قاری صہیب احمد میرمحمدی سے ایک ملاقات

ملاقاتی : محمد خالد اعظمی(کویت)
khalid.azmi64@gmail.com

شیخ صہیب احمد میرمحمدی خوش الحان قاری، بہترین مقرر ، عمدہ واعظ ،شیریں بیاں خطیب، اورتحقیق وتصنیف کے میدان میں بلند پایہ ذوق رکھتے ہیں۔ قاری صاحب ایک دیندار اورتعلیم یافتہ گھرانے کے چشم وچراغ ہیں،آپ کے والد حافظ محمد عبد اللہ نیک عالم اورجامعہ رحمانیہ دہلی کے تعلیم یافتہ تھے۔آپ فی الحال ادارہ الاصلاح ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری اور کلیة القرآن کے ڈائرکٹرہیں،پیغام ٹی وی پرآپ کا پروگرام بڑے شوق سے دیکھاجاتا ہے۔
وزارة الاوقاف والشون الاسلامیہ کی دعوت پر آپ کی کویت تشریف آوری کی مناسبت سے راقم سطورکو آپکے ساتھ بیٹھ کر آپ کی قیمتی باتیں سننے کا موقع ملا، آپ کے ساتھ ہوئی گفتگو کا خلاصہ قارئین کے استفادہ کے لیے پیش خدمت ہے:

سوال:سب سے پہلے آپ کا تعارف پیدائش اورتعلیم ؟

جواب : ضلع قصور کے ایک گاؤں جس کانام ’میر محمد ‘ہے جس میں صدیوں سے راجپوت برادری کے لوگ آباد ہیں وہیں کا رہنے والا ہوں،اسی نسبت سے میر محمدی لکھتا ہوں ۔میری پیدائش1975ءمیں ہوئی ، ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہی حاصل کی ، اعلی تعلیم کے لیے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میںداخلہ مل گیا،وہاںکے کلیة القرآن والدراسات الÊسلامیہ سے 1999ءمیں گریجویشن کیا اورمثالی طالب علم کی سند بھی عطا کی گئی، فراغت کے بعد چھ ماہ تک ریاض کے مکتب الدعوة السلیبی میں دعوتی کام میں مشغول رہا ، ساتھ ہی مسجد جامع الفاروق میںقرآنی حلقہ کا ذمہ دار بھی تھا ۔ اس کے بعد جامع ابن باز مکہ مکرمہ میں چھ ماہ تک تدریسی فرائض بھی انجام دیا۔

سوال:سعودی عرب سے پاکستان لوٹ کر آنے کے بعد آپ نے کیاکیا؟
جواب :سعودی عرب سے پاکستان آکر پھول نگر ضلع قصور کی کھلی فضا میں کلیة القرآن الکریم والتربیة الاسلامیة کے نام سے ایک عظیم الشان ادارے کی بنیاد رکھی ، جس میں تدریس وتربیت کے فرائض خود انجام دیتا اورسا تھ ہی اس کی ادارت کی ذمہ داری بھی میرے سر تھی۔کلیة القرآن ایک رہائشی ادارہ ہے جس میں497 بچے اور بچیاں تعلیم حاصل کررہے ہیںاور اس ادارہ میں درس نظامی، وفاق المدارس السلفیة کانصاب چلتاہے۔کلیة القرآن کی سرپرستی میں ایک عصری اسکول بھی قائم ہے۔

سوال: آپ کے ہاں شعبہ حفظ میں داخلہ کے شرائط کیاہیں؟
جواب : جب بچہ پانچواں کلاس پاس کرلیتاہے توہمارے یہاں اس کا داخلہ ہوتاہے ۔ ہمارے یہاں کی خاص بات یہ ہے کہ بچے کوحفظ کے پہلے دوسالوں میں تجوید کی مشق کرائی جاتی ہے اور احادیث بھی یاد کرائی جاتی ہے ۔ اس طرح شروع کے دوسالوں میں بچہ تجوید کے ساتھ ایک ہزار احادیث بھی یاد کرلیتاہے۔

سوال:دعوتی مرکز کا قیام کب ہوا؟
جواب : دعوتی مرکز کا سنگ بنیاد ۰۷۹۱ءمیں پڑاتھا، اس ادارہ کے تحت تعلیمی نظام بھی قائم ہے جہاں بچیوں کو تجوید قرا¿ت عشرہ سکھایاجاتاہے ، اللہ کا شکرہے کہ یہ اپنی نوعیت کا منفرد اور پہلا ادارہ ہے جہاں سے ۸۳بچیاں فراغت حاصل کرچکی ہیں اور اس سال ۷۲بچیاں فراغت حاصل کررہی ہیں۔
پاکستان کے مختلف شہروں جیسے کراچی ، پیشاوروغیرہ میں دعوتی مراکز قائم ہیں ، اس مرکز کے تحت جماعت نکلتی ہیں اور ان کے ورک شاپ بھی ہوتے رہتے ہیں۔
دعوتی مراکز کے تحت اجتماعی شادیوں کااہتمام ، ضرورت مندوں کوقرض حسنہ کی فراہمی ، ہینڈپائپ کاانتظام اوردوسرے خدمت خلق کے کام بھی ہوتے ہیں۔

سوال :عملی طورپرداعی کو کیا کرنا چاہئے؟
جواب:میں اپنے تجربے کی روشنی میں بات کرناپسندکروںگا،میراتجربہ یہ ہے کہ جولوگ مسجدوں میں نہیں آتے ان کے لیے خاص طور پر پروگرام بنایاجائے کیونکہ جب تک داعی میں دعوت کی سچی تڑپ نہ ہو،اس وقت تک دعوت کامیاب نہیں ہوسکتی ۔
کمپنیوںکے ملازمین، اورڈرائیورس وغیرہ کو مختلف مناسبات سے مدعوکیاجائے اور ان کی سمجھ کے مطابق باتیں کی جائیں۔آج کے دورمیں عوام الناس کے اندر دین سیکھنے کی تڑپ ہے لیکن ہمارے دعاة ان تک نہیں پہونچتے، ہمیں ہرمیدان میں جاناچاہئے کیونکہ اسلام کا پیغام ہرشخص تک پہونچاناہماری دینی واخلاقی ذمہ داری ہے ، ایسانہ ہوکہ دین صرف مسجدوں تک محدود ہوکررہ جائے۔

سوال:دعوتی کام کرنے کا مناسب طریقہ کونساہے؟

جواب: دعوت کے کام کاکامیاب طریقہ اورراز چند باتوں میں مضمرہے مثلاً :
٭خالصتاً قرآن وحدیث کی روشنی میں دعوت دی جائے ، کیونکہ قرآن وحدیث میں خاص تاثیرپائی جاتی ہے ۔ اوران دونوں کی اپنی ایک تصویر اور ایک الگ رنگ ہے۔
٭حکمت کوبھی مدنظر رکھیںکیونکہ حکمت سے دعوت میں چارچاند لگ جاتے ہیں اورسامعین اورموقع ومحل کوسامنے رکھ کر بات رکھیں۔
٭ اخلاق اوراخلاقی رویے کوجتناغالب رکھیں گے دعوت اتنی ہی کامیاب ہوگی ۔ لعن طعن اورتشنیع سے منفی پہلو سامنے آتاہے اورمثبت پہلوکم نظر آتاہے۔
داعی کی مثال ڈاکٹرجیسی ہے ،کیونکہ ڈاکٹرجتنا مشفق ہوگا اتناہی وہ مریض سے قریب ہوگااورمریض اس کو اپنا ہمدردسمجھتے ہوئے اس کی ہربات مانے گا۔
آج امت مسلمہ کو فزیشین داعی کی ضرورت ہے سرجن داعی کی نہیں۔

سوال:دعاة کوآپ کیامشورہ دیناچاہیں گے؟
جواب: میرایہی مشورہ ہے کہ دعوت کی تڑپ ہروقت ہمارے پیش نظر رہے اورجہاں جیسا موقع ملے دعوت کا پیغام پہونچانے میں پس وپیش نہ کریں۔ مثلاً اگرآپ شادی کی مجلس میں ہوں تووہاں یہ پیغام پہونچائیں کہ شادی آسان ہو، بغیر کسی جہیز اورلین دین کے ہو اور دین کی بنیاد پر ہو۔
اگرہوائی سفرکررہے ہوں تو وہاں سفرکی دعاپڑھ کراس کامفہوم ومطلب سمجھادیں۔وغیرہ وغیرہ اس طرح سے داعی کے سامنے سیکڑوں مواقع آتے ہیں ۔

سوال:غیرمسلموں میں دعوتی کام کاطریقہ کارکیاہے؟
جواب:سب سے اچھاطریقہ کار اخلاقی ہے، اگرہمارے اندر بہترین اخلاق پیداہوجائے توان میں بہترکام ہوسکتاہے ،سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو لوگ جس شعبے یاطبقے سے تعلق رکھتے ہوںان کے سامنے اس سے متعلقہ اسلام کی آفاقی تعلیم پیش کی جائے،مثلاًجولوگ تاجرہیں ان کے سامنے اسلامی تجارت کا طریقہ کاربیان کریں۔ اسی طرح اسلامی خصوصیات کوقولاوعملاً بیان کرنے کی حتی الامکان کوشش کرنانہایت ناگزیرہے۔

سوال: دعوتی کام کے نتائج کیسے ہیں؟
جواب: بہت اچھے نتائج ظاہر ہوئے ہیں۔سماج میں بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنہوں نے اسلام کا مطالعہ کیا، اس کو قریب سے دیکھا ، سمجھااورپھرکہاکہ اسلام ایک سچااورآسان دین ہے ، اب تک اپنوں کی سختیوں کی وجہ سے اسلام سے قریب نہیں ہوپارہے تھے، جس کا ہمیں بڑا افسوس ہے۔
اسلامی تنظیموں اورجماعتوں کاآپسی تعاون مضبوط ہورہاہے۔اگرکسی طرح کی کمی ہے تو اسے دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، اوروہ لوگ ایک دوسرے کے غم اورخوشی میں برابرکے شریک ہیں بالخصوص اسلام کی بقاءکے معاملہ میں ایک دوسرے کا تعاون کرتے ہیں۔

سوال:آپ کی تصنیفی خدمات کیاہیں؟

جواب:میری چند کتابیں اورکتابچے ہیں جس کی خاص خصوصیات ہیں:
۱۔مومن کی نماز: اس کتاب کو ترتیب دیتے وقت چندباتوں کا خیال رکھاہے:
٭ مبتدی طلباءکی ضروریات کوسامنے رکھتے ہوئے اسلوب کوعام فہم رکھنے کی کوشش کی گئی ہے حتی کہ احادیث کاترجمہ کرتے وقت عام مفہوم کوترجیح دی گئی ہے۔
٭احادیث کی تخریج اس لیے کی گئی ہے تاکہ بوقت ضرورت اصل کتاب کی طرف رجوع کرنا آسان ہو۔
٭اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ تمام احادیث صحیح ہوں ۔
٭مسائل کو انتہائی اہتمام کے ساتھ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔
۲۔ نخبة الصحیحین : ابتدائی طلبہ کے لیے صحیحین سے (100)احادیث کاانتخاب کیاگیاہے ۔
۳۔ مومن کی زینت ڈاڑھی ۔
۴۔ قرآن مجید کے حقوق ۔
۵۔ عورت کا زیور پردہ۔
۶۔ آپ عمرہ اور حج کیسے کریں؟
۸۔دعوت کے اصول وطریقے ( یہ کتاب زیر طبع ہے )
۹۔جبیرة الجراحات فی حجیة القراءات (عربی زبان میں ہے یہ بھی زیر طبع ہے )
۰۱۔تربیة الÉولاد من خلال وصایا لقمان (عربی زبان میںہے، یہ بھی زیر طبع ہے )
۱۱۔الذکر واثرہ فی حیاة الفرد والمجتمع ( زیر طبع ہے )

سوال:کیاقرآن کی تلاوت کے ذریعہ دعوتی کام کیاجاسکتاہے ؟
جواب: ہاں ! کیونکہ قرآن کی اپنی تاثیرہے جس سے لوگ اسلام سے قریب ہوتے ہیں ۔اللہ کا ارشادہے:  یتلواعلیہم آیاتہ بعض مواقع پر اللہ کے رسول ا نے قرآن کی تلاوت کی جس سے لوگ قریب ہوئے۔
اس سے یہ مسئلہ بھی مستنبط کیاجاتاہے کہ جب پروگرام ہو تواس کی شروعات تلاوت قرآن سے کی جائے ۔

سوال: آپ کن کن اداروں کے ممبریاذمہ دارہیں؟
جواب:٭ ادارہ الاصلاح ٹرسٹ کا جنرل سکریٹری، ٭کلیة القرآن کا ڈائرکٹر٭پاکستان کے ایک ٹی وی چینل جس کانام ’پیغام ‘ہے اس میں اخلاقیات کے نام سے ایک مستقل پروگرام آتاہے جس کی ذمہ داری میرے سرہے ۔ اس کے علاوہ یہ لوگ تجوید کاپروگرام بھی شروع کرنے والے ہیں جس کی ریکارڈنگ ہورہی ہے۔
٭ سعودی عرب میں قیام کے دوران ٹی وی پروگرام بھی پیش کیاہے ۔ مسجد نبوی میں جامعہ اسلامیہ کی طرف سے حج وعمرہ کے لیے باضابطہ دروس بھی دیے۔
٭ مکتب الدعوة ریاض نے پوراقرآن تلاوت مع ترجمہ (اردو) ریکارڈ کروایاہے۔
٭تسجیلات الخالد الاسلامیہ مدینہ منورہ نے مکمل قرآن ریکارڈ کروایاہے۔
٭ پاکستان کے مختلف شہروں اورگاؤں میں تربیتی اورتعلیمی دروس روزانہ ہوتے ہیں۔پاکستان میں ہمارا دعوتی نیٹ ورک بہت ہی مضبوط ہے۔
٭کلیة القرآن الکریم میں بخاری کا درس ہوتا ہے۔

سوال:کویت کتنی مرتبہ تشریف لاچکے ہیں ؟
جواب: کویت کا میرا یہ تیسرا سفرہے ، ہرمرتبہ وزارة الÉوقاف والشﺅون الاسلامیہ کی دعوت پر رمضان المبارک کے موقع پر تراویح وقیام اللیل پڑھانے کے لیے آیا ہوں۔

سوال: پاکستانی کمیونٹی کوآپ کیاپیغام دیناچاہیں گے؟
جواب:میں اپنے پاکستانی بھائیوں سے جو وطن سے دور پردیس میں رہ رہے ہیں یہی گزارش کروںگاکہ وہ میر ی تین باتیں مانیں اور اس کے لیے پوری جدوجہد کریں ،وہ تین باتیں یہ ہیں :
٭ پردیس میں رہتے ہوئے موقع کو غنیمت جانیںکیونکہ اتنے اچھے لمحات شاید انھیں پاکستان میں نہ مل سکیں۔
٭ اتحادواتفاق کے بغیربرکت نظرنہیں آئے گی۔
٭ اخلاقی رویے کونہ گرائیںاورسینے کو صاف وشفاف رکھیں۔کیونکہ اللہ کے رسول ا کافرمان ہے: ان اللہ لا ینظر الی صورکم ولکن ینظر الی قلوبکم واعمالکم ۔”اللہ تعالی تمہاری شکلوں کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دل اوراعمال کو دیکھتا ہے ۔“
بغض وانتقام کی آگ دل ودماغ سے نکال دیں۔
سلف صالحین کو دووجوہات کی بنیادپر برکت ملی تھی ایک تو ان کے سینے صاف وشفاف تھے اور دوسرے ان کی نیت خالص تھی ۔
اگرآج بھی ہمارے دل ودماغ صاف شفاف ہوں تو ہمیں بھی عزت ووقعت مل سکتی ہے، اللہ کے رسول انے فرمایا: انا زعیم ببیت فی ربض الجنة لمن ترک المراء ولو کان محقا (سنن ابی داوؤد، حسن لغیرہ ) ”میں اس شخص کو جنت کے ادنیٰ درجہ میں ایک گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو حق پر ہونے کے باوجود جھگڑنے سے اجتناب کرے “۔

سوال: پاکستانی کمیونٹی کو بالخصوص اور تمام کمیونٹیز کوبالعموم کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

جواب: تمام جالیات کو میرا پیغام یہی ہے کہ وہ ہمیشہ فجرکی نماز باجماعت اداکریںاورنماز کے بعد آدھے گھنٹے ترتیل کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کی جائے ۔
ہرحال میں دن کاآغاز قرآن سے کریں۔

سوال: آپ کے درس دینے کا طریقہ کیاہے ؟

جواب: جب مجھے درس حدیث دینے کے لیے کہاجاتاہے تو میں سب سے پہلے موضوع کے مطابق احادیث کا انتخاب کرتاہوں اور20 یا 25 حدیثیں جب تک زبانی یاد نہیں کرلیتااس وقت تک درس نہیں دیتا، یہ عادت میری پرانی ہے ۔

سوال: اس طرح آپ نے کافی حدیثیں یادکرلی ہوں گی ؟
جواب: پانچ سال پہلے میں نے حساب لگایاتھا تو اس وقت سات ہزار حدیثیں زبانی یاد ہوگئیں تھیں ، اس وقت کیاصورتحال ہے میں نہیں بتاسکتا۔

سوال: احادیث کیوں یاد کریں؟
جواب:٭احادیث کو یاد کرنے میں سب سے اچھی با ت یہ ہوتی ہے کہ احادیث کے نصوص میں جوتاثیرہے وہ قرآن کے علاوہ کسی اورنص کو یاد کرنے میں نہیں ہے۔لہذا اپنی بات کو مضبوط بنانے کے لیے نص حدیث کو پیش کریں۔
٭ اللہ کے رسول ا کا فرمان ہے کہ قیامت کے روزاس شخص کاچہرہ چمکے گاجواحادیث یادکئے ہوگا۔
٭جب ہم نص پیش کریں گے تو ترجمہ بھی صحیح پیش کرسکتے ہیں ، اور من کذب علی متعمداً کی وعیدسے بچ سکتے ہیں۔
٭ اور سب سے بڑی حکمت نص کویاد کرنے میں یہ ہے کہ جو حلاوت نص میں پائی جاتی ہے وہ ترجمہ میں نہیں ہے۔اوررہنمائی سب سے زیادہ منصوص سے ملتی ہے اس لیے حفظ ِمتون کے بغیر کام نہیں چلتا۔

٭٭٭

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*