بدلے کا بہتر بدلہ

 مولانامقصودالحسن فیضی

عن ابی قتادة وابی الدھماءقالا کانا یکثران السفر نحو ھذا البیت قالا : اتینا الی رجل من اھل البادیة فقال البدوی :اخذ بیدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجعل یعلمنی مما علمہ اللہ تبارک وتعالی وقال : انک لن تدع شیئا اتقاءاللہ عزوجل الا اعطاک اللہ خیرا منہ       (مسند احمد5/76، السنن الکبری 5/335)

ترجمہ :حضرت ابو قتادہ اور ابو دھماء رحمہما اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ ایک صحرا نشین کے پاس آئے جس نے ہم سے بیان کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر بعض وہ باتیں سکھلانے لگے جو اللہ تعالی نے آپ کو سکھلائی تھیں ، انہیں میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یقین مانو کہ اللہ تعالی کے ڈر سے تو جوکوئی عمل ترک کرے گا اللہ تعالی تجھے اس سے بہتر چیز عطا فرمائے گا۔“

 تشریح: یہ پیاری حدیث نبوی ہر متقی مومن کے لیے ایک بہترین الہی تحفہ ہے ، اس میں مومن کے لیے تسلی و اطمینان کا سامان ہے کہ ہر وہ چیز جسے اللہ تعالی نے اس پر حرام قرار دیا ہے یا ہے تو حلال لیکن اخروی طور پر اس کے ترک میں ہی اس کے لیے خیر ہے ، لہذا اگر کوئی مومن بندہ اس چیز کو چھوڑ دیتا ہے یا کسی اور کو اپنے اوپر ترجیح دیتا ہے تو اللہ تعالی اس کا بدلہ جلدی یا دیر میں اس سے بہتر اور عمدہ چیز کی صورت میں دیتا ہے۔ اس فرمان نبوی کی تہہ تک پہنچنے اور اس سے مکمل طور پر مستفید ہونے کے لیے اس حدیث کے تینوں حصوں پر غور کرناضروری ہے۔ [۱] ترک کرتا ہے : اس کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اس کو عملی جامہ پہنا دینے پر پوری قدرت رکھتا ہے ، اور اس پر عمل کرنا اس کے بس سے باہر نہیں ہے ، جیسے ایک شخص زنا پر قدرت رکھتا ہے اور زنا کے اسباب اس کے پاس مہیا ہیں ، لیکن قدرت کے باوجود بندہ زنا نہیں کرتا تو وہ اس اجر کا مستحق ہے ، اسی طرح ایک بندے کو غصہ آتا ہے اور اپنے غصے کو عملی جامہ پہنا دینے پر وہ قدرت بھی رکھتا ہے ، لیکن وہ غصہ پی جاتا ہے ، اسی طرح ایک شخص کے پاس فخر و مباہات کے سامان موجود ہیں ، اس کے باوجود تواضع و انکساری سے کام لیتا ہے تو وہ اس اجر کا مستحق ہے، البتہ وہ شخص جس کے پاس زنا کے وسائل نہیں ہیں ، وہ کمزور ہے ، غصہ کی حالت میں اپنے مخالف سے بدلہ نہیں لے سکتا یا اس کے پاس فخر ومباہات کے سامان مہیا ہی نہیں ہیں تو وہ اس اجر کا مستحق نہ ہوگا ، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اسے اجر نہیں ملے گا ، ایسا نہیں بلکہ اس حدیث میں وارد انعام سے وہ محروم رہے گا۔ [۲] اللہ کے ڈر سے : یہ جملہ بھی بہت اہم ہے کیونکہ بسا اوقات ایک شخص بہت سے گناہ کے کام اس لیے ترک کرتا ہے کہ اس عمل کی طرف اس کا میلان ہی نہیں ہوتا ، یا اس کے پاس اس گناہ کے وسائل ہی نہیں ہوتے، یا اس کام کو لوگوں کے خوف سے یا اپنے کسی دنیاوی فائدہ یا دنیاوی نقصان سے بچنے کے لیے ترک کررہا ہے وغیرہ وغیرہ، تو ایسا شخص بھی اس اجر عظیم کا مستحق نہ ٹھہرے گا۔جیسے ایک شخص فطری شہوت والا نہیں ہے یا غریب و فقیر ہونے کی وجہ سے یا بدصورت و کمزور ہونے کی وجہ سے اسے زنا کا موقعہ نہیں ملتا، یا اپنی بے عزتی ، یا دنیاوی سزا کے خوف سے وہ زنا نہیں کرتا ، اسی طرح اس شخص کو غصہ تو آتا ہے لیکن کمزوری یا کسی دنیاوی مجبوری کی وجہ سے اپنے غصہ کو نافذ نہیں کرسکتا وغیرہ وغیرہ تو ایسا شخص بھی اس اجر عظیم کا مستحق نہ ٹھہرے گا۔ انہیں دونوں باتوں کو اس فرمان الہی میں واضح کیاگیا ہے : ” اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کا خوف کھائے اور اپنے نفس کو خواہش سے روکے تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے“۔

نیز نبی صلى الله عليه وسلم  کا ارشاد ہے : جو شخص اپنے غصے کو پی گیا حالانکہ اگر وہ نافذ کرنا چاہتا تو اسے نافذ کرسکتا تھا تو اللہ تعالی قیامت کے دن اسے تمام مخلوقات کے سامنے بلائے گا اور اسے اختیار دے گا کہ جنت کی جتنی حوروں سے شادی کرنا چاہے شادی کرلے۔    (سنن اربعہ ، بروایت معاذ بن انس )۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ جو شخص [ عمدہ اور فخر و مباہات کے ] لباس کو بطور خاکساری کے اللہ کے لیے چھوڑ دیتا ہے ،حالانکہ وہ اس لباس کو استعمال کرسکتا تھا توا للہ تعالی قیامت کے دن اسے تمام مخلوق کے سامنے یہ اختیار دیگا کہ ایمان کے جس جوڑے کو چاہے زیب تن کرلے۔ ( سنن الترمذی ، مستدرک الحاکم ، بروایت معاذ بن انس) [۳] اللہ تعالی اسے اچھا بدلہ دے گا : یہ بدلہ مادی بھی ہوسکتا ہے اور معنوی بھی ، فوری بھی ہوسکتا ہے اور تاخیر سے بھی ، دنیا میں بھی ہوسکتا ہے اور آخرت میں بھی ، جس چیز کو چھوڑا ہے اسی کے جنس سے بھی ہوسکتا ہے اور اس کے علاوہ کسی اور صورت میں بھی ، جیسا کہ متقدمین و متاخرین کی بہت سی مثالیں قرآن و حدیث اور سلف کے تذکرے میں موجود ہیں ، چنانچہ حضرت سلیمان ںنے جہاد کے لیے تیار کردہ گھوڑوں کو صرف اللہ تعالی کے لیے چھوڑا تو اللہ تعالی نے انہیں ہوا کی نعمت سے نوازا جس کے ذریعہ ایک ماہ کی مسافت صرف صبح کے وقت یا شام کے وقت طے کرلیا کرتے تھے ، حضرت یوسف ںنے اللہ تعالی کے لیے اپنی شہوت کو قابو میں رکھا تو انہیں پورے مصر کی حکومت حاصل ہوگئی وغیرہ وغیرہ۔ اور یہی کیا کم ہے کہ اگر ایمان زندہ ہے تو کسی بھی برائی کے ترک پر ایک مومن افسوس نہیں کرتا بلکہ اسے سکون و اطمینان کی نعمت حاصل ہوتی ہے۔

فائدہ:

1-اس امت پر اللہ تعالی کا فضل عظیم ہے۔

 2- انسان اگر گناہ کا کام بھی اللہ تعالی کی رضا کے لیے چھوڑ دیتا ہے تو اللہ تعالی اس سے بہتر چیز عطا فرماتا ہے

 3-جو انسان جیسا کرتا ہے اسے اس کا ویسا ہی پھل ملتا ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*