لقمہ گرا….

مولانا فضل اللہ محمد الیاس انصاری

عَن جَابِرٍ انَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّیٰ اللّٰہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِذَا وَقَعَت لُقمَةُ احَدِکُم فَلیَاخُذھَا فَلیَمسَحھَا مَاکَانَ بِھَا مِن اذیً وَلیَاکُلھَا وَلَا یَدَعھَا لِلشَّیطَانِ وَلَا یَمسَح یَدَہ بِالمِندِیلِ حَتّی یَلحَقَ اصَابِعَہ فَاِنَّہ لَا یَدرِی فِی ایِّ طَعَامِہ البَرَکَةَ (رَوَاہُ مُسلِم)

ترجمہ : سیدنا جابر رضي الله عنه سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”جب تم میںسے کسی کا لقمہ گر جائے تو چاہیے کہ وہ اسے اٹھاکر گندگی دور کرکے کھالے اور شیطان کے لیے اُسے نہ چھوڑے اور اپنا ہاتھ رومال سے نہیں پونچھے یہاں تک کہ اپنی انگلیاں چاٹ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ برکت کھانے کے کس حصہ میں ہے“ ۔

تشریح : اسباب خوردونوش اور کھانے پینے کے سامان قدرت کے بیش بہا عطیے ہیں، ان کی قیمت واہمیت بس ان سے پوچھ لیجیے‘ جو محروم ہیں ۔ آپ کے پاس وہ سب ہیں، اس لیے آپ بے خبر ہیں ۔ سب کی بات بھی چھوڑ دیجیے ، زندگی میں کبھی کبھار ایک دانہ اور ایک قطرہ آب بھی اپنی اہمیت جتاتا ہے ۔ سامانِ خورد ونوش کی اہمیت تو ایک عام انسان کو بھی معلوم ہے چہ جائیکہ بات خاص مسلمان کی ہو۔ جو اللہ و رسول کا فرمانبردار ہوتا ہے اور جس کی ہر ادا اسلامی سانچے میں ڈھلی ہوتی ہے ۔ وہ اپنے مالک ورازق کی دی ہوئی نعمت کا قدرداں ہوتا ہے اور شکرگزاربھی ۔ آخر کیوںنہیں؟ ﴾لئن شکرتم لازیدنکم﴿ اگر تم شکرگذاری کروگے تو ہم مزید کریں گے۔

پھر دانہ تو اسی کو ملتا ہے جو اس کی قدر کرتا ہے ۔گھر میں ڈھیرسارے غلے اور اناج ہوں یاپھر دسترخوان پر لگے نوع بہ نوع ماکولات ومشروبات یاپھر کوئی محدود ومقررغذا ۔ قدر تو ہونی ہی چاہیے ۔ زیادہ ہونے کا یہ مطلب قطعاً نہیں کہ اس کو برباد کیا جائے اور شیطان کو موقع دیاجائے ۔ جو انسان کا ازلی دشمن اسی کی تلاش میں رہتا ہے ۔دیکھئے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کیا فرماگئے اور ہمیں کیا کیا سکھا گئے ۔ کھانا کھاتے وقت اگر کوئی لقمہ کسی کے ہاتھ سے گر جائے توگندہ وخراب سمجھ کر اسے چھوڑ نہیں دے بلکہ اٹھاکر صاف کرے اور پھر کھاجائے مگر شیطان کے لیے نہیں چھوڑے ۔ جس کے لیے انسان ہرآن خود پریشان ہے ۔ آخر شیطان لعین کے لیے اس کو کیوں چھوڑ دے وہ تو ہرجگہ برباد کرنے اور کرانے کے لیے ہی پہنچتا ہے ۔ پھر موقع پاتے ہی یہ کرگزرتا ہے ۔

حضرت جابر رضي الله عنه سے ہی مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”شیطان تم میں سے ہر کسی کے ہرکام کے وقت یہاں تک کہ کھانے کے وقت بھی پہنچ جاتا ہے “۔ (مسلم)

لیجئے ! آخر پہنچ گیا نا ….کھانا کھاتے وقت ، اب کچھ نہ کچھ تو برباد کرے گا ہی ۔ وہ چاہے گا ہی کہ دانہ اور کھانا برباد ہو ، جو گرے وہ نہ اٹھے اور انسان اسے چھوڑ دے ۔ مگر اسلامی ادب یہ ہے کہ اٹھاکر اسے صاف کرنے کے بعد کھا لینا ہے ۔ اس سے شیطان کو منہ کی کھانی پڑتی ہے ، آپ اسے کھا لیتے ہیں اور مزاج میں بھی انکسار آتا ہے ، ہوسکتا ہے کہ برکت اسی لقمے میں ہو ، جو نیچے گرگیا ۔ اسی لیے آپ نے یہ تک تعلیم دے دی کہ کھانا کھانے کے بعد کوئی فوراً اپنا ہاتھ رومال وغیرہ سے نہیں پونچھ لے ، بلکہ اپنی انگلیاں اچھی طرح چاٹ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ برکت کھانے کے کس حصے میں ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : ”جب کوئی کھانا کھائے تو اپنی انگلیاں نہیں پونچھے ، یہاں تک کہ ان کو چاٹ لے یا چٹادے“ ۔ (بخاری ومسلم)

اسلام کا بتلایا ہوا یہ ادب بھی کتنا لطیف ہے ۔ اس کی پیروی سنت پر عمل …. اور سچ پوچھئے تو کھانا کھانے کے بعد اس کا اپنا ایک الگ لطف اور مزہ ہوتا ہے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*