بچوں میں حفظ قرآن کا شغف کیسے پیدا کریں؟

 ترجمہ: مبصرالرحمن قاسمی(کویت)

mubassir2011@gmail.com

بچوں میں حفظِ قرآن کا شغف پیدا کرنے کے مختلف طریقے ہیں، ذیل میں ہم چند مفید طریقوں کی جانب اشارہ کررہے ہیں، جو حفظ قرآن کا شغف پیدا کرنے میں بے حد معاون ہیں۔

ایام حمل میں قرآن کریم کی سماعت:

متعددامریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ ماں کی خوشی، غم، غصہ اور پریشانی جیسے حالات سے جنین متاثر ہوتا ہے، اگر ماں بآواز بلند کچھ پڑھتی ہے تو جنین ماں کی قرات کا اثر لیتا ہے۔ اگر ماں قرآن کریم پڑھے یا کثرت سے قرآن کریم سنے تویقینا سعادتمندی کی بات ہے، کیونکہ بچہ اپنی ماں کی جانب سے حاصل ہونے والے خیر کے ذریعہ راحت پاتا ہے، اس طرح اللہ کاکلام ماں کی جانب سے بچے کے لیے سب سے عظیم سرمایہ ثابت ہوسکتا ہے، شیخ ڈاکٹر محمد راتب النابلسی کے بقول ”قرآن پڑھنے والی حاملہ ماں کا نومولود قرآن سے تعلق رکھنے والا ہوتا ہے“۔ [کتاب تربیةاسلامیہ].

ایام رضاعت میں سماعت قرآن اور تلاوت:

ماہرین کا کہنا ہے کہ دودھ پیتا بچہ اپنے اطراف کی چیزوں کا اثر لیتا ہے،جبکہ اس کے حواس میں سماعت کی سب سے پہلے شروعات ہوتی ہے، بچہ ایام رضاعت میں مفرد الفاظ کو جمع کرنا شروع کردیتا ہے، گرچہ وہ ایام رضاعت میں ان الفاظ کو ادا نہیں کرسکتا لیکن یہی مفردات کو وہ بعد میں ادا کرنے پر قادر ہوجاتا ہے، اگر دودھ پلانے والی ماں کو اس عرصے میں قرآن کریم کی سماعت یا بآواز بلندتلاوت کا موقع میسر آجائے،تو کوئی شک نہیں کہ اس کا یہ عمل بچہ پر بہت زیادہ اثر انداز ہوگا، اور بچے کے لیے حفظ قرآن کریم کرنا آسان ہوگا،یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی ماں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو دو برس تک دودھ پلائے، اللہ تعالی نے اسے بچے کا حق قرار دیا ، اسی طرح اللہ تعالی رضاعت کے عرصے میں ماں کو بچے کے کھانے، پینے اور اسے لباس پہنانے کا ذمہ دار بناتا ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

ترجمہ: ”مائیں اپنی اولاد کو دو سال کامل دودھ پلائیں جن کا ارادہ دودھ پلانے کی مدت بالکل پوری کرنے کا ہو اور جن کے بچے ہیں ان کے ذمہ ان کا روٹی کپڑا ہے جودستور کے مطابق ہو۔“ [البقرة: 233].

بچے کے سامنے تلاوت قرآن:

چھوٹے بچے اکثر اپنی ماں کی حرکات وسکنات اور ماں کے رکوع وسجود کی نقل کرتے ہیں، اگر بچے کے سامنے کثرت سے تلاوت ہوتو یہ عمل بچے کے لیے یقینا محبوب بن جائے گا، بعدمیں ماں کا یہی عمل بچہ کے حفظ کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، مزید یہ کہ تلاوت کی برکات پورے گھر اور پورے کنبے کے لیے باعثِ خیر ہوگی،یقینا تلاوت کی فضیلت اور اس کے ثواب کا ہم انداز ہ نہیں لگا سکتے۔

۴۔ قرآن مجید سب سے قیمتی اور خوبصورت ہدیہ:

انسان کی فطرت میں ہی شامل ہے کہ وہ اپنی ملکیت کی چیزسے محبت کرتا ہے، ہم اکثر بچوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے کھلونوں کو بدن سے چمٹائے رکھتے ہیں، ان کی حفاظت کرتے ہیں اور وقتا فوقتا اس کی نگرانی کرتے ہیں،بچوں کے اس رجحان کو ہم ایک بڑے مقصد کی جانب موڑ سکتے ہیں، اگر مختلف مواقع پر قرآن کریم گفٹ دیئے جائیں تو بچوں کا قرآن سے تعلق مزید بڑھے گا اور یہی تعلق انہیں قرآن کریم کے حفظ پر آمادہ کرے گا۔

 ناظرہ ختم قرآن کے موقع پر تقریب کا اہتمام:

ترغیب اور حوصلہ افزائی انسانی نفس کو مرغوب ہے، جبکہ یہ چیز بچوں میں اور بھی زیادہ پائی جاتی ہے،لہذا جب بھی بچوں کا ناظرہ ختم قرآن ہو، ایک چھوٹی سی تقریب میں ان کی حوصلہ افزائی کی جائے، اس موقع پر انھیں قرآن کریم کا خوبصورت نسخہ گفٹ دیا جائے،نتیجةً بچہ اس طرح کی تقریب کو زندگی بھر یاد رکھے گا بلکہ اس طرح کی تقاریب کے بار بار آنے کا منتظر رہے گا، اور ظاہر بات ہے اس کے نتیجے میں قرآن کریم سے اس کے تعلق میں مزید مضبوطی پیدا ہوگی۔لہذا حفظ قرآن کے لیے بچہ محبت وشوق کے ساتھ تیار ہوجائے گا اور اس پر زبردستی اور زور ڈالنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

 قرآن کریم میں بیان کیے گئے قصے :

قصے کہانیاں بچوں کے لیے محبوب ہوتے ہیں،اگر والدین اپنے بچوں کو آسان فہم زبان میں قرآن کریم کے قصے سنانے کے اہل ہوں تو بچوں کو قرآن کریم کے نصوص کی جانب بھی اشارہ کریں کہ یہ قصہ فلاں سورہ اور فلاں آیت میں بیان کیا گیا جس کی وجہ سے بچوں میں قرآن سے لگاو اور تعلق میں اضافہ ہوگااور بچے بہت آسانی سے قرآنی الفاظ اور زبان سے مانوس ہوجائیں گے۔

حفظ ِقرآن کریم کے مسابقوں کا انعقاد،بالخصوص چھوٹی چھوٹی سورتوں پر مشتمل مسابقے: گھر کے اندر بھائیوں اور بہنوں کے مابین اسی طرح اڑوس پڑوس کے بچوں اور ان کے دوست واحباب سے مدد لے کر ان بچوں کے مابین حفظ قرآن کریم کی ترغیب وحوصلہ افزائی کے لیے مسابقات منعقد کرائے جائیں، اس موقع پر بچوں کی عمر کا خیال رکھا جائے کہ اگر بہت چھوٹے بچے ہوں تو مثال کے طور پر ان سے یہ پوچھا جائے کہ ابرہہ نے قریش کے خلاف جنگ میں کونسا جانور استعمال کیا تھا وغیرہ، اس طرح کے سوالات بچوں کو حفظ قرآن کریم پر آمادہ کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

 ابتدائی سالوں میں قرآن کریم کے ذریعے تعلیم دینا:

بچوں کو قرآن کریم کی آیات کے ذریعے لکھنا پڑھنا سکھایا جائے، اسی طرح حساب کی ابتداءنماز کی رکعات کے ذریعے کریں، جبکہ علم احیاءکا آغاز قرآن کریم میں وارد مختلف قسم کے حیوانات کے ناموں سے کریں، اور تاریخ کا آغاز قرآن کریم میں مذکور سابقہ قوموں کے قصوں سے کریں، جبکہ کائنات کے مناظرکا علم یعنی جغرافیہ کا آغاز قرآن کریم میں مذکور آسمان وزمین، لیل ونہار اور بحر وبر سے متعلق باتوں سے کریں۔ اگر ہم اس طرح سے بچوں کی تعلیم کا آغاز کریں گے تو یہ ضرور بچوں کو حفظ قرآن کریم کی طرف مائل کرنے میں معاون ہوگا۔

 عمر کے لحاظ سے قرآنی کلمات کی تلاش کا کام:

بچے ابتدائی سالوں میں الفاظ کے معانی کو جاننے کے شوقین ہوتے ہیں، بچوں کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر نئے لفظ کو سیکھیں اور اسے جملوں میں استعمال کریں، ہم بچوں کے اس شوق میں قرآن کریم کے الفاظ کے ساتھ بھر پور حصہ لے سکتے ہیں، مثال کے طور پر تیسویں پارے کی آخری سورتوں میں سے بچوں سے پوچھا جائے: لفظ قریش کس سورہ میں ہے؟ اور لفظ “تین” اور” زیتون” کس سورہ میں ہیں وغیرہ؛ ہمارا یہ عمل بچوں کو ان سورتوں کے حفظ کرنے پر ضرور آمادہ کرے گا۔

ہر وقت قرآن کریم کا نسخہ ساتھ رکھنے پر آمادہ کرنا:

مثال کے طور پر ہم انھیں چھوٹے سائز کے قرآن کریم کا خوبصورت نسخہ ہدیہ دیں، اور انھیں صبح وشام ساتھ رکھنے کی ترغیب دیں، ساتھ رکھنا ان کے لیے نہ صرف باعث اطمینان وبرکت ہوگا بلکہ ہر قسم کے شرور سے ان کی حفاظت بھی ہوگی، اس عمل سے بچوں میں قرآن کریم کے ادب کو ملحوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ اسے سینوں میں محفوظ کرنے کا جذبہ بھی پیدا ہوگا۔

قرآن کریم سے متعلق خصوصی چینل دیکھنے کی ترغیب، خاص طور پر حفظ قرآن کے مسابقات: جب بچے اپنے ہم عمر بچوں کو مسابقوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے اور انعام پاتے ہوئے دیکھیں گے تو ان میں بھی  حفظ قرآن کا جذبہ کار فرما ہوگا، بچے یہ سوچنے پر مجبور ہونگے کہ وہ بھی ان انعام یافتہ بچوں کی طرح یا ان سے ممتازاور اچھے بن سکتے ہیں۔

حفظ قرآن کے لیے موجودہ جدید ذرائع کا استعمال:

بہت سے بچے جدید ذرائع کو حاصل کرنے کے شوقین ہوتے ہیں، اگر ہم بچوں کو قرآن کے حفظ کے لیے دستیاب جدید ذرائع مہیا کریں اور انھیں اس کے استعمال کی ترغیب دیں تو اس سے بچوں کو کئی فائدے ہونگے، وہ قرآن کریم کو خوش اسلوبی سے پڑھ سکتے ہیں، اپنی غلطیوں کی نشاندہی کرسکتے ہیں اور اپنے لہجے کو اچھے سے اچھا بنانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ آج کل بازار میں متعدد قراءکی تلاوتوں پر مشتمل سستے داموں میں ڈیجیٹل قرآن کریم دستیاب ہیں۔

بچوں کو اپنی قرا ت ریکارڈ کرانے کی ترغیب:

یہ عمل بچوں میں خوداعتمادی پیدا کرنے کا باعث ہے، اس سے بچوں میں یہ جذبہ پیدا ہوگا کہ وہ بھی عمدہ لہجے میں قرآن کریم کی تلاوت کرسکتے ہیں، اور معروف قرا ءکے لہجے کی نقل کرسکتے ہیں۔

بچوں سے تلاوت اور قرآنی قصوں کو بغور سننا:

مربی اور سرپرست حضرات کو اس سلسلے میں مکمل توجہ دینی چاہیے کہ جب بچے تلاوت کررہے ہوں یا قرآنی قصے بیان کررہے ہوں تو بغور سماعت کریں ، جس سے بچوں کو حوصلہ ملے گا اور ان کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

 گھر میں ایک دوسرے کی امامت پر ہمت افزائی کرنا:

گھر میں جب سب بچے اور ان کے پڑوسی دوست واحباب جمع ہوں تو سب کو ایک ساتھ نماز پڑھنے کی ترغیب دینا اور ان میں سے جو قرآن کریم اچھا پڑھتا ہو اسے امام بنانا، یہ عمل بچوں میں حفظ قرآن کا جذبہ پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

 گھر میں قرآن کریم کی ہفتہ وار مجلس کا اہتمام:

خاندان کے تمام افراد کو گھرمیں ہفتہ وار قرآن کریم کی مجلس میں ایک دوسرے کا تعاون کرنا چاہیے، اور اس مجلس میں پورے شوق اور احترام کے ساتھ شرکت کریں تاکہ یہ مجالس گھر کے بچوں کے اندر حفظ قرآن کریم سے لگاو کا سبب بن سکیں۔

مسجد کے حلقے میں شرکت :

والدین اپنے بچوں کو قریبی مسجد کے تعلیمی حلقوں میں بیٹھنے کی ترغیب دیں، بچوں کی زندگی میں ان حلقوں کی بے پناہ اہمیت ہے، کیونکہ ان حلقوں کے ذریعے ہی بچے اپنے ہم جماعت طلباءکے ساتھ مقابلہ کے لیے تیار ہوتے ہیں، اور ان حلقوں میں تجوید وقرات میں بھی مہارت حاصل کرسکتے ہیں۔

آسان لغتوں میں قرآن کے الفاظ کے معانی تلاش کرنے پر ہمت افزائی کرنا:

اس کی وجہ سے بچوں کے قرآنی الفاظ کے ذخیرے میں اضافہ ہوگا جو ان کے لیے حفظ قرآن کریم میں معاون ثابت ہوگا۔

 بچوں کو تفسیر کی آسان کتابوں کے مطالعہ کی ترغیب :

قرآن مجید کی ایک ایک آیت کی تفسیر کا علم بچے کو حفظ کرنے پر آمادہ کرے گا، خصوصا قرآن مجید میں قصوں والی آیات اور چھوٹی چھوٹی سورتوں کی تفسیر کے مطالعہ پر توجہ دی جائے۔

 علم کی محفلیں بچوں کے لیے قرآن کریم کی طرف راہیں ہموار کرتی ہیں:

کتنے بچوں کے واقعات سامنے آئے ہیں جنھوں نے اپنے والدین کے ساتھ علمی محفلوں میں شرکت کی، حالانکہ قرآن کریم سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا، لیکن صرف محفلوں میں شرکت نے ان بچوں کے ذہنوں میں قرآن سے متعلق سوالات پیدا کیے، اوران کو والدین کے ساتھ قرآنی محفلوں سے متعلق بات چیت کرنے پر آمادہ کیا، سوالات وجوابات کے نتیجے میں وہ بچے علم وفن کے عظیم درجات تک پہنچ گئے۔

بچے کے سامنے میں قرآنی اصطلاحات کو بار بار دہرانا:

 مثال کے طور پر اگر ہم بچے کو تقوی سے متعلق یاد دہانی کرائیں تو قرآن کی آیت ان اللہ مع الذین ا تقوا [النحل: 128] ”یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں اور نیک کاروں کے ساتھ ہے “۔پڑھ کر اس کی رہنمائی کرے، اگر والدین کی اطاعت سے متعلق انھیں یاد دہانی کراونا ہو تو قرآنی آیت وبالوالدین احسانا [البقرة: 83]، ”اور والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آو“پڑھ کر ان کی یومیہ زندگی میں خیر و شر کی جانب رہنمائی کرتے رہیں۔

بچہ کے حفظ قرآن میں معاون بعض ہدایات:

٭شدت اور سختی کی بجائے ترغیب اور شوق پیدا کریں۔

٭ہمت افزائی اور حوصلہ کے لیے انعامات کا اہتمام کریں

٭دیگر بچوں کے ساتھ شریفانہ مقابلہ اور اجتماعی تعلیم کا اہتمام کریں۔

٭قرآن سے ہی اور قرآن کے ذریعہ ہی تعلیم کا آغاز کریں۔

٭مسلسل صبر اور استقامت سے کام لیں۔

٭مسلسل دعاوں کا اہتمام کریں۔

٭٭٭

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*