نكهت گل

اعجاز الدين عمري
کدھر دیکھتا ہے کہاں جا رہا ہے؟
حضرت ابو درداء پیارے نبی صلى الله عليه وسلم کے پیارے ساتھیوں میں سے تھے ۔ حق پرستی میں اتنے آگے بڑھ گیے کہ ہر ایک کو پیچھے چھوڑدیا۔ ان کا شمار مدینہ کے بڑے اور کامیاب تاجروں میں ہوتا تھا۔ اپنے بارے میں خود کہتے ہیں ”میں تاجر ہی تھا کہ رسولِ اکرم صلى الله عليه وسلم کے ہاتھوں میں اسلام لایا ۔ اس کے بعد میں نے بارہا سوچا کہ عبادت اور تجارت کو ساتھ ساتھ لے چلوں، مگر ایسا نہ ہوسکا تو میں نے تجارت کو خير بادکہہ دیا اور عبادت کے لیے یکسو ہوگیا ۔ میری دکان چاہے مسجد کے دروازے پر بھی ہو مگر اب مجھے اس بات پرکوئی خوشی نہیں ہوتی کہ میں خرید و فروخت کروں اور اس کے نتیجہ میں مجھے روزانہ تین سو دینار کی منفعت حاصل ہو۔ آپ غلط نہ سمجھیں ، میں یہ نہیں کہتا کہ اللہ تعالی نے تجارت کو حرام کیا ہے بلکہ میں چاہتا ہوں کہ میرا شمارکہیں اُن لوگوں میں نہ ہوجائے جنہیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کی یاد سے غافل کر دیتی ہے۔
وہ کہا کرتے تھے :
” پاک کمائی اختیار کرو ،پاکیزہ کھانا کھاؤ اور گھر میں لاؤ تو بھی پاک چیزیں لاؤ“
ایک بار اپنے ایک دوست کو لکھ بھیجا کہ ” دنیا کی چیزوں پر تیرا کیا حق ہے، تیرے پاس آنے سے پہلے غیران کے مالک تھے اور جب تو چلا جائےگا تو بھی وہ اوروں کے پاس ہی جائیں گی۔ تیرا جتنا حصہ تھا وہ تو تونے حاصل کر لیا مگر اب کس کی خاطر تو جمع اندوزی کیے جارہاہے؟ کیا تو اپنی اولاد کو ان کا وارث بنائےگا؟اگر تیری اولاد نیک اور صالح ہے تو کیا تجھے یقین ہے کہ جس نے تجھے بدبخت بنایا اسے پاکر تیری اولاد سعادت پالے گی !؟ اگر تیری اولاد نافرمان ہے تو پھر وہ تو اس کو خدا کی معصیت میں خرچ کرےگی تو کیا تو اُن کا بوجھ بھی اپنے سر اُٹھائےگا؟آخر کس کے لیے جمع کرےگا تو اس کو ؟دیکھ ! اُ ن کی فکر چھوڑ خود کو برباد نہ کر خدا پر یقین رکھ جس نے تجھے کھلایا ہے اُنہیں کیسے چھوڑےگا؟تو اپنی فکر کر اور بچالے خود کو“
ایک بار بیمار پڑے تو لوگ اُنہیں دیکھنے کے لیے اُن کے گھر پہنچے وہ چمڑے کے بستر پر آرام فرماتھے، لوگوں نے کہا”آپ اتنے کھردرے بستر پر کیوں لیٹے ہیں ؟ اگر آپ چاہتے تو کوئی اچھا اور نرم بچھونا ڈلوا دیتے؟ آپ نے ایک لمبی سانس لی اور اپنی نگاہیں دور آسمانوں میں گاڑدیںعجیب چمک تھی اُن میں،پھرانگلی سے اوپر اشارہ کیا اور گویا ہوے:
”ہمارا مکان تو وہاں بن رہا ہے ،اُسی کے لیے تو سب اکٹھا کر رہے ہیں ،وہیں تو جانا ہے ہمیں، اُدھر کا سفر ہے بلکہ ہم کچھ کر بھی رہے ہیں تو صرف وہیں کے لیے۔“
سات کا پھیرا
کسی کہنے والے نے کہا:
سات چیزوں کے بغیر سات چیزیںلا حاصل اور بیکار ہیں
۱) دانائی ، تقوی کے بغیر
۲) رتبہ و منصب، علم کے بغیر
۳) کامیابی ، خوفِ خداکے بغیر
۴) اقتدار، عدل کے بغیر
۵) حسب و نسب ، اخلاق کے بغیر
۶) مسرّتیں ، امن و سکون کے بغیر
۷) دولت ، سخاوت کے بغیر
سامانِ زیست
امام ابنِ قیم رحمه الله فرماتے ہیں:
چار چیزیں بدن کو بیمار بناتی ہیں
۱) بہت بولنا
۲) بہت سونا
۳) بہت کھانا
۴) بہت ہمبستری کرنا
چار چیزیں بدن کو تھکادیتی ہیں
۱) غم ۲) خلش ۳) بھوک ۴) بے خوابی
چار چیزوں سے چہرہ بے نور ہوجاتاہے اور اس کی رونق جاتی رہتی ہے
۱) جھوٹ
۲) بے غیرتی
۳) کثرت سے نادانی کے سوالات کرنا ۴) کثرت سے بد کاری کرنا
چار چیزوں سے چہرہ پر نور ہوجاتاہے اور اس کی رونق بڑھ جاتی ہے
۱) خوفِ خدا ۲) وفاداری ۳) شرافت ۴) غیرت
چار چیزوں سے کمائی میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کے رزق میںبرکت ہوتی ہے
۱) رات کی نماز
۲) وقتِ سحر (رات کے آخری پہر) کثرت سے استغفار ۳) صدقہ ،خیرات کی پابندی
۴) ذکرِ الٰہی سے دن کو شروع کرنا اور ختم کرنا
چار چیزوں سے رزق میںبے برکتی ہوتی ہے اور اس کا دروازہ بند ہوتا ہے
۱) صبح کے وقت سونا
۲) نمازوں میں کاہلی برتنا
۳) سستی و بےکاری
۴) خیانت

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*