تنقید برائے اصلاح ہوتو بہتر ہے

 سید عبدالسلام عمری ( کویت )

نظام شمسی کی طرح نظام انسانی کا بھی مرکز اور محور ہوتا ہے ، ہردورمیں اللہ کے ایسے نیک بندے ہوتے ہیں جن کا وجود لوگوں کی محبت وانجذاب کا مرکز ہوا کرتا ہے ۔ جس طرح بینائی رکھنے والا دیکھنے پر مجبورہوتاہے اسی طرح علمائے ربانی اعلانِ حق پرمجبورہوتے ہیں۔اوربیان حق کا قدرتی خاصہ یہ ہے کہ دلوںمیں گھر کرلے اورہرطرف سے انسانوں کو اپنی جانب کھینچ لے ۔ ایک داعی حق اگر لوگوں سے کہہ بھی دے کہ میرے پیچھے مت آو¿،تب بھی لوگ اس کی محبت کا دم بھریں گے ۔ جذب وانجذاب کا طریقہ قانون الہی ہے ،اگرلوہا مقناطیس کی جانب کھینچتا ہے تو اس میں مقناطیس کا کیا قصور ….؟ یہ کیفیت زمین والوں پر موقوف نہیں بلکہ ایسے داعیان حق کی محبت کی آسمانوں میں بھی گونج ہوتی ہے :  ذرانبی پاک ا کی یہ پیاری حدیث پڑھیں :  ”اللہ تعالی جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل اسے فرماتا ہے کہ میں فلاں بندے کو دوست رکھتا ہوں، تم بھی اس کو دوست رکھو،پس جبریل ا بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں ،پھر جبریل ا آسمان والوں میں اس کی منادی کردیتے ہیں ،پس تمام آسمان والے بھی اس کو چاہنے لگتے ہیں اوراپنا محبوب بنالیتے ہیں ،پھر جب آسمان پر اس کی محبوبیت کا اعلان ہوتا ہے تو زمین والوں کے دل بھی اس کی محبت کے لیے کھل جاتے ہیں اورہر طرف اسے محبوبیت اور مقبولیت حاصل ہوجاتی ہے ۔ ان نیک زمرے سے تعلق رکھنے والے جو بھی گذرچکے ہیں ان کی نسبت اب کیاکہاجائے کہ ان سب کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ہمیں تو یہ حکم ملا ہے کہ دل کی گہرائیوں سے ان کے لیے مغفرت کی دعا کرتے رہیں : رب اغفرلنا ولاخواننا الذین سبقونا بالایمان ولا تجعل فی قلوبنا غلا للذین آمنوا ربنا انک رووف رحیم (سورة الحشر 10)

اب رہی بات ان داعیان حق کی جو ابھی بقید حیات ہیں اورجدا جدا محاذوں پر دین کی دعوت وتبلیغ کا کام انجام دے رہے ہیں اوراپنی صلاحیتوں کو اسلام کے فروغ میں لگا رہے ہیں، آخر وہ بھی تو انسان ہی ہیں ان سے بھی غلطیاں سرزد ہوسکتی ہیں،ایک طرف ان کے معتقدین ان کی غلطیوںکو غلطی ماننے کے لیے تیار نہیں تو دوسری طرف متعصبین رائی کو پہاڑبنانے پر تلے ہوئے ہیں، اور ان کی اجتہادی غلطی پر بھی تکفیر کا فتوی لگانے سے گریز نہیں کررہے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ ہرحال میں ایک مسلمان کو کتاب وسنت کا علمبردار ہونا چاہیے ٹھیک اسی طرح ہمیں داعیان دین سے حسن ظن رکھنا چاہیے اور ان کے مراتب کی قدر کرنی چاہیے، یہی وہ بنیاد ہے جس میں توازن اوراعتدال نہ برتنے کی وجہ سے سارے مسائل کھڑے ہوتے ہیں۔ ایک گروہ کا رویہ یہ ہے کہ اگر کسی عالم وداعی کا قول بظاہر کسی نص یا حکم کے خلاف آیا توبلا تامل اس کی تضلیل اور تکفیر پر آمادہ ہوجاتے ہیں اورجھٹ حکم لگادیتے ہیں کہ وہ منکر شریعت ہے،ا گرچہ اس نے اپنی پوری زندگی شریعت کی پاسبانی میں بتائی ہو۔ دوسرے گروہ کا رویہ یہ ہے کہ ائمہ واکابرین کی عقیدت اورمحبت میں کتاب وسنت کے نصوص کو ان کے اقوال وافعال کے تابع بنادیتے ہیں ،اگران کے کسی قول یا فعل کو کتاب وسنت سے متصادم پاتے ہیں تو ان کے اندر یہ جرا¿ت پیدا نہیں ہوتی کہ کتاب وسنت کے نصوص کو مقدم رکھ کر ان کے اقوال وافعال کی تاویل کرلیں بلکہ ڈھٹائی کے ساتھ کتاب وسنت کے نصوص کی تاویل کربیٹھتے ہیں۔  ََََََلہذا ہمیں چاہیے کہ ہم ہر حال میں احکام شریعت اور ظواہرکتاب وسنت کو مقدم رکھیں ، کائنات ہستی میں صرف انہیںدونوں کو واجب الاطاعت جانیں،اور تمام اہل علم وائمہ کرام سے حسن ظن بھی رکھیں،کیا کسی غیر معصوم کے ایک قول واجتہاد کا غلط ہونا یہ معنی رکھتا ہے کہ اسکے تمام اقوال کو چھوڑ دیا جائے؟ البتہ ہر ایک کا مرکز حق ویقین کتاب وسنت ہی ہے۔ یہ مرکز اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتا‘ سب کو اسکی خاطر اپنی جگہ سے ہلنا پڑے گا، اس چوکھٹ کو کسی کی خاطر چھوڑا نہیں جا سکتا‘ سب کی چوکھٹیں اس کی خاطر چھوڑی جا سکتی ہیں ، ورنہ ” لا یومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ و ولدہ والناس اجمعین۔“ کا کیا مطلب ہے؟ جب نص رسول ا کے مقابلے میں کسی دوسرے انسان کی پاسداری کی تو رسول ا کا حق کب باقی رہا؟ کیا خوب فرمایا ہے:کل یو¿خذ من کلامہ ویرد الا صاحب ھذا القبر”ہرایک کی بات قبول کی جاسکتی ہے اورردبھی کی جاسکتی ہے سوائے اس صاحب قبر کے“پھر قبرنبوی ا کی طرف اشارہ فرمایا۔ یقینا غلطی سے نفرت غلطی کرنے والے سے ہمدردی کی نشانی ہے،جبکہ غلطی کرنے والے سے اختلاف کرنے کی بجائے مخالفت وعداوت کئی دیگر غلطیوں کا دروازہ کھولتی ہے۔یہ دوسرا رویہ آج کل بہت زیادہ عام ہوتا جا رہا ہے۔ پانی کی سطح پر دھول دیکھ کر سارے پانی کو گدلا قرار دینے کا رواج عام ہوتا جا رہا ہے، ہر ایک نے اپنے اپنے محاذ پر اپنا اپنا سچ ایجاد کر لیا ہے۔ ان کی منطق میں مد مقابل کو بہر حال زیر کر دینا ہی جیت ہے، چاہے بدلے میں وہ ساری شرافت ہار جائے۔ ایسا نہیں ہے کہ ماضی میں صحابہ ؓو اسلافؒکے درمیان علمی یا اجتہادی اختلاف نہیں ہوتا تھا،ہوتا تھا مگر احترام حد درجہ ملحوظ ہواکرتا تھا،کبھی انہوں نے بھول کر بھی اپنی مصروفیت کو زیادہ اہم اور دوسروں کی مصروفیت کو غیر ضروری نہیں سمجھا،یا انہوں نے یہ زعم پال رکھا ہو کہ جو وہ کر رہے ہیں وہی زیادہ صحیح اور ضروری ہے۔ باقی سب غلطی پر ہیں۔بلکہ ضرورت پڑنے پر یہی منفرد قوتیں ایک دوسرے کے تعاون میں ” تعاونوا علی البر والتقوی ‘ کی مثال نظر آتے ہیں، کبھی ایسا نہیں ہواکہ وہ اپنے مسئلہ کو ابو جہل اور ابو لہب کے پاس لے کر گئے ہوں۔ مگر وائے افسوس! دعوتی تعصب،تبلیغی ہٹ دھرمی اس قدر جڑ پکڑ چکی ہے کہ اکثر دعاة ، مبلغین،علماءکو دوسرے دعاة ،علمائ، مبلغین کا محاذ بے بنیاد لگتا ہے۔علی الاعلان اس کامظاہرہ نہ ہوتوکم از کم پروپیگنڈے کی سطح پرنامور مبلغین کی تخقیرضرور کرتے ہیں، اور جب موقعہ ملتا ہے یہ بتانا نہیں بھولتے کہ وہ کتنا  غیر ضروری کام کر رہا ہے ۔ حد تو یہ کہ وہ اپنے اس پروپیگنڈے کے پرچار کی خاطر ایسے گروہ کے پاس جانے سے بھی جھجھک محسوس نہیںکرتے جن کواللہ نے مومنوںکا سخت دشمن قراردیاہے (المائدہ 82)۔  اللہ پاک ہم سب کو ہوش کے ناخن لینے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*