سيرت طيبه كى جھلکیاں (6)

 صفات عالم محمد زبیرتیمی (کویت)

سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہ سے شادی

جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اخلاق کی شہرت قریش کی مالدارترین خاتون حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا تک پہنچی تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گذارش کی کہ آپ ہمارے مال میں تجارت کریں، اورہم آپ کو سب سے اچھی اجرت دیں گے۔ آپ راضی ہوگئے اور مال لے کر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے غلام میسرہ کے ساتھ ملک شام کا سفر کیا۔ وہاں خرید وفروخت کی ،خوب نفع ہوا ،جب مکہ لوٹے تو پائی پائی کا حساب چکادیا۔اس سفرمیں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو بھی بہت فائدہ ہوا تھا۔ میسرہ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق وکردار کی بابت بتایا، پھرانہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت اور برکت کا حال دیکھا توانہوں نے محسوس کیا کہ ان کو گوہرِ مطلوب مل چکا ہے ، اس طرح انہوں نے اپنی ایک سہیلی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور اپنی شادی کی خواہش کا اظہار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجویز پسندکرلی، اورکیوں نہ کرتے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا قریش کی متمول خاتون تھیں اور بڑے بڑے سرداروں کی درخواستِ نکاح رد کرچکی تھیں۔ آپ نے اپنے چچاؤ ں سے گفتگو کی، انہوں نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا عمروبن اسد کو پیغام بھیجا، بات طے پاگئی ، اورابوطالب نے نکاح کا خطبہ دیا۔ اس طرح شادی ہوگئی۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلمکی عمر 25 سال تھی اورحضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر چالیس سال تھی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بیوی تھیں ،ان کی زندگی میں آپ نے کسی اورسے شادی نہیں کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام اولاد بھی انہیں سے تھی۔

تعمیر کعبہ

 اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا 35واں سال ہے۔  خانہ کعبہ کی تعمیر ہورہی ہے، کیونکہ کعبہ کی دیواریں زوردار سیلاب آنے کی وجہ سے پھٹ گئی تھیں۔ لوگ اس کی تعمیر میں اپنی حلال کمائی ہی لگارہے تھے ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلمبھی پتھر ڈھو ڈھو کر لارہے تھے۔ تعمیر کا کام باقوم نام کا ایک رومی معما ر کر رہا تھا۔ جب دیوار حجراسود تک اٹھ چکی تو ہر سردار کی خواہش تھی کہ حجراسود کو اس کی جگہ رکھنے کا شرف اسے حاصل ہو۔ اس پر سخت اختلاف ہوگیا۔ چارپانچ روز تک بحثیں چلتی رہیں لیکن کچھ نتیجہ نہیں نکل رہا تھا اور قریب تھا کہ اسی کے لیے حرم میں خون خرابہ ہوجائے۔ لیکن ابوامیہ جو سب میں عمردراز آدمی تھا، اس نے کہا : چلو ! مسجد حرام کے دروازے سے جو شخص سب سے پہلے داخل ہو اسے ہم اپنا حکم مان لیں گے۔ وہ جو فیصلہ کرے سب کو قبول کرنا ہوگا۔ لوگوں نے تجویز منظور کرلی۔اللہ کی مشیئت دیکھیں کہ سب سے پہلے جو شخص داخل ہوا وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلمتھے ، قریش نے آپ کو دیکھتے ہی کہا: ھذا الامین رضیناہ ، ھذا محمد ”یہ محمد ہیں جوکہ امین ہیں ہم ان سے راضی ہیں۔“ جب آپ ان کے پاس پہنچے توآپ کو سارا ماجرا سنایاگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے اس کا یہ حل نکالا کہ ایک چادر لی، اس میں حجراسودکو رکھا اور سب سرداروں سے کہا کہ اس کا کنارہ پکڑکر اوپر اٹھائیں۔ سب نے ایسا ہی کیا۔ جب چادر حجراسود کی جگہ پہنچ گئی تو آپ نے اپنے مبارک ہاتھ سے حجراسود کو اس کی جگہ پر رکھ دیا،یہ فیصلہ اتنا عمدہ تھا کہ اس پر سب خوش ہوگئے اورجھگڑا ٹل گیا۔

  نبوت سے پہلے کی اخلاقی جھلکیاں

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بچپن سے ہی اچھے اخلاق کے پیکر تھے ، مروت ہو، خوش اخلاقی ہو ، سچائی ہو ، امانت داری ہو ، پا ک نفسی ہو ، دوراندیشی ہو ، زہد و قناعت ہو،صبر و شکر ہو، حیا اور وفا ہو ،بردباری اورعفت ہو ، ہمسایوں کے ساتھ اچھا معاملہ ہو یا بیواوں اور یتیموں کی خبرگیری ہو، غرضیکہ اچھائی کاجو بھی کام ہو ان سارے کاموںمیں آپ سب سے آگے تھے ،اوربرائی کا جو بھی کام ہو،ا ن سارے کاموں سے بالکل دورتھے ،کبھی شرا ب کو منہ نہ لگایا، بتوں کے نام ذبح کئے گئے جانوروں کا گوشت نہ کھایا،نہ ایسے تہواروں اورمیلوں ٹھیلوں میں شرکت کی،نہ کبھی لات وعزی کی قسمیں کھائیں۔ نبوت سے تین سال پہلے آپ کو ان چیزوں سے مزید نفرت پیدا ہونے لگی، سماج کی برائیوں سے کڑھن محسوس ہونے لگی ،اسی لیے آپ آبادی سے دورحراپہاڑ کے ایک غارمیںبیٹھنے لگے،گھر سے ستوپانی لے جاتے اور وہیں بیٹھے رہتے ،کوئی ہدایت تو تھی نہیں کہ اس کے مطابق اللہ کی عبادت کرتے البتہ اللہ کی نشانیوں پر غورکرتے تھے ،رمضان کا پورا مہینہ ایسے ہی گذرجاتا۔نبوت سے چھ مہینہ پہلے نبوت کی کچھ نشانیاں ظاہرہونے لگیں،رات میں سوتے تو خواب دیکھتے اور جو کچھ دیکھا ہوتا ویسے ہی دن میں ظاہرہوتا، کبھی کسی صحرا اورغیرآبادجگہ سے گذررہے ہوتے تو درخت اور پتھر تک آپ کو سلام کرتااورکہتا السلام علیک یا رسول اللہ۔

وحی کا آغاز ہوتا ہے

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر چالیس سال چھ مہینے بارہ دن کی ہوچکی ہے ،صحیح قول کے مطابق رمضان کی ۱۲تاریخ ہے اورسموار کی رات ہے ، غارحرامیں بیٹھے عبادت میں مشغول ہیں کہ اچانک عجیب وغریب آواز آتی ہے ،آواز تھی ”اقرا “ پڑھ غارحرا کی تنہائی ،رات کا وقت ، غیرمانوس آواز ،اورکام بھی ایسا کہ آپ کے بس کاروگ نہیں،پریشان ہیں،کیاجواب دیں سمجھ میں نہیں آتا، آپ کی زبان سے نکلتاہے : میں پڑھا ہوا نہیں ہوں؟ جی ہاں! پڑھتے لکھتے بھی کیسے کہ بچپن میں ہی ماں باپ اور دادا کے سایہ سے محروم ہوچکے تھے ، اس نے زورسے دبوچا کہ آپ کی قوت نچوڑ دی اوروہی لفظ بولا : پڑھو ، آپ کہتے جارہے ہیں کہ میں پڑھاہوا نہیں ہو ں۔ اس نے دوبارہ پکڑ کر دبوچا اورچھوڑکر کہا : پڑھو، آپ نے کہا :میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس نے تیسری بارزورسے دبوچا اور چھوڑ کرکہا:

اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ﴿١﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ﴿٢﴾اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ﴿٣

” پڑھو!اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا ،انسان کو لوتھڑے سے پیدا کیا، پڑھو اور تمہارا رب نہایت کریم ہے۔“

یہ تھے جبریل امین جو پہلی وحی لے کر آئے تھے ،کائنات میں عجیب تبدیلی آچکی تھی، بھٹکتی انسانیت کوہدایت کا راستہ مل چکا تھا لیکن اسی نبی کو پتہ نہیں کہ یہ سب کیا ہورہا ہے ۔          (جاری )

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*