بنتِ مسلماں تو بیدار ہو جا

                                            ابراہیم جمال بٹ سرینگر

ibrjamal38@gmail.com
عزیز بہنو! …. تم انسانیت کا نصف حصہ ہو…. تم عظیم قوم کا عظیم حصہ ہو جس سے بہتر قوم پہلے کبھی پیدا نہیں ہوئی ۔
یہ قوم انسانیت کو سیدھا راستہ دکھاتی ہے۔انسانوں کی بندگی کرنے والوں کو اس کے حقیقی مالک کی بندگی کرنے والا بنا دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خواتین کو حکم دیاکہ نیکی کا حکم کرنے، برائی سے روکنے اور اسلام کا جھنڈا بلند کرنے جیسی ذمہ داریوں میں مردوں کا ہاتھ بٹائیں :
”مومن مرد و عورتیں ایک دوسرے کے وفادار اور ساتھی ہیں، وہ بھلائی کی تلقین کرتے اور برائی سے روکتے ہیں، وہ باقاعدگی سے نماز ادا کرتے ہیں، زکوٰہ دیتے ہیں، اللہ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم کی فرمانبرداری کرتے ہیں“ (التوبہ)
جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو وہی حقوق و فرائض دئے ہیں جن کی وہ پاسداری کر سکتی ہیں:
”بھلا وہ نہ جانے گا جس نے بنایا اور وہی ہے بھید جاننے والا خبردار“۔ (سورة الملک)
عزیز بہنو!…. آج یہ وقت کا اہم تقاضا ہے کہ آپ سب مسلمان قوم کی سرگرم رکن بنیں۔ اللہ کے دین کے نفاذ کے لیے تن من دھن نچھاور کریں اور قرآن کی تعلیمات کی روشنی میں ایک ایسی نسل کی تعمیر کریں جو حقیقی معنوں میں ایمان کی روشنی سے منور ہو۔
عزیز بہنو! ….آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کے دشمن کون ہیں؟ اور آپ سے کیا چاہتے ہیں؟ وہ چاہتے ہیں کہ آپ اپنے فرائض سے غافل رہیں۔ ان کا مقصدہے کہ آپ کی توجہ اپنے پاکیزہ حقوق کے حصول سے ہٹی رہے۔ آپ اللہ کے دین اور اس کی تعلیمات کی سربلندی سے روگردانی کرتی رہیں۔
وہ اپنے اس مقصد کی تکمیل کے لیے مختلف طریقے اپناتے ہیں
٭ سب سے پہلے وہ آپ کی توجہ آپ کے مقصد تخلیق سے ہٹاناچاہتے ہیں۔ اس مقصد کےلئے وہ آپ کو اس دنیاوی زندگی کی چمک دمک، زیورات کی دکانوں، دنیا میں ہونے والے جدید فیشن شوز جیسے معاملات میں الجھائے رکھتے ہیں۔ ان تمام چیزوں کے حصول کے لیے تگ و دو کرنے کو آپ کی زندگیوں میں غیر محسوس طور پر شامل کر دیتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس لیے پیدا نہیں کیا ہے۔ ایسے معاملات میں الجھنے سے صرف وقت اور پیسے کا ضیاع ہوتا ہے اور امیروں اور غریبوں میں دشمنی کی فضا اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کےلئے مقابلے کی فضا تیار رہتی ہے۔
٭دوسرا یہ کہ وہ تمہارے اور مردوں کے درمیان ایک قسم کی خلیج پیدا کر دیتے ہیں۔ یہ تمہیں باور کراتے رہتے ہیں کہ تم ایک ایسی بیٹی ہو جسے بیٹوں کے مقابلے میں دبا کر رکھا جاتا ہے۔ ایک ایسی ماں ہو جو عاجز ہے، ایک ایسی بیوی ہو جسے مرد ہمیشہ غلام بنا کر رکھتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تم ایک مظلوم بہن بھی ہو۔ وہ تمہارے ذہنوں میں مرد کو ہمیشہ ناانصاف، منافق، اپنی مرضی پر چلانے والا، آزادی ¿ نسواں کا مخالف اور ظالم مخلوق کے طور پر اجاگر کرتے رہتے ہیں۔ ان دشمنوں کے پیش نظر اس تمام جنگل کو تمہارے اذہان میں پیدا کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ تم اپنے باپ کے خلاف اعلان بغاوت کردو، اپنے بھائی کے مقابلے میں اپنے آپ کو مغرور سمجھو اور اپنے شوہر کی نافرمانی کرتی رہو۔ ان کا مقصد یہ نہیں ہے کہ انصاف، صلہ رحمی اور اتحاد کا بول بالا ہو بلکہ وہ نفرت، بغاوت اور تباہی کے درپے ہیں۔
٭سوم یہ کہ وہ صرف اس بات پر اکتفا نہیں کرتے کہ تم والدین، بھائیوں اور شوہروں کے خلاف بغاوت کرو بلکہ وہ تمہیں اسلام کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ درحقیقت وہ تمہیں اس آسانی، آرام اور حفاظت سے دور رکھنا چاہتے ہیں جو کہ کریم النفس والدین، خوشگوار شادی شدہ زندگی، اور بہترین برادرانہ تعلقات کے زیر سایہ میسر آتی ہے۔ ان دشمنوں نے عزت و پارسائی کو آزادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان کے نزدیک پردہ صرف سر کو ہی نہیں ڈھانپتا بلکہ اذہان پر بھی چڑھ جاتا ہے۔ نماز، روزہ ان کے نزدیک صرف وقت اور کوششوں کا ضیاع ہے۔ ان کی نظر میں شوہروں کی فرمانبرداری کا مطلب یہ ہے کہ آپ ان کی غلامی کر رہی ہیں اور پتھر کے زمانے میں رہ رہی ہیں۔ انہوں نے تمام حقائق کی شکل بگاڑ دی ہے اور تمام سچائیوں کو بدل دیا ہے۔ اس سے ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ ان کے ناپاک عزائم کامیاب ہو جائیں۔
عزیز بہنو!…. تمہارے اور تمہارے دین کے دشمنوں کے عزائم سب کے سامنے ہیں۔ وہ تمہیں اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے سیڑھی بنانا چاہتے ہیں تاکہ وہ جب چاہیں اپنی ناپاک خواہشات کو پورا کر سکیں۔ وہ تمہیں ایک ایسی خاتون بنانا چاہتے ہیں جس کی حقیقت میں کوئی تکریم نہ ہو۔ وہ تمہیں ہر اس جگہ دیکھنا چاہتے ہیں جو عزت، مذہب اور نیک اطوار سے خالی ہو۔ انہوں نے مغربی دنیا میں تو یہ تمام علامات پھیلا دی ہیں، چنانچہ آج مغرب کی خواتین اس معاشرے کا حصہ ہیں جو نا انصافی و بے توقیری کا مظہر ہے۔
عزیزمسلمان بہنو! ….اپنے اور اپنے آباﺅ اجداد کے دین پر فخر کرو۔ اپنی اولاد کے لیے ایک اچھی مثال بنو اور اپنے طاقتور دین کے ساتھ مخلص رہو۔ یادرکھو کہ عقلمند انسان کے لیے عزت ہی سب سے بڑی چیز ہے اور بے حیائی ہر قوم میں قابل رسوائی ہے، چاہے کوئی اسے آزادی ¿ نسواں سے تعبیر کرتا رہے۔ تمہاری خوشی اور عزت اسی میں ہے کہ تم ایک فرمانبردار اور پُر یقین بیٹی، ایک وفا دار اور نیک سیرت بیوی، اورایک متقی اور رحم دل ماں بنو۔ جان رکھو نماز اسلام کی پہلی سیڑھی ہے۔ ایک حدیث کے مطابق اللہ کی خوشنودی کے لیے صرف ایک دن کا روزہ رکھنا انسان کو جہنم کی آگ سے ستر سال دور لے جاتا ہے۔
عزیز بہنو!…. یہ چند الفاظ دراصل میرے دل کی آواز ہے۔ یہ صرف ایک بھائی کی مخلصانہ اور بے لوث نصیحت ہے، شیطان کے پیروکاروں سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے اللہ کی غلامی اختیار کرو۔ اسلام کی بیٹیوںکواپنا نمونہ بناو ¿، صالح نسل کی تعمیرمیں اپنا کردار ادا کرو۔اور ایسی نسل کی نشوونما کرنے والی بن جاﺅ جو دوبارہ انسانیت کی رہنمائی کر سکے ، اسلام کے عظیم نظام عدل و قسط کو قائم کر سکے۔تو اٹھو اور اس عظیم دین کی سربلندی کی خاطر آج سے مسلسل جدوجہد کرو ایسی جدوجہد کہ اندھیرا پن ختم ہو اور روشنی کی کرنیں ہر ایک گھر کو منور کرے۔ اگر ہم اب بھی نہ جاگے تو عنقریب ایک ایسا دن آجائے گا کہ ہم ایک ایسی دلدل میں پھنس جائیں گے جس سے نکلنا پھر دشوار ہو جائے ۔ اللہ اس سے بچائے۔ آمین

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*