توحید اور شرک

شیخ فیض اللہ محمدی مدنی (کویت )

 بلاشبہ کائنات کا ہر ذرہ اللہ تعالی نے کسی نہ کسی مقصد سے ہی پیدا کیاہے،بلا مقصد کی تخلیق سے اللہ کی شان بالا تر ہے ،تخلیق انسان کا مقصد حقیقی اللہ تعالی نے یوں بیان فرمایا ہے :  ”اور میں نے جنات اور انسانوں کو محض اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں۔” (سورة الذاریات56) اور اپنی عبادت کا طریقہ سکھانے کے لیے اللہ تعالی نے ہر امت میں رسول بھیجے:”ہم نے ہرامت میں رسول بھیجے کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو”  (سورة النحل 36) تمام رسولوں نے اپنی امتوں کو سب سے پہلے توحیدکی دعوت دی ، اللہ تعالی کا فرمان ہے : ”آپ سے پہلے ہم نے جو بھی رسول بھیجا اس کی طرف یہ وحی نازل کی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو “۔ (سورة النبا 25) توحید تمام انبیاءکی دعوت کا مرکزی محور رہا ؛ توحید کا مطلب صرف ایک اللہ کورب ماننا ، اسی اکیلے کی عبادت کرنا اور اسکے اسماء وصفات میں کسی کو شریک نہ سمجھتے ہوئے ان تمام ناموں اور صفتوں کو اکیلے اللہ کے لیے ثابت کرنا ہے ۔ توحید سب سے بڑی نیکی ہے، اسی لیے اس کو اپنانے سے سارے گناہ دھل جاتے ہیں ، جیساکہ عمرو بن عاص ص کا بیان ہے : ” میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہونچا اور عرض کیا کہ آپ اپنا داہنا ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپ سے اسلام کی بیعت کروں ،جب آپ نے اپنا دست مبارک آگے کیا تو میں نے اپنا ہاتھ روک لیا،تب آپ نے فرمایا: عمرو! کیا بات ہے ؟میں نے کہا: ایک شرط رکھنا چاہتا ہوں،  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیسی شرط؟ میں نے کہا : میرا پچھلا گناہ بخش دیا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :  “تمھیں پتہ نہیں کہ قبول اسلام سے سارے گذرے (گناہوں)کا صفایا ہوجاتا ہے “. اسکے بر عکس شرک سب سے بڑا گناہ ہے جو انسان کی تمام نیکیوں کو برباد کر دیتا ہے، اللہ تعالی نے اس بات کی وضاحت یوں فرمائی ہے: ”یقیناًتیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں )کی طرف بھی یہ وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلا شبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہو جائے گا، بلکہ تو اللہ کی عبادت کر اور شکر کرنے والوں میں سے ہو جا “۔     (سورة الزمر آیت 65۔ 66)  یہی نہیں بلکہ آخرت کی کامیابی اور نا کامی توحید اور شرک پر موقوف رکھی گئی ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ”جو شخص شرک سے پاک ہو کر اللہ تعالی سے ملے گا وہ جنت میں جائے گا اور جو شرک کی حالت میں اللہ تعالی سے میرے گاجہنم میںداخل ہوگا “۔( مسلم) شرک توحید کی ضد ہے اور اس کا مطلب ہے ربوبیت یا عبادت میں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا ، نیز اللہ کے ناموں اور صفتو ں میں کسی کو ساجھی بنانابھی شرک ہے۔

ذیل میں دلائل کے ساتھ کچھ ایسے امور کاذکر کیا جاتا ہے جن کو شرک کی سیاہ فہرست میں شامل کیا گیا ہے: اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرنا مثلاً:

1۔ کسی کے سامنے تعبداً کھڑا ہونا : اللہ کا فرمان ہے : ترجمہ:”اور اللہ کے لیے با ادب کھڑے رہاکرو”۔   (سورةالبقرة238) بغرض عبادت کسی کے سامنے تذلل سے کھڑے ہونا شرک ہے، چاہے قیام زندوں کے لیے کیا جائے یا مردوں کے لیے البتہ کسی ضرورت مند کو سہارا دینے کے لیے کھڑاہونے میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو سواری سے اترنے میں مدد کے لیے صحابہ کو کھڑے ہو نے کا حکم فرمایاجو زخمی تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طلب کرنے پر آئے تھے ۔مگرجوشخص اپنے لیے تعظیماً کسی کے قیام کا متمنی ہوگا ،اس کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: “جو یہ چاہتا ہے کہ لوگ ادباً اسکے سامنے کھڑے رہیں وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے “۔      (رواہ احمد وابوداو¿د ،باسناد صحیح)

2۔ اللہ کے سواکسی کو سجدہ کرنا؛ اللہ کا فرمان ہے: ترجمہ:” تم سورج کو سجدہ نہ کرو نہ چاند کو بلکہ سجدہ اس اللہ کے لیے کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے ،اگر تم کو اسی کی عبادت کرنی ہے تو “۔        (سورة فصلت 37 ) شریعت محمدیہ میں اللہ کے سوا کسی کے لیے کسی طرح کے سجدہ کی کوئی گنجائش نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: “اگر مجھے کسی کو سجدہ کا حکم دینا ہوتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے” (رواہ الترمذی ) واضح رہے کہ مزاروں اور پیروں کو سجدہ کرنا ایک مشرکانہ عمل ہے جس کا مرتکب توحید سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔

3۔ اللہ کے سواکسی کو رکوع کرنا:  اللہ کا فرمان ہے: ترجمہ: “اے ایمان والو! رکوع سجدے کر تے رہو اور اپنے رب کی عبادت میں لگے رہو اور نیک کام کرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہوجاو¿ “(الحج 77)  اللہ تعالی نے رکوع اور سجدہ کو عبادت قرار دیاہے جسے کسی اور کے لیے انجام دینا کھلا شرک ہوگا۔ اور اللہ کے لیے بجالانا باعث اجر ہوگا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : “جو کوئی (اللہ کیلئے) رکوع یا سجدہ کرے گا اس کا درجہ بھی بلند ہوگا اور گناہ بھی بخشا جائے گا ” ۔  (رواہ احمد والبزار بنحوہ وھو بمجموع طرقہ حسن و صحیح)

4۔اللہ کے سوا کسی اور سے دعا مانگنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ان الدعاءھو العبادة  ( ابو داود ) .”بلا شبہ دعا ہی تو عبادت ہے ۔“ پھر آپ نے اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی:ترجمہ: ”مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا“۔ مصیبت میں اللہ کے سواکسی اور کومدد (استعانت )کے لیے پکارنا دعا جیسی عبادت میں اللہ کے ساتھ شرک ہوگا۔پکارنے والا چاہے اللہ کے نیک بندوں (اولیاء) کو پکارے یا اللہ کے دشمنوں کو یا بے جان مخلوق کوپکارے ۔اللہ نے فرمایا: ترجمہ: ” اور یہ کہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لیے خاص ہیں پس اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو “۔ ( سورة الجن 18)

5۔غیر اللہ سے ایسی محبت کرنا جیسی اللہ سے کرنی چاہئے: محبت الہی ایک عظیم عبادت ہے اور اس کی ایک خاصیت یہ ہے کہ یہ لذاتہ ہوتی ہے جس سے مقصود بس اپنے محبوب (اللہ ) کی رضا ہوتی ہے۔اس کے ماسوا ہر محبت لغیرہ ہوتی ہے حتی کہ انبیاءو صالحین سے محبت بھی لذاتہ نہیں بلکہ اللہ کے لیے ہوتی ہے۔ مومن اللہ سے شدید محبت کرتے ہیں اور ان کی ہر ایک سے محبت بھی خالص اللہ کے لیے ہوتی ہے، اس طرح کی محبت غیر اللہ سے کرنامشرکانہ عمل ہے : اللہ کا فرمان ہے : ترجمہ: ” بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیے اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں” ( سورةالبقر165) اس لیے اللہ سے محبت خالص ہونی چاہیے اور ہر ایک سے محبت اللہ ہی کے لیے ہونی چاہیے، غیر اللہ سے ایسی محبت ہرگز نہیں ہونی چاہیے جیسی کہ اللہ سے ہوتی ہے۔

6۔غیر اللہ کے نام جانور ذبح کرنا: اللہ کا فرمان ہے : ترجمہ: ” پس تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر ” .(سورت الکوثر2) اور فرمایا :ترجمہ: “آپ فرمادیجیے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہاں کا مالک ہے” ( الانعام 162) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”غیر اللہ کے لیے قربانی کرنے والے پر اللہ لعنت فرمائے” (اخرجہ الحاکم و احمد ) کسی عزیز یا مہمان کی آمد پرذبح کیا جانے والا جانور اس کے نام پر نہیں بلکہ اس کی تکریم (عزت نوازی) کے لیے ہوتاہے جس کا مقصد در اصل اللہ کو راضی کرنا ہی ہوتاہے لہذا اس میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ آستانوں اور درگاہوں پر کسی بھی جانور کا ذبح کرنا واضح شرک ہے۔

7۔بیت اللہ کے علاوہ کسی اور جگہ کا طواف کرنا بیت اللہ کے سوا کہیں اور کا طواف جائز نہیں، کسی قبر کا طواف صاحب قبر کے تقرب کی نیت سے ہو تو شرک اکبر ہوگا،ساری دنیا میں صفاو مروہ کے سوا بیت اللہ ہی ایک جگہ ہے جہاں کے طواف کی اللہ نے اجازت دی ہے۔ اللہ کا فرمان ہے : ترجمہ: اور اللہ کے قدیم گھر کا طواف کریں ” (الحج 29)

8۔غیر اللہ پر توکل رکھنا : ایک مومن کا پختہ یقین ہوتا ہے کہ دنیا و آخرت کی ہر بھلائی کا حصول اور ہر مصیبت سے نجات اللہ ہی کے حکم سے ہوتا ہے۔ یہی دلی اعتماد توکل کہلاتا ہے جو اللہ کے سوا کسی اور پر نہیں ہونا چاہئے، اللہ کا فرمان ہے : ترجمہ: “اگر تم مومن ہو تو بس اللہ ہی پر توکل (بھروسہ) رکھو” ۔ ( المائد23)

9۔غیراللہ سے استعانت ( مدد طلب) کرنا : اللہ کا فرمان ہے : ترجمہ: ” ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں” ۔(سورت الفاتحہ5) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :” جب مدد چاہو تو بس اللہ سے مدد چاہو ” (ترمذی 2516اور احمد) مگر کسی زندہ سے جو مدد کرنے پر قادر ہو اورآواز دینے پر سن سکتا ہو تو مدد طلب کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن خیال رہے کہ حقیقی مدد تو بس اللہ ہی کی ہے اور یہ فقط ایک سبب اور ذریعہ ہے۔

10۔اللہ کے سوا کسی اور کی پناہ مانگنا : حالت خوف میں کسی شر سے پناہ طلب کرنے کو استعاذہ کہتے ہیں جو ایک عظیم عبادت ہے اور اللہ ہی کو سزاوار ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :ترجمہ: “آپ کہہ دیجیے کہ میں لوگوں کے رب کی پناہ میں آتا ہوں ” ۔

11۔غیر اللہ کے لیے نذر ماننا: کسی مقصود کے حاصل ہونے پر خود پر کسی طاعت کا لازم کرلینا نذر کہلاتا ہے، نذر اللہ ہی کے لیے ماننی چاہیے، مریم علیہا السلام سے اللہ نے کہا :” کہو کہ میں نے رحمن کے لیے روزہ کی نذر مانی ہے۔“ نذر پورا کرنا اللہ کے پاس ایک محبوب عمل ہے ،اسی لیے اللہ نے ان بندوں کی تعریف فرمائی ہے جو نذرپوری کرتے ہیں،اللہ کا فرمان ہے : ترجمہ: ” جونذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے” ( الدھر 7 ) اللہ کا اس عمل سے محبت کرنا اس عمل کے عبادت ہونے کی ایک دلیل ہے۔ عبادت خالص اللہ کے لیے ہونی چاہئے۔

12۔غیراللہ سے اس طرح ڈرنا جیسا کہ اللہ سے ڈرتے ہیں : اللہ کی عظمت کااحساس اور اس کے سامنے جوابدہی کا خیال اور یہ یقین کہ بندہ کا کوئی عمل اس سے مخفی نہیں ،اللہ کا خوف کہلاتا ہے ،جو ایک قلبی عبادت ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے:ترجمہ: ” تم ان سے مت ڈرو بس میرا خوف رکھو اگر تم مومن ہو تو ” (آل عمران175)۔  کسی ڈراونی چیز سے ہونے والی گھبراہٹ طبعی خوف ہے اس کا عبادت سے کوئی تعلق نہیں۔

13۔ غیر اللہ کی قسم کھانا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ”جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے شرک کیا” ( ابوداود)

14۔ تعویذ گنڈے کا استعمال :  ارشاد نبوی ہے:ترجمہ : “جس نے تعویذ لٹکائی اس نے شرک کیا ” .(مسنداحمد) 15۔کسی مزار کا سفر کرنا:  ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تین مسجدیں مسجد حرام مسجد نبوی اور مسجد اقصی کے سوا کہیں اور رخت سفر نہ باندھا جائے “. (بخاری و مسلم)

اس کے علاوہ اور بھی بہت سے ایسے امور ہیں جو شرک وکفرکے زمرہ میں داخل ہوتے ہیں مثلاً:

16- اللہ کے سوا کسی کو عالم الغیب سمجھنا : اللہ کا فرمان ہے، ترجمہ: ” اور اسی (اللہ )کے پاس غیب کی چابیاں ہیں جسے اس (اللہ) کے سوا کوئی نہیں جانتا ” (سورت الانعام59) علم غیب اللہ تعالی کی صفت ہے اور اس صفت کو غیر اللہ کیلئے ثابت کرنا گویا اللہ تعالی کی صفات میں کسی اور کو شریک کرنا ہے ، جو کہ شرک ہے، اسی لیے کاہن، نجومی یا کسی غیب دانی کے دعویدار کی تصدیق کو کفر کہا گیا ہے، حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی عالم الغیب نہیں تھے ، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ترجمہ: “کہہ دیجئے میں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ ہی میں عالم الغیب ہوں”۔         (الانعام50)

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ظاہری وباطنی شرک سے ہم تمام کی حفاظت فرمائے اور توحید پر قائم رکھے۔ آمین۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*