سنت کا احترام نہ کرنے والوں کا دنیاوی انجام

شیخ محمدبن محمدمختارشنقیطی
پروفیسرمدینہ یونیورسٹی

  1. سلمہ بن اکوع  رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک آدمی اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کے پاس بائیں ہاتھ سے کھایا توآپ نے فرمایا: دائیں ہاتھ سے کھاؤ ۔ اس نے کہا : میں دائیں ہاتھ سے نہیں کھا سکتا ۔آپ نے فرمایا: ”تم کھابھی نہیں سکتے“ اسے تکبر نے کھانے سے منع کیا ،چنانچہ اس کے بعد وہ کبھی اپنے منہ تک ہاتھ نہ اٹھا سکا ۔(صحیح مسلم 2021)
  2. ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے مشکیزہ کے سرے پر منہ رکھ کر پانی پینے سے منع فرمایا،ایوب کہتے ہیں کہ : مجھے خبردی گئی کہ ایک آدمی نے مشکیزہ کے منہ سے پانی پیا تو ایک سانپ نکل آیا ۔ (صحیح بخاری 5627) 
  3.  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اللہ کے رسول  صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:” ایک آدمی اپنے خوبصورت جوڑے میں اتراتے ہوئے چل رہا تھا کہ اللہ پاک نے اسے زمین میں دھنسا دیا ،اب وہ قیامت کے دن تک زمین میں گرتا رہے گا ۔ اس نوجوان نے کہا : ابوہریرہ! کیا وہ نوجوان ایسا ہی چل رہا تھا جسے زمین میں دھنسا دیاگیا؟(پھر وہ اس کی نقل کرکے بتانے لگا ) تو اس نے ایسی پلٹی کھائی کہ قریب تھا اس کے اعضا ٹوٹ جائیں ۔(احمد، 12/66 ،رقم 7153) 
  4. عبدالرحمن بن حرملہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حج یا عمرہ کے لیے جارہا تھا ، سعیدبن مسیب کے پاس ملنے کے لیے آیا ،آپ نے اس سے کہا کہ نماز پڑھنے سے پہلے مسجد سے مت نکلو ۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اذان کے بعد مسجد نے منافق ہی نکلتا ہے ،سوائے اس آدمی کے جوکسی ناگزیر ضرورت کے تحت نکلا پھر لوٹ آیا،اس نے کہا : حرہ علاقے تک میرے ساتھی پہنچ چکے ہیں ،وہ نکل گیا اور اخیر وقت تک سعید بن مسیب اسے یاددہانی کراتے رہے ۔ کچھ ہی دیر کے بعد آپ کو خبر دی گئی کہ آدمی اپنی سواری سے گرگیا اور اس کی پنڈلی لوٹ گئی ہے۔(مصنف عبد الرزاق 1945،مسند الدارمی 446) 
  5. ابوعبداللہ محمدبن اسماعیل التیمی صحیح مسلم کی شرح میں لکھتے ہیں : میں نے بعض حکایات میں پڑھا کہ کسی بدعتی نے اللہ کے رسول کے قول کوسنا : تم میں سے جب کوئی اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنے ہاتھ کو برتن میںدھلے بغیرنہ ڈالے کیوںکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے کہاں شب باشی کی ہے ۔(صحیح بخاری 162، صحیح مسلم 278) اس بدعتی نے ازراہ مذاق کہا : میں جانتا ہوں کہ میرے ہاتھ نے کہاں شب باشی کی ہے ، بستر پر شب باشی کی ہے ۔ جب وہ صبح میں بیدار ہوا تو دیکھا کہ اس کا ہاتھ کلائی تک اس کے دبرمیںگھسا ہوا ہے ۔ لہذا آدمی کو سنتوں اور توقیفی امورکے استخفاف ڈرنا چاہیے دیکھو کہ اس کے فعل کی نحوست اس تک کیسے پہنچی “۔(بستان العارفین للنووی صفحہ 94)
  6. ابویحیی الساجی فرماتے ہیں : ہم بصرہ کی بعض گلیوں میںچل رہے تھے ،کہ ایک محدث کے دروازے سے ہمارا گذرہوا ،توہم تیزی سے چلنے لگے ،ہمارے ہمراہ ایک شریراورلاابالی آدمی تھا، اس نے کہا : اپنے پیروں کو اوپر کرلو ، ایسا نہ ہو کہ فرشتوںکے پر ٹوٹ جائیں ،یہ کہنا تھا کہ اسی جگہ اس کا پیر خشک ہوگیا اور وہ گرگیا۔ امام نوویؒ کہتے ہیں : حافظ عبدالعظیم نے فرمایا:” اس حکایت کی سندگویا آنکھوںدیکھا حال ہے اس لیے کہ اس کے راوی ائمہ اجلہ میں سے ہیں“۔ ( ذم الکلام وا¿ھلہ 4/369 ،رقم 1232، بستان العارفین للنووی صفحہ 94) 
  7. قاضی ابوالطیب نے فرمایا: ہم لوگ جامع المنصور کی ایک مجلس میں تھے ،ایک خراسانی نوجوان آیا،اس نے مصراة سے متعلق مسئلہ پوچھا اوردلیل طلب کی،توابوہریرہ سے مروی حدیث مصراة بیان کی گئی ،اس نے کہا: ابوہریرہؓ غیرمقبول ہیں ۔اس نے ابھی اپنی گفتگو مکمل بھی نہیں کی تھی کہ اس پرجامع کی چھت سے ایک بڑا سانپ گرا ،لوگ سانپ کو مارنے کے لیے اٹھے ،نوجوان بھاگنے لگا،اورسانپ اس کا پیچھا کرنے لگا ،اس سے کہا گیا: توبہ کرلو،توبہ کرلو،اس نے کہا : میں نے توبہ کیا ،یہ کہناتھا کہ سانپ نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ امام ذہبی نے فرمایاکہ اس کو بیان کرنے والے ائمہ ہیں ۔ (سیراعلام النبلاء2/369 ، البدایة النھایة 16/199) 
  8.  قطب الدین یونینی نے فرمایا:” ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ بصرہ کاایک آدمی جو ابوسلامہ کے نام سے معروف تھا ، اس کے اندر لاابالی پن اور تمسخر پایاجاتاتھا ،ایک روز اس کے سامنے مسواک کی فضیلت بیان کی گئی ،اس نے کہا: بخدا! میں دبرمیں مسواک کروںگا ،چنانچہ اس نے اپنے دبر میں رکھا اور پھر نکال لیا ،اس کے بعد وہ نومہینہ تک پیٹ اوردبر کے درد سے پریشان رہا،۹ مہینہ مکمل ہونے پرچوہیا کی شکل کا ایک بچہ جنا اس کے چار پرتھے ، اس کا سرمچھلی کا سا تھا ،اوردبر خرگوش کا ساتھا ،جب اس کے جنا تو حیوان تین مرتبہ چھیخ مارا ،اس آدمی کی چھوٹی بیٹی نے اس کا سردباکر مارڈالا ۔ یہ حیوان جننے کے بعد وہ آدمی دودن زندہ رہا ،اورتیسرے روز مرگیا ۔ وہ کہتا تھا :” اس حیوان نے مجھے قتل کیا ہے اورمیرے معدے کو کاٹا ہے ۔“  اس کا مشاہدہ بصرہ کے باشندگان اوروہاں کے خطباءنے کیا،کچھ نے اس حیوان کو زندہ دیکھا کچھ نے مرنے کے بعد دیکھا ۔ “(البدایة والنھایة احداث 665ھ)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*