خبرونظر

محمدخالد اعظمی (کویت )

’اے نبی (ﷺ) آپ پرسلام‘ میوزیم کا افتتاح

مکہ:’اے نبی تجھ پر سلام ‘ نام سے ایک میوزیم کا افتتاح مکہ مکرمہ میںہوا ۔ میوزیم میں آخری پیغمبر محمدا کی حیات طیبہ اورتاریخی ورثے سے متعلق چیزیں نمائش کے لیے رکھی جارہی ہیں۔یہ میوزیم اسلامی تہذیب کے فروغ کا ایک تحقیقی اثاثہ ثابت ہوگا۔ میوزیم کو عہد نبوت کی مکمل دستاویز کا درجہ حاصل ہوگاجس میں اس سنہرے دور میں استعمال ہونے والی چیزوں کے نمونے رکھے جائیںگے۔اب تک1500اشیاءنمائش کے لیے پیش کی گئی ہیں جن میں آلات حرب وضرب ، گھڑیوں اور نبی صلى الله عليه وسلم کے دور میں اہل مکہ کے گھروں کے نمونے بھی میوزیم میں موجود ہوں گے ۔ میوزیم کے اندرونی دیواروں پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی بڑی بڑی تصاویر سکرینز پر ڈسپلے کی جائیں گی۔نیز سیرت طیبہ اورنبی صلى الله عليه وسلم کا مستند شجرہ مبارکہ بھی عام معلومات کے لیے پیش کیا جائے گا۔

شیخ السبیل کی وفات جدہ:

سابق امام کعبہ الشیخ محمد عبد اللہ السبیل کا 17دسمبربروز دوشنبہ کی شب مکہ معظمہ میں انتقال ہوگیا۔ السبیل القصیم کے البکیریہ میں پیداہوئے ، آپ نے الشیخ عبد الرحمن الکریدیس کے پاس البکیریہ شہر میں قرآن حفظ کیا، شیخ السبیل مملکت کی مختلف مساجد اور تعلیمی اداروں میں توحید، تفسیر، فقہ اور اصول فقہ سمیت عربی زبان وادب کی تعلیم دیتے رہے ۔1367ہجری کو البکیریہ کے ایک پرائمری اسکول اور1373ہجری میں بریدہ کے علمی انسٹی چیوٹ میں استاد مقررہوئے ۔ 1385ہجری میں ایک شاہی فرمان کے تحت آپ کومسجد الحرام میں خطیب مقرر کیاگیا ۔ 1390ءمیں مسجد الحرام کے دینی امور کی نگرانی کا فریضہ سونپاگیا۔ 1393ہجری میں وہ دینی امور کے مسئول اور مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے صدارتی سکریٹریٹ کے سربراہ بنے ۔ شیخ رابطہ عالم اسلامی کے فقہ ریسرچ اور سپریم علماکونسل کے رکن بھی تھے۔ ان کی کئی کتابیں کافی مشہور ہیں۔ شیخ محمد السبیل کی نماز جنازہ مسجد حرام میں ادا کی گئی ، مفتی سعودی عرب شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ آل شیخ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ اور جنت المعلی میں تدفین عمل میں آئی۔

اسلام برطانیہ کا دوسرابڑامذہب

لندن: برطانیہ میں ہوئی مردم شماری کے مطابق ملک کی آبادی گزشتہ دس برسوں میں60 فیصداضافہ کے ساتھ پانچ کروڑ 61 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ جبکہ ان دس سالوں میں عیسائی مذہب کے پیروکاروں میں40لاکھ کی کمی واقع ہوئی ہے۔ لیکن 60 فیصد آبادی اب بھی عیسائیت کو اپنا مذہب مانتی ہے۔2011ءکی مردم شماری کے مطابق اسلام برطانیہ کا دوسرا بڑامذہب ہے اوربرطانیہ میں مسلمان کل آبادی کا5فیصد ہیں –

11ملین فلسطینی بے گھر

رملہ : دنیا بھر میں11ملین بے گھر فلسطینی مقیم ہیں ، مشرق وسطی کے کئی پناہ گزین کیمپوں میں پانچ ملین فلسطینی بھی شامل ہیں۔گزشتہ60 سال سے فلسطینیوں کے لیے یہ مسئلہ جذباتی بنا ہوا ہے کہ وہ اپنی سرزمین میںکس طرح واپس ہوں۔ 1948ءمیں اسرائیل کے قیام کے بعد سے یہاں پر جنگ وجدال کی فضاءبرقرارہے ۔

 لیلی کو امریکی مذہبی ایوارڈ

قاہرہ :خواتین اور اسلام کے تعلق سے کئی کتابوں کی مصنفہ 72 سالہ مصری پر وفیسر لیلی احمد کو مسلم خواتین میں حجاب پہننے کے بڑھتے رجحان کے متعلق ان کی کتاب” خاموش انقلاب ۔ حجاب کی واپسی ، مشرق وسطی سے امریکہ تک“امریکی ایوارڈ عطاکیا جائے گا۔اس کتاب میں انہوں نے حجاب پہننے کے معاملے میں مسلم خواتین میں بڑھتے ہوئے رجحان کے پس پردہ وجوہات کوکھوجنے کی کوشش کی ہے۔ لیلی کا کہنا ہے کہ میرا قیاس تھاکہ حجاب کا تعلق کٹرپسند مذہبی تعلیمات سے مربوط ہونا چاہئے ، لیکن بعض مسلم خواتین اپنی شناخت ظاہر کرنے کے لیے حجاب کا استعمال کرتی ہیں اور بعض جدت پسندی کی علامت کے طور پر اسے پہنتی ہیں ۔

کویت میں شام کے لیے ڈونر کانفرنس۔

کویت :شام کے خونریز تنازعہ کے لاکھوںمتاثرین شہریوں کی مدد کے لیے 30جنوری کو ایک انٹرنیشنل ڈونرکانفرنس کا انعقاد کیاجارہا ہے۔عالمی ادارے کے اعدادوشمار کے مطابق یہ امر بھی تشویش کا باعث ہے کہ داخلی بحران کے کئی ملین شامی مہاجرین یامتاثرین میں سے نصف سے زائد تعداد بچوں کی ہے سکریٹری اقوام متحدہ بان کیمون کے بقول شام کے بارے میں کویت میں ہونے والی کانفرنس ایک بروقت موقع ہے جس کی مدد سے شام کے لیے مالی وسائل کی ضرورت اور دستیابی کے درمیان بہت زیادہ فرق کو کم سے کم کیاجاسکتاہے۔ عالمی ادارے نے اس سلسلے میں بین الاقوامی برادری سے750 ملین یورو مہیا کیے جانے کی اپیل کررکھی ہے۔ اس رقم کی مدد سے جون تک مختلف ملکوں میں مقیم تقریباً ایک ملین شامی مہاجرین اوراندرون ملک بے گھر ہونے والے مزید قریب4 ملین شہریوں کی مدد کی جاسکے گی ۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے اب تک5 لاکھ شامی مہاجرین کا اندراج کررکھاہے خدشہ ہے کہ جون تک یہ تعداد مزید اضافہ کے ساتھ ایک ملین سے بڑھ جائے گی۔شام میں اب تک 45ہزارسے ایک لاکھ لوگ مارے جاچکے ہیں۔

گستاخانہ کارٹونس کتاب کی شکل میں

پیرس: فرانس کا ایک مشہور ہفتہ وار اخبار چارلی بیڈو ے جو گستاخانہ کارٹونس شائع کرتے ہوئے مسلمانوں کی دل آزاری کے لیے شہرت رکھتاہے ، اعلان کیاہے کہ وہ اس سلسلہ میں کارٹونوں پر مشتمل ایک کتاب شائع کرنے کا منصوبہ رکھتاہے ۔ اخبار کا پبلیشرچارب کے مطابق کارٹونوں کی اس کتاب کو مسلمان نے ہی ترتیب دیاہے ، اس کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کواس کتاب پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ یہ کتاب فرانسیسی تیونس تحقیق کنندہ زینب کی جانب سے تحقیق کی بنیاد پڑ شائع کی جارہی ہے ، پبلیشر کے بقول اس کتاب کوشائع کرنے کا خیال 2006ءمیں اس وقت آیا تھا جب ڈنمارک کے ایک اخبار نے گستاخانہ کارٹون شائع کئے تھے ،بعد میںاس نے اپنے اخبار میں یہی گستاخی کی جس پر دنیا بھر کے مسلمانوں نے زبردست غم وغصہ کا اظہار کیاتھا۔بہتریہی ہے کہ ایسے لوگوں کا علاج خاموشی کے ساتھ کردیاجائے ۔

عربی زبان کا پہلا عالمی دن

دبئی :اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے تعلیمی ، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (یونسکو) کے زیراہتمام18دسمبر کو دنیا میں عربی زبان کا پہلاعالمی دن منایاگیاہے۔یہ دن مختلف ثقافتوں اور تہذیبوں میں معلوما ت کے فروغ میں عربی زبان کے کردار کے اعتراف میں منایاگیا۔پیرس میں قائم یونیسکو کے ڈائرکٹرجنرل آئرینابوکوفا نے کہا کہ (18دسمبر 1973ءکو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے عربی زبان کو اپنی سرکاری زبانوں میں شامل کیاتھا۔اس کے 40 سال بعد ہم عربی زبان کی طاقت کے اعتراف میں عالمی دن منارہے ہیں۔یونسکوکے مطابق آج دنیا میں 42 کروڑ 20لاکھ سے زیادہ کی مادری زبان عربی ہے اور دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمان عربی زبان کو کسی نہ کسی شکل میں استعمال کرتے ہیں۔ وہ روزانہ پنج وقتہ نماز عربی الفاظ میں اداکرتے ہیں اور اللہ کی آخری الہامی کتاب قرآن مجید کی عربی زبان میں تلاوت کرتے ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*