تعمیر شخصیت میں ماں کا اہم رول

شیخ ولید عمری (کویت)

شخصیت کی تعمیر و ترقی کا انحصار صحیح تعلیم وتربیت پر ہے ، صحیح تعلیم و تربیت ایسا عنصر ہے جو شخصیت کے بناﺅ اور تعمیر میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ یہ کام بچپن ہی سے ہو تو زیادہ موثر اور دیر پا ہوتا ہے ۔ بچوں کی تعلیم و تربیت اور شخصیت کی تعمیرمیں صحیح رول ماں ہی ادا کرسکتی ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ ماں کی گود بچہ کا پہلا مدرسہ ہوتا ہے ۔ بچوں کی تعمیر و ترقی کا سر چشمہ ماں کی گود ہی ہے ، یہیں سے ان کی تعلیم و تربیت کا آغاز ہوتاہے ۔ اس پہلی درسگاہ میں جو کچھ وہ سیکھتے ہیں اس کی حیثیت پتھر کی لکیر سی ہوتی ہے۔یہ علم ایسا مضبوط اور مستحکم ہوتاہے جو زندگی بھر تازہ رہتاہے ۔ کسی مفکر کا قول ہے:
” ابتدائی زندگی کے نقوش خواہ مسرت کے ہوں یا ملال کے ہمیشہ گہرے ہوتے ہیں ، یہی ابتدئی نقوش مسلسل ترقی کرتے رہتے ہیں ‘ ‘
لہذا اگر ماں ابتداسے اپنے بچوں کو کلمہ توحید کی لوری دے تو یقینا وہی کلمہ ان کے دل و دماغ میں اتر جائے گا اور مستقبل میں تناور درخت کی شکل اختیار کرے گا ، اس کے بر خلاف اگر مائیں بچپن ہی سے اپنے بچوں کو غیر اسلامی باتیں سکھائیں یا بچوں کا اٹھنا بیٹھنا غلط قسم کے لوگوں کے ساتھ ہوجائے تو وہی باتیں ان کے دل و دماغ پر مرتسم ہوں گی ، اور بچے ان ہی لوگوں کا اثر قبول کریں گے پھر ایسے بچوں سے مستقبل میں خیرکی امید نہیں کی جاسکتی ۔ اسی لیے شیخ سعدی کوکہنا پڑا
خشت اول چوں نہد معمار کج تا ثریا می رود دیوار کج
”معمار جب پہلی اینٹ ( بنیاد ) کی ٹیڑھی رکھتا ہے تو اخیر تک دیوار ٹیڑھی ہی رہتی ہے “
یہی وجہ ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کی حفاظت اور تربیت کا ذمہ دار ماں کو ٹھہراتے ہوے فرمایا :” عورت اپنے شوہر کے گھر اور اولاد کی نگران کار ہے“(بخاری) عورتیں اس ذمہ داری سے اسی وقت بخوبی عہدہ بر آ ہو سکتی ہےں جبکہ وہ خود اسلامی تعلیمات کی پابند اور اسلام کے سانچے میں ڈھلی ہوں ، اس لےے کہ نیک اور صالح خاتون ہی راہ حق کے فدائیوں اور شیدائیوں کو تیار کر سکتی ہے ۔ نپولین بوناپارٹ نے کہا تھا : ” تم مجھے اچھی مائیں دو ، میں تمہیں اچھی اولاد دوں گا “ ایک عربی شاعر کہتاہے
الام مدرسة اذا اعددتھا     اعددت شعباطیب الاعراق
”ماں ایک مدرسہ ہے اگر آپ اسے تیار کرتے ہیں تو گویا آپ ایک اچھی نسل تیار کرتے ہیں“
تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ بہترین ماﺅں نے ہی حقیقت میں قوم وملت کو ایسے سپوت عطا کیے جنہوں نے تاریخ کو عظمت بخشی۔
حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما جنہوںنے ایک نئی تاریخ بنائی‘ ان کی شخصیت سازی میں بھی ان کی ماں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بڑا اہم کردار رہا ہے ۔ وہ ہمیشہ اپنے بچوں کو رضائے الہی کی بنیاد پر ہر کام کرنے کی تاکید کیا کرتی تھیں ، ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ بچپن میں دونوں بھائی کسی بات پر لڑ پڑے، جب معاملہ ماں کے سامنے پیش ہواتو ماں نے دونوں کی باتیں سننے کے بعد ایک کو بے قصور اور دوسرے کو قصوروار قرار دینے کے بجائے جو بات کہی وہ یقینا شخصیت سازی کے باب میں آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے ۔ انہوںنے کہا : ”میں یہ نہیں جاننا چاہتی کہ کس نے کس پر ظلم کیا ہے ، میں تو صرف اتنا جانتی ہوں کہ اللہ تعالی جھگڑا کرنے والوںکو نا پسند کرتاہے ۔ تم دونوں نے آپس میں لڑ جھگڑ کر اللہ تعالی کو ناراض کردیا ہے، دونوں میری نظروں سے دور ہوجاﺅ جن سے اللہ ناراض ان سے میں بھی ناراض“ ۔
یہ سن کر دونوں بھائیوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا، دونوں نے آپس میں صلح کرلی، اور ماں سے معافی مانگتے ہوے درخواست کی کہ اللہ تعالی سے ان کے حق میں دعائے مغفرت کی جائے ۔
ماں کی اسی تربیت کے نتیجہ میں حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کی ایسی شخصیت بنی کہ وہ تاریخ کے صفحات کا روشن باب بن گیے ۔
علامہ اقبال کے نام سے کون واقف نہیں، وہ اس صالح اور خدا ترس خاتون کے فرزند تھے جس کو اپنے شوہر کی کمائی مشتبہ لگی تو اس نے شوہر سے کمائی کا وہ ذریعہ چھوڑدینے کا مطالبہ کیا‘ کوئی دوسرا مشغلہ ہاتھ آنے سے پہلے اقبال پیدا ہوے تو ان کی پرورش کے لےے صالح ماں نے مشتبہ کمائی کے بجائے اپنے زیورات بیچ کر ایک گائے خریدی اور اس کا دودھ پلانا شروع کردیا۔ آج دنیا اسی بچہ کو شاعر مشرق علامہ اقبال کے نام سے جانتی ہے، جن کی شاعری نے مسلمانوں کو ایک نئی دینی بیداری عطا کی۔
آج کی ماﺅں پر ضروری ہے کہ سب سے پہلے اپنی اصلاح کریں ، جو خاتون نیک ہو، اس کے اندر اللہ کی فرماں برداری، شکر و احسان، زہد و قناعت، اپنے شوہر کی اطاعت اور اولاد کی بہترین تربیت کا جذبہ ہو وہ کامیاب خاتون ہے اور یقینا اپنے شوہر کے لےے بہترین دولت ثابت ہوگی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
الدنیا کلھا متاع و خیرمتاع الدنیا المراة الصالحةدنیا پوری کی پوری پونجی ہے اور بہترین پونجی نیک بیوی ہے ۔
آج امت کی نئی نسل کا مستقبل خواتین اسلام کے ہاتھوں میں ہے ، ماوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو صحابہ کرام، تابعین عظام اور اسلامی شخصیتوںکے عبرت آموز واقعات سنا ئیں، ان میں ان کے نقش قدم پر چلنے کا شوق پیدا کریں، تاکہ ان کے اندر دینی جذبہ پیدا ہو، ان میں اعلائے کلمة اللہ کی تڑپ اُبھرے اور نئی نسل اسلامی تعلیمات کا جیتا جاگتا نمونہ بن سکے ۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*