مجھے نمک کی کان میں مٹھاس کی تلاش ہے (اعجازالدین عمری)

یہ 1990ءکی بات ہے جب میں نے پہلی بار شیخ سعدی کا یہ شعر پڑھاتھا  ” چہل سال عمرِ عزیزت گذشت  مزاج تو از حال طفلی نہ گشت ‘ ‘ ( تیری پیاری زندگی کے چالیس سال گزر گئے ، مگر تیرے مزاج کا بچپنا اب بھی نہیں گیا)۔ اس وقت میں تیرہ برس کا لڑکا تھا اور کبھی خیال نہ ہوا تھا کہ عمر کی اس منزل پر کبھی میں بھی پہنچ پاوں گا۔ اب میں چالیس کا تو نہیں ہوں مگر جس رفتار سے وقت ہمیں پیچھے کرتا جا رہا ہے ، چالیس اب بہت دور بھی نہیں رہا ۔

جوانی آئی بھی ، چھائی بھی اور اب رخصتی بھی مانگ رہی ہے ۔ اور پھر حیات مستعار کا اعتبار بھی کیا ؟، نہ جانے گردش ایام، زندگی کو کب کیسا کھیل دکھائے اسی مضمون پر کلام کرتے ہوے شیخ سعدی آگے فرماتے ہیں

” مکن تکیہ بر عمر نا پائدار

  مباش ایمن از بازی روزگار “

 میری زندگی کی پینتیس رُتیں مجھ سے روٹھ چکی ہیں۔ پُر بہار و خزاں رسیدہ ان پینتیس سالوں میں سے بے شعوری کے پانچ سال الگ بھی کردیںتو گذشتہ تیس سالوں سے زندگی کے پل پل کو میں نے بہت قریب سے محسوس کیا ہے۔ انسان کے اطراف انسان بن کر انسان کو پڑھنے کی میں نے کوشش کی ہے ۔ انسان رونق زندگی بھی ہے اوررونق خلائق بھی محفل کون و مکان میں وہ شمع محفل بھی ہے۔ بزم حیات میں ساری چہل پہل اسی دو پائے کی مخلوق سے ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انسان اُنس سے بنا ہے ۔ ہو نہ ہو اسی اُنسیت نے ہی انسانی رشتوں کی جال بچھا رکھی ہو

یوں تو ربط باہمی میں کائنات کی کوئی شئے جدا نہیں ہے۔ اقبال نے یہ فلسفہ ہی بیان کر دیاکہ

 ” لہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرّے کا دل چیرو“

نوکِ قلم سے پھیل کر زندگی ،کتاب حیات بن گئی مگر انسان ہے کہ پردہ راز میں چھپتا جارہاہے کون جانے اس مٹی کے پتلے میں کیسا فسوں چڑھ گیا ہے وہ جتنا عیاں ہے اتناہی نظروں سے اوجھل بھی ہے ۔

انسان اور انسان کے بیچ چاہت وکشش کے پیمانے بھی عجیب ہیں اور نفرت و عداوت کی اکائی بھی عجیب ہیں

چاہتیں ہوں تو موجہ دل کی ترنگیں بے قابو رہتی ہیں، کلیوں کی طراوت اور شبنم کی وارفتگی ہوتی ہے، نسیم سحر کے جھونکوں میں نغمگی کا احساس اُبھرتا ہے۔اور عداوتیں ہوں تو درونِ سینہ خون کی جگہ بجلی کی روانی ہوتی ہے ،دل کو سنگ و صلابت کی تعبیر عطا ہوتی ہے اور آنکھیں قہر ڈھاتی ہیں تو سانسیں شرر فشانی کرتی ہیں ۔

کیف و الفت کے جذبے داستاں بناتے ہیں اور داستانِ محبت کی آماجگاہ انسانی بستی ہوتی ہے اب وہ بستی ہے نہ وہ انسان ! اور نہ وہ کیف و مستی کی داستانیں ہی

رشتے ناطوں سے انسانی وجود کو پہچان ملتی ہے ۔رشتے سماج کے پیراہن ہوتے ہیں ۔وقت نے اس پیراہن کو تار تار کردیا ہے

الفت و محبت ، خلوص و وفا ، ایثار و قربانی قصہ پارینہ کی بھولی بسری باتیں لگتی ہیں

اور اب حالت یہ ہے کہ ”جذب باہم جو نہیں ، محفل انجم بھی نہیں “

جن رشتوں کو آدمی اپنی زندگی سمجھتاتھا اُنہیں رشتوںنے آج اس کے دل میں مرنے کی آرزو بڑھا دی ہے اورجس زنجیر وفا میں آدمی خود کو با سلامت تصور کرتاتھا اسی نے آہنی زنجیر بن کر اس پر زندگی کا دائرہ تنگ کردیا ہے

” یہ کیا ستم ظریفی  فطرت ہے آج کل

بیگانگی شریک محبت ہے آج کل “

حیرت تو اس پر ہے کہ ماں باپ کا پیاربھی تجارتی بنتا جارہاہے ،

کبھی یہ بے لوثی و بے غرضی کے ہم معنی سمجھا جاتا تھا سوچتا ہوں تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ جو زمین میں خدائی محبت کے پیکر تھے اب وہ بھی تعفن زدہ سی ہو چکی ہے!

 ہوس کی دھوم دھام ہے نگر نگر گلی گلی اور

” ہوس نے کردیا ٹکڑے ٹکڑے نوع انسان کو“

بھائی بہنوں کے پیار کابھی تقدس اُٹھ چکا ہے چھاتی کے دودھ میں بھی نفرت کی بوندوں کی آمیزش ہے۔خود غرضی  و نفس پرستی کا سبق پڑھ کر نسلیں پروان چڑھ رہی ہیں

میاں بیوی کے رشتے سے اعتبار و اعتماد اُٹھ چکا ہے ۔ہاتھ سے ہاتھ، قدم سے قدم اور دل سے دل ملاکر سنگ سنگ جینے کا عہدو پیمان بے اعتباری کی آگ میں جھلس کر رہ گیا ہے۔ شک و شبہ کے شیطان نے ایسی دراڑیں پیدا کردی ہیں کہ بیس بیس سال کی سنگ گزاری بھی لمحوں میں ٹوٹ کر بکھر جاتی ہے ۔

” توڑ کر تارِ نگہ کا سلسلہ جاتا رہا

  خاک ڈال آ نکھوں میں میری قافلہ جاتا رہا “

ہم یہ کیسی دنیا میں جی رہے ہیں ؟ یہ کیسی رشتہ داریاں ہیں ہماری ؟!

” کون یہاں اس راز کا پردہ چاک کرے ؟

  جتنے خون کے رشتے ہیں ، سب خونیں ہیں “

خونیں زنجیروںسے ہمارے پیر بندھے ہوے ہیں اور اپنی پیٹھ اور پیٹ سے نکلنے والی نسلوں کے پیر بھی ہم نے انہیں زنجیروں سے باندھ رکھے ہیں وفا کی سر زمیں پر دو قدم چلتے نہیں کہ ان زنجیروں کے شکنجوں میں ان کے پیر پھنسے جاتے ہیں ، اُ س ہاتھی کی طرح جس نے ایک بچے کو جنم دیا اور اس کے ایک پیر میںنو ہاتھ لمبی ایک زنجیر باندھ دی ۔یہ ہاتھی بچہ جیسے جیسے بڑا ہوتا گیا اس کے پیر بھی دھیرے دھیرے مضبوط ہونے لگے۔ اب اس نے چلنے کی کوشش کی۔ایک قدم بڑھایا وہ خوشی سے پھولے نہیں سمایا، اب اس نے دوسرا قدم بڑھانے کا سوچا اور کامیاب ہوگیا پھر اس نے تین، چار،پانچ اور نواں قدم بھی بڑھایا وہ نو قدم آگے آچکاتھا اب اس کے من میں دسویں قدم کی آرزو مچلنے لگی اور اس نے قدم بڑھایا مگر اس بار اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑاکہ اس کے پیروں میں بندھی ہوی زنجیر اُسے آگے بڑھنے سے روک رہی تھی اُسے صرف نو قدم چلنے کی آزادی تھی دسویں قدم کے لیے اسے اپنی ماں کی باندھی ہوی زنجیر کو کاٹ دینا تھا جو اس کے لیے اتنا آسان نہیں تھا ۔ اس کے اختیار میں بس اتنا تھا کہ وہ سمت بدل کر پھر نو قدم چلتا اس سے بڑھ کر وہ کچھ کربھی نہیں سکتا تھا۔

ہم نے بھی دنیا میں آنکھ کھولنے والے ہر بچے کے پیرمیں اپنے مطلب کی زنجیر باندھ رکھی ہے

اس نمک کی کان میں ،کہاں سے میںمٹھاس کی تلاش کروں ؟

 

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*