اچھے کام پرحوصلہ افزائی -دین کا مزاج

محب الله قاسمي

کوئی اچھا کام انجام دینے والے کی حوصلہ افزائی اوراس کی تحسین وتوصیف بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ یہ رویہ معاشرہ کے دوسرے لوگوںکو بھی اس طرح کے کاموں کی طرف متوجہ کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ اس کے برعکس تنگ نظری یا خشک مزاجی کے سبب حوصلہ شکنی کا عمل نہ صرف یہ کہ ماحول میں اختلاف وانتشار اورنااتفاقی کا سبب بن کرمعاشرے کو خراب کرے گا،بلکہ اس کے نتیجے میں ایسے لوگوں کی تعدادکم ہوجائے گی جو کسی نہ کسی درجہ میں دعوت دین، فلاح وبہبود اورمعاشرے کی تعلیم وتربیت کی خدمات انجام دیتے ہیں۔کسی شخص کا کوئی کارخیراگر ہمیں معلوم ہو ، تواس کی تعریف وتحسین کرنی چاہیے ،اس کی حوصلہ افزائی کے لیے یہ بہت ضروری ہے ۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ معاشرہ میں عمل صالح کا ماحول بنے گا اور دوسرے لوگ بھی اچھے کام انجام دینے کی طرف مائل ہوںگے۔انسان کا مزاج ہے کہ وہ کوئی کام انجام دیتاہے تواس کا بدلہ چاہتاہے، خواہ کسی بھی شکل میں ہو،وہ بدلہ دکھائی دینے والی چیز ہو یا نہ دکھائی دینے والی ۔اللہ تعالی نے جب انسان کو اس مزاج کا بنایاتواس بات کا بھی لحاظ فرمایا۔چنانچہ اس نے قرآن کریم میں بیشتر مقامات پرجہاں عمل صالح کا حکم دیاہے وہاں اس کے نتائج اورانعامات کا بھی تذکرہ کیا ہے تاکہ لوگوں کو اس کی رغبت پیدا ہو اوراس راہ میں جدوجہد ان کے لیے آسان ہو۔ذیل میں چندآیات کا ترجمہ پیش کیاجاتاہے۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

lاللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو اُسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے، ان کے لیے اُن کے دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دے گا جسے اللہ تعالیٰ نے اُن کے حق میں پسند کیا ہے، اور ان کی ﴿موجودہ﴾ حالتِ خوف کو امن سے بدل دے گا ، پس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ اور جو اِس کے بعد کفر کرے تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں۔ ﴿النور:55﴾

lجو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ،اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ ان کی خطائوں سے درگزر کیا جائے گا اور انہیں بڑا اجر ملے گا۔﴿المائدۃ:9﴾

l اور اے پیغمبر  صلى الله عليه وسلم جو لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئیں اور ﴿اس کے مطابق﴾ اپنے عمل درست کرلیں اُنہیں خوشخبری دے دو کہ اُن کے لیے ایسے باغ ہیں ، جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اُن باغوں کے پھل صورت میں دنیا کے پھلوں سے ملتے جلتے ہوں گے۔ جب کوئی پھل انہیں کھانے کو دیا جائے گا تو وہ کہیں گے کہ ایسے ہی پھل اِس سے پہلے دنیا میں ہم کو دیے جاتے تھے۔اْن کے لیے وہاں پاکیزہ بیویاں ہوں گی ، اور وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ ﴿البقرۃ:25﴾

l اور جو نیک عمل کرے گا ، خواہ مرد ہو یا عورت ، بشرطیکہ ہو وہ مومن ، تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور اُن کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہونے پائے گی۔﴿النساء:124﴾

l حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے۔ جو لوگ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ اُن کے لیے بڑا اجر ہے ، ﴿بنی اسرائیل:9﴾

l بخلاف اس کے جن لوگوں نے ہماری آیات کو مان لیا ہے اور اچھے کام کیے ہیں۔ اور اس باب میں ہم ہر ایک کو اس کی استطاعت ہی کے مطابق ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ وہ اہلِ جنت ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ ﴿الاعراف:42﴾

l پھر جو نیک عمل کرے گا ، اس حال میں کہ وہ مومن ہو ، تو اس کے کام کی ناقدری نہ ہوگی ، اور اسے ہم لکھ رہے ہیں۔ ﴿الانبیاء:94﴾

l اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو مان لیا اور نیک عمل کیے اُن کو ہم ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور اُن کو پاکیزہ بیویاں ملیں گی اور انہیں ہم گھنی چھائوں میں رکھیں گے۔﴿النسائ:57﴾

l اْس وقت وہ لوگ جنہوں نے ایمان لاکر نیک طرزِ عمل اختیار کیا ہے اپنے اجر پورے پورے پائیں گے اور اللہ اپنے فضل سے ان کو مزید اجر عطا فرمائے گا ، اور جن لوگوں نے بندگی کو عار سمجھا اور تکبر کیا ہے اُن کو اللہ درد ناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا جن جن کی سرپرستی و مددگاری پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں ان میں سے کسی کو بھی وہ وہاں نہ پائیں گے۔﴿النساء:173﴾

lرہے وہ لوگ جو مان لیں اور نیک عمل کریں ، تو یقینا ہم نیکو کار لوگوں کا اجر ضائع نہیں کیا کرتے۔﴿کہف :30﴾

l تو جو شخص اپنے خالق ومالک سے ملنے کی امید رکھتا ہے اسے چاہئے کہ نیک کام کرے اوراپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔﴿کہف :110﴾

l اور جنہوں نے ایمان اور نیک عملی کا رویہ اختیار کیا ہے اُنہیں اُن کے اجر پورے پورے دے دیے جائیں گے۔ اور﴿خوب جان لے کہ ﴾ظالموں سے اللہ ہرگز محبت نہیں کرتا۔‘‘  ﴿آل عمران:57﴾

lہاں ، جو لوگ ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں ان کا اجر بے شک ان کے رب کے پاس ہے اور ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں۔﴿البقرۃ:277﴾

lبخلاف اس کے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے خدا کی راہ میں اپنا گھر بار چھوڑا اور جہاد کیا ہے ، وہ رحمتِ الٰہی کے جائز اُمیدوار ہیں اور اللہ ان کی لغزشوں کو معاف کرنے والا اور اپنی رحمت سے انہیں نوازنے والا ہے۔﴿البقرۃ:218﴾

اگرہم سیرت نبوی  صلى الله عليه وسلم  کامطالعہ کریں توپائیں گے کہ آپ  صلى الله عليه وسلم  بچپن سے ہی نیک دل ، سچے، امانت داراوربہت سی خوبیوںکے حامل تھے ، جس کا چرچا سارے عرب میں تھا۔ ہرشخص کوآپ پر اعتبار تھا ،یہی وجہ تھی کہ کفارمکہ آپ کواچھے القاب سے یادکرتے اورآپ کے محاسن بیان کرتے تھے۔اطراف مکہ میں بھی اس بات کا چرچاہونے لگے جسے سن کرلوگ آپ سے ملنے کے لیے بے چین رہتے۔ اعلان نبوت کے بعدجب اہل مکہ اورسرداران قریش آپ کے دشمن ہوگئے اورآپ صلى الله عليه وسلم  کے متعلق طرح طرح کی باتیں کرنے لگے تب دوسرے قبیلے والوں میں آپ  صلى الله عليه وسلم سے ملنے کا اشتیاق مزیدبڑھ گیا ۔یہ سب آپ  صلى الله عليه وسلم  کی ان خوبیوں اوراعمال خیرکے سبب تھا جن کے سارے لوگ قائل تھے۔

 حضور  صلى الله عليه وسلم  نے جب اسلام کا مرکز مدینہ منورہ کو بنایا تو وہاں بھی معاشرے کوبہتر اور اعمال خیرسے آراستہ کرنے کے لیے آپ  صلى الله عليه وسلم  نے صحابہ کرام کو نہ صرف دین کی تعلیمات سے آراستہ کیا،بلکہ ان کے اچھے کاموں اورخوبیوں کے سبب ان کی تعریف وتوصیف فرمائی اور انھیں اچھے القاب سے نوازا۔ذیل میں صحابہ کرام ؓ کے بعض واقعات بطورنمونہ بیان کیے جارہے ہیں:

 حضرت ابوبکرؓ : جلیل القدرصحابی اور خلیفہ اول ہیں، جن کو’ صدیق ‘کے لقب سے یادکیاجاتاہے۔ یعنی تصدیق کرنے والا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ  صلى الله عليه وسلم  نے ان کوشب معراج کے موقع پر آپ  صلى الله عليه وسلم  کی تصدیق کی وجہ سے یہ خطاب عطافرمایاتھا۔جب اہل مکہ نے حضرت ابوبکرصدیق ؓ  کے سامنے حضور  صلى الله عليه وسلم  کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ تمہارے صاحب تو ایک رات میں آسمان کی سیر کرکے آئے ہیں ، تو آپؓ  نے کہا:

’’انی اصدقہ بابعدمن ذالک بخبرالسماء غدوۃ وروحہ‘‘

میں تو اس سے بھی بڑی خبرکی تصدیق کرتا ہوں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے پاس صبح وشام آسمان سے خبر آتی ہے تو میں اسے مان لیتا ہوں۔﴿دلائل النبوۃ للبیہقی،مصنف عبدالرزاق﴾

خلیفہ ثانی حضرت عمربن الخطاب ؓ  کونبی کریم  صلى الله عليه وسلم  نے ’فاروق‘ کا خطاب عطا کیاتھا۔اس کا پس منظریہ ہے کہ جس وقت آپ حلقہ بگوش اسلام ہوئے تورسول اللہ  صلى الله عليه وسلم  سے کہا:ہم چھپ کر نماز کیوںپڑھیں جب کہ ہمارا دین حق ہے ،ہماری نماز حق ہے، اس دن تمام لوگوںنے خانہ کعبہ میں علانیہ نماز اداکی۔حضرت عمرؓ  تاحیات اس لقب کے معنوی اثرات بکھیرتے رہے۔ آپ کے عدل وانصاف کے قصے معروف ہیں ۔آپؓ  کی دلیری، قوت ارادی اور دوررس افکار و خیالات کے سبب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ  کو یہ اعزاز بھی بخشا : لوکان بعدی نبی لکان عمرؓ ۔ اگرمیرے بعد کوئی نبی ہوتا توعمرہوتا۔

حضرت عثمان غنیؓ :عثمان بن عفان ؓ  تیسرے خلیفہ راشد ہیں۔آپ ؓ  کے دوالقاب سے مشہور ہیں ایک ’غنی‘ دوسرے ’ذوالنورین‘ ہے۔مؤخرالذکرلقب کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیاں یک بعد دیگرے آپ کی زوجیت میں آئیں۔ آپ ؓ  نہایت ہی باحیا، فیاض ، محسن ،نرم طبیعت اورخوش اخلاق تھے ۔مدینہ منورہ میں صحابہ کرام کے پاس پینے کے لیے میٹھے پانی کا کنواں نہیں تھا وہ ایک یہودی کے کنوے سے پانی لیتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم    کی ایما پر آپ ؓ  نے وہ کنواں خریدکرعام لوگوں کے لیے وقف کردیا۔اسی طرح اسلام کی اشاعت میں آپ نے اپنا بہت سارامال خرچ کیا۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ:اسلام قبول کرنے والوںمیں آپ کا نمبردوسرا ہے۔ آپؓ  چوتھے خلیفہ ہیں۔ آپؓ  فاتح خیبرکے لقب سے مشہورہیں۔نبی کریم  صلى الله عليه وسلم نے جنگ خیبرکے موقع پرارشادفرمایاتھا:

لا عطین الرایۃ رجلا یفتح اللہ علی یدیہ،یحب اللہ ورسولہ ویحبہ اللّٰہ ورسولہ ﴿متفق علیہ﴾

میں ایک ایسے شخص کو جھنڈادوں گا جس کے ذریعے اللہ فتح عطا کرے گا۔وہ اللہ اوراس کے رسول سے محبت کرتاہے اوراللہ اوراس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں ۔

حضرت جعفربن ابی طالب ؓ : آپؓ نے 33سال کی عمرپائی اورجنگ موتہ میں شہید ہوئے۔ اس جنگ میں اولاً آپ کے دونوں بازوں کٹ گئے پھربھی اسلام کا جھنڈا زمیں پرگرنے نہ دیا۔حضرت جعفرؓ  غریبوں اور مسکینوں کا بہت خیال رکھتے اوران کی ضرورتیں پوری کرتے تھے۔اس وجہ سے آپ ابولمساکین کے لقب سے مشہورتھے۔

حضرت سلمہ بن اکوع ؓ : صحابی موصوف کونبی کریم   صلى الله عليه وسلم  نے بطل المشاۃ ﴿بہادرپیادہ پا﴾ کا لقب عطا فرمایاتھا۔سے حاصل کی ، اس کی وجہ یہ تھی پیادہ پابہادر اور تیرانداز و نیزہ بازتھے۔ جو دشمنوں کو کھد یڑدیتے تھے۔ غزہ ذی قرد کے موقع پر آپ نے انھیں یہ اعزاز بخشا تھا۔

حضرت زبیربن العوامؓ :آپؓ  حواری رسول  صلى الله عليه وسلم  کے لقب سے مشہورہیں۔جنگ خندق کے موقع پر آپ  صلى الله عليه وسلم نے صحابہ کرام ؓ سے دریافت کیاکہ کون بنوقریظہ کی خبرلائے گا۔حضرت زبیرؓ  نے خودکوپیش کرتے ہوئے کہا: میں !یہی سوال آپ نے تین بار دوہرایا۔ہربارآپؓ  ہی آگے آئے۔ اس پر آپ نے ارشادفرمایا:

لکل نبی حواری ، والزبیرحواری۔

ہرنبی کے حواری اوردوست ہوتے ہیں میرے حواری زبیرؓ  ہیں۔﴿بخاری﴾

حضرت حنظلہ بن ابی عامر الانصاریؓ :آپؓ  کو غسیل الملائکۃ کا اعزاز حاصل ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی ابھی نئی نئی شادی ہوئی تھی، جب صبح ہوئی تو جہاد کی پکارنے ان کو بے قرارکردیااور آپ نے اپنی تلوارلٹکائی اورذرہ پہن کر نکل پڑے ،میدان احدمیں آپ نے ابوسفیان کو دیکھا اوراس پروارکرنے کے لیے لپکے ،مگراس کی چیخ وپکارپر بہت سے شہسوارقریش جمع ہوگئے اورانھوں نے حضرت حنظلہؓ  کو شہیدکردیا۔جب نبی کریم  صلى الله عليه وسلم  کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے ارشادفرمایا:

انی رأیت الملائکۃ تغسل حنظلہ بین السمائ والارض بمائ المزن فی صحاف الفضۃ۔

میں نے دیکھا ہے کہ فرشتے حنظلہ کو آسمان وزمین کے درمیان چاندی کے برتن سے بادلوں کے پانی سے نہلارہے ہیں۔﴿دلائل النبوۃ لابی نعیم﴾

یہ سن کر صحابہ ان کی طرف دوڑے تودیکھا کہ ان کے سر سے پانی ٹپک رہاہے۔ جب ان کی اہلیہ سے حالات دریافت کے لیے گئے تو پتہ چلاکہ وہ صبح شوق جہادمیں بغیر نہائے ہی نکل گئے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالدبن ولید ؓ  کو سیف اللہ کے خطاب سے نوازا۔چنانچہ جب آپ نے فوجی قیادت سنبھالی تو اپنے اس فن میں ماہر ہونے کی حیثیت سے وہ کارنامے انجام دیے جوایک بہادر فوجی لیڈرکے شایا نِ شان تھے اور آپ کے فہم وبصیرت اور جرأت وبہادری سے بہت سے مقامات فتح ہوئے۔

حضرت معاذبن جبل ؓ  زودفہمی ،قوت استدلال، خوش بیانی اوربلندہمتی کے لحاظ سے ایک منفردممتازمقام رکھتے تھے۔ان کی تعریف وتوصیف اللہ کے رسول  صلى الله عليه وسلم  نے ان الفاظ میں بیان فرمائی :

اعلم امتی بالحلال والحرام معاذبن جبل۔ ﴿الطبقات الکبری لابن سعد﴾

میری امت میں معاذ بن جبلؓ  حلال وحرام کوبہترجاننے والے ہیں۔

حضرت ابوعبیدۃ بن الجراحؓ  : آپ  صلى الله عليه وسلم نے حضرت ابوعبیدۃ بن الجراحؓ  کی خوبیوں کے پیش نظرانھیں ’’امین ‘‘کا خطاب عطاکیا تھا۔’’ایک موقع سے یمن کے کچھ لوگ آئے ،اورآپ  صلى الله عليه وسلم  سے دریافت کیا کہ ہمیں کوئی ایسا شخص دیجئے جوہمیں اسلام اورسنۃ سکھائے آپ نے حضرت ابوعبیدۃ ؓ  کا ہاتھ تھاما اور فرمایا : ہذاامین ہذہ الامۃیہ ہیں اس امت کے امین ۔ایک مرتبہ آپ نے ارشاد فرمایا:

 لکل امۃ امین وامین ہذہ الامۃ ابوعبیدۃ ﴿متفق علیہ﴾

 ہرقوم میں ایک امین ہوتاہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ ؓ  ہیں۔

ان کے علاوہ صحابہ کرام کی ایک طویل فہرست ہے جن کو اللہ کے رسول  صلى الله عليه وسلم  نے ان کے عمدہ اوصاف اورکارناموں کی تعریف کرتے ہوئے انھیں کو اعزازات والقاب سے نوازا۔یہی طریقہ صحابہ کرام، تابعین اورتبع تابعین کا بھی رہاہے۔ ان لوگوںنے بھی یہی رویہ اختیارکیاکہ وہ لوگوں کے اچھے کاموں پر ان کی تعریف وتحسین کیاکرتے تھے۔ اگرہمارے معاشرے میں کوئی شخص فلاح عام کا کام انجام دے رہاہے ،یا کوئی دینی ماحول بناکر کسی نیک کام کوفروغ دے رہاہے،یا تربیتی نقطہ نظرسے کسی طرح کا کوئی عمل انجام دے رہاہے ،جوشریعت کے مطابق اور اس کے مزاج کے موافق ہے توایسے شخص کی تعریف وتحسین کی جانی چاہیے، بلکہ وقتا فوقتا اسے انعام سے بھی نوازنا چاہیے تاکہ دوسرے لوگوں میں بھی کار خیرکا جذبہ پیدا ہو۔ دوسری طرف ایسے مخلصین وخیرخواہ حضرات جوکسی درجہ اپنی خدمات انجام دے رہے ہیںان کو چاہیے وہ کسی تعریف وتوصیف کی پروا کیے ایسے کام انجام دیتے رہیں جن سے ملت کو فائدہ پہنچے اورقیامت میں وہ سرخروہوں۔

     ٭٭٭

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*