”یتیم پر سختی مت کرو“

      محمد آصف ریاض

میرابیٹامحمد یحییٰ میرے ساتھ ہی سوتا ہے۔ وہ ابھی محض تین سال کا ہے۔ وہ اپنے باپ کے ساتھ پوری طرح چمٹ کر سوتا ہے۔ ایک دن صبح فجرکے بعد میں بیٹھاپڑھ رہا تھا۔ اس نے آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا اورمچھلی کی طرح اوچھل کر میری گود میں آکر سوگیا۔ بیٹے کے اس عمل نے مجھے یتامی کی یاد دلادی۔ اسلام میں یتیم کو اسپیشل کیئر دینے کے لیے کہا گیا ہے۔ کیونکہ ا س کے پاس وہ گود نہیں ہوتی جس میں وہ مچھلی کی طرح اوچھل کر بیٹھ جائے۔ اسلام چاہتا ہے کہ یتامی کے لیے سماج کا ہر شخص ماں باپ بن جائے۔قرآن میں ہے: ” کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس ایک ہرابھراباغ ہو، نہروں سے سیراب کھجوروں اور انگوروں اور ہر قسم کے پھلوں سے لدا ہوا، اور وہ عین اس وقت تیز بگولوں کی زد میں آکر تباہ ہوجائے جبکہ وہ خود بوڑھا ہواور اس کے کم سن بچے ابھی کسی لائق نہ ہوں؟” {2-266}

آدمی کو اپنے مال کی سب سے زیادہ ضرورت بڑھاپے میں ہوتی ہے۔ اور یہ ضرورت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جبکہ اس کے بچے ابھی چھوٹے ہوں۔ کیوں کہ بڑھا پے کی وجہ سے وہ کچھ کر نہیں سکتا اور بچے چھوٹے ہونے کی وجہ سے کسی لائق نہیں رہتے۔ اسلام انسان کے سوئے ہو ئے ضمیر کو جگاتا ہے۔ وہ انسان سے تقاضا کرتا ہے کہ ذراسوچو کہ تمہارے بچے چھوٹے ہوں اور تم پر موت آجائے، ایسی حالت میں تمہیں اپنے بچوں کے بارے میں کس قسم کی فکر لاحق ہو گی؟ سنو، اسی قسم کی فکر ہرمرنے والے والدین کو اپنے بچوں کے تئیں ہوتی ہے۔ اسلام ایک ایسا سماج بنانا چاہتا ہے جس میں سماج کا ہر فرد یتامی کے لیے ماں باپ بن جائے۔ وہ ہریتیم کے اندر اپنے بچوں کی تصویردیکھے۔ وہ ہریتیم کے اندر اس کے ماں باپ کاوہ درد محسوس کرے جو اپنے بچوں کو چھوڑتے ہوئے خود اسے ہوتاہے۔ قرآن میں ہے: “یتیم پرسختی مت کرو” {93-9}  اسلام کے نزدیک یتامی سے معاملہ کرنا ایسا ہے گویا کوئی شخص براہ راست اللہ تعالی سے معاملہ کرے؛ اس بات کا اشارہ ہمیں قرآن میں موسیٰ اور خضر کے اس واقعہ میں ملتا ہے: ” اوراس دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ دو یتیم لڑکوں کی ہے، جو اس شہر میں رہتے ہیں اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لیے ایک خزانہ مدفون ہے اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا، اس لیے تمہارے رب نے چاہا کہ یہ دونوں بچے بالغ ہوں اور اپنا خزانہ نکال لیں۔ یہ تمہارے رب کی رحمت کی بنا پر کیا گیا ہے، میں نے کچھ اپنے اختیار سے نہیں کردیا۔” {18-82}

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*