ایک امریکی کے قبول اسلام کی کہانی خود اس کی زبانی (مولانا محمدثناءاللہ عمری ایم اے)

دوسري اور آخري قسط

حضرت ابراہیم ‘ موسی اور عیسی علیہم السلام وغیرہ کی تعلیمات سے ہميں معلوم ہوتا ہے کہ وہ عدل و انصاف سے، امانت و دیانت، صبرو برداشت، اخلاقی جرات وہمت وغیرہ اوصاف سے متصف تھے۔ ان سب نے یہی تعلیم دی کہ خدا ایک ہے اور وہی عبادت کے لائق ہے ‘ پیروی اسی کے آئین و قانون کی کی جانی چاہيے ۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے خوشخبری سنائی ہے: ” مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنی ہيں ‘ مگر تم اس وقت يہ باتيں برداشت نہ کر سکوگے ‘ تاہم جب” سچائی کی روح“ آئے گی تو اس سچائی کی راہ تمہيں دکھائے گی۔ ( جان: ۶۱:۲۱۔ ۳۱)

عیسائی دنیا نے ” سچائی کی روح “ سے روح القدس مراد لیاہے جو غلط ہے ۔ اس کے بر خلاف اسلام کے پیرو یقین کرتے ہيں کہ” سچائی کی روح “ سے محمد صلى الله عليه وسلم  مراد ہبں جو ۱۷۵ ء ميں پیدا ہوئے ۔ يہ وہ وقت تھا جب کہ دنیا انبیائے سابقین کی تعلیمات کو پوری طرح بگاڑ چکی تھی۔ ہر قسم کے فتنہ و فساد سے معمور دنیا ميں آپ نے توحید کی تعلیم دی۔

آپ کی زندگی رحم دلی ‘ انکسار‘ امانت‘ حق پسندی اور روحانی و جسمانی پاگیزگی کی روشن مثال تھی۔ اگلے پیغمبروں کی طرح وقت کے غلط کار اور متمول طبقوں نے آپ کی توہين اور ایذا رسانی ميں کچھ کسر اٹھا نہ رکھی‘  کیونکہ انہوںنے آپ کے پیغام کو اپنے ليے خطرہ خیال کے ۔ تاہم ایک دنیا نے آپ کی روح صداقت کو پہچان لیا اور اپنی زندگیاں آپ کے لائے ہوے دین توحید کے ليے وقف کرديں‘ اس کے ليے تج دیں۔

قرآن و حدیث کی تعلیمات کے ذریعے ایک مسلمان اپنی روزمرہ مصروف زندگی کے مسائل کا حل معلوم کر سکتا ہے ۔ اسلام کا اخلاقی ضابطہ مستقل اور مستحکم بنیادوں پر قائم ہونے کی وجہ سے انفرادی ‘ قومی اور بین الاقوامی معاملات ميں حق و باطل کی پہچان کا بے خطا معیار ہے۔ اسلام اپنے ہر نام لیوا کے دل و دماغ ميں يہ عقیدہ مضبوطی کے ساتھ جاگزیں کرتا ہے کہ اللہ حاضر وناظر ہے ‘ اس کا کوئی فعل و عمل اور فکر وخیال اس سے پوشیدہ نہيں ہے۔ وہ دنیا والوں کو دھوکا دے سکتاہے ‘ مگر دین و دنیا کے مالک کے ساتھ چلتر کھیل نہيں سکتا۔

اسلام اپنی تعلیمات سے انسان کی دنیاوی زندگی کو جنت ارضی ميں بدل دیتا ہے اور اس طرح اسے اخروی جنت کا اہل بنا دیتا ہے‘ اس آیت کا يہی تومطلب ہے۔ ” ربنا آتنا فی الدنیا حسنة و فی الآخرة حسنة وقنا عذاب النار “  ( البقرة: ۱۰۲) اے ہمارے رب! ہميں دنیا ميں نیکی دے اور آخرت ميں بھی بھلائی عطا فرما اور ہميں جہنم کے عذاب سے نجات دے“۔

خاندان انسانی معاشرے کا سب سے اہم ادارہ ہے۔ معاشرے کی ہر نسل کی ذمہ داری ہے کہ بعد ميں آنے والی نسل کی اس طرح تعلیم و تربیت کرے کہ وہ انسانی تہذیب و تمدن کی نشو ونما ميں شریک ہو۔ اخبارات و رسائل کے ناظرین اس حقیقت سے واقف ہيں کہ عہد جدید کی نئی نسليں اس فریضہ کی ادائیگی سے خالی پہلو تہی کر رہی ہيں۔ اس طرح معاشرے کا ڈھانچہ کمزور ہو چلا ہے۔ درانحالے کہ انسانی ترقی اور خوش حالی کے لے اس کا مضبوط و مستحکم ہونا ازبس ضروری ہے۔ اسلام اس سماجی اکائی یعنی خاندان کو بہت اہمیت دیتا ہے ۔ اس غرض کے لیے اس کے نزدیک مردو زن کا صحیح رشتہ شادی بیاہ کا ہے اور سیر و تفریح کے نام پر مرد وزن کا غیرذمہ دارانہ اختلاط ایک نا قابل معافی جرم ہے ۔

اسلام نے ایسے کرتوتوں پر پابندی عائد کی ہے جو مرد وزن کے آزادانہ اختلاط، ہیجان انگیز موسیقی اور تصاویر اور طوائفی ادب اور فواحش و منکرات کا باعث ہیں۔ان افعال و اعمال کے نیک وبد ہونے کے لیے کسی عدالت عالیہ کا فیصلہ درکار نہیں ۔اس کے لیے خالق کائنات کا امتناعی حکم کافی ہے جو وحدہ لاشریک ہے اور مقتدر اعلیٰ ہے۔ ان پابندیوں کی غرض و غایت انسان کی انفرادیت کی نشو نما روکنا نہیں ہے بلکہ خاندانی اکائی کا تحفظ ہے

اسلام کے نزدیک شادی بیاہ کے معاملے میں ذات پات کی تفریق روا نہیں ہے ۔مقصود یہ ہے کہ ازدواجی رشتہ آسانی کے ساتھ قائم ہو، ناجائز جنسی تعلقات پر قدغن لگے اور مسلم معاشرہ گھٹیا اخلاق سے پاک رہے۔

اسلام خاندان کا سربراہ مرد کو تسلیم کرتا ہے، یہ اقتدار استحصال کے لیے نہیں ہے کہ مرد ظالم اور جابر بن بیٹھے ، اسلام عورت کو حکم دیتا ہے کہ شوہر کی اطاعت کرے، اس کی اور بچوں کی خدمت کرے ، اور معاون و مددگار بنی رہے ۔باہمی محبت ، مفاہمت اور احترام ازدواجی زندگی کی اہم شرطیں ہیں ۔اسی طرح بچوں کے لیے بھی ماں باپ کا ادب اور بڑوں کا احترام ضروری ہے ۔پھر انسان ہونے کے ناتے ایک مسلمان کا فرض ہے کہ عام انسانی فلاح و بہبود میں ہاتھ بٹائے ، تعاون کرے۔

رہا رمضان کا روزہ تو ڈاکٹروں نے اس کے بہت سے جسمانی فوائد لکھے ہیں ۔ رہا روحانی فائدہ تو اس سے تقوی و طہارت کی کیفیت پیدا ہوتی ہے جو اسلام کی ہر عبادت کا مقصود و مدعا ہے ، اور صاحب تقویٰ اللہ کا محبوب ہے : إن أكرمكم عند الله أتقكم (الحجرات : 13) اللہ کے نزدیک تم سب میں با عزّت وہ ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے۔

اب زکوة کی بابت بھی دو چار باتیں سن لیجیے ، یہ غرباءاور مساکین وغیرہ کی خبر گیری کے لیے فرض کی گئی ہے ۔ سال بھر کے ضروری مصارف کے بعد بچت رقم کا ڈھائی فیصد حصہ اس میں دیا جائے گا ۔ یہ فلاحی فنڈ عیسائیوں میں بھی ہے جو  e Tithکہلاتا ہے جو کہنے کو تو آمدنی کا دسواں حصہ ہے مگر یہ اختیاری چیز ہے ، زکوة کی طرح فرض نہیں۔

اس کے بعد سب سے اخیر میں اسلام کا پانچواں رکن حج ہے ۔ اس کے بارے میں بس اتنا جان لیجیے کہ یہ عبادات اور اس کے سبھی مناسک اسلامی اخوت اور مساوات کے بین الاقوامی مظاہر ہیں اور اس بات کا پتا دیتے ہیں کہ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے ۔

مغربی دنیا اسلامی ارکان و عقائد کے بارے میں بڑی غلط فہمیاں اور غلط تصورات رکھتی ہیں۔ ہمارا فرض ہے کہ انہیں دور کرنے کی کوشش کریں ، مفید معلومات فراہم کرکے انہیں دین حق کی روشنی دکھائیں تاکہ میں ایک نو مسلم ، میری طرح کے لکھوکھا نو مسلم اور دنیا بھر کے کروڑوں مسلمان فخر و شکر کے ساتھ کہہ سکیں کہ ہم مسلمان ہیں اور اسلامی آئین و قانون کے مطابق زندگی گذار رہے ہیں : ﴾وَمَن´ اَحسَنُ قَو´لاً مِّمَّن´ دَعَا اِلی اللہ وَعَمِلَ صَالِحًا وَ قَالَ اِنَّنِی´ مِنَ المُسلِمِین﴿  (حم السجدہ : ۳۳)” اور اس سے اچھی بات والا کون ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک کام کرے اور کہے کہ میں یقیناً مسلمانوں میں سے ہوں“۔ ( انگریزی سے تلخیص)

 

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کسی قوم کا اصل سرمایہ اس کی نوجوان نسل ہوتی ہے جس سے قوم کی امیدیں اور توقعات وابستہ ہوتی ہیں ۔ لیکن جب یہ نوجوان اپنی روش بدل دیں اور معاشرے میں خرابیوں کا باعث بن جائےں تو یہ نقصان پوری قوم کا ہوتا ہے ۔چونکہ ہم بھی اس معاشرے کا ایک حصہ ہیں ، اس لیے کہیں نہ کہیں یہ نقصانات ہماری ذات سے بھی جڑے ہوتے ہیں۔جب ہماری قوم اور ہمارے ملک میں اتھل پتھل ہوتی ہے تو یقینا ہمارے اندر بھی ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے ۔ایک مشہور انگریزی مقولہ ہے کہ ” اگر تم نے دولت کھودی تو کچھ نہیں کھویا ، اگر تم نے صحت کھودی تو کسی حد تک کھویا لیکن اگر تم نے کردار کھودیا تو سب کچھ کھودیا“۔

حدیث میں مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی طرح دی گئی ہے ، اگر جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہے تو اس کا اثر سارے بدن پر پڑتا ہے ، جس سے ہماری کارکردگی میں فرق آتا ہے ۔پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم معاشرے میں پیدا ہونے والی خرابیوں سے اپنے آپ کو بچاسکیں۔ خالق کائنات نے اس عالم کی ہر شئے ایک خاص مقصد کے تحت بنائی ہے ۔ہر چیز بامقصد اور انسانی ضرورت کے عین مطابق ہے ۔ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی بے مصرف نہیں ۔ شہد کی مکھی اور چیونٹی کی ہی مثال لے لیں ، اللہ نے ان کے مختصر اجسام میں بھی وہ تمام اعضاءاور نظام بنا ئے ہیں جو ایک طویل القامت ہاتھی میں بھی پائے جاتے ہیں ۔کائنات کی ہر نعمت اور ہر طاقت کو اللہ نے انسان کے لیے تخلیق کیا اور پھر ان کو انسان کے تابع کردیا تاکہ وہ ان سے لطف اندوز ہوسکے ۔

انسانی زندگی میں شب و روز بے شمار واقعات پیش آتے ہیں ۔ ان میں سے بعض اپنی نوعیت کے لحاظ سے معمولی اور غیر اہم ہوتے ہیں ، جنہیں انسان بہت جلد فراموش کردیتا ہے ۔لیکن بعض اس کے دل و دماغ پر اپنا گہرا اثر چھوڑ جاتے ہیں ۔اس لیے جب ہم کسی منتشر خاندان یا بگڑے ہوے نوجوان کو دیکھتے ہیں تو اس کی شبیہ کافی وقت تک ذہن کے کسی کونے میں محفوظ ہوجاتی ہے۔ اور جب جب وہ تصویر ذہن کے آئینہ میں اُبھرتی ہے تو افسوس کے چند کلمات ہماری زبان پر آتے ہیں۔

ماضی قریب میںخاندان کا جو تصور ہمارے معاشرے میں تھا وہ اب تقریبا ختم ہوتا جا رہا ہے۔آج کا معاشرہ ایک نسلی خاندان پر مشتمل ہے جس میں صرف میری بیوی اور بچے آتے ہیں ۔اس ایک نسلی خاندان کی وجہ old houses کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔جہاں بچے بوڑھا ہونے پر ماں باپ کو ان old houses کے رحم وکرم پر چھوڑ آتے ہیں۔چونکہ انہوں نے خود اپنے ماں باپ سے رشتوں کے تقدس کو نہیں چکھا ہوتا ہے ، دیکھا ہوتا ہے تو صرف رشتوں کے بیچ کے سناٹے کو۔ چنانچہ اپنی عملی زندگی میں بھی و ہ ’میری بیوی اور میرے بچے‘ کے اصول کو اپناتے ہیںاور وہ ما ں باپ جو اس کے وجود کے باعث تخلیق ہوے ہیں ، اس کے لیے باعث زحمت بن جاتے ہیں ۔

آج نوجوان نسل میں باغیانہ پن، فضول خرچی ، غیر ذمہ داری، بیکاری اور فضول باتوں میں وقت ضائع کرنا عام بات ہوگئی ہے ۔

قرآن میں ارشاد ہواہے :” اور میں نے جنوں اور انسانوںکو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں “ (سورة الذاریات۶۵) لیکن آج کا نو جوان اپنی زندگی کے اس مقصد سے بہک چکا ہے ،اپنے مذہب کی بنیادی باتوں سے بے پرواہ ، زندگی کے مقصد سے انجان، یہ نو جوان نسل بے راہ روی کے ایسے راستوں پر چل نکلی ہے جہاں اس کے لیے اللہ اور رسول سے محبت ایک اجنبی شئے بن کر رہ گئی ہے۔

ان حالات کے پیش نظر اگر ہم ایمانداری سے اپنے دلوں کے اندر جھانکیں، ان پر گرد کو ہٹانے کی زحمت کریںاور اپنے اطراف اور اپنے اعمال کا بخوبی جائزہ لیں تو ہمیں بہت صاف اور واضح نظر آئے گا کہ آج کا نوجوان در اصل اپنے والدین کی کمائی پر عیش کر رہا ہے ۔اس کی اس روش کی ذمہ دار خود اس کے والدین ہیں جو اس کو جدید ٹیکنالوجی کی ہر چیز وقت سے پہلے مہیا کرتے ہیں ۔ اگر وہ اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے میں ناکام رہتا ہے تو ان کے لیے شرمندگی کا باعث ہوتا ہے۔ ماڈرن ٹیکنالوجی سے لے کر عیش و آرام کی ہر چیز ان کے گھروں کی زینت بنی ہوتی ہے ۔ اس راحت سامانی نے نئی نسل کو آرام اور کاہلی کا ایسا خوگر بنایا ہے کہ ان کے ذہنوں کو زنگ لگتا جارہا ہے ۔تکالیف و مصائب جیسے الفاظ سے نا آشنا یہ نسل حقیقی زندگی سے دور اور مادی زندگی کے قریب تر ہوتی جا رہی ہے۔

دن چڑھنے کے ساتھ ہی خواتین کا ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر اپنے پسندیدہ سیریل دیکھنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے ۔جس میں ایک سے ایک فنکاری و مکاری کے ہتھکنڈے دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ اور اگر کہیں اتفاقاً کسی وجہ سے کوئی سیریل بیچ میں سے دیکھ نہیںپاتی ہیں تو گھنٹوں ٹیلیفون کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور اس پر تبصرہ و تنقید ہوتی ہے ۔لیکن اپنے بچوں کی رہنمائی کے لیے اُن کے پاس وقت نہیں رہتا ۔ بازار میں آنے والی ہرنئی کارٹون فلم اُن کے بچوں کے پاس بھی ہونی چاہیے ،اس بات کا تو ماں باپ کو خیال ہوتا ہے، کہیں ان کے بچوں سے پہلے کوئی اور ان فلموں کو نہ دیکھ لے تا کہ ان کے بچوں کو اپنے دوستو ں کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے ۔ یہ کارٹون فلموں کی دنیا ان بچو ں کو تخیل کی ایک ایسی دنیا میں لے جاتی ہے جو ان کے ذہنوں کو کا ہل او رنا اہل بنانے میں بڑی حد تک مددگار ثابت ہوتی ہے۔

کیا ان تمام پیچ و خم کے بعد بھی ہم غور نہیں کریں گے کہ غلطی کہاں سے شروع ہوی ہے اور اس کا تدارک کیا ہونا چاہیے ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ہم نوجوان نسل کو کیا دے رہے ہیں اور بدلے میں ان سے کیا چاہتے ہیں ؟

ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کی اصلاح سے پہلے ہمیں اپنی اصلاح کرنی ہوگی ۔اگر ہم اس کو اصلاحی و تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو

 ان تمام پہلووں پر غور کرنے کے بعد جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ نسل ایمان کی دولت سے تو مالا مال ہے لیکن اس کو مسلمان بننے کے عمل سے گذرنا ابھی باقی ہے ۔اور اس عمل کی شروعات کرنی ہوگی اس نسل سے پہلے کی پیڑھی کو

 

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*