دریائے مغفرت

 اسلام الدین ریاضی

(( قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ….))إل

( الزمر53,54)

ترجمہ: ” کہہ دو کہ اے میرے بند و! جنہوںنے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاو ،بالیقین اللہ تعالی سارے گناہوں کو بخش دیتاہے ،واقعی وہ بڑی بخشش، بڑی رحمت والاہے۔تم اپنے پروردگارکی طرف جھک جاو¿اوراسکی حکم برداری کیے جاو¿ اس سے قبل کہ تمہارے پاس عذاب آجائے اورپھر تمہاری مدد نہ کی جائے۔“

تشریح: ان آ یات بیّنات میں اللہ تعالی کی مغفرت وبخشش کی وسعت کا بیان ہے  او ران گنہگاروں کے لیے خوشخبری ہے جنہوں نے اپنے اوپرظلم کیاہے ۔اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی میں حدسے تجاوزکیاہے کہ اپنے گناہوں پرنادم وپشیمان ہوکر توبةالنصوح کر کے اپنے رب کی رحمتوں او رمغفرتوں کے مستحق بن جائیں ،کیوں کہ اللہ تعالی تمام گناہوں کومعاف کرنے والابخشنے والاہے۔اگرچہ گناہ سمندر کی جھاگ کے برابرہی کیوں نہ ہو۔ رب العالمین اپنے بندوںپر کس قدر رحیم وکریم ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ وہ صرف گناہوں کوبخشنے کاوعدہ ہی نہیںکرتا بلکہ گنہگاروں کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل نے کا بھی وعدہ فرماتاہے،اللہ تعالی کا فرمان ہے: ترجمہ: ”سوائے ان لوگوں کے جوتوبہ کریںاورایمان لائیںاور نیک کام کریں ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالی نیکیوں میں بد ل دیتا ہے ۔“الفرقان :70 اس کی تائیداس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”میں اس آدمی کوجانتاہوں ،جوسب سے آخرمیںجنت میں داخل ہوگا،اورسب سے اخیرمیں جہنم سے نکلنے والاہوگا۔یہ وہ آدمی ہوگا جس پرقیامت کے دن اس کے چھو ٹے چھوٹے گناہ پیش کئے جائیں گے ،بڑے گناہ ایک طرف رکھ دیئے جائیں گے ،اسے کہاجائے گاکہ تونے فلاں دن فلاں کام کیاتھا؟وہ اثبات میں جواب دے گا،انکار کی اسے طاقت نہیں ہو گی، وہ اس بات سے بھی ِڈررہا ہو گاکہ ابھی توبڑے گناہ بھی پیش کئے جائیں گے کہ اتنے میں اس سے کہاجائے گا” جا!تیرے لیے ہربرائی کے بد لے ایک نیکی ہے،اللہ تعالی کی یہ مہربانی دیکھ کر وہ کہے گا ،کہ ابھی توبہت سے اعمال ایسے ہیں جنہیں میں یہاں نہیں دیکھ رہاہوںیہ بیان کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔(صحیح مسلم کتاب الایمان )  اللہ تعالی کی ر حمت ومغفرت اس کی قہاریت وجباریت پر غالب ہے۔کےوں کہ توبہ واستغفار کا درواز ہ بڑاہی وسیع وعریض ہے اور قیامت کی صبح تک کھلا رہے گا۔جیسا کہ رب کافرمان ہے: ”جوشخص کوئی برائی کرے یااپنی جان پرظلم کرے پھراللہ سے توبہ و ا ستغفا ر کرے تووہ اللہ کو بخشنے والا نہایت مہربان پائے گا ۔“ (النساء110 )  پتہ یہ چلا کہ اگرانسان اپنے گناہوں پرنادم وشرمندہ ہوکر اپنے رب کے دربار میں حاضر ہوکرعجزوانکساری کے ساتھ سچی تو بہ کرلے تورب غفور نہ صرف اسکی تو بہ کوہی قبول کرے گا بلکہ اس کی تمام برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے گا۔اسی لیے اگلی آیت میں بڑی سخت تنبیہ فرمادی :”اے لوگو اپنے رب کے سامنے جھک جاﺅ اورمطیع وفرماں بردار بن جاﺅ قبل اس کے کہ تم کو اللہ کا عذاب اپنی گرفت میں لے لے، اور پھرتمہاری مدد ونصرت نہ کی جاسکے۔ دعاہے کہ رب کائنات ہمیں توبہ واستغفارکی توفیق مرحمت فرمائے ۔ آ مین

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*