تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

ان دنوں عالم اسلام جس نازک صورتحال سے گذررہا ہے وہ جگ ظاہر ہے، پاکستان میں بم دھماکے، ڈرون حملے اورقتل وخونریزی کا سلسلہ تاہنوز جاری ہے ، اورہندوستان میں ہندووں کی متعصب تنظیموں کی پشت پناہی میں مسلم نوجوانوں کا انکاونٹر اورانہیں جیلوں کی سلاخوںمیں ڈالے جانے کا سلسلہ بھی تھمتا نظر نہیں آرہا ہے۔آرایس ایس اوراس کی ذیلی تنظیمیں ہندوستان کے کونے کونے میں فرقہ وارانہ فسادات کراکر 2014ء کے انتخاب کی تیاری میں مصروف ہیں، اپنی خبیثانہ ذہنیت اور شاطرانہ چال سے بڑا سے بڑا جرم کرتی ہیں اور الزام مسلمانوں کے سر ڈالتی ہیں ۔ فلسطین میں مسلسل اسرائیلی دہشت گردی جاری ہے،اوررمضان کے آغازسے ہی یہود کی سرکشی میں تیزی آچکی ہے ،قبلہ اول کی بنیادوں میں کھدائی اس قدر کی جاچکی ہے کہ اندیشہ ہے کہ مسجداقصی کا ایک حصہ کسی بھی وقت زمین بوس ہوجائے ،عراق میں آئے دن قتل عام ہورہا ہے، سوریا میں نصیری حکومت اہل سنت کا صفایاکرنے پرکمربستہ ہے، مصرمیں تین دہائی تک ظالم وجابر ڈکٹیٹرحکومت کے ظلم وجبر سے تنگ آنے کے بعدانقلاب آیااورعوامی انتخاب کے ذریعہ جوحکومت بنی اس سے قوم کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی نظرآرہی تھیں لیکن دشمن گھات میں لگا تھا ، دسیسہ کاریاں کامیاب ہوئیں اوراس حکومت کا بھی تختہ پلٹ دیاگیا،ابھی مصرمیں فوج کی حکومت ہے،ڈاکٹرمرسی کے حامیوں کااحتجاج تاہنوز جاری ہے۔یہ ہیں وہ ناگفتہ بہ حالات جن سے قوم مسلم ان دنوں گذر رہی ہے ۔

 ہمیں سردست مصرکی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرنی ہے ، یہ زمینی حقائق ہیں کہ جس دن اخوان المسلمون کی حکومت بنی ہے اسی دن سے ڈاکٹرمرسی اسلام دشمن عناصر کے حلق کا کانٹا بن گئے،سیکولرمیڈیا ان کی معمولی کوتاہی کو پہاڑ بناکر پیش کرتا رہا ہے ، سیسی کوفوج کے کمانڈر کی حیثیت سے خود ڈاکٹرمرسی نے نامزدکیا تھا تاہم فوج کا ہمیشہ حکومت کے ساتھ سوتیلاپن کا رویہ رہا ،ادھر مخالفین موقع کی تلاش میں تھے چنانچہ ملک شام کے موجودہ پس منظر میں گذشتہ ماہ جب ڈاکٹرمرسی نے عالم اسلام کے170 سرکردہ علمائے کرام ، دانشوران اورمفکرین کی ایک میٹنگ بلائی ،جس میں سب نے شام کے خلاف متفقہ قرارداد پاس کیا کہ سوریا میں علویوں کے خلاف جہاد وقت کا تقاضا ہے ۔ پھرڈاکٹرمرسی نے اسی مجلس میں نہایت جرات کے ساتھ بشار حکومت سے اپنے تمام تر سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا ، اسی کے کچھ دنوںبعد چندغیرتمند نوجوانوںنے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اورصحابہ کرام ؓکی اہانت کرنے والے چاررافضیوں کو کیفر کردار تک پہنچایا ،اس طرح کے واقعات نے دشمن کو موقع بہم پہنچایا،چنانچہ ان کے دلوں میں اسلام دشمنی کا پکتا ہوا لاوا پھوٹ پڑا، اور جمہوری طرزپر منتخب حکومت کے خلاف سراپااحتجاج بن گئے ،مارچ شروع کردیا ،مظاہرے کئے بالآخر دشمن کی سوچی سمجھی پالیسی کامیاب ہوئی اورجس کی لاٹھی اس کی بھینس کے تحت ڈاکٹرمرسی کومعزول کردیا گیا ،ابھی ڈاکٹر مرسی فوج کے قبضہ میں ہیں ،کہاں ہیں اب تک اسکا کوئی سراغ نہ لگ سکا ہے ، اخوان المسلمین کے سرکردہ لیڈران بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیے گئے ہیں، ڈاکٹرمرسی کے حامیوںکا مظاہرہ تاہنوز جاری ہے، 8جولائی کے مظاہرہ میں فوج نے مظاہرین پر نمازفجرکی حالت میںگولی چلادی جس میںسترسے زائدلوگ شہید ہوئے،اور27 جولائی کوفوج نے 130لوگوں کو خاک وخون میں آغشتہ اورچارہزارسے زائد لوگوں کو زخمی کیا ،اب تک یہ مظاہرہ جاری ہے جس میں مردوخواتین اور بچوں کے خون سے رابعہ عدویہ کا میدان لالہ زار ہورہا ہے ۔

 اگر اس حادثے پر سنجیدگی سے غورکیا جائے تو اس میں یہودونصاری کی ملی بھگت اور اسلام دشمن عناصر کی کارستانی واضح طور پر نظر آئے گی ، لیکن پھر بھی اس حوالے سے مسلمانوں کی جماعتیں دو گروہوں میں بٹ چکی ہیں ، ایک طرف مرسی کے مویدین ہیں تو دوسری طرف مرسی کے مخالفین ہیں ، میں نہ تو مرسی کی تائیدکرنے بیٹھا ہوںنا ان کے مخالفین کو کوسنا میرا مقصد ہے تاہم اس طرح کے حادثے میں ملت کے آپسی اتحادکا فقدان امت مسلمہ لیے نیک فال ہرگزنہیں ہے،بلکہ خطرے کی گھنٹی ہے، ہمیںڈاکٹر مرسی سے اختلاف ہوسکتا ہے ،ان کے نظریہ سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن جب اسلام کا نام لینے کی بنیاد پرکسی خاص جماعت کویرغمال بنایا جارہا ہو اوردشمن طاقتیں اس کا صفایہ کرنے پر تلی ہوںایسے حالات میں عالم اسلام کا تحفظ برتنایا ان سے بے رخی اختیار کرنا یاان کے مقابلہ میںدشمن کا ساتھ دینا بزدلی کی علامت ہے اورمستقبل میں اس کا انجام بہرصورت بہتر نہیں ہوگا۔

 امت مسلمہ کے موجودہ حالات اس بات کے متقاضی تھے کہ ہم اپنے سارے اختلافات کوپس پشت ڈال کر دشمن کے سامنے سینہ سپر ہوتے، سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوتے اوروحدت ویگانگت کا ثبوت پیش کرتے کہ دشمن کو ہماری قوت وطاقت کاصحیح اندازہ ہوتالیکن ہم ہیں کہ اپنے ہی بھائیو ںکو دشمن کا لقمہ تر بنانے پر تلے ہوئے ہیں ۔ دشمنوں نے ہردورمیں ’پھوٹ ڈالو اورحکومت کرو‘ کے اصول کے تحت ہمیں اپنا یرغمال بنایا ہے،ہماری سادہ لوحی اور اوروں کی عیاری سے ہر دورمیں ہمیں زک پہنچا ہے، ہمارا دشمن عیاری کی آخری حد پار کرچکا ہے ،وہ ہمیں نقصان پہنچانے کے لیے انسانیت سے گری ہوئی حرکتیں کرنے کے لیے بھی ہمہ وقت تیار ہے،مسلمانوں کے بیچ فرقہ وارانہ فسادات کرانے اورمختلف فرقوں کو آپس میں لڑانے کے لیے عالمی سطح پر منصوبہ بندی ہورہی ہے ، اس کے لیے بجٹ خاص کیاجارہا ہے اورہم ہیں کہ ہوش کے ناخن لینے کے لیے تیار نہیں ، مسلکی اختلافات کوہم نے اساس دین سمجھ رکھا ہے،اورہمارے اندر سے دین کی آفاقیت کا شعور نکلتا جارہا ہے۔ہمارے پاس چوٹی کے علماء پائے جاتے ہیں لیکن صدحیف کہ ان میں سے اکثر کی صلاحیتیں مسلکی اختلافات اورمنفی شعورکو فروغ دینے میںصرف ہورہی ہیں، اس لیے اب ہمیں خواب غفلت سے بیدار ہونا ہوگا ،ہمیں اپنے دشمن کی سازش کو سمجھنا ہوگااور اپنی صفوںمیں اتحاد پیدا کرناہوگا ۔

اللہ تعالی ہمارا حامی وناصر ہو ۔

 صفات عالم محمدزبیر تیمی

     safatalam12@yahoo.co.in

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*