مومن کے شب وروز ، رمضان کے بعد ( محمد انور محمد قاسم سلفی )

 رحمتوں اور مغفرتوں سے بھرا رمضان المبارک کا مہینہ ختم ہوگیا، اس کے با برکت لمحے گیارہ ماہ کے لیے ہم سے رخصت ہوگئے ، اس ماہ مبارک میں جنہیں رب العالمین نے توفیق عطا فرمائی ، سارا مہینہ روزہ رکھا ، راتوں میں عبادت کی ، دن اور رات کی ہر گھڑی تلاوت قرآن کى ، اپنے مال کو رب کی رضا کے لیے غریبوں ، مسکینوں ، یتیموں اور بیواوں میں لٹا یا ، ہلال عید دیکھ کر فطرانہ تقسیم کى ۔ اور رب العالمین کے اس فرمان :

”اور تاکہ تم روزے کی گنتی پوری کرلو ، اور روزے پورے کرلینے کی توفیق وہدایت پراﷲ کی بڑائی اور کبریائی بیان کرو اور شکر ادا کرو“۔( بقرة :۵۸۱) پر عمل کرتے ہوئے روزے پورے کرلینے کی توفیق پر وہ رب کی بڑائی، کبریائی اور تعریف کے گیت گائے ، اور اس کے شکرانہ میں نماز عید پڑھی ۔

عید کے بعد بھی ان کی عبادت میں کوئی فرق نہیں آیا ، بلکہ رمضان المبارک میں پانچوں نماز کی باقاعدہ ادائیگی کے ساتھ ساتھ ، روزوں ، تلاوت قرآن کریم ، زکاة ، صدقات وخیرات ، اور قیام اللیل کی جو عبادتیں انہوں نے شروع کی تھیں ، اس کے لیے رب العالمین سے گڑگڑا کردعائیں مانگنے لگے کہ وہ انہیں ان عبادتوں پر استقامت عطا فرمائے۔ فرمان الٰہی ہے :

” اے ہمارے رب ! ہمارے دلوں کو ہدایت دینے کے بعد کج روی میں نہ مبتلا کردے ، اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما ، بے شک تو بڑا عطا کرنے والا ہے ،،۔ ( آل عمران : ۸)

اور اپنی کی ہوئی عبادتوں پر انہیں تکبر وغرور نہیں ہوتا ، حضرت سفیان ثوری  فرمایا کرتے تھے : ” وہ عبادت جس سے انسان غرور وتکبر میں مبتلا ہوجائے ، اس سے وہ گناہ بہتر ہے جسے کرنے کے بعد انسان کو پشیمانی لاحق ہو “۔

بلکہ انہیںخوف لاحق رہتا ہے کہ مبادا یہ عبادتیں رب العالمین کے دربار میں شرف قبولیت پائی بھی ہیں یا نہیں ؟چنانچہ ان کا حال یہ ہوتا ہے :

” اور جو اﷲ کے لیے جو کچھ دیتے ہیں ، اسے دیتے ہوئے ان کے دل خائف ہوتے ہیں کہ بے شک انہیں اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے “۔ ( مومنون : ۰۶)

اسلاف کرام  کے متعلق آتا ہے کہ وہ رمضان المبارک گذرنے کے چھ ماہ تک گڑگڑا کر اﷲ تعالیٰ سے رمضان میں کی ہوئی عبادتوں کی قبولیت مانگا کرتے تھے ، اس لیے کہ عمل دیکھنے میں چاہے کس قدر ہی شاندار کیوں نہ ہو اگر رب کے دربار میں شرف قبولیت نہ پاسکا تو سب  بیکار ہے ۔

عبادات کی قبولیت کا معیار

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ  فرماتے ہیں : ” اگر دیکھنا ہوکہ کسی کی رمضان المبارک کی عبادت قبول ہوئی ہے یا نہیں ؟ تو اس کے رمضان بعد والے اعمال دیکھو ، اگر رمضان بعد بھی نیک اعمال پر اس کی استقامت اسی طرح باقی ہے جیسے ماہ رمضان میں تھی تو سمجھ لو کہ اﷲ تعالیٰ نے اس کی رمضان میں کی جانے والی عبادتوں اور اطاعتوں کو قبول فرمالیا ، جس کی وجہ سے اسے ان اعمال کو تسلسل کے ساتھ باقی رکھنے کی توفیق عطا فرمائی ۔ اور جس کو دیکھو کہ رمضان کے بعد اس کے اعمال میں یک لخت فرق آگیا ہے ، وہ راہ ہدایت سے بھٹک کر پھر اسی راہ کا راہی ہوگیا جس پر کہ وہ ماہ رمضان المبارک سے پہلے گامزن تھا ، تو سمجھ لو کہ اس کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہے ، جن کے متعلق رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا : کم من صائم لیس لہ من صیامہ إلا الجوع والعطش وکم من قائم لیس لہ من قیامہ إلاالسہر(ابن ماجہ ، احمد ، دارمی )

 ”کتنے ہی ایسے روزہ دار ہیں جن کے نصیب میں سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ نہیں ہے ، کتنے ہی ایسے رات میں قیام کرنے والے ہیں جن کے نصیب میں سوائے رات جاگنے کے کچھ نہیں“ (ابن ماجہ ، احمد ، دارمی )۔ ( مجموع الفتاوی )

چنانچہ ہم دیکھتے تھے کہ رمضان مبارک میں مسجدیں تنگ ہوگئیں تھیں ، مسجد کے اندر تو اندر بلکہ خارج مسجد بھی جگہ مشکل سے ہی مل پاتی تھی ،کتنے ایسے لوگ تھے جن کا قیام مسجد الکبیر کے علاوہ اور کہیں ہوتا ہی نہیں تھا ، لیکن افسوس کہ رمضان کیا گیا کہ ان کی یہ عبادتیں بھی ہوا ہوگئیں ، اور اب بھول کر بھی ان کے قدم مسجدوں کی طرف نہیں اٹھتے :

اب عطر بھی ملتے ہیں تو محبت نہیں ملتی

وہ دن ہوا ہوئے کہ پسینہ گلاب تھا

 حضرت فضیل بن عیاض  ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا کرتے تھے : ” مجھے ان لوگوں پر تعجب ہے جو اپنے رب کو سوائے رمضان کے اور کسی مہینے میں نہیں پہچانتے ،،۔ ( نضرة النعیم )

نوافل کی اہمیت

بندہ مومن رب کی رضا کا طلب گار رہتا ہے ، اور اس کے لیے ہر وہ جتن کرتا ہے جس سے یہ مقصود حاصل ہوتا ہے ، مومن فرائض کے ساتھ ساتھ نوافل کا بھی شد ومد سے اہتمام کرتا ہے جیسا کہ فرمان نبوی ہے :

حضرت ابوہریرہ سے روايت ہے کہ رسول اﷲ نے فرمايا کہ اﷲ جل شانہ فرماتے ہيں :” من عادى لي ولياً فقد آذنته بحرب مني، وما تقرب لي عبدي بشيء أحب إلي مما افترضته عليه، ومازال عبدي يتقرب إلي بالنوافل حتى أحبه فإذا أحببته كنت سمعه الذي يسمع به وبصره الذي يبصر به ويده التي يبطش بها وقدمه التي يمشي بها وإذا سألني لأعطينه وإذا استغفرني لأغفرن له وإذا استعاذني أعذته ،، ( بخاری : کتاب الرقاق )

” جس نے ميرے کسی ولی کے ساتھ عداوت رکھی ميرا اس کے خلاف اعلان جنگ ہے ۔ ميرا بندہ جن عبادات کے ذريعے ميرا قرب حاصل کرتا ہے ان سب ميں سے مجھے وہ عبادات زيادہ پسند ہيں جو ميں نے اپنے بندے پر فرض کي هيں ۔ (فرائض کی ادائےگی کے ساتھ ساتھ ) ميرا بندہ نفلی عبادات کے ذريعے اتنا قريب ہوجاتا ہے کہ ميں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں اور جب ميں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو پھر اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ ديکھتا ہے، اسکے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اسکے پاوں جن سے وہ چلتا ہے ۔ ( يعنی اس کے اعضاءپھر ميری منشاءکے مطابق ہی کام کرتے ہيں اور خاص توفيق الہی نصيب ہوجاتی ہے ) اگر وہ مجھ سے کچھ وقت مانگے تو ميں اسے عطا کرتا ہوں اور اگر وہ ميری پناہ طلب کرے تو ميں اسے پناہ دیتا ہوں“

بندہ مومن نے رمضان المبارک میں فرض روزے رکھے ، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ روزے کا دروازہ آئندہ رمضان تک کے لیے بند کردے گا ، ایسا بالکل نہیں ، مومن نفلی روزوں کی اہمیت کی وجہ سے اس عبادت کو سارا سال قائم رکھتا ہے ، نفلی روزے کا ثواب اور اس کی اہمیت کے لیے یہ حدیث ملاحظہ فرمائیے :

حضرت ابوسعيد خدری سے روايت ہے کہ رسول اﷲصلى الله عليه وسلم نے فرمايا : ما من عبد يصوم يوما في سبيل الله إلا باعد الله بذلك اليوم عن وجهه النار سبعين خريفا   ( متفق عليہ ) ” جو شخص اﷲ کی راہ ميں ايک روزہ رکھتا ہے ، اﷲ تعالیٰ اس کے بدلے اسکے اور جہنم کے درميان ستر سال کا فاصلہ پيدا فرما ديتے ہيں“ ۔( بخاری مسلم )

شوّال کے چھ روزے

ماہ شوال کے چھ روزوں کی بڑی اہمیت ہے ، اس سے اﷲ تعالیٰ ایک سال مکمل روزہ رکھنے کا ثواب عطا فرماتے ہیں ، حضرت ابو ايوب سے روايت ہے کہ رسول اﷲصلى الله عليه وسلم نے فرمايا :

مَن صام رمضان ثم أتبعه ستا من شوال كان كصيام الدهر ( مسلم ) ”جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھے پھر شوّال کے چھ روزے رکھے گويا اس نے سال بھر کے روزے رکھے“ ۔

کيونکہ اﷲ تعالیٰ کا وعدہ ہے : ” جو شخص ایک نیکی کرے گا اسے اس کا دس گنا ملے گا “ ( انعام :۰۶۱)

اس قانون الٰہی کے مطابق ايک ماہ کے روزے دس ماہ کے برابر اور چھ دن کے روزے دو ماہ کے برابر ، تو يہ کل بارہ ماہ يعنی پورے سال کے برابر ہوئے ۔ یاد رہے کہ يہ روزے شوال کے پورے مہينے ميں ايک ساتھ بھی اور وقفے وقفے سے بھی رکھے جاسکتے ہيں کيونکہ حديث پاک ميں ايک ساتھ رکھنے يا ابتدائے مہينہ ميں رکھنے کی کوئی قيد نہيں ۔

 پير اور جمعرات کا روزہ

ان دونوں دنوں کے روزوں کی بھی احادیث میں بڑی فضیلت آئی ہوئی ہے ، چنانچہ حضرت ابوہریرہ  رسول اﷲصلى الله عليه وسلم سے روايت کرتے ہيں : تعرض الأعمال يوم الإثنين والخميس فأحب أن يعرض عملي و أنا صائم ( صحيح ، سنن ترمذی، صحيح الترغيب والترھيب )

”ہر پير اور جمعرات کو اعمال اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ ميں پيش کئے جاتے ہيں ۔ ميں چاہتا ہوں کہ ميرے اعمال روزے کی حالت ميں پيش ہوں“ ۔

 ايام بيض کے روزے

يعنی ہر قمری مہينے کی 13،14اور 15 تاريخ کو ايام بيض کہتے ہيں کيونکہ ان دنوں کی راتيں چاندنی کی شباب کی وجہ سے روشن ہوتی ہيں، ان دنوں کے روزوں کی بھی بڑی فضیلت آئی ہے، حضرت ابوذر غفاری سے روايت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  نے فرمايا : مَن صَامَ مِن کُلِّ شَہَرٍ ثَلَاثَة ايامٍ فَذٰلِکَ صِيامُ الدَّهرِ فَأنزَلَ اﷲُ تَصدِيقَ ذٰلِکَ فِی کِتَابِہ﴾مَن جَآءَ بِالحَسَنَةِ فَلَہُ عَشرُ امثَالِہَا﴿اَليومُ بِعَشرَةِ أَيامٍ ۔

”جس نے ہر مہينے ميں تين دن کے روزے رکھے اس نے سال بھر کے روزے رکھے، کيونکہ اﷲ تعالیٰ نے اس کی تصديق قرآن مجيد ميں اتاری ہے ”جو کوئی ايک نيکی کرے اسے دس نيکيوں کا ثواب ملتا ہے“ ، لہٰذا ايک دن کا روزہ دس روزوں کے برابر ہے “۔( صحيح ، سنن ابن ماجہ )

نفلی صدقہ وخیرات

بندہ مومن رمضان میں زکاة ، صدقات اور خیرات کرتا ہے ، اور اس ماہ مبارک میں اپنی داد ودہش سے غریبوں ، مسکینوں ، یتیموں، بیواوں کی دست گیری کرتا ہے ، اور ننگوں ، بھوکوں ، بیماروں اور محتاجوں کا خیال رکھتا ہے ، اور یہ ایک اہم فریضہ ہے جس سے تغافل پر قیامت کے دن رب کے دربار میں اس کی گرفت ہوسکتی ہے ، حدیث قدسی کے الفاظ ہیں کہ قیامت کے دن ایک بندے کو رب العالمین اپنی بارگاہ میں طلب کرے گا اور اس سے کہے گا :” اے ابن آدم !میں بیمار تھا لیکن تو نے میری عیادت نہیں کی؟ بندہ کہے گا :اے میرے رب !میں تیری عیادت کیسے کرسکتا ہوں جب کہ تو رب العالمین ہے ؟ تو اﷲ تعالیٰ فرمائے گا : تجھے معلوم تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہے لیکن تو نے اس کی عیادت نہیں کی ، اگر تو نے اس کی عیادت کی ہوتی تو اس کے پاس تو مجھے ضرور پاتا ۔ اے ابن آدم !میں نے تجھ سے کھانا مانگا تھا ، لیکن تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا ؟بندہ کہے گا : میں تجھے کیسے کھلاسکتا ہوں جب کہ تو دونوں جہانوں کا پالنہار ہے ؟ تو اﷲ تعالیٰ فرما ئے گا : میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا ، لیکن تو نے اسے کھانا نہیں کھلایا ، اگر تونے اسے کھلایا ہوتا تو اس کا ثواب آج ضرور میرے پاس پاتا ۔ اے ابن آدم !میں نے تجھ سے پانی مانگا تھالیکن تو نے پانی نہیں پلایا ؟بندہ کہے گا : میرے پرور دگار ! میں تجھے کیسے پلاسکتا ہوں جب کہ تو  رب العا لمین ہے ؟ تو اﷲ فرمائے گا : میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا لیکن تو نے اسے نہیں پلایا ، اگر تو نے اسکو پلایا ہوتا تو اسکا ثواب ضرور میرے پاس پاتا “۔( مسلم)

بندہ مومن رمضان ہو یا غیر رمضان ، رب کی راہ میں برابرخرچ کرتا ہی رہتا ہے ، جیسا کہ فرمان باری ہے : ” اس کتاب میں کوئی شک وشبہ نہیں ، اﷲ سے ڈرنے والوں کے لیے رہنمائی کرتی ہے ، جو غیبی امور پر ایمان لاتے ہیں ،اور نماز قائم کرتے ہیں ، اور ہم نے ان کو جو روزی دی ہے اس میں سے خرچ کرتے ہی رہتے ہیں“۔ ( بقرہ : ۲۔۳)

نیز متقیوں کے اوصاف کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن فرماتا ہے : ”اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف دوڑ لگاو جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے ، جو اﷲ سے ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے ، جو لوگ خوشی اور غم ہر حال میں ( اﷲ کی راہ میں ) خرچ کرتے ہیں ، اور غصہ پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کردینے والے ہوتے ہیں ، اور اﷲ احسان کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے “۔( آل عمران : ۴۳۱)

 نماز تہجد کی عادت

بندہ مومن نے رمضان المبارک میں تراویح اور قیام اور تہجد وغیرہ کی پابندی کی تھی ، لیکن اس کی یہ پابندی صرف ماہ رمضان تک ہی محدود نہیں ہوتی ، بلکہ وہ چاہے ہفتے میں ایک دو مرتبہ ہی سہی ، اس کی پابندی ضرور کرتا ہے ، ہمیشہ اسکی نظر میں باری تعالیٰ کا یہ ارشاد رہتا ہے :” اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرمی اور عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب نادان لوگ انکے منہ لگتے ہیں تو سلام کرکے گذر جاتے ہیں ، اور جو اپنے رب کے سامنے حالت سجدہ و قیام میں رات گذارتے ہیں“          ( فرقان : ۴۶)

تہجد گذاری اور شب بیداری رسول اکرم صلى الله عليه وسلم اور صحابہ کرام کی عادت مبارکہ رہی ہے ، سیدہ عائشہ رضي الله عنهااپنے بھانجے حضرت عبد اﷲ بن زبیررضي الله عنه  کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتی تھیں : ” تم نمازِ تہجد کبھی نہ چھوڑو،کیونکہ رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم اس نماز کو کبھی نہیں چھوڑتے تھے ، جب آپ بیمار ہوتے یا سستی طاری ہوتی تو بیٹھ کر ادا فرماتے “۔

حضرت ابو امامہ  سے مروی ہے کہ رسول اﷲصلى الله عليه وسلم  نے صحابہ کرام سے ارشاد فرمایا : علیکم بقیام اللیل،فانہ داب الصالحین قبلکم، وقربة الیٰ ربکم، ومکفرة للذنوب، ومنہاة عن الاثام ( ترمذی ) وفی روایة : ومطردة للداءعن الجسد ( ترمذی ) ”تم ہمیشہ رات کی نماز اپنے اوپر لازم کرلو ، اس لیے کہ یہ تم سے پہلے گذرے ہوئے نیک لوگوں کی عادت رہی ہے ، یہ تمہارے رب کی قربت کا ذریعہ ہے ، اور گناہوں کو مٹانے والی ہے ، اور بدی اور برائی سے روکنے والی ہے“ ۔

نیز ایک اور حدیث میں یہ الفاظ بھی آئے ہوئے ہیں :” رات کی نماز جسم سے بیماریوں کو دور کرنے والی ہے “ ۔

نیز نماز تہجد جنت میں لے جانے کا آسان راستہ ہے ، فرمان نبوی ہے : ” لوگو! سلام کو رواج دو ، لوگوں کو کھانا کھلاو،  رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آو، اور جس وقت عام لوگ سو رہے ہوں ، نماز پڑھو ، اس سے تم سلامتی کے ساتھ اپنے رب کی جنت میں چلے جاوگے “( بخاری )

بندہ مومن کو رات کی نماز کے بغیر چین وسکون نہیں ملتا ، جب تک وہ رات میں اٹھ کر رب کے دربار میں آنسو نہ بہالے ، اور پروردگار عالم سے راز ونیاز نہ کرلے ، اس کا عالم یہ ہوتا ہے :

 اک ہوک سی دل میں اٹھتی ہے

 اک درد جگر میں ہوتا ہے            

ہم رات میں اٹھ کر روتے ہیں

 جب سارا عالم سوتا ہے

رب العالمین تمام مسلمانوں کو ان باتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ،آمین۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*