مضان اور اس کے بعد …. !!

محمد آصف اقبال 
maiqbaldelhi.blogspot.com

7كسی کام کی ابتدا کی جائے یا کسی کام کو مخصوص طور پر انجام دیا جائے، پھر اس میں بھرپور صلاحیتیں صرف کی جائیں،اپنا مال اور وقت لگایا جائے اور جس مقصد کے تحت وہ کام انجام دیا جا رہا ہو اس کو پانے کی مکمل سعی بھی کی جائے ، لیکن جب مقصد حاصل ہونے لگے اورانسان اس کام کو انجام دینے کے نتیجہ میں کامیابی سے ہمکنار ہونے کے قریب آ لگا ہو کہ اچانک اس پر ایک ایسا وقت گزر ے کہ وہ اس سے فیض یاب نہ ہو سکے اور جو کچھ اس نے حاصل کیا تھا وہ کوئی فائدہ نہ دے سکے، تو ایسے لمحہ اس پر کیا گزرے گی؟

ایک مثال:

ایک گھر جس کو بنانے والے نے خوب ہی اچھی طرح بنانے کا نظم کیا ہو،ہر طرح کے لوازمات سے آراستہ کیا ہو، مضبوط ستونوں کے خوبصورت ترین گھر کی جب تیاری مکمل ہو جائے کہ بنانے والا دماغ کھو بیٹھے اور وہ اس کی آسائشوں سے محروم ہو جائے ! ایسا وقت دیکھنے والوں کے لیے اور خود اس کے لیے کس قدر عبرتناک ہوگا؟ ایک اور مثال جو اللہ تعالیٰ خود دیتا ہے، کہا کہ: “تمہاری حالت اس عورت کی سی نہ ہو جائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا” (النحل:92)۔غور کریںاس عورت کی دماغی حالت کیا ہوگی۔کیا ایسی عورت کی دماغی حالت ٹھیک ہو سکتی ہے؟ اس مثال سے ذرا قبل ان معاہدات کا تذکرہ کیا گیا ہے جن کا تعلق اللہ سے بھی ہے اور انسانوں سے بھی۔ متوجہ کیا گیا ہے کہ ہم وہ طرز عمل نہ اختیار کریں جو دماغی حالت کے خراب لوگ کیا کرتے ہیں۔ غور کرنے کا مقام ہے ہمارے لیے ایسے موقعہ پر جب کہ ابھی چند دن پہلے ہم نے رمضان المبارک کی رحمتوں اور برکتوں سے فائدہ اٹھایا ہے اور جس طرح ہم نے رمضان المبارک کے شب و روز گزار ے ، کیا ان حالات میں ہم نے اللہ رب العزت سے کچھ عملی معاہدات نہیں کیے؟ اور اگرکیے تو کیا اور کس طر ح کیا؟

ماہ تربیت :
مضان المبارک ماہِ تربیت ہے ۔ اس ماہ میں مسلمان روزہ رکھتے ہیں اور قرآن سے اپنے تعلق کو استوار کرتے ہیں۔ روزہ کو عربی میں صوم کہا گیا ہے جس کے معنی رکنے اور احتراز کے آتے ہیں۔ اصل میں یہ لفظ گھوڑے کے لیے استعمال ہوتا ہے جو چلنے سے رک گیا ہو۔ امام راغبؒ فرماتے ہیں: “صوم کی حقیقت کسی کام سے رکنا ہے، اسی لیے اس گھوڑے کو جو چلنے سے رک گیا ہو صائم کہتے ہیں”۔مگر اصطلاحی شریعت میں لفظ صوم ایک مخصوص معنی میں مستعمل ہے۔ وہ یہ کہ مکلف آدمی کا نیت کے ساتھ طلوع فجر سے غروب آفتاب تک کھانے، پینے اور جنسی خواہشات کی تکمیل سے رکنے کا نام صوم ہے۔ اس کامقصد یہ ہے کہ بندہ¿ مومن‘ شعوری اور ارادی طور پر طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب تک ان تمام چیزوں سے رک جائے جو باقی اوقات میں اس کے لیے حلال ہوتی ہیں۔ دراصل اللہ رب العزت اس اہم عبادت کے ذریعے اپنے بندوں کو مکمل طور پر اپنے احکام کی پابندی کرنے کی تربیت کا موقع فراہم کرتا ہے۔ورنہ حلال اور حرام اشیاءکو شریعت اسلامیہ نے واضح کر رکھا ہے مگر رمضان المبارک میں حلال چیزوں سے بھی وقتی طور پر بندون کو روکنا، اسی اہم حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ دوسری بات جو سمجھ میں آتی ہے وہ یہ کہ الہی سند کے بغیر کسی بھی چیز کو حلال یا حرام قرار نہیں دیا جا سکتا اور یہ تمام انسانوں کے حد اختیار سے باہر ہے۔ اسلامی عبادت کے فلسفہ¿ فرضیت پر اگر ذرا بھی غور کیا جائے تو تمام عبادات کے اندر یہ روح مشترک نظر آئے گی کہ دراصل اللہ رب العالمین اپنے بندوں کو ان عبادات کے ذریعے اپنی بندگی کے انتہائی مقدس اور متبرک مقام تک لے جانا چاہتا ہے۔ روزے کے مقصد کے طور پر جو تقویٰ کا ذکر کیا گیا ہے، وہ دراصل یہی ہے کہ بندہ اپنے رب کے احکام کی بغیر کسی کوتاہی کے پیروی کرتا چلا جائے یہاں تک کہ وہ رب کا پسندیدہ اور مطلوب بندہ بن جائے۔ یہی تقویٰ کا اعلیٰ معیار ہے کہ بندہ اپنے رب کے اوامر پر کاربند اور نواہی سے مجتنب ہواور یہی تربیت روزے کے ذریعہ دی جاتی ہے۔
ماہ قرآن :
رمضان المبارک ہی وہ با برکت مہینہ ہے جس میں قرآن کا نزول ہوا۔اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ اس ماہ میں دنیا بھر کے مسلمان قرآن سے اپنا عملی تعلق استوار کر لیتے ہیں۔ قرآن پڑھتے ہیں، سنتے ہیں، اس پر عمل کرتے ہیں، اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کی سعی و جہد کرتے ہیں، اس کو اپنے گھر اور محلہ میں قائم کرتے ہیں ، ان تمام چیزوں سے پرہیز کرتے ہیں جن سے رکنے کا حکم دیا گیا ہے اور ان تمام چیزوں پر عمل کرتے ہیں جن پر عمل آوری کا حکم دیا گیا ہے۔پھر اللہ رب العزت سے اپنے تعلق کو قائم کرنے کی ہر ممکن جدوجہد کرتے ہیں اور رب کی خوشنودی کی خاطر حدود کو پامال کرنے سے گریز کرتے ہیں۔رمضان المبارک میں مسلمانوں کی صورتحال یہ ہوتی ہے کہ وہ چلتا پھرتا قرآن بننے کی ہر ممکن جدوجہد کرڈالتے ہیں۔قرآن خود کہتا ہے کہ اس میں کھلی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جوحق کے متلاشی ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ حق صرف ایک ہے اور باطل کی مختلف شکلیں ہیں لہذا جو حق کو پا لے اس کا یہ کام نہیں کہ وہ پھر باطل میں مبتلا ہو جائے۔قرآن پر عمل پیرا افراد تو وہ ہیں جو حق اور باطل کو خوب اچھی طرح اپنے اعمال سے واضح کرنے والے ہوتے ہیں اور یہ صلاحیت ان میں قرآن سے اپنے مضبوط تعلق قائم کرنے کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔کہا کہ: “بھلا یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے؟اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کا( کلام)ہوتا تو اس میں (بہت سا) اختلاف پاتے” (النسائ:82)۔اس سے یہ بات بھی واضح ہوئی ہے کہ مسلمان کی زندگی میں اختلاف نہیں پایا جاتا، اس کا ہر عمل بہت واضح اور پاک ہوتا ہے، اس کے قول اور عمل میں تضاد نہیں ہوتا۔ اور اگر ایسا ہوتا ہے تو صرف اس لیے کہ وہ اللہ کا قول ہے جس پر مسلمان عمل در آمد کرتا ہے۔ہاں اگر یہ اللہ کا کلام نہ ہوتا تو اس میں ضرور اختلاف پایا جاتا، بالکل اسی طرح جس طرح کے دیگر آسمانی کتب میں جب لوگوں نے اپنی رائے شامل کی تو ہر ایڈیشن میں اختلاف رونما ہوگیا۔ اور اسی طرح ان خیالات اور ان افکار میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے جو کامیابی تک پہنچانے کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن کوئی واضح اور صاف راستہ کی نشان دہی نہیں کر پاتے۔اس لیے حامل قرآن کے لیے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہدایت ہے کہ :”اور جب قرآن پڑھا جائے تو توجہ سے سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے” (الاعراف:۴۰۲)۔اس سے ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ اس کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور دوسرا فائدہ یہ کہ اللہ تعالیٰ اس پر عمل کرنے میں آسانی فراہم کردے گا، نتیجہ یہ نکلے گا کہ اللہ کا اس بندہ پر رحم ہوگا اور وہ دنیا اور آخرت میں کامیابی سے ہمکنار ہوجائے گا،ان شاء اللہ۔

ہمارا رمضان کیسے گزرا ؟

اگرغورکیا جائے کہ ہم نے رمضان المبارک کے شب و روز کیسے گزارے تو معلوم ہوگا کہ ماہِ رمضان میںہم نے ہر وہ عمل کیا جس کا حکم ہم کو اللہ رب العزت نے دیا۔کہا کہ رات کے اندھیرے میں اٹھ کر کھاﺅ اور سحری کرو، تو ہم نے اس پر عمل کیا۔کہا کہ دن بھر گرمی برداشت کرتے ہوئے کچھ بھی کھاﺅ پیو نہیں، تو ہم نے اس پر عمل کیا۔ کہا کہ دن میں اپنی مصروفیت جاری رکھتے ہوئے روز مرہ کی زندگی معمول کے مطابق گزارو ،تو ہم نے اس پر عمل کیا۔ کہا کہ افطار کا وقت ہوتے ہی کھانا پینا شروع کر دو، تو ہم نے ایسا ہی کیا۔ کہا کہ رات میں مزید نمازوں کا اہتمام کرتے ہوئے تراویح کا اہتمام کرو، تو ہم نے ایسا ہی کیا۔کہا کہ اگر توفیق ملے تو مزید نمازوں کا اہتمام کرتے ہوئے تہجد کا اہتمام کرو، تو ہم نے اس پر بھی عمل کرنے کی سعی وجہد کی۔کہا کہ آخری عشرہ میں اعتکاف کا اہتمام کرو، تو جن کو توفیق ملی انھوں نے اس پر عمل کیا۔ کہا کہ شب قدر کی تلاش کرو اور اپنے گناہوں کو معاف کر والو، تو ہم نے ایسا ہی کیا ۔ کہا کہ اللہ کی رحمت اور مغفرت اور نار جہنم سے بچنے کے لیے جدوجہد کرو ،تو ہم نے ایسا ہی کیا۔کہا کہ اپنے مال و دولت کو پاک و صاف کرو اور زکوٰة کا اہتمام کرو ،تو ہم نے اس ماہ میں اس کا مخصوص اہتمام کیا۔ کہا کہ غریبوں ناداروں اور مسکینوں میں اپنے مال کو خرچ کرو اور انفاق فی سبیل اللہ کرو ،تو ہم نے ایسا ہی کیا۔ کہا کہ اپنی نفسانی خواہشات پر قابو پاﺅ،تو ہم نے اس کی بھی بھر پور کوشش کی۔کہا کہ حلال کمائی سے اپنے روزہ کو کھولو ،تو ہم نے ایسا ہی کیا۔ کہا کہ جھوٹ اور لغو باتوں سے پرہیز کرو ،تو ہم نے اس پر بھی عمل کیا۔کہا کہ معصیت کے کاموں سے بچو، تو ہم نے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی ۔کہا کہ قرآن پڑھو، سمجھو اور اس پر عمل کرو ،تو ہم نے ایسا ہی کیا اور کہا کہ رسول اللہ کی طرز زندگی کو اختیار کرو ،تو ہم نے اس کی بھی بھر پور سعی و جہد کی۔معلوم ہوا کہ ماہِ رمضان میں ہم نے ہر وہ کام کیا جس کا ہمارے ربِ اعلیٰ نے حکم دیا اور ہر اس کام سے بچنے کی کوشش کی جس سے روکا گیا ۔پھر اللہ رب العزت ہم سے خوش ہو گیا اور اس نے ہمیں توفیق بخشی کہ ہم نیک لوگوں کی صفات اختیار کرتے ہوئے اپنے شب و روز گزاریں ،سو ہم نے ایسا ہی کیا۔ اور پھر یہ بھی ہوا کہ اللہ نے ہمیں انعام سے نوازا، ہمیں عید الفطر کی شکل میں بے انتہا خوشیاں عنایت کیں اورہم نے دو رکعت نماز پڑھ کر اس کا شکریہ ادا کیا ۔رب اعلیٰ کی حمد و کبریائی بیان کی اور اس بات کا اپنے قول و عمل سے اعلان کیا کہ: اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد۔ ”نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے، تمام تعریفیں اس ہی کے لیے ہیں ،جو رب اعلیٰ ہے۔“

اور پھر اس کے بعد…!!

اب جب کہ انسان سے گندگی دور کردی گئی ہو، اب جب کہ اس کی روح پاک ہو چکی ہو، اب جب کہ اس کا نفس اس کے قابو میں آچکا ہو اور اب جب کہ نیکیوں پر عمل آسان ہو چکا ہو۔ ایسے لمحے گندگی میں پھر سے لت پت ہو جانا، روح کو پھر سے ناپاک بنا دینا، نفس مطم¿نہ کو نفس امارہ میں تبدیل کر دینا اور نیکوں کو برائیوں سے بدل لینا، کیا کوئی دانشمندی کی بات کہلائے گی؟نہیں کبھی نہیں، یہی جواب ہوگاہر اس عقل مند انسان کا جو ذرا بھی عقل رکھتا ہو۔رمضان المبارک میں نہ صرف ہم قول و عمل میں تضاد سے بچے بلکہ ہمارا قول بھی سچا تھا اور عمل بھی پاکی اور سچائی کی شہادت دے رہا تھا۔ ہم نے اپنی فکر کو تمام تر غلاظتوں سے پاک کیا، وہ تمام نظریات جو اللہ رب العزت کے احکام میں حائل ہوتے ہیں، ہم نے ان کو خیر آباد کہا۔وہ معیشت جو رب اعلیٰ کی نافرمانی کی جانب ہمارے قدموں کو بڑھا ئے چلی جارہی تھی ، ہم نے اس سے قطع تعلق کر لیا۔وہ سیاست جو رب اعلیٰ کے احکام کی بجائے انسانوں کے بنائے ہوئے احکاموں کی ہمیں پابند بنا رہی تھی اور جس کے نتیجہ میں ہمیں اللہ سے بغاوت کرنا پڑ رہی تھی، ہم نے اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔وہ معاشرہ جو ظلم و ناانصافی پر مبنی تھا اور جہاں قدم قدم پر لوگوں کے حقوق سلب کیے جا رہے تھے ، ہم نے اس کو صحیح رخ دینے کی عملی جدوجہد کی اور ثابت کر دکھایا کہ اللہ کے احکامات پر عمل کرنے سے معاشرہ خوشگوار بن سکتا ہے۔یہ سب کچھ ہم نے کیا لیکن اب، اس کے بعد !!
اب، اس کے بعد! پھر ہم اللہ کو حاضر ناضر جانتے ہوئے عہد کرتے ہیں کہ ہم نے جس طرح ماہِ رمضان میں اپنی زندگی کو گزارا ہے اسی طرح سال میں آنے والے آئندہ ماہ بھی گزاریں گے۔ رب اعلیٰ کے احکامات کو جتنا کچھ ہم نے سمجھا ہے اس پر عمل کریں گے، مزیدجاننے کی کوشش کریں گے۔اللہ کی کتاب کا نہ صرف مطالعہ کریں گے بلکہ اس کو جملہ مسائل کے حل کے طور پر اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذالعمل بنائیں گے۔دنیا میں آنے والی ہر آزمائش کا ثابت قدمی سے مقابلہ کریں گے۔اللہ کے دین پر خود بھی عمل پیرا ہوں گے اور بھٹکی ہوئی دنیا کو بھی قرآن و سنت کی روشنی سے صحیح راستہ دکھائیں گے۔
ایسے موقع پر آئیے عہد کریںکہ ! اپنی زندگی میں نماز کا مخصوص اہتمام کریں گے۔کسی بھی وقت کی نماز قضا نہیں کریں گے، اگر قضا ہو بھی گئی تو اس کو جلد از جلد ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔ قرآن کو اپنا دستور حیات بنائیں گے، اس کو پڑھیں گے اور اس کے لیے اپنے روز و شب میں سے کوئی مخصوص ٹائم ضرور طے کریں گے ،تاکہ اس کو سمجھیں اور اس میں مزید غور و فکر اور تدبر کرنے کا موقع مل سکے۔سیرت رسول کا مطالعہ کریں گے اورصحاح ستہ میں سے حدیث کی کسی ایک کتاب کا ترتیب کے ساتھ مطالعہ کریں گے۔لوگوں کے لیے امن و امان کا ذریعہ بنیں گے، اپنے رشتہ داروں، قرابت داروں اور جاننے والوں کے کام آئیں گے، ان کی مدد کریں گے،اور اس سب کے بدلہ ان سے کچھ نہ چاہیں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو” (آل عمران:139 )۔ اللہ کی زمین پر اللہ کی بڑائی بیان کریں گے، اس کے لیے سعی وجہد کریں گے اور اس کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں صرف کرڈالیں گے۔
اللہ تعالی ہم سے راضی ہو جائے ، یہی ہماری خواہش اور یہی ہمارا نصب العین ہے۔

٭٭٭

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*