عراق کے شہر ار سے اترا کھنڈ کے کیدارناتھ تک

محمد آصف ریاض

imagesجون کے مہینہ میں ہندوستان کی پہاڑی ریاست اتراکھنڈ میں تباہ کن سیلاب آیا۔ ہرطرف تباہی کامنظرتھا۔ آسمان سے بجلیاں گررہی تھی۔ پہاڑکی چٹانیں کھسک رہی تھیں۔ بادل پھٹ رہے تھے اوربستیاں غرق ہورہی تھیں۔ اس سیلاب کی زد میں آکرہزاروں لوگ مارے گئے۔ درجنوں بستیاں غرق آب ہوئیں۔ سیلاب کا حملہ اتنا شدید اورمنصوبہ بند تھا کہ آدمی کے لیے جان پچانا مشکل تھا۔ سیلاب نے شہرکی مورچہ بندی کررکھا تھااورگاﺅں اورشہروں کے تقریباً پانچ سو راستے کاٹ دئیے تھے۔ کوئی شخص نہ باہرنکل سکتاتھا اورنہ اندرداخل ہوسکتا تھا۔ لوگ جان بچانے کے لیے پہاڑوں پرچڑھ رہے تھے اوروہاں آسمان کا پانی انھیں نگل رہا تھا ،پھرجب وہ بھاگ کرزمین پرآتے تویہاں انھیں زمین کا پانی غرق کررہا تھا۔ اس سیلاب کی زد میں آکراترکاشی، کیدارناتھ اور رودرپریاگ کے علاقے پوری طرح تباہ ہوگئے۔

کیدارناتھ:

کیدارناتھ کومندروں کاشہرکہاجاتاہے۔ یہاں ہندوستان اوردنیابھرکے عقیدتمند آتے رہتے ہیں۔ یہ شہرسیلاب کی زد میں آکرپوری طرح تباہ ہوگیا۔ ہزاروں لوگ مارے گئے اورتقریباً تمام دیوی دیوتااس سیلاب میں غرق ہوگئے۔ البتہ ان میں کا ایک بڑابچ گیا۔ یعنی کیدارناتھ مندرکا بت محفوظ رہا۔ لیکن اس حالت میں کہ وہاں سینکڑوں ٹن ملبہ جمع تھا۔
لوگوں کا تبصرہ:لوگوں نے اس تباہ کن واقعہ پرکئی قسم کے تبصرے کئے۔ کچھ لوگوں نے اسے ریج آف ماﺅنٹین یعنی پہاڑ کاغصہ کہا تو کچھ لوگوں نے اسے ریج آف نیچر کا نام دیا۔ کچھ لوگوں نے اس کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ لیکن حیرت انگیزبات یہ ہے کہ کسی نے اس ہولناک واقعہ کے لیے دیوتاﺅں کوذمہ دارنہیں ٹھہرایا۔ ایک صاحب نے مجھ سے کہا کہ چونکہ اس تباہ کن حملہ میں سب سے بڑے دیوتابچ گئے ہیں اس لیے ان کا دیوتا ہونا ثابت ہوا۔

میراجواب:

دیوتااس لیے نہیں بچ گئے کہ وہ اپنے آپ کوبچانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ اگروہ اپنے اندراس کی صلاحیت رکھتے تووہ ضروراپنے شریک دیوتاﺅں کوبھی بچا لیتے اوروہ انھیں بھی بچالیتے جوان کی پرستش کے لیے ملک کے دوردرازعلاقوں سے مصیبت اٹھاکرآئے تھے، جن میں بچے بوڑھے اورعورتیں سبھی شامل تھے۔ اوراگر اسی بڑے دیوتانے سب کوڈبویا تویہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی دیوتااپنے ہی شریک اورفولورکوتباہ کردے۔ کوئی بادشاہ اپنے ہاتھوں سے اپنی بادشاہت کوتباہ نہیں کرتا۔ پھردیوتا خود اپنے ماتحت دیوتاﺅں کوکیوں تباہ کرنے لگے؟
ان میں کا سب سے بڑا اس لیے بچا لیا گیا تا کہ آپ ان سے پوچھیں کہ اے دیوتا، جب لوگ ڈوب رہے تھے اوران پر زمین وآسمان کی طرف سے تابڑ توڑحملے ہورہے تھے توآپ کہاں تھے؟ لوگوں کی بات چھوڑئیے، جب خود آپ کے شریک دیوتاڈوب رہے تھے توآپ انھیں بچانے کے لیے کیا کررہے تھے؟دیکھئے وہ کیا جواب دیتے ہیں؟ وہ کوئی جواب نہیں دیں گے۔ کیونکہ وہ بت ہیں ۔ وہ آپ کی اچھائی برائی کے مالک نہیں ہیں۔ اگروہ آپ کی اچھائی اوربرائی کے مالک ہوتے تووہ ضروراپنی اورآپ کی مدد کوآتے۔

شہرارمیں ابراہیم کاواقعہ:

آج سے چار ہزار سال قبل عراق کا قدیم شہر ار بھی اتراکھنڈ کی طرح دیوی دیوتاﺅں کا شہربناہواتھا۔ یہاں لوگ دوردرازسے بتوں کی پوجاکرنے آتے تھے۔ یہاں ہرسال میلہ لگایا جا تا تھا۔ اوریہ لوگوں کے لیے کمائی کا ایک بہترین ذریعہ بن گیا تھا۔ حضرت ابراہیم ںکے والد بھی بت بناتے تھے اورانھیں شہروں میں فروخت کرکے پیسہ کماتے تھے۔ ابراہیم ںنے انھیں سمجھا یا اورکہا کہ اے میرے باپ جنھیں آپ اپنے ہاتھوں سے بناتے ہیں وہ دیوتا کیوں ہوگئے؟
ابراہیم عليه السلام نے لوگوں کوسمجھا ناشروع کیا کہ یہ دیوتاجنھیں تم خود اپنے ہاتھوں سے بناتے ہووہ تمہاری اچھائی اوربرائی کے مالک نہیں ہیں۔ لیکن برسوں کی کنڈیشننگ کی وجہ سے لوگوں کے دماغ میں بتوں کاخوف بیٹھ گیاتھا۔ ابراہیمں نے اس خوف کوختم کرنے کےلئے ایک دن چند چھوٹے بتوں کو توڑدیا اوران میں جوبڑاتھا اسے سلامت چھوڑدیا تاکہ لوگوں پر بتوں کا بت ہونا کھل جائے۔ لوگوں نے پوچھا، تم نے ہمارے بتوں کے ساتھ یہ کام کیا ہے اے ابراہیم؟ ابراہیم عليه السلام  نے جواب دیا مجھ سے کیوں پوچھتے ہوبتوں کے بڑے ابھی باقی ہیں ان سے پوچھ لو۔ لوگوں نے کہا کہ یہ بت ہیں ابراہیم ! یہ بولتے نہیں۔ ابراہیمں نے جواب دیا پھران کی پرستش کیوں کرتے ہوجونہ بولتے ہیں نہ سنتے ہیں اور نہ ہی تمہارے کام آسکتے ہیں۔ پہلے تو لوگ شرمندہ ہوئے پھران کے بڑوں نے انھیں مشتعل کیا کہ اپنے بتوں کی مدد کروانھیں بچاﺅ۔ لوگوں نے ابراہیم عليه السلام کی بات پرسنجیدگی سے غورکرنے کے بجائے اپنے بڑوں کی بات کو پکڑ لیا اور ابراہیم عليه السلام کوجلانے کا منصوبہ بنانے لگے۔
ابراہیم عليه السلام  اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبر تھے۔ عراق کے شہرارمیں اللہ نے ابراہیم عليه السلام کومداخلت کے لیے چنا تھا۔ اللہ ابراہیم عليه السلام کے ذریعہ سے لوگوں کے دل و دماغ کو بدلناچاہتا تھالیکن بجائے اس کے کہ لوگ اپنا دل دماغ بدلتے اور ابراہیم کے سنجیدہ پیغام پرغوروخوض کرتے انھوں نے نعرہ لگانا شروع کردیا کہ بتوں کی مدد کرواورابراہیم کوجلا دو۔

اللہ کا پیغام:

عراق کے شہر ار میں اللہ نے اپنے پیغمبرکے ذریعہ مداخلت کرایا اوراب چونکہ کوئی پیغمبرآنے والا نہیں اس لیے اللہ نے کیدارناتھ میں خود برارہ راست مداخلت کوضروری سمجھا اوران میں ایک بڑے کوچھوڑکر سارے دیوی دیتاﺅں کوغرق کردیا تاکہ لوگ اس بڑے سے پوچھیں کہ اگرتم دیوتا تھے تواس تباہی کے وقت کیاکررہے تھے؟ تم نہ اپنا بچاﺅکرسکے اورنہ ہمارے بچوں کاتوپھرتم دیوتا کس طرح ہوسکتے ہو؟ ہم تمہاری پرستش سے باز آئے۔ ابراہیمں کے واقعہ سے اللہ کا منشا یہی تھا اورکیدار ناتھ کے واقعہ سے بھی اللہ یہی چاہتا تھا۔
لیکن یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ لوگوں نے نہ ارکے واقعہ سے کوئی سبق لیااورنہ کیدارناتھ واقعہ سے کچھ سیکھا۔ وہاں بھی لوگوں نے بتوں کی تباہی کے بعد یہی نعرہ لگایاکہ بتوں کی مدد کرواورانھیں پھرسے ان کی پوزیشن پرلاﺅاوریہاں بھی لوگ یہ نعرہ لگا رہے ہیں کہ بتوں کوان کی پوزیش پرایستادہ کروان کی مدد کرو۔
توجوخود اپنی پوزیشن طے نہیں کرسکتے اوراپنی پوزیشن کے لیے آپ کے محتاج ہیں،وہ آپ کے دیوتا کس طرح ہوسکتے ہیں؟ بتاﺅجوپوزیشن طے کرنے والاہے وہ بڑاہے یاجس کی پوزیشن طے کی جارہی ہے وہ؟ صحیح بات یہ ہے کہ بتوں کی پرستش انسان کی خود اپنی تذلیل ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*