آپ کے مسائل اوران کا حل

 صفات عالم محمد زبير تيمي

 سوال: اللہ کے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت اورجہنم کامشاہدہ کرایا گیا اور معراج کی رات چند لوگوں کو عذاب میں اور چند لوگوں کو جنت کی نعمتوںمیں دیکھا اور انبیائے کرام سے ملاقات کی اوران کی امامت بھی کرائی ،سوال یہ ہے کہ ایسا کیسے ممکن ہوسکا جبکہ ابھی تک جنت اورجہنم کا فیصلہ ہوا ہی نہیں ہے ؟

 جواب : اس مسئلے کی علماء نے مختلف توجیہ کی ہے:

٭ اللہ تعالی نے آپ کے لیے بطور معجزہ جس طرح انبیائے کرام کو اکٹھا کردیا تھا اسی طرح زمانے کو بھی اکٹھا کردیا تھا، چنانچہ آپ نے جنت اورجہنم کے مناظردیکھے ۔ ٭آپ نے جو کچھ دیکھا وہ در اصل قیامت کے دن کا عکس تھا کہ اسی انداز میں قیامت کے دن جزا وسزا ملنے والی ہے۔٭ وہ دراصل قبر میں ملنے والے بدلے یا سزا کا نمونہ تھا ۔

جہاں تک انبیائے کرام کی امامت اور ان سے آسمانوں پر ملاقات کی بات ہے تو اصل میں اللہ تعالی نے ان کی روحوں کو جسمانی شکل دے دی تھی اس طرح وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیش ہوئے تھے ورنہ ان کی قبریں زمین میں محفوظ ہیں کیونکہ اللہ نے مٹی پرحرام ٹھہرایا ہے کہ انبیاء کی قبروں کو کھائے ۔

 سوال:موت کے فرشتے کا کیا نام ہے اور وہ ایک ہیں یا بہت سارے ہیں ؟

جواب : موت کے فرشتے کو قرآن میں ’ملک الموت‘ کے نام سے یادکیاگیاہے ،یعنی موت کا فرشتہ قل یتوفاکم ملک الموت الذی وکل بکم (السجدة 11) ” اِن سے کہو “موت کا وہ فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تم کو پورا کا پورا اپنے قبضے میں لے لے گا “۔ البتہ موت کے فرشتے کا نام عزرائیل کسی صحیح سند سے ثابت نہیں،یہ اسرائلیات سے منقول ہے جس پر اعتماد نہیں کیاجا سکتا ۔ علماءکی صراحت کے مطابق موت کا فرشتہ ایک نہیں بلکہ کئی ایک ہیں ۔ جبکہ دوسرے علماءنے کہا ہے کہ موت کا فرشتہ تو ایک ہی ہے البتہ ان کے معاون کئی ہیں ۔

سوال:کیا لفظ عشق اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے استعمال کیاجاسکتا ہے ؟

جواب :اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قرآن اورحدیث میں جو لفظ استعمال کیاگیا ہے وہ محبت ہے نہ کہ عشق، عشق کے لفظ میں شہوت کا مفہوم بھی پایاجاتا ہے، اسی لیے ہم اسے اپنی ماں ، بہن اور بیٹی کے لیے استعمال نہیں کرتے تو پھر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے استعمال کرناکیوں کر صحیح ہوسکتاہے، اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلمکے لیے کتاب وسنت میںمحبت کالفظ استعمال ہوا ہے ، اس لیے ہمیںاسی پراکتفا کرنا چاہیے۔

رہی وہ حدیث جس میں آیا ہے کہ من عشق وکتم وعف ومات فھو شہید ”جس نے عشق کیا ،اسے چھپایا،پاکباز رہا ، اورمرگیا وہ شہید ہے“۔تو یہ حدیث موضوع ہے ۔(سلسلہ الاحادیث الضعیفة والموضوعة للالبانی 1 / 587)

 سوال:کیا نماز کے اندر قرات میں سورتوںکی ترتیب ضروری ہے ،یعنی جس ترتیب سے قرآن میں سورتیں ہیں انہیں ترتیب سے ان کی تلاوت ضروری ہے ؟

جواب : نماز میں بہتر تویہی ہے کہ قرآن کی سورتوںکی قرات موجودہ ترتیب کے مطابق کی جائے ،لیکن اگر کسی نے ترتیب کے مطابق قرات نہیں کی تو بھی کوئی حرج نہیں ہے ۔ اس سے نماز میں کسی طرح کی کمی نہیں آتی ۔خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ترتیب کے خلاف پڑھنا ثابت ہے

  حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ نمازادا کی تو آپ نے سورہ بقرہ پڑھنی شروع کی، سورہ بقرہ ختم کرنے کے بعد سورہ نساءپڑھی ،اسے پڑھنے کے بعد سورہ آل عمران کی تلاوت شروع کردی ….(صحیح مسلم) اس حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے سورہ بقرہ کی تلاوت کی ،اس کے بعد سورہ سورہ نساءپڑھی پھر سورہ آل عمران …. جس سے پتہ چلا کہ ترتیب ضروری نہیں ہے۔

 سوال:اگر کسی مسجد میں جماعت ہوچکی ہے تو کیا اسی مسجد میں دوسری جماعت قائم کی جاسکتی ہے ؟

جواب :اگر کوئی آدمی جماعت ختم ہونے کے بعد مسجد میں پہنچتا ہے اور اس کے ساتھ دوسرے لوگ بھی ہیں تو وہ جماعت سے نماز پڑھ لے ، اسے جماعت کا ثواب مل جائے گا ۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی اس وقت آیا جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیر چکے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: ایکم یتجر علی ھذا ؟ ”تم میں سے کون شخص ہے جو اس کے ساتھ اجرت میں شریک ہو“۔،چنانچہ ایک آدمی کھڑا ہوا اوراس نے اس کے ساتھ مل کر نماز ادا کی ۔ (سنن ترمذی)

  سوال:کیا فرض نماز سے سلام پھیرنے کے بعد سنت ادا کرنے کے لیے جگہ بدلنا مشروع ہے ؟

جواب :فرض نمازکے بعد نفل اورسنت کی ادائیگی کے لیے جگہ بدل لینا مستحب اورافضل ہے ،اس کی ایک حکمت تو یہ بتائی گئی ہے کہ دوسری جگہیں بھی ہمارے لیے گواہ بنیں۔ اورسجدہ کرنے کی جگہ زیادہ سے زیادہ ہوجائے۔ دوسری حکمت جوصحیح مسلم کی ایک حدیث سے مترشح ہوتی ہے کہ دونمازوںکے بیچ فاصلہ اورامتیاز ہوجائے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لا نوصل صلاة بصلاة حتی نتکلم او نخرج (مسلم)”ہم نماز کے ساتھ نماز نہ ملائیں حتی کہ ہم بات کرلیں یا وہ جگہ بدل لیں ۔“

  سوال: مجلس میں آنے والوں کے لیے کھڑا ہونے کا کیا حکم ہے ؟

جواب :اگر کوئی شخص مجلس میں آتا ہے اوردوسرے مجلس میں بیٹھے ہوں تو اس کا رعب بحال کرنے کے لیے سارے لوگوںکے لیے کھڑاہوناجائز نہیں ہے ،اسی طرح استاذ اگر کلاس میں آتا ہے تو سارے طلبہ استاد کے لیے کھڑے نہیں ہوں گے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من احب ان یتمثل لہ الرجال قیاما فلیتبوا مقعدہ من النار(الحاکم ) ”جس آدمی کو یہ بات پسند ہو کہ لوگ اس کے لیے کھڑے ہوں تو اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنالے“ ۔ ہاں! اس بات کی گنجائش ضرور ہے کہ استقبال کرنے کے لیے کھڑا ہواجائے ۔ یعنی اگر کوئی آدمی کسی آنے والے کا استقبال کرنے کے لیے اٹھ کر آگے بڑھتا ہے تاکہ اسے بٹھائے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلمنے بنوقریظہ کا فیصلہ کرنے کے لیے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو بلوایا ،جب وہ آئے تو آپ نے انصاری صحابہ سے فرمایا: قوموا الی سیدکم” اپنے سردار کی طرف اٹھو ۔“ (سنن ابی داوؤد )

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*