قضا وقدر پر ایمان ( تحرير: كرم الله عبد الرؤف المدني)

قضا وقدرکا عقیدہ ایمان کا چھٹا رکن ہے جس کو سمجھنا ، اس کی باریکیوں سے آگہی حاصل کرنااوراس پرایمان لانا ہرمسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے ،بالخصوص آج کے اس پرفتن دورمیں قضاوقدرکا مسئلہ نوجوان نسلوں کے ذہن ودماغ میں کئی طرح کے اشکالات اورالجھنیں پیدا ہورہاہے ۔زیرنظر مضمون میں عالم اسلام کے مشہور فقیہ علامہ محمدبن صالح العثیمین نے اس موضوع پرتشفی بخش بحث کی ہے۔ موضوع کی اہمیت کے پیش نظرراقم سطورنے اس کی تلخیص اور ترجمانی پیش کرنے کی کوشش کی ہے :

قضاءوقدر پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس بات پر ایمان لائیں کہ اللہ تعالی نے دنیا و آخرت میں وجود میں آنے والی ساری چیزوں کو اپنے کامل ومکمل علم کے مطابق مقدر کر رکھاہے ۔ علمائے کرام کا کہنا ہے کہ قضاءوقدر پر ایمان لانے کے چار مراتب ہیں۔

پہلا مرتبہ علم: یعنی آپ اس بات پر ایمان رکھیں کہ اللہ تعالی ہر چیز کو اجمالی اورتفصیلی طورپر بحسن وخوبی جانتا ہے للہ تعالی کا فرمان ہے﴾ وَعِندَہُ  مفاتيح الغيب لا يعلمها إلا هو ويعلم ما في البر والبحر وما تسقط من ورقة إلا يعلمها ولا حبة في ظلمات الأرض ولا رطب ولا يابس إلا في كتاب مبين  ﴿ (سورہ انعام آیت نمبر: 59)

”اور اللہ تعالی ہی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں، ان کو کوئی نہیں جانتا بجز اللہ کے اور وہ تمام چیزوں کو جانتا ہے جو کچھ خشکی میں ہیں اور جو کچھ دریاوں میں ہیں اور کوئی پتانہیں گرتا مگر وہ اس کو بھی جانتا ہے اور کوئی دانہ زمین کے تاریک حصوں میں نہیں پڑتا اور نہ کوئی خشک چیز گرتی ہے مگر یہ سب کتاب مبین میں ہیں“۔

اور فرمان الہی ہے:﴾ اَم یَحسَبُونَ اَنَّا لَا نَسمَعُ سِرَّہهم وَنَجوَاہُم بَلَی وَرُسُلُنَا لَدَیہهم یَکتُبُونَ﴿(سورہ زخرف آیت نمبر: 80) ”کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتوں کو نہیں جانتے اور انکی سرگوشیوں کو نہیں سنتے یقینا ہم برابر سن رہے ہیں بلکہ ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس لکھ رہے ہیں” ۔

دوسرا مرتبہ/کتابت (لکھنا): یعنی آپ اس بات پر ایمان لائیں کہ اللہ تعالی نے زمین و آسمان بنانے سے پچاس ہزار سال پہلے ہر چیز کی تقدیریں لکھ دیںجوقیامت تک رونما ہونے والی ہیں،چنانچہ ہر وہ چیز جو دنیا میں رونما ہوچکی ہیں یا ہونے والی ہیں ،سب کی سب زمین و آسمان کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے لکھی جاچکی ہیں۔

 اللہ تعالی نے جب قلم کو پیدا کیا تو اس کو لکھنے کو کہا،قلم نے پوچھا : میں کیا لکھوں؟ اللہ نے حکم دیا:لکھ ڈالو جو کچھ ہونے والا ہے چنانچہ قلم نے اسی وقت قیامت تک ہونے والی ساری چیزوں کو لکھ ڈالا“۔ (سنن ابی داود4700 )

اسی لیے جو انسان کو مل گیا وہ اس سے چوکنے والا نہ تھا اور جو نہ ملا وہ اسکو ملنے والا نہ تھا، اللہ تعالی کا فرمان ہے ﴾ مَا اَصَابَ مِن مُّصِیبَةٍ فِی الاَرضِ وَلَا فِی اَنفُسِکُم اِلَّا فِی کِتَابٍ مِّن قَبلِ اَن نَّبرَاَہَا  اِنَّ ذَلِکَ عَلَی اللَّه یَسِیر ﴿ (سورہ حدید آیت نمبر:22) “نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے نہ(خاص) تمہاری جانوں میں مگر اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں وہ ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے،یہ (کام ) اللہ تعالی پر (بالکل) آسان ہے“۔

علماء نے کتابت کی چند قسمیں بیان کی ہیں۔

کتابتِ عامہ (عمومی کتابت) اور کتابت کی یہ قسم لوحِ محفوظ سے عبارت ہے۔

کتابتِ عمریہ(عمر کی طرف منسوب ) اور یہ وہی قسم ہے جو بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتے وقت لکھا جاتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود  کا بیان ہے کہ رسول اللہ نے ہمیں بتایا : تم میں سے ہر ایک آدمی کا مادہ تخلیق اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ کی صورت میں رہتا ہے،پھر چالیس دن بعد منجمد خون بن جاتا ہے،پھر چالیس دنوں بعد گوشت کے لوتھڑے کی شکل اختیار کرلیتا ہے،پھر اس کی طرف فرشتہ بھیجا جاتا ہے جس کو چار باتیں لکھنے کا حکم دیا جاتاہے،اس کی روزی، موت، اعمال اور آیا یہ شخص بدبخت ہوگا یا نیک بخت‘’ ۔ ( بخاری مسلم )

غرضیکہ انسان جب اپنی ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اسی وقت اس کی روزی،عمر،عمل اور نیک بخت یا بدبخت ہونا لکھ دیا جاتا ہے۔

کتابتِ حولیہ (سالانہ کتابت): یہ شب قدر کو انجام پاتا ہے کیونکہ شب قدر میں سال بھر ہونے والے امور کو تفصیلی طورپر لکھ دیاجاتاہے جیساکہ فرمان الہی ہے﴾ ِنَّا اَنزَلنَاہُ فِی لَیلَةٍ مُّبَارَکَةٍ اِنَّا کُنَّا مُنذِرِینَ فِیہَا یُفرَقُ کُلُّ اَمرٍ حَکِیم﴿ ٍ(سورہ دخان آیت نمبر۳،۴) ” یقینا ہم نے اسے بابرکت رات(شب قدر) میں اتارا ہے۔ بیشک ہم ڈرانے والے ہیں، اسی رات میں ہر ایک مضبوط کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے”

کتابت یومیہ: (یومیہ کتابت) جس میں انسان کے روزمرہ کے اعمال لکھے جاتے ہیں کیونکہ انسان نوشتہ تقدیر کے مطابق ہی عمل کرتا ہے خواہ اس کے حق میں ہو یا اس کے خلاف جیساکہ فرمان باری تعالی ہے﴾وَاِنَّ عَلَیکُم لَحَافِظِینَ کِرَاماً کَاتِبِینَ یَعلَمُونَ مَا تَفعَلُونَ﴿(سورہ انفطارآیت نمبر: 10۔12) ” یقینا تم پر نگہبان لکھنے والے (فرشتے )مقرر ہیں جو کچھ تم کرتے ہو اسے وہ جانتے ہیں۔”

اور اللہ تعالی کا فرمان ہے ﴾وَلَقَد خَلَقنَا الاِنسَانَ وَنَعلَمُ مَا تُوَسوِسُ بِہِ نَفسُہُ وَنَحنُ اَقرَبُ ا ِلَیہِ مِن حَبلِ الوَرِيد إذ یَتَلَقَّی المُتَلَقِّیَانِ عَنِ الیَمِینِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِید مَا یَلفِظُ مِن قَولٍ اِلَّا لَدَیہِ رَقِیب عَتِید ﴿ (سورہ ق آیت نمبر:16۔18) “ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے دل میں جو خیالات اٹھتے ہیں ان سے ہم واقف ہیں اور ہم اسکی رگ جان سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں جس وقت دو لینے والے جاتے ہیں ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف بیٹھا ہوا ہے(انسان) منہ سے کوئی لفظ نکال نہیں پاتا مگر یہ کہ اس کے پاس نگہباں تیار رہے۔”

لیکن یہ کتابت گذشتہ دیگر کتابتوں سے جد ا ہے کیونکہ گذشتہ کتابتیں اب تک نہیں کیے گیے امور سے تعلق رکھتی ہیں اور یہ کتابت کرگزرنے کے بعد سے تعلق رکھتی ہے تاکہ اس کو اس پر بدلہ دیا جائے۔

کتابت ملائکہ : (فرشتوں کا لکھنا) جو بروزِ جمعہ مسجدوں کے دروازوں پر انجام پاتا ہے،جمعہ کے دن مسجد کے دروازوں پر فرشتے ہوتے ہیں جو یکے بعد دیگرے آنے والوں کے نام لکھتے رہتے ہیں چنانچہ جو پہلی گھڑی میں آتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اونٹ کی قربانی پیش کی،دوسری گھڑی میں آنے والا گائے کی قربانی،تیسری گھڑی میں آنے والابھیڑ کی،چوتھی گھڑی میں آنے والا مرغی کی ، پانچویں گھڑی میں آنے والاانڈا کی اورجو امام کے نکل آنے کے بعد آتا ہے اس کے لیے آگے آنے کا ثواب نہیں ہے کیونکہ امام اس پر سبقت لے جا چکا اور جب امام (خطبہ دینے کے لیے منبر  پر ) حاضر ہوجاتا ہے تو صحیفے لپیٹ دیئے جاتے ہیں اور فرشتے خطبہ سننے لگ جاتے ہیں“ ۔ (بخاری مسلم) (جاری )

 

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*