ایمان کے تقاضے

                 مولاناسید ابو الاعلیٰ مودودیؒ

اسلام کے معنی جھک جانے ، سپر ڈال دینے، اپنے آپ کو سپرد کردینے کے ہیں۔ اس جھکاوُ ، سپردگی اور سپر اندازی کے ساتھ خودرائی، خودمختاری اور فکر و عمل کی آزادی ہرگز نہیں نبھ سکتی۔ اسلام پر ایمان لانے کے بعد آپ کو اپنی پوری شخصیت اس کے حوالے کردینا ہوگی۔ اپنی کسی چیز کو بھی آپ اس کی پیروی سے مستثنیٰ نہیں کرسکتے۔ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ وہ آپ کے دل اور دماغ کا دین ہو، آپ کے قلم اور زبان کا دین ہو، آپ کے اوقات اورآپ کی محنتوں کا دین ہو، آپ کی سعی اور عمل کا دین ہو، آپ کی محبت اور نفرت کا دین ہو، آپ کی دوستی اور دشمنی کا دین ہو، غرضیکہ آپ کی شخصیت کا کوئی جز اور کوئی پہلو بھی اس دین سے خارج نہ ہو۔ اپنی کسی چیز کو جتنا اور جس حیثیت سے بھی آپ اس دین کے احاطہ سے باہر اور اس کی پیروی سے مستثنیٰ رکھیں گے، سمجھ لیجیے کہ اسی قدر آپ کے دعوائے ایمان میں جھوٹ شامل ہے اور ہر راستی پسند انسان کا فرض ہے کہ اپنی زندگی کو جھوٹ سے پاک رکھنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرے۔
پھر یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ انسانی زندگی ایک کل ہے۔ جسے الگ الگ شعبوں میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا انسان کی پوری زندگی کا ایک ہی دین ہونا چاہیے۔ دو دو اور تین تین دینوں کی بیک وقت پیروی بجز اس کے کچھ نہیں کہ ایمان کے ڈانواں ڈول اور عقلی فیصلے کے مضطرب ہونے کا ثبوت ہے۔ جب فی الواقع کسی دین کے ” الدین” ہونے کا اطمینان آپ حاصل کر لیں اور اس پر ایمان لے آئیں تو لازماً اسے آپ کی زندگی کے تمام شعبوں کا دین ہونا چاہیے۔ اگر وہ شخصی حیثیت سے آپ کا دین ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہی آپ کے گھر کا دین بھی نہ ہو اور وہی آپ کی تربیتِ اولاد کا، آپ کی تعلیم اور آپ کے مدرسے کا، آپ کے کاروبار اور کسب معاش کا، آپ کی مجلسی زندگی اور قومی طرزِ عمل کا ، آپ کے تمدن اور سیاست کا اور آپ کے ادب اور آرٹ کا دین بھی نہ ہو۔ جس طرح یہ بات محال ہے کہ ایک ایک موتی اپنی جگہ تو موتی ہو مگر جب تسبیح کے رشتے میں بہت سے موتی منظم ہوں تو سب مل کر دانہ بخور بن جائیں، اسی طرح یہ بات بھی میرے دماغ کو اپیل نہیں کرتی کہ انفرادی حیثیت سے تو ہم ایک دین کے پیرو ہوں، مگر جب اپنی زندگی کو منظم کریں تو اس منظم زندگی کا کوئی پہلو اس دین کی پیروی سے مستثنیٰ رہ جائے۔
ان سب سے بڑھ کر ایمان کا اہم ترین تقاضا یہ ہے کہ جس دین کے ” الدین” ہونے پر آپ ایمان لائیں اس کی برکتوں سے اپنے ابنائے نوع کو بہرہ مند کرنے کی کوشش کریں اور آپ کی تمام سعی و جہد کا مرکز ومحور یہ ہو کہ یہی ” الدین” تمام دنیا کا دین ہو جائے جس طرح حق کی فطرت یہ ہے کہ وہ غالب ہو کر رہنا چاہتا ہے اسی طرح حق پرستی کی بھی یہ عین فطرت ہے کہ وہ حق کو جان لینے کے بعد اسے غالب کرنے کی سعی کیے بغیر چین نہیں لے سکتی۔ جو شخص دیکھ رہا ہو کہ باطل ہر طرف زمین اور اس کے باشندوں پر چھایا ہوا ہے اور پھر یہ منظر اس کے اندر کوئی بے کلی ، کوئی چبھن، کوئی تڑپ پیدا نہیں کرتا، اس کے دل میں حق پرستی ہے بھی تو سوئی ہوئی ہے۔ اسے فکر کرنی چاہیے کہ نیند کا سکوت کہیں موت کے سکوت میں تبدیل نہ ہوجائے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*