جمعہ،احکام ،آداب اورفضائل

تحریر : خالد ابوصالح

ترجمہ:مبصرالرحمن القاسمی (کویت)

mubssir2008@yahoo.co.in

ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ یوم جمعہ کا احترام کرے، اس دن کے فضائل کو غنیمت جانے اور اس دن ہر قسم کی عبادتوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرے، یومِ جمعہ کے کچھ آداب اور احکام ہیں، جن سے واقف ہونا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ ابن قیمؒ فرماتے ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کار یہ تھا کہ آپ دیگر ایام کے مقابلے مخصوص عبادتوں کے ذریعے جمعہ کے دن کی تعظیم وتکریم کرتے تھے،یہی وجہ ہے کہ علمائے کرام کے درمیان یہ اختلاف ہے کہ جمعہ کا دن افضل ہے یا عرفہ کا دن۔“ [زاد المعاد 1/375]. پیارے بھائی ! کتنے جمعہ مہمان کی طرح گذر گئے، اور آپ نے کوئی توجہ بھی نہیں دی، بلکہ بہت سے لوگوں کا تو یہ حال ہے کہ وہ جمعہ کے دن کا اس لیے انتظار کرتے ہیں تاکہ اس میں گناہ کا ارتکاب کریں۔

احکام وآداب

 1-مستحب ہے کہ امام جمعہ کے دن نمازفجر میں مکمل سورہ سجدہ اور سورہ دھر پڑھے،جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا، اور کسی ایک سورت پر اکتفاءنہ کرے، جیسا کہ بعض ائمہ کا معمول ہے۔

2-جمعہ کے دن کثرت سے درود پڑھنا مستحب ہے۔ حضرت اوس بن اوس ؓسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے دنوں میں افضل ترین دن جمعہ ہے،اسی روز آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی، اسی دن ان کی روح قبض کی گئی ، اسی دن صور پھونکا جائے گا، اور اسی دن بے ہوشی طاری ہو گی، لہذا مجھ پر اس دن کثرت سے درود پڑھو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے“ [احمد].

3- نماز ِجمعہ ہر آزاد مکلف مقیم مرد پر فرض ہے، لہٰذا کسی مسافر، کسی عورت یا غلام پر جمعہ واجب نہیں ہے، ہاں ان میں سے کوئی اگر جمعہ میں شریک ہوجائے توان کی نماز ِجمعہ درست ہے، بیماری یا خوف وغیرہ جیسے عذر کی وجہ سے نماز جمعہ ساقط ہوجاتی ہے۔ [الشرح الممتع 5/7-24].

4-جمعہ کے دن غسل کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیے آئے تو چاہیے کہ غسل کرے“ [متفق علیہ]

. 5-خوشبو کا استعمال کرنا، مسواک کرنا اور اچھا لباس زیبِ تن کرنا، جمعہ کے آداب میں شامل ہے، حضرت ابوایوب ؓ فر ماتے ہیںکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے جمعہ کے دن غسل کیا،اگر خوشبو ہوتو استعمال کیا، بہترین کپڑے پہنے، پھر اطمینان کے ساتھ مسجد کی جانب نکلا، اگر موقع ملے تو دو رکعت پڑھی، کسی کو تکلیف نہیں دی، پھر امام کے خطبہ ختم کرنے تک خاموش رہا، (اس کا یہ عمل) دوسرے جمعہ تک گناہوں کا کفارہ ہے“۔  [احمد وصححہ ابن خزیمہ]. ابوسعید خدری ؓسے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جمعہ کے دن غسل کرنا ہر بالغ پر ضروری ہے، اسی طرح مسواک کرنا اور اگر قدرت ہوتو خوشبو کا استعمال کرنا“   [مسلم].

6-نماز ِجمعہ کے لیے جلدی جانا مستحب ہے، لیکن آج اس سنت کا جنازہ نکل رہا ہے، اللہ تعالیٰ اس سنت کو زندہ کرنے والوں کی زندگی میں برکت دے۔  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ” جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے ہر دروازے پرفرشتے کھڑے ہوکرپہلے آنے والے کو پہلے لکھتے ہیں،سب سے پہلے آنے والا شخص اس کی طرح ہے جس نے اونٹ قربان کیا ہو، اس کے بعد اس کی طرح جس نے گائے قربان کیا، اور اس کے بعد جس نے مینڈھا قربان کیا، پھر اس کے بعد آنے والا اس کی طرح جس نے مرغی قربان کی ہو پھر اس کے بعد آنے والا اس کی طرح ہے جس نے انڈا صدقہ کیا ہو،اور جب امام نکلے اور منبر پرپہنچ جائے تو وہ اپنے رجسٹر لپیٹ کر ذکر سننے آجاتے ہیں۔ [مسلم850 ]

7-جمعہ کے دن مستحب ہے کہ امام کے خطبے کے لیے آنے تک لوگ نفل نمازوں، ذکر اور تلاوت قرآن میں مصروف رہیں۔

8-خطبہ کے دوران خاموش رہنا اور بغور خطبہ سننا واجب ہے، حضرت ابوہریرہ ؓسے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم نے جمعہ کے دن امام کے خطبہ کے دوران اپنے ساتھی سے کہا: خاموش رہو، تو تم نے غلطی کی“ [متفق علیہ]. اور احمد کی روایت میں اس طرح ہے: ”اور جس نے غلطی کی اس( جمعہ کے اجر وثواب) میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے“۔ اور ابوداود کی روایت میں ہے: اور جس نے غلطی یا خطا کی؛ تو وہ (جمعہ کے ثواب سے محروم ہوجاتا ہے) ظہر کا اجر پاتا ہے۔ [صیحح ابن خزیمہ].

9-جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت مستحب ہے، حضرت ابوسعید خدری سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس نے جمعہ کے دن سورہ¿ کہف پڑھی تو اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اس کے لیے نور کو روشن کردیا جاتا ہے“۔[صحیح الجامع].

10- جمعہ کے دن وقتِ جمعہ کے دخول کے بعد جس پر جمعہ واجب ہوجائے اس کے لیے جمعہ سے پہلے سفر کرنا جائز نہیں ہے۔ [زاد المعاد 1/382].

11-بطور خاص جمعہ کے دن کو روزہ کے لیے خاص کرنا اور اس کی رات کو قیام کے لیے خاص کرنا مکروہ ہے، حضرت ابوہریرہ ؓسے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جمعہ کی رات کو قیام کے لیے خاص نہ کرو، اور دنوں میں جمعہ کے دن کو روزے کے لیے خاص نہ کرو، مگر یہ کہ کوئی سلسلہ وار روزے رکھ رہا ہو“۔ [مسلم].

12-جو شخص جمعہ کے دن روزہ رکھنے کا خواہاں ہو اسے چاہیے کہ وہ جمعہ سے پہلے والے دن (جمعرات) یا بعد والے دن(ہفتہ) کو روزہ رکھے؛ حضرت ابوہریرہ ؓسے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کوئی جمعہ کے دن ہرگز روزہ نہ رکھے،مگر یہ کہ اس سے پہلے والے ایک دن(بھی) رکھے یا بعد والے ایک دن“۔    [متفق علیہ ]

. 13-جمعہ کی سنتیں: حدیث میں آیا ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعت پڑھتے تھے“ [متفق علیہ] اسی طرح یہ بھی وارد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے بعد نماز پڑھنے والوں کو چار رکعت پڑھنے کا حکم دیا“[مسلم]. اسحاق کہتے ہیں: اگر جمعہ کی (سنتیں) مسجد میں پڑھے تو چار پڑھے، اور اگر گھر میں پڑھے تو دو رکعت پڑھے۔ ابوبکر الاثرم کہتے ہیں: دونوں بھی جائز ہے۔     [الحدائق لابن الجوزی 2/183].

14-اس شخص کے لیے مستحب ہے جو مسجد میں ا±س وقت داخل ہو جب امام خطبہ دے رہا ہو کہ بیٹھنے سے پہلے دو مختصر رکعتیں پڑھ لے؛ حضرت جابر بن عبداللہ ؓسے مروی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ¿ جمعہ دے رہے تھے، سلیک الغطفانی آئے، اور بیٹھ گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن مسجد آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو چاہیے کہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعت پڑھ لے“۔           [مسلم

]. 15-جمعہ کے دن مستحب ہے کہ امام نمازِ جمعہ میں سورہ ¿ جمعہ اور سورہ ¿منافقون، یا سورہ اعلی اور غاشیہ پڑھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سورتیں پڑھا کرتے تھے“۔ [مسلم].

جمعہ اور ہماری غلطیاں

الف ۔ نمازیوں کی غلطیاں

1-بعض لوگ نمازِ جمعہ کاہلی اور سستی کی وجہ سے چھوڑدیتے ہیں، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”خبردار! لوگ جمعہ چھوڑنے سے رک جائیں یا پھر اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگادے گا، پھر یہ لوگ غافلین میں سے ہوجائیں گے“۔ [مسلم].

2-بعض لوگ نمازِ جمعہ کے لیے آتے وقت جمعہ کی نیت کے استحضار کا خیال نہیں رکھتے، اور عام معمول کے مطابق مسجد پہنچ جاتے ہیں، حالانکہ جمعہ اور دیگر عبادات کی درستگی کے لیے نیت کا ہونا شرط ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ”اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے“۔ [البخاری].

3-جمعہ کی رات میں دیر تک شب بیداری کرنا، اور نمازِ فجر کے وقت سوتے رہنا، جس کی وجہ سے جمعہ کے دن کا آغاز ہی کبیرہ گناہ سے ہوتا ہے، حالانکہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک نمازوں میں افضل ترین نماز جمعہ کے دن کی باجماعت فجر کی نماز ہے‘ ۔ [صحیح 566].

4-خطبہ جمعہ میں شریک ہونے میں غفلت اورر سستی سے کام لینا،بعض لوگ خطبہ کے دوران مسجد پہنچتے ہیں اور بعض کا تو یہ حال ہوتا ہے اس وقت مسجد پہنچتے ہیں جب جمعہ کی نماز شروع ہوجاتی ہے۔

5-جمعہ کا غسل چھوڑنا، خوشبو کا استعمال نہ کرنا، مسواک کا اہتمام نہ کرنا اسی طرح جمعہ کے دن اچھے کپڑے زیب تن نہ کرنا۔

6-اذان جمعہ کے بعد خریدوفروخت کرنا؛ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ترجمہ: ”مومنو! جب جمعے کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو اور خرید وفروخت ترک کردو، اگر سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔“ [الجمعة:9]. ابن عباس ؓ فرماتے ہیں:”اذان جمعہ کے بعد خرید وفروخت حرام ہے. “

7-بعض افراد نافرمانی کے کاموں کو جمعہ کے دن عبادت سمجھ کر کرتے ہیں، مثال کے طورپربعض لوگ کمالِ نظافت خیال کرتے ہوئے داڑھی کاٹتے ہیں۔

8-بعض لوگ اگلی صفوں کے پر ہونے سے پہلے ہی مسجد کے آخری حصے میں بیٹھ جاتے ہیں، بلکہ بعض لوگ تو مسجد کے اندرونی حصے میں جگہ ہونے کے باوجود بیرونی حصے میں ہی بیٹھتے ہیں۔

9-کسی شخص کو اس کی جگہ سے ہٹاکر اس جگہ پر خود بیٹھنا: حضرت جابر ؓسے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جمعہ کے دن کوئی شخص اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے ہرگز نہ اٹھائے،کہ اس جگہ پر خود بیٹھے، بلکہ کہے: جگہ کشادہ کرو “۔ [مسلم].

10-گردنوں کو پھلانگنا اور دو کے درمیان تفریق کرنا اور بیٹھے ہوئے لوگوں پر تنگی کرنا۔ ” نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”بیٹھ جا تونے تکلیف دی اور تاخیر کی“ ۔[صحیح الترغیب والترھیب وصحیح ابن ماجة].

11-باتوں یا تلاوت کے ذریعے آواز بلند نہ کرے، جس سے نمازیوں اور دیگر تلاوت کرنے والوں کوتکلیف ہوتی ہے۔

12-بغیر عذر کے اذان کے بعد مسجد سے نکلنا۔

13-خطبہ کے دوران خطیب کی جانب توجہ نہ دینا۔

14-دونوں خطبوں کے درمیان دو رکعت کا پڑھنا، ہاں دونوں خطبوں کے دوران کے وقفے میں دعا اور استغفار پڑھنا مشروع ہے۔ لیکن نماز پڑھنا درست نہیں ہے۔

15- نماز کے دوران کثرت سے حرکت کرنا، اور امام کا سلام پھیرتے ہی مسجد سے نکلنا، اور نماز کے بعد کے اذکار چھوڑ کر مسجد کے دروازوں پر بھیڑ کرنا۔

ب-خطباءاور واعظین کی غلطیاں:

1-خطبہ کا طویل کرنا اور نماز کا مختصر کرنا، حضرت عمارہ ؓسے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آدمی کا نماز کو طویل کرنا اور خطبہ کو مختصر کرنا اس کے فقیہ ہونے کی علامت ہے، تو نماز کو طویل کرو اور خطبہ کو مختصر، اور بیشک تقریر جادو کا اثر رکھتی ہے“ [مسلم].

2-خطبہ کے لیے مناسب موضوع کا انتخاب نہ کرنا اور اسی طرح مناسب تیاری نہ کرنا، اور ایسے موضوعات پر تقریر کرنا جس کی لوگوں کو کوئی خاص ضرورت نہ ہو۔

3-بہت سے واعظین اور خطباءلغوی غلطیوں کی جانب توجہ نہیں دیتے۔

4-بعض مقررین موضوع اور ضعیف احادیث اور بغیر سوچے سمجھے غلط اقوال نقل کرتے ہیں۔ 5- بعض خطیب حضرات دوسرے خطبہ میں صرف دعا پر اکتفاءکرتے ہیں اور اسی کے عادی ہیں۔.

6-خطبہ یاتقریر کے دوران قرآن کی آیات سے روگردانی کرنا؛ یہ طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے خلاف ہے، حضرت حارثہ بنت نعمانؓ فرماتی ہیں: میں نے سورہ (ق وَالقرآن) ہر جمعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطبوں میں سن سن کر یاد کر لیا۔ [مسلم]

. 7-بعض خطباءاور مقررین کا خطبہ کے دوران جوش وولولہ کا اظہار نہ کرنا،حضرت جابر بن عبداللہ ؓسے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ ارشاد فرماتے تھے، تو آپ کی آنکھیں سرخ ہوجاتی تھیں، آواز بلند ہوجاتی تھی، اور آپ کا غصہ شدید ہوجاتا تھا ایسا لگتا تھا کہ آپ کسی لشکر کو آگاہ فرمارہے ہیں “ ۔ [مسلم].

***

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*