ہے توکہیں فحاشی،عریانیت اور ننگ و عار کو فیشن اور تہذیب جدید کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ان حالات میںاور زندگی کے اس خوبصورت دور میں عام طور پر  بے مقصد زندگی گزارنے والے طلبہ و طالبات گمراہی کو بہ آسانی اختیار کر لیتے ہیں۔لیکن اگر وہ ان میں سے کسی ایک یا ایک سے زائد گمراہی میں مبتلا نہ کیے جا سکیںتویہ طاقت و قوت کے سر چشمے ظلم و جبر اور مختلف قسم کے استحصال کو ذریعہ بناتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ وہ ان کے قبضہ قدرت میں آجائیں۔ ان حالات میںطلبہ و طالبات اور نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی حیثیت سے بخوبی واقف ہوں۔اور اگر وہ خودحقیقت ذات اور حقیقت خودی کی جانب پیش رفت نہ کریںتو پھر مخصوص حالات کے پیش نظر باشعور،سنجیدہ، مخلص،دیانت و امانت دارافراد و گروہ کو چاہیے کہ طلبہ و طالبات کے سامنے ان کی حیثیت واضح کردیں۔ جن گمراہیوں ، بدکرداریوں اور لایعنی و بے مقصد کاموں میں وہ مصروف عمل ہیں ان سے ان کومتنبہ کردیں۔ملک اور قوم و ملت کے لیے ان کو مفید بنائیں تاکہ جہاں وہ بذات خود ایک صادق و امین شخصیت بن کر ابھریں وہیں دوسری جانب ان کے ذریعہ ایک بہتر معاشرہ بھی تشکیل پائے۔اور یہ طلبہ و طالبات ان تمام مثبت رویوں کو اختیار کریں جو ان سے توقع کی جاتی ہے۔علامہ اقبال جو نہ صرف شاعر مشرق بلکہ مفکر اسلام بھی کہلائے وہ مسلم نوجوانوں سے کیا امید و توقع رکھتے تھے؟: ترجمہ:” اے مردِ مسلمان! دنیا کو روشن کرنے والے سورج سے حرارت اور چمک دمک لے لے۔ پانی کے سیل رواں سے اپنے گھروں کو روشن کرنے والی بجلی پیدا کر۔ آسمان پر بسنے والے ساکن اور متحرک اَجرام فلکی، جنہیں زمانہ قدیم کی قومیں اپنا معبود خیال کرتی تھیں، تمہاری کنیزیں اور تمہارے حلقہ بگوش غلام ہیں۔ تو تلاش و جستجو کا عمل جاری رکھ، اسے اپنی تدابیر سے مضبوط اورنتیجہ خیز بنا اور اس ارض و سما کوتسخیر کر”۔ اور یہ سب کرنے کے ساتھ ساتھ اے مردِ مسلماں تو عالم انسانیت کے لیے امن و امان کاگہوارہ بن جا۔ رب مالکِ کائنات کو پہچان کہ جس نے تجھے پیدا کیا۔ اُس کے آگے سجدہ ریز ہو جا ان تمام معاملات میں جوکچھ کہ تو انجام دیتا ہے۔ساتھ ہی اپنے آپ کو بھی پہچان کہ تیری یہ قوت و توانائیاں اور تیرے یہ جذبات و احساسات کہیں غلط رخ نہ اختیار کرلیں۔ اے قوی جسم و روح کے مالک نوجواںطالب علم اپنے اخلاق کو اعلیٰ اقدارپر استوار کرکہ یہی نبی امّی کا مقصد حیات بھی تھا۔ رب کائنات اعتراف کرتا ہے اور کہتا ہے کہ : وَاِنَّکَ لعَلٰی خُلُقِ عَظِیمِ(القلم:۴)۔”اور بے شک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو”۔ امت کی ماں حضرت عائشہؓ نے بھی آپ کے تعلق سے یہی فرمایا ہے::کان خلقہ القرآن۔”قرآن آپ کا اخلاق تھا”۔ (امام احمد، مسلم، ابوداﺅد، نَسائی، ابن ماجہ، دارمی ) ۔اب بس جو طالب علم بھی بوڑھاپے،زمانہ سستی ،ناقابل تلافی کمزوری، پست ہمتی اور جسم و روح کی فرسودگی کے تسلط ضعیفی سے پہلے اپنے اس دور جوانی و طالب علمی کو پہچان جائے، دور جوانی و طالب علمی کی قدر و اہمیت اس پرواضح ہوجائے اور اس کو صحیح رخ پر قائم کرنے کا وہ تہیہ کر لے ،وہ کامیاب ہوگیا۔ اور جو ایسا نہ کر سکے ،زمانہ حال سے متاثر ہوکراپنی شخصیت کو تباہی و بربادی کے راستے پرلگادے،درحقیقت وہ ناکام رہا۔فیصلہ بھی خود ہی کرنا ہے اور اقدا م بھی خود ہی!دیکھنا یہ ہے کہ تمام تر صلاحیتوں کے مالک طلبہ و طالبات اپنے مستقبل کو کس جانب گامزن کرتے ہیں۔بس اسی سے فرد واحد،قوم و ملت اور معاشرہ کا مستقبل طے ہو جائے گا۔ اللہ ہماری مدد فرمائے اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق دے(آمین)۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*