رمضان میں دعا كى بہت اهميت ہے

دكتور محمد لقمان السلفي

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ ﴿البقرة: ١٨٦﴾

ترجمہ : ” اور (اے نبی ) اگر آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں ، تو آپ کہہ دیجئے کہ میں قریب ہوں ، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے ،پس انہیں چاہیے کہ میرے حکم کو مانیں اورمجھ پر ایمان لائیں ،تاکہ راہ راست پرآجائیں ۔ “

تشریح: یہ آیت گذشتہ آیت کے مضمون کی تکمیل کرتی ہے ،گذشتہ آیت میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو نصیحت کی کہ رمضان کے روزے پورے کرلینے کے بعد تکبیر کہو اور اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے رمضان جیسا بابرکت مہینہ عطا کیا اوراس میں روزے رکھنے کی توفیق بخشی ،اب اس آیت میں اللہ نے خبر دی کہ وہ اللہ جسے وہ یاد کریں گے اورجس کا شکر ادا کریں گے ، اُن سے قریب ہے ، اللہ تعالی نے دوسری جگہ فرمایاہے : کہ ہم انسان سے اس کی شہِ رگ سے زیادہ قریب ہیں ۔ (ق 16)

علمائے تفسیر نے یہ بھی کہا ہے کہ روزوں کے احکام کے درمیان دعا کے ذکر سے مقصود اس طرف اشارہ ہے کہ رمضان میں دعا کی بڑی اہمیت ہے ۔ مسند طیالسی میں ہے کہ عبداللہ بن عمروؓ افطار کے وقت اپنے تمام بال بچوں کے ساتھ دعا کیا کرتے تھے ، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے کہ روزہ دار کے افطار کے وقت کی دعا قبول ہوتی ہے ۔

ایک اورحدیث ہے کہ تین آدمی کی دعا رد نہیں کی جاتی : امام عادل کی ،روزہ دار کی ، اورمظلوم کی ۔ (مسند احمد، ترمذی ،نسائی ،ابن ماجہ )

ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے روایت کی ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اورپوچھا کہ اے اللہ کے رسول !کیا ہمارا رب قریب ہے کہ ہم اس سے سرگوشی کریں ،یا دورہے تاکہ اسے پکاریں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی ۔

اللہ اپنے بندوںسے قریب ہے ،اس لیے کہ وہ ”رقیب “ ہے ”شہید“ ہے ،ظاہر وپوشیدہ کو جانتا ہے ، دلوںکے بھید جانتا ہے ،اس لیے وہ اپنے پکارنے والوںسے قریب ہے ، اوران کی پکار کو سنتا ہے ، جو بندہ اپنے رب کو حضورقلب کے ساتھ پکارتا ہے ، اورکوئی چیز دعا کی قبولیت سے مانع نہیں ہوتی‘ تو اللہ تعالی اس کی دعا قبول کرتا ہے ، خاص طور سے اگر قبولیتِ دعا کے دینی اسباب بھی موجود ہوں، یعنی بندہ اللہ کے اوامر ونواہی کا پابند ہو اوراللہ تعالی پر اس کا ایمان کامل اور یقین محکم ہو ۔

(فوائد )

۱۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے میں دعا کرنے کا حکم دیا ہے ۔آپ نے فرمایا ہے کہ ”بہت ممکن ہے کہ تمہارے سجدے کی دعا قبول ہوجائے “۔(مسلم) آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی سجدے میں کثرت سے دعا کرتے تھے ۔

۲۔ قبولیتِ دعا کی چھ شرطیں ہیں ،اگر وہ پوری نہ ہوں تو دعا قبول نہیں ہوتی :

الف: دعا اللہ تعالی کے اسمائے حسنی کے واسطے سے کی جائے ۔ ب : نیت میں اخلاص ہو ۔ ج: دعا کرنے والا اپنی مسکنت ومحتاجی کا اظہار کرے ۔ د: کسی گناہ کی دعا نہ کرے ۔

ھ : کسی ایسی چیز کے لیے دعا نہ کرے جس کے ذریعہ اللہ کی نافرمانی پر مدد لینی چاہے ۔

 و: اسے یقین ہو کہ اللہ نے اگراسے کسی دنیاوی فائدہ سے محروم رکھا ہے تو یہ بھی اللہ کی نعمت ہے ،بالکل اس نعمت کی مانندجو اللہ نے اسے دیا ہے ۔

 ۳۔ مصیبتوں کو ٹالنے کا سب سے قوی ذریعہ دعا ہے ۔لیکن کبھی وہ اپنا اثر نہیں دکھا پاتی ، یا تو اس لیے کہ دعا کسی ایسی چیز کے لیے ہوتی ہے جو اللہ کو ناپسند ہے ،یا دعا کے وقت حضورِقلب معدوم ہوتا ہے ،یاقبولیت دعا کے کسی مانع کے موجود ہونے کی وجہ سے ،مثال کے طورپر،دعا کرنے والے کی روزی حرام ہو ، یاوہ ظالم ہو یا اس کے دل پر گناہوںکا دبیز پردہ پڑا ہو،یا وہ غفلت اورلہو ولعب میں مبتلا ہو ۔

۴: رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایاہے کہ” دعا مومن کا ہتھیار اور دین کا ستون ہے اورآسمان وزمین کا نور ہے ۔“    (مستدرک حاکم )

دعا کا معاملہ کسی مصیبت کے ساتھ تین طرح کا ہوتا ہے ، یاتو دعا مصیبت سے زیادہ قوی ہوتی ہے تو اسے دور کردیتی ہے یا کمزور ہوتی ہے تو مصیبت غالب آجاتی ہے ،اور بندے کو لاحق ہوجاتی ہے (لیکن کبھی کبھار دعا کمزورہونے کے باوجود مصیبت کو ہلکی کردیتی ہے ) یا دونوںایک دوسرے کا مقابلہ کرتی رہتی ہیں اور ایک دوسرے کو اثرکرنے سے روکتی ہیں ۔

5: دعا باربار اور خوب الحاح کے ساتھ کرنی چاہیے ۔ رسول اللہ ا نے فرمایاہے کہ دعا کرنے سے نہ تھکو،اس لیے کہ جو آدمی دعا کرتا رہتا ہے وہ ہلاک نہیں ہوتا۔         (مستدرک الحاکم)

6 : دعا کی قبولیت میں عجلت کا اظہار نہیں ہوناچاہیے ۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے ، رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ہے کہ ”آدمی اگر قبولیت میں جلدی نہ کرے تو دعا قبول ہوتی ہے “۔

7: دعا کی قبولیت کے چھ مشہور اوقا ت ہیں : آخری تہائی رات میں، اذان کے وقت، اذان اوراقامت کے درمیان، فرض نمازوںکے بعد ،جمعہ کے دن امام کے منبر پر جانے کے بعد سے نماز ختم ہونے تک ، جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد آخری ساعت ۔ وباللہ التوفیق ۔

(تیسیرالرحمن لبیان القرآن ، ص101۔ 103)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*