قاضی حسین احمد رحمه الله کی وفات پر تعزیتی نشست

محمد اطہر مخدوم

اسلامک ایجوکیشن کمیٹی کویت کے زیرِ اہتمام سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان ہر دل عزیز محبوب قائد اور امتِ مسلمہ کے عظیم رہنما قاضی حسین احمد کی وفات پر جمعیة الاصلاح الاجتماعی الروضہ میں ایک تعزیتی جلسہ کا اہتمام کیا گیا۔ جس کی صدارت اسلامک ایجوکیشن کمیٹی کے صدر اخلاق احمد نے کی۔پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن مجیدسے ہوا جسکی سعادت جاسم منیر نے حاصل کی۔ اسلامک ایجوکیشن کمیٹی کے جنرل سیکریٹری محمد اطہر مخدوم نے افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ عالم اسلام کی معروف اور متحرک شخصیت محترم قاضی حسین احمد ہمیں داغِ مفارقت دے گئے۔ اس مردِ حق اور مجاہد کی ساری زندگی اللہ کے دین کی سر بلندی کے لیے وقف تھی۔ آپ نے بکھری ہوئی قوم کو یکجا کیا اور تفرقہ پرستی، لسانی اور گروہی تعصبات سے نکال کر اتفاق و اتحاد ، اخوت و محبت کاجام پلایا۔ مولانا حافظ حفیظ الرحمان نے کہا کہ قاضی حسین احمد صاحب نے اپنی عملی زندگی ہمارے لیے ایک مثال کے طور پر چھوڑی ہے وہ اپنی ذمہ داری ادا کرکے چلے گئے مگر ہمارے حصے کا کام ابھی باقی ہے۔ اس کے بعد قاضی حسین احمد صاحب کی زندگی اور جدوجہد پر مبنی ایک ویڈیو فلم دکھائی گئی۔ آخر میں جب وہ یہ کہتے ہیں کہ آپ سے بچھڑنے کو دل تو نہیں چاہتا مگر ان شاءاللہ ایک دن جنت میں ملیں گے تو حاضرین کی آنکھیں اشکوں سے بھر جاتی ہیں۔ صدر مجلس اخلاق احمد نے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے قاضی حسین احمد کی تحریکی خدمات پر زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ لاکھوں دلوں میں بستے تھے۔ سفید ریش ہونے کے باوجود نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن تھے۔ انکی متحرک زندگی اقبال کے شاہین جیسی تھی۔ وہ نا امیدی اور مایوس کن حالات میں بھی امید کی کرن تھے۔وہ نہ صرف اہل پاکستان کی امید تھے۔ بلکہ امتِ مسلمہ کے نوجوان انہیں امام القاضی کہہ کر یاد کرتے ہیں۔ چند برس قبل قاضی صاحب سعودی عرب تشریف لے گئے تو خادم الحرمین الشریفین نے اپنے ہاں دعوت پر بلایا۔ طویل ملاقات کے بعد شاہ عبداللہ بیماری اور نقاہت کے باوجود قاضی صاحب کو رخصت کرنے محل کے بڑے دروازے تک آئے۔ اور قاضی صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگے :قاضی صاحب! پاکستان امتِ مسلمہ کی امانت ہے۔ اور اسکی حفاظت کی ذمہ داری آپ کے کاندھوں پر ہے۔ وہ اپنی جماعت کے عظیم اور منفرد قائد تھے۔ چالیس سال سے زائد جماعت میں گذاری۔ اور جماعت کے پلیٹ فارم سے کبھی ایک پیسہ کا مفاد حاصل نہیں کیا۔ اتحادِ امت کے زبردست داعی تھے۔ ©” قدر مشترک اور درد مشترک” ان کا ماٹو تھا اور اسی ماٹو کے پیشِ نظر انہوں نے متحدہ مجلس عمل اور ملی یک جہتی کونسل بنائی۔ وہ سفید کپڑے جیسی اجلی زندگی گذار کر تو چلے گئے۔ مگر ان کامشن پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی مملکت بنانا زندہ رہے گا۔ کڑے سفر کا تھا مسافر تھکا ہے ایسے کہ سو گیا ہے خود اپنی آنکھیں تو بند کرلیں ہر آنکھ لیکن بھگو گیا ہے

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*