تلاوتِ قرآن کی فضیلت

حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ

 عن ابی امامہ رضی اللہ عنہ قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: اقرووا القرآن فانہ یاتی یوم القیامة شفیعا لاصحابہ (رواہ مسلم )

ترجمہ : حضر ت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :” قرآن کثرت سے پڑھا کرو، اس لیے کہ قیامت والے دن یہ اپنے پڑھنے والے ساتھیوں کے لیے سفارشی بن کر آئے گا۔“ (مسلم)

تشریح: اس میں قرآن مجید کی تلاوت اور اس پر عمل کرنے کی فضیلت کا بیان ہے ، کیونکہ عمل کے بغیر محض خوش الحانی سے پڑھ لینے کی اللہ کے ہاں کوئی قیمت نہیں ہوگی ، سفارشی کا مطلب ہے کہ اللہ تعالی قرآن مجید کو قوت گویائی عطافرمائے گا اوروہ اپنے قاری اور عامل کے گناہوںکی مغفرت کا اللہ سے سوال کرے گا ‘ جسے اللہ قبول فرمائے گا ۔

عن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ (رواہ البخاری )

ترجمہ : عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھلائے ۔“ (بخاری )

تشریح: اس میں قرآن کریم کی تعلیم وتعلم یعنی خود سیکھنے اوردوسروں کو اللہ کی رضا کے لیے سکھلانے کی فضیلت ہے ۔

عن عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: ”ان اللہ یرفع بہذا الکتاب اقواما ویضع بہ آخرین“ رواہ مسلم

ترجمہ : حضرت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” اللہ تعالی اس کتاب (قرآن مجید ) کی وجہ سے بہت سے لوگوںکو سرفراز فرمائے گا اوراسی کی وجہ سے دوسروں کو ذلیل کردے گا ۔“ (مسلم )

تشریح: سرفراز ‘ اللہ کے حکم سے وہی ہوں گے جو قرآن کے احکام کو بجالائیں گے اوراس کی حرام کردہ چیزوںسے اجتناب کریں گے اوراس کے برعکس کردار کے لوگوں کے لیے بالآخر ذلت و رسوائی ہی ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کو اللہ نے ابتدائی چند صدیوںمیں ہرجگہ سرخرو کیا اور انہیں سرفرازیاں عطا کیں، کیوںکہ وہ قرآن کے حامل اورعامل تھے ‘ اس پر عمل کی برکت سے وہ دین ودنیا کی سعادتوں سے بہرہ ور ہوئے ۔ لیکن مسلمانوں نے جب سے قرآن کے احکام وقوانین پر عمل کرنے کو اپنی زندگی سے خارج کردیا تب سے ہی ان پر ذلت ورسوائی کا عذاب مسلط ہے ۔ ھداہم اللہ تعالی ۔ کاش مسلمان دوبارہ قرآن کریم سے اپنا رشتہ جوڑیں تاکہ ان کی عظمت رفتہ بحال ہوسکے ۔

 عن ابن عباس رضی اللہ عنہما قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ان الذی لیس فی جوفہ شیءمن القرآن کالبیت الخرب (رواہ الترمذی )

ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہسے روایت ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک وہ شخص جس کے دل میں قرآن کا کچھ حصہ( یاد) نہ ہو ، وہ ویران گھر کی طرح ہے ۔“

تشریح: یعنی جیسے ویران گھر ‘ خیروبرکت اوررہنے والوں سے خالی ہوتا ہے ‘ ایسے ہی اس شخص کا دل خیر وبرکت اور روحانیت سے خالی ہوتا ہے جسے قرآن مجید کا کوئی بھی حصہ یاد نہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہرمسلمان کو قرآن مجید کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور زبانی یا دکرنا اور رکھنا چاہیے تاکہ وہ اس وعید سے محفوظ رہے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*